تازہ تر ین

ہماری انتظامیہ کو معاملات خراب کرنے کا وسیع تجربہ ہے ، ٹی ایل پی والے مذاکرات کے لیے بندے ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ کوئی آئے اور ہمیں گھر بھجوائے جبکہ حکومت نے راستے بند کر رکھے ہیں اور عوام ذلیل ہو رہی ہے ۔ ٹی ایل پی والے مرید کے بیٹھے ہیں انتظامیہ ضلع اٹک بند کر کے بیٹھی ہے۔نااھل حکومت کے کارنامے ساراپاکستان بند۔۔ پی-ٹی-آئی کے بیرون ملک موجود اراکین اسمبلی پاکستان واپس پہنچ گئے 92 میں سے 90 اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود رات بھی یہیں قیام کریں گے ۔۔‏بھارت میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ دیوبند کے دوران پروگرام میں شریک ہونے والے بھارتی مسجد کے امام کی بیوی اور 2 بیٹیوں کو قتل کر دیا گیا۔۔۔!!!بھارتی مسجد کے امام کی بیوی اور 2 بیٹیوں کو قتل کر دیا گیا۔۔۔!!!سینیٹر انوشہ رحمان کو سینئر مشیر وزیراعلی پنجاب مقرر کردیا گیا، نوٹیفیکیشن۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

غیر جانبدار صحافی کے کپڑے پہن کر فوج پر طنز اور تنقید کرنے والے حرامدے ہیں اور بس ۔اس مٹی سے کھانے کھاتے ہیں ۔رزق کماتے ہیں۔محفوظ پُرسکون زندگی گزارتے ہیں اور اسی تھالی میں ہگتے ہیں۔سات مئی کو بھارت نے حملہ کیا تھا پاکستان نے نہیں ۔گزشتہ شب افگانڈوز نے حملہ کیا تھا پاکستان نے نہیں ۔اتنی اخلاقی جرات تو خنزیر کے بچے میں بھی ہوتی ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکے ۔پاکستان کی سابقہ پالیسیوں کی آڑ میں فوج پر تنقید کرنے والے تو سور کے بچوں سے بھی بدتر ہیں۔جو لوگ اپنے گھر سے بھی مخلص نہ ہوں وہ کبھی بھی اچھے انسان نہیں کہلا سکتے ۔ہر شریف آدمی اپنے گھر اور اپنے وطن سے محبت کرتا ہے لیکن یہ فارمولہ 🐷 کے بچوں پر اپلائی نہیں ہوتا۔

مٹی کے بیٹے ۔ اظہر سیدمنظور پشتیں ،علی وزیر اور محسن ڈاور سچے تھے ۔جنرلوں کی پالیسیاں غلط تھیں۔یہ چیختے تھے سانپ کو دودھ مت پلاؤ پلٹ کر ڈس لیں گے ۔سانپ کی فطرت ہے لیکن انہیں دشمن سمجھا گیا ۔جنرل مشرف کے دور میں علی وزیر کے خاندان نے اپنے قبیلے کے ساتھ مل کر ازبکوں اور افگانڈوز کو مار مار کر اپنے علاقہ سے نکالا تھا ۔علی وزیر کے خاندان کے دو درجن افراد انہی سانپوں نے مار ڈالے تھے جنہوں نے کل پاکستان پر حملہ کیا ۔یہ مٹی کے بیٹے ہیں

۔یہ سچے ثابت ہوئے ہیں ۔افغانڈوز نے اپنی فطرت کے مطابق کل رات پاکستان کو ڈسنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی۔کرم ایجنسی میں طوری قبیلے کے جوان افغانستان کے اندر گھس گئے اور درجنوں حملہ اوور افغانڈوز کر زندہ پکڑ لائے جو اب پاکستان کی تحویل میں ہیں۔انگور اڈہ چیک پوسٹ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے یہاں کامیابی میں بھی قبائلی نوجوان اپنی فوج کے شانہ بشانہ تھے۔طالبان ملڑوں کی مدد کرنے کی بجائے منظور پشتیں ،علی وزیر اور محسن ڈاور کی بات سنی جاتی انہیں پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوتی۔وقت ان پہنچا ہے طالبان کے متعلق چالیس سالہ پالیسی تبدیل کر دی جائے۔یہ قابل اعتماد نہیں۔یہ آستین کا سانپ ہیں۔یہ پیسے لے کر پہلے بھی دونوں اطراف کے اپنے ہم نسلوں کو مارتے رہے

۔یہ مستقبل میں بھی دلال ہی رہیں گے ۔مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی ختم کرنے کا وقت آن پہنچا یے۔خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں بڑے پیمانے پر آگاہی اور شعور پھیلانے کا وقت آن پہنچا ہے ۔یہ زمہ داری منظور پشتین،علی وزیر ایسے مٹی کے بیٹوں کو سونپ دی جائے ۔انکی بھرپور مدد اور معاونت کی جائے تاکہ چالیس سال سے اس علاقے میں جاری آگ اور خون کا کھیل ختم کیا جا سکے ۔یہاں بچیاں آزادانہ سکول کالج اور جامعات میں جائیں۔یہاں کے بچے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم لے کر مستقبل کی نسلوں کو امن اور استحکام کی زندگی فراہم کر سکیں ۔

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیان پر پاکستان کو جذباتی نہیں بلکہ حقائق پر مبنی اور پُرعزم ردِعمل دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر 1980 کی دہائی میں پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی اور عوام قربانیاں نہ دیتے تو آج افغانستان نام کا ملک ہی باقی نہ رہتا۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد کی کامیابی پاکستان کی خفیہ مدد، اسلحہ سپلائی، خفیہ تربیت اور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے ممکن ہوئی۔

افغان قیادت کا آج یہ کہنا کہ “ہمیں چھیڑنے سے پہلے امریکا، نیٹو اور سوویت یونین سے پوچھ لو” دراصل تاریخی احسان فراموشی ہے۔ پاکستان نے چالیس سال تک افغان جنگ کی قیمت اپنے خون، اپنی معیشت اور اپنی سیکیورٹی سے ادا کی۔ لاکھوں پاکستانی شہید، زخمی یا بے گھر ہوئے مگر افغانستان کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کیے۔اب جب دہشتگرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں، تو پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا حق موجود ہے۔ اگر افغان حکومت اپنے وعدوں کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔یہ وقت جذباتی بیانات کا نہیں، ذمہ داری لینے کا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر کابل اپنی سرزمین پر قابو نہیں رکھ سکتا تو کم از کم دوسروں کو نصیحت کرنے سے گریز کرے۔ ہم نے افغانستان کے لیے خون بہایا ہے، اب اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں

پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن سے تعاون مانگ لیا ہے۔پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیر امیر مقام سے ان کے رہائشی مقام پر ملاقات کی۔وفد میں اراکین قومی اسمبلی شیر علی ارباب، علی خان جدون، ڈاکٹر امجد، کبیر خان، ادریس خٹک، لائق خان اور اکرام کھٹانہ شامل تھے۔ملاقات کے دوران جنید اکبر خان نے کہا کہ وہ ماضی کی طرح مشترکہ فیصلے کرنے کے لیے آئے ہیں اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں واضح اکثریت پی ٹی آئی کے پاس ہے اور صوبہ سیاسی عدم استحکام اور مزید مشکلات برداشت نہیں کر سکتا۔صوبائی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سہیل آفریدی بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہوں وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ وہ صوبے کی روایات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور مرکزی قیادت سے رائے لینے کے بعد پی ٹی آئی کے وفد کو آگاہ کریں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved