تازہ تر ین

ایئر انڈیا نے حکومت سے مالی مدد اور چین سے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، خبر ج۔ پیپلزپارٹی کی چیخیں خفیہ میٹنگز، خفیہ فیصلے۔عمران خان سے ملاقات کے بعد6⁶ نئے طریقے۔سیکرٹری اطلاعات کون فیصلہ اج ھو گا۔طارق محمود ارشد منیر عمرانہ وزیر مسٹر شیخ اور اشفاق پٹھان کو وزیر اعظم نے اج وزیر اعظم ھاوس طلب پاک فوج کے خلاف ایک اور بے بنیاد پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے۔ملک بھر میں مھنگای اور غیر یقینی صورتحال برقرار۔6 ماہ میں پاکستان سے ڈاکٹر انجئنرز اور تاجروں کی ملک سے باہر نکل جانے کی تعداد میں 70 فیصد اضافہ۔پاکستان میں مھنگای نے عوام سے خوشیاں چھین لی لاکھوں افراد بے روز گار۔55 فیصد عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور امدن کا 40 فیصد بجلی کے بلوں میں واپس۔سیکورٹی فورسز کا بھارتی سھولت کار دھشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری۔۔200 دھشت گرد ھلاک۔۔خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے بعد دھشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری چند چن کر دھشت گردوں کے خلاف آپریشن میں کامیابیاں۔۔ ۔۔افواج پاکستان نے طالبان اور بھارتی سھولت کار دھشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران کامیابیاں حاصل کی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

بھارتیوں کا المیہ ۔ اظہر سیدجنرل ضیاء الحق کے دور تک بھارت روسی کیمپ میں تھا ۔بھارتی اسلحہ خانہ کا اسی فیصد اسلحہ سوویت یونین کا تھا ۔پاکستان امریکی یا مغربی کیمپ میں تھا ۔مغربی اسلحہ سوویت اسلحہ سے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے بہتر تھا۔اسی اسلحہ کے زور میں پاکستان بھارتیوں کو ناکوں چنے چبواتا رہا ۔پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا لیکن اس نے تین گنا بڑے بھارت کی خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں میں ناک بند کر دی تھی۔بھارت نے 1965 میں گرچہ آپریشن جبڑالڑ کے ردعمل میں حملہ کیا تھا لیکن پاکستان نے برتر مغربی اسلحہ کے زور پر بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔مشرقی پاکستان میں پاکستان کی شکست کی وجہ اسلحہ نہیں تھا بلکہ مقامی بغاوت اور مزاحمت تھی۔مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے بغاوت کچل دی تھی ۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارتی فوج تطہیر کے بہت بڑے عمل سے گزری ۔بھارتیوں نے مغربی اسلحہ کی خریداری شروع کر دی اور پاکستان کے جنگی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے برابر آگیا لیکن فضائی برتری میں پاکستان سے پیچھے ہی رہا بھارت کو روسی ساختہ سوویت دور کے مگ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے نجات کیلئے تین سو ارب ڈالر درکار تھے

۔پیسوں کا بندوبست ہو بھی جاتا جدید ترین مغربی طیاروں کی فراہمی کیلئے کم از کم بیس سے تیس سال درکار تھے ۔بھارتیوں نے پہلا گھونٹ بھرا اور فرانس سے 36 رافال طیاروں کا سودہ کر لیا ۔ان طیاروں کا جو حال آپریشن سیندور میں پاکستان نے کیا ہے بھارتی پھر اسی جگہ پر ان کھڑے ہوئے ہیں جہاں 1980 کی دہائی میں تھے ۔بھارتی مغربی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوئے پاکستانی چھلانگ لگا کر چینی ٹیکنالوجی کی طرف چلے گئے جو بحرحال مغرب سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔چینی پاکستان کو طیارے پہلے دیتے ہیں پیسے ادھار کر لیتے ہیں۔مغربی ممالک پیسے ایڈوانس لیتے ہیں اور طیارے قسطوں میں دیتے ہیں۔رافال کے ناکام تجربہ کے بعد اب بھارتی امریکیوں سے ففتھ جنریشن وار کا جیٹ ایف 35 خریدنے کیلئے مرے جا رہے ہیں لیکن ان طیاروں کے چار پانچ سکواڈرن تیار کرتے دس سال لگ جائیں گے ۔ کو اڑتے تابوت یعنی مگ پر ہی سالوں گزارا کرنا ہے

۔فضائی جنگ میں جو نئی اختراعات چینیوں نے کی ہیں ساری مغربی ٹیکنالوجی کی واٹ لگ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں ،اوکس سسٹم اور پی ایس 15 میزائل کا جو تال میل آپریشن سیندور میں سامنے آیا ہے بھارتی جیٹ بھلے رافال ہوں یا ففتھ جنریشن وار کے ایف 35 دو سو میل دور سے گرائے جا سکتے ہیں اور انکا سسٹم چوری کر کے انہیں اندھا کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو گھٹنوں پر گرانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل جنگ مسلط کرنا ہی واحد آپشن ہے لیکن پاکستان اس طویل جنگ کی اجازت ہی نہیں دے گا ۔مختصر جنگ میں بھارت کو ایسا خوفناک جواب دے گا بھارتی آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد جس طرح جنگ بندی کیلئے بھاگے تھے دنیا کے چاروں کونوں میں بھاگتے پھریں گے ۔پاکستان نے برتری ثابت کر دی ہے

۔دنیا نے پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ہے ۔اسرائیل کی جنگی مشین سے خوفزدہ عرب ممالک کو پاکستان کی صورت میں ایک طاقتور “اپنا” نظر آرہا ہے ۔مصر، اردن ،ترکی ،ازربائیجان اور سعودی عرب کس نے سوچا تھا یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کریں گے ۔یہ پاکستان کی طاقتور موجودگی ہے امریکی قطر کو یقین دہانیاں کراتے نظر آرہے ہیں اسرائیل آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔سعودی کروان پرنس کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی فضاؤں میں پہنچنے کے بعد اپنے جدید ترین طیاروں کے ساتھ اسے سلامی دیتے نظر آرہے ہیں۔یہی سعودی عرب تھا اور یہی کروان پرنس تھا امریکی صدر ٹرمپ نخوت اور تکبر سے کہتا تھا “ہم حفاظت کرتے ہیں نہ کریں سعودی بادشاہت قائم نہ رہے “پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد وہی امریکہ کروان پرنس کے واری صدقے جا رہا ہے ۔دنیا تبدیل ہو گئی ہے ۔نئی دنیا روس چین ،ترکی اور پاکستان کی دنیا ہے ۔تیسری عالمی جنگ میں یہی ممالک حلیف ہونگے ۔مغرب کی اجارہ داری ختم ہوئی ۔اگلا دور نئی دنیا کا ہے ۔

ملڑے جائیں گے ۔اظہر سید افغانستان قحط کا شکار ہو رہا ہے لیکن ملڑے خارجیوں کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے راضی نہیں ،پاکستان کا موقف اس مرتبہ بہت سخت ہے ۔سپین بولداک تورخم سمیت کسی جگہ سے تجارت ممکن نہیں ۔قحط سے بچنے کیلئے انگور ،ٹماٹر اور انار کھاؤ ،یا پھر ڈالر خرچو دوسرے ملکوں سے گندم ،گڑ ،قہوہ گھی اور دیگر چیزیں منگواو۔ افغان ملڑوں کی حکومت نمائندہ نہیں یہ ختم ہو گی اور اسے ختم ہونا ہے ۔چند ہفتوں میں بھوک ننگ سے تنگ افغان ردعمل شروع ہو جائے گا ۔ بہت جلد یہ ردعمل ملڑوں کو بھاگنے پر مجبور کر دے گا ۔ملڑے اب بھاگے تو ان کیلئے محفوظ ٹھکانے کہیں پر موجود نہیں ۔بڑے لیڈر شائد بھارت یا خلیجی ممالک چھپ جائیں چھوٹے کمانڈر مارے جائیں گے سارے کے سارے ۔خطہ کا ہر ملک پاکستان ،ایران ،سنٹرل ایشیائی ریاستیں سب ان مذہبی دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتا ہے ۔پاکستان میں موجود خارجیوں کو پاک فوج مار دے گی اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو سارے مل کر مار دیں گے ۔بھارتی انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتے ۔دنیا کا کوئی ملک انہیں طیارے،ہیلی کاپٹر ،میزائل یا دوسرے جدید ہتھیار فراہم نہیں کرے گا ۔یہ خود کش جیکٹس بنا سکتے ہیں لیکن اب اسکی مہلت بھی نہیں ملے گی ۔قحط سے اموات شروع ہو چکی ہیں ۔روزگار موجود نہیں ۔ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے عالمی امدادی اداروں کی امداد استمال کرتے ہیں ۔ایران ،پاکستان کی طرف سے نکالے گئے چالیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین الگ سے معیشت پر بوجھ ہیں۔ملڑا ہیبت اللہ اور سارے کمانڈر ہر وقت پاکستانی میزائل حملوں سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔کھلے عام گھوم پھر نہیں سکتے ۔نقل و حمل خفیہ رکھتے ہیں لیکن انکی نقل و حمل پر دیکھنے والوں کی مسلسل نظر ہوتی ہے ۔نئی افغان حکومت بلوچ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بھی ختم کرے گی ۔پاکستان اور ایران مدد کریں گے ۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز کا خصوصی دورہ ۔ سوسائٹی فار دی پروموشن آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SOPREST) اور بورڈ آف گورنرز (GIK) کےصدر انجینئر سلیم سیف اللہ خان نے وزیراعلی کا استقبال کیا۔انجینئر سلیم سیف اللہ خان نے آپنے خطاب میں وزیراعلی کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ آدا کیا ۔ وزیرآعلی سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں فاٹا کے طلباء کیلئے بند سکالرشپ کیلئے منظوری دی اور طلبہ و طالبات کو جی آئی کے میں تعلیم حاصل کرنا خوش آئند قرار دیا ۔ وزیر آعلی سہیل آفریدی اور سلیم سیف اللہ خان نئے بنائے گئے ڈی بلاک اپارٹمنٹ کا افتتاح کیا، سلیم سیف اللہ خان نے وزیراعلی سہیل آفریدی کو خصوصی شیلڈ بھی پیش کی ۔÷×÷

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved