تازہ تر ین

ہمارے حکمران امریکا کے غلام ہیںمولانا فضل الرحمان نئی نوکری کی تلاش میں۔۔عرب امارات تباہی کے دہانے پر کھربوں ڈالر ڈوب گئے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بڑا فیصلہ سب کچھ تبدیل۔مولانا فضل الرھمان نئ بوتل پرانی شراب۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔افراتفری اور پاکستان سب کچھ ختم۔۔امریکی اڈے تباہ ایران کا حملہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم خوشامد کر کے سیاست کریں گے تو یہ جمعیۃ علماء اسلام کی روش نہیں ہے، یہ جمعیۃ علماء اسلام کی تربیت نہیں ہے، ہم نے سر اٹھا کر چلنا سیکھا ہے اور اپنے اکابرین سے سیکھا ہے اور وہی روش چلے گی، کہاں تک جانا چاہتے ہو یہ آپ بتائیں، ہم آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ سمندر نے کہا مچھلی سے کب تک تیرتے رہو گے؟ تو مچھلی نے کہا جب تک تیرے اندر موجیں مارنی کی طاقت ہے اس وقت تک میرے اندر تیرنی کی بھی طاقت ہے۔ ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو بہت بڑا اجتماع ہوگا اور اچھا میلہ لگے گا ان شاءاللہ اور عوام کو اعتماد دلائے جائے گا کہ آپ تنہا نہیں ہیں، کوئی تو ہے جو آپ کے پشت پر کھڑا ہے اور آپ کے حق کی بات کر رہا ہے۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس

افراتفری پیدا ہو گی۔اظہر سیدپٹرول نہیں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنا چاہئے تھی ۔پٹرول کاروں میں استعمال ہوتا ہے ڈیزل کھیت اور کارخانہ سے اشیاء منڈی تک پہنچانے میں استمال ہوتا ہے ۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ یا کمی ایک گھر کیلئے ہے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ یا کمی ہر گھر کیلئے ہے ۔آج تک نہیں پتہ چل سکا پالیسی ساز فیصلے کتابوں سے پڑھے علم کے مطابق کرتے ہیں یا معاشرتی تقاضوں کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں ۔جمہوریت اور سیاستدان اس لئے قابل قبول ہیں ان کے فیصلے ووٹ بینک بچانے اور بڑھانے کیلئے ہوتے ہیں جو معاشرہ کے خلاف ہو ہی نہیں سکتے ۔امریت یا ہائی برڈ نظام اس لئے کامیاب نہیں ہوتا فیصلے ووٹ بینک کیلئے نہیں وقتی مسائل سے نپٹنے کیلئے ہوتے ہیں ۔وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 80 روپیہ لیٹر کمی کی ہے جبکہ کمی ڈیزل کی قیمت میں ہونا چاہئے تھی ۔پہیہ مہنگا ہو جائے گھر میں استمال ہونے والی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے ۔جب روٹی تیس یا چالیس روپیہ کی ہو جائے اسے افراط زر اور معاشی افراتفری کا آغاز سمجھنا چاہئے ۔روزگار کے مواقع کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں ۔شائد نصف ابادی لوٹ مار،چور بازاری،فراڈ اور دھوکہ کے زریعے زندگی گزارنے کے وسائل حاصل کرنے کی راہ پر چل پڑی ہے ۔جوں جوں روزگار کے مواقع محدود ہوتے جائیں گے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کی شرح بڑھتی جائے گی ۔ملک دشمن قوتیں تاک میں بیٹھی ہیں ۔مہنگائی والے ہنگامے شروع ہونے سے پہلے درکار اقدامات کرنا ہوں گے ۔ ۔پٹرولیم مصنوعات کے عالمی بحران سے کوئی ریاست محفوظ نہیں لیکن بہتر اقدامات اور فیصلوں سے درپیش چیلنجز سے نپٹا جا سکتا ہے ۔صرف دو چیزیں افراتفری پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں مہنگی بجلی اور مہنگا پہیہ ۔عام لوگ ،محنت کش،مزدور،کم آمدن والے ،تنخواہ دار پہلے ہی بجلی کے بلوں سے ادھ موئے ہوئے پڑے ہیں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اس کیفیت کا باعث بنے گا مرو یا مار دو ۔فیصلے معاشرتی صورتحال کے مطابق کئے جائیں اور معاشی دباؤ سے نکلنے کیلئے ہدف عام لوگوں کی بجائے امیر طبقہ کو بنایا جائے ۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے ایک نادر موقع_________________________شاہد اقبال کامران_____________________ امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر کی بصیغہ راز مراسلت کی مدد سے بالآخر عمران خان نے اپنی عظمت اور بزرگی نیز اپنے بین البراعظمی سیاسی رتبے کے ہم پلہ دشمن کا انتخاب کر لیا ہے۔اگر پاکستان جیسے بالکل مقامی بلکہ مضافاتی قسم کے ملک کو ایک عالمی درجے کا لیڈر مل ہی گیا تھا تو اس کی قدر کی جانی چاہئیے تھی۔لیکن اسے ان سیاستدانوں کے سامنے پھینک دیا گیا جن پر تین سال قید و بند اور مقدمات قائم کرنے کے باوجود ابھی تک کچھ بھی ثابت نہیں ہو پایا۔ان ناشکرگزار مقامی سیاستدانوں کو عمران خان کا احسان مند ہونا چاہئیے تھا ،پر لوگ تو خدا کا شکر نہیں کرتے ، ایک بندے کو کون پوچھے گا ۔پاکستان کے عام سے مقامی سطح کے لیڈروں کا خیال تھا کہ عمران خان ان کی سیاسی ریشہ دوانیوں کا انہی کی سطح پر اتر کر مقابلہ کرے گا ۔یہ غلط فہمی تھی ۔عمران خان نے قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے لیے اپنا ہم پلہ دشمن منتخب کر لیا ہے ۔ بات دل پر ہاتھ اور دماغ پر لات رکھ کر سمجھنے کی ہے ۔تحریک عدم اعتماد پاکستان کے زیرک سیاستدان آصف علی زرداری یا پی ڈی ایم کی قیادت کا کارنامہ نہیں ،اس کے پیچھے امریکہ جیسا ملک ہے۔عمران خان کے بظاہر براہ راست خطاب بذریعہ پاکستان ٹیلی ویژن نے ملک بھر میں وقت اور سماعت کے بےحد قیمتی ہونے کے احساس کو اچھی طرح سے اجاگر کر دیا ہے ۔

امر بالمعروف والے جلسے میں بھی لوگ منتظر ہی رہے کہ پٹاری سے کچھ نکلا کہ اب نکلا ۔۔۔۔بعض لوگوں نے تو تجسس کے مارے آنکھ تک نہیں جھپکی،کہ کہیں کوئی تاریخی لمحہ گزر نہ جائے۔پر عمران خان نے کردار کی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے وہی باتیں ، الزامات ، خدشے اور گالیاں دھرا دیں ،جو وہ گزشتہ کئی دنوں سے مختلف جلسوں میں دھراتے چلے آرہے تھے ۔ اپنے آخری سرکاری خطاب میں بھی انہوں نے اپنی باتوں کو دہرانے میں ہی عافیت محسوس کی۔عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کروایا تھا ، پی ٹی وی ایک سرکاری ادارہ ہے ، جو دہائیوں سے درباری ذمہ داریاں نبھاتا چلا آرہا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ درباریوں سے زیادہ منتقم مزاج کوئی بھی نہیں ہوتا ، حتیٰ کہ خود حکمران بھی نہیں ۔اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ پی ٹی وی کے ذمہ داروں نےعمران خان کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جناب جلسہ عام کے خطاب اور سرکاری ٹیلی ویژن پر قومی ترانے کے بعد کیے جانے والے خطاب کے آہنگ،مزاج اور مواد میں فرق ہوتا ہے ۔ٹیلی وژن پر بڑے سنجیدہ لہجے میں آرام اور وقار کے ساتھ گفتگو کی جاتی ہے ۔ ٹیلی ویژن والے ایسا کر سکتے تھے ،لیکن انہوں نے اپنا بدلہ لے ہی لیا اور ٹی وی کیمرے کے سامنے بیٹھ کر بات کرنے والے شخص کو سبزی منڈی کا ہانکا بننے دیا۔آلو ڈھائی سو روپے دھڑی، گاجراں ، مولیاں، اوئے پھینے۔۔۔۔تیری ماں نو ذرا ایدھر تے آ۔۔۔سبزی منڈی میں ہر طرف سے ہر طرح کی آواز آ جاتی ہے ۔کسی بھی جملے کو مکمل طور پر ایک ترتیب اور معنی کے ساتھ سمجھنے کے لیے کافی زیادہ توجہ اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیراعظم سطح کے عہدے کے لیے ایک بلند ذہنی سطح اور رازوں کی حفاظت کر سکنے والا سینہ درکار ہوتا ہے ۔ ستم ظریف پوچھ رہا ہے کہ اگر کوئی اہم راز اپنے حجم کے اعتبار سے سینے سے بڑا ہو تو کیا کرنا چاہیئے؟میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر سینہ چھوٹا اور دل تنگ ہو تو پھر بڑے کاموں میں نہیں پڑنا چاہئیے۔ میں نے اسے بتایا ہے کہ یہ والا مسلہ سینے کا نہیں ، دماغ کا ہے، اور دماغ کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ وہ اندر سے خالی نہ ہو۔خالی دماغ چلتے پھرتے ہوئے آوازیں دینے لگتاہے، بلکہ بعض صورتوں میں تو گالیاں بکنے پر بھی آ جاتا ہے۔لہذا اگر ذرا سا شبہ بھی ہو کہ دماغ اندر سے خالی ہے تو ایسے سنجیدہ اور نازک کاموں میں پڑنا ہی نہیں چاہئیے۔بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے اسرار و رموز کسی کھیل کے میدان کی طرح اپنی واضح حدود نہیں رکھتے ۔دنیا کا کوئی صدر یا وزیراعظم اپنے سفارت کاروں کی بصیغہ راز مراسلت کو ،جس میں مختلف زعماء اور ماہرین سے سراسر غیر رسمی نششت کا اہتمام کر کے کسی ملک کا ذہن اور رجحان پڑھنے کی کوشش کی گئی ہو ، عام نہیں کرتا۔ایسی مراسلت کو بہ احتیاط پڑھنا اور اس کے بین السطور معانی تک پہنچنا ایک سنجیدہ اور ماہرانہ عمل ہے

۔یقینی طور پر یہ بہ صیغہ راز مراسلت ملک کے دفاع اور سلامتی سے سروکار رکھنے والے اداروں نے بھی ملاحظہ کی ہو گی اور اس سے ایک ملک کے پاکستانی ریاست اور سیاست کے بارے میں آراء ، اندازوں اور رجحانات کو سمجھ کر اپنی حکمت عملی کی تشکیل میں مدد لینے کا اہتمام کیا ہو گا۔تحریک عدم اعتماد پیش ہو جانے کے بعد اور جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی کہ وزیراعظم اپنی اکثریت کھو چکے ہیں، تو پھر انہیں قومی سلامتی ، بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی معاملات پر غیر محتاط تبصروں کی اجازت نہیں دی جانی چاہئیے تھی ۔کجا یہ اجازت دی جائے کہ ایک بڑے ملک کے حوالے سے پاکستان کے خلاف سازش اور مداخلت جیسے الزامات کا بیانیہ تیار کر کے مسلسل پھیلایا جائے ۔سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا امریکی حکومت نے پاکستانی حکومت کو کوئی خط لکھا تھا؟جی نہیںکیا امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر نے اپنے دفتر خارجہ کی ہدایت پر جنوبی ایشائی معاملات سے دلچسپی رکھنے والے چیدہ چیدہ امریکیوں کو ایک سراسر غیر سرکاری نششت کے لیے مدعو کیا گیا تھا؟ جی ہاں ایسا ہی ہے ۔کیا وہاں ہونے والی بصیغہ راز (جسے آف دی ریکارڈ گفتگو کہتے ہیں)، بات چیت چلا کر مختلف پہلوؤں سے پاکستان کے بارے میں شرکائے محفل کی رائے اخذکرنے کی کوشش کی گئی۔؟ جی ہاں یہ تو سفیر محترم کے لیے ایک معمول کی سرکاری ذمہ داری تھی ۔جو انہوں اپنے دفتر خارجہ کے حکم پر ادا کی اور طریقہ کار کے مطابق ڈپلومیٹک چینل سے ایک مراسلہ پاکستانی دفتر خارجہ کو ارسال کردیا۔اب یہ بتائے کہ اس تجزیاتی رپورٹ یا مراسلت کا امریکی انتظامیہ یا امریکی دفاعی اور سلامتی کے اداروں سے کیا تعلق ہے ؟ لیکن ایک مفروضہ قائم کر کے کہ اپنی شکست اور سیاسی نامرادی کا کریڈٹ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو دینے کی بجائے سیدھا امریکہ کے حوالے کر دینا بالکل مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔امریکہ قطعاً یہ اتہام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔لیکن عمران خان امریکی “سازش” اور امریکہ کی مفروضہ دشمنی کا چورن اپنے چھوٹے سے ٹھیلے میں سجا کر باہر نکلنے کے لیے بالکل تیار حالت میں ہیں۔ستم ظریف پوچھ رہا ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنی آخری تقریر میں ایک ملک کا نام لے کر اپنے حلف کی خلاف ورزی تو نہیں کردی؟ میں نے اسے بتایا ہے کہ میں کبھی وزیراعظم نہیں رہا ، مجھے کیا پتہ.لیکن اصل بات میں نے جان بوجھ کر اسے نہیں بتایا کہ عمران خان نے امریکہ میں پاکستانی ڈپلومیٹ کے ایک معمول کے ٹیلی گرام کو قریباً پندرہ روز بعد اپنی حکومت کے ڈوبتے جہاز کو بچانے کے لیے ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غالبا یہی وہ ترپ کا پتہ ہے جس کا اعلان وہ کثرت سے کرتے رہے ہیں۔ یہاں بھی ان کے قریب موجود انواع و اقسام کے سیاسی بازیگروں نے ان کے مصائب کے حل کے لیے پرانی پاکستانی بسوں میں کثرت سے بکنے والے چورن کا نسخہ ہی تجویز کیا ہے ۔ عمران خان کو چونکہ پاکستان کے علاؤہ دنیا کے ہر ملک کا سب سے سے زیادہ علم ہے۔وہ ایک مقامی راہنما کی بجائے خود کو ایک بین البراعظمی سیاست دان سمجھتے اور اس پر کامل یقین بھی رکھتے ہیں تو انہوں نے اپنی سیاست اور حکومت کے مقامی مخالفین اور ان کی حکمت عملی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنی حد سے بڑھی ہوئی عظمت اور فضیلت کے مساوی ایک بڑے ملک کی سازش کا تصور پیش کیا ہے ۔ میری ذاتی رائے میں امریکہ کے صدر کو اپنی ایک مختصر تقریر میں عمران خان کا نام لے کر شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ ان جیسی نابغہ روزگار عالمی بلکہ جہانی شخصیت نے اپنے خلاف سازش کے ذمہ دار اور محرک کے طور پر ان کے ملک امریکہ کا انتخاب کیا ہے۔شرلی بے بنیاد اس معاملے کو ایک بالکل الگ زاویے سے دیکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ امریکہ کو عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ انہوں نے نہایت ذہانت اور قابلیت سے عالمی سیاست میں روس اور چین مقابل مدھم پڑتے امریکہ کو روشنی میں نہلا دیا ہے۔انہوں نے اپنے خلاف سازش کا الزام لگا کر امریکہ کے عالمی رتبے کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔امریکی اگر تھوڑے سے بھی قدر شناش ہوں تو انہیں چاہئیے کہ اپنے قوانین میں ترمیم کر کے ایک دوسرے ملک کے بین البراعظمی سیاست دان کو صدر کا الیکشن لڑنے کی اجازت دے دیں۔اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے بعد عمران خان معید یوسف اور شہبازگل سمیت بالکل فارغ ہوں گے۔ابھی موقع ہے امریکہ کے پاس کہ وہ اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مستحکم کر لے ۔دراصل پاکستان عمران خان جیسے لیڈر کے لیے ایک چھوٹا ملک ثابت ہوا ہے ۔لیڈر بڑا اور ملک چھوٹا ہو ، تو گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور طرفین اپنی اپنی جگہ پر گڑبڑائے پھرتے ہیں۔ امید کی جانی چاہئیے کہ میری اس تجویز پر امریکی قانون ساز باقی سارے کام موخر کر کے غور وفکر شروع کر دیں گے۔عمران خان کو امریکی صدر بنا کر امریکہ کے لیے دنیا کے ہر ملک کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص سمجھنا اور جاننا آسان ہو جائے گا۔میرا خیال ہے امریکہ کی ریاستی اور سیاسی زندگی کا یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے ۔اس سے امریکہ کو فایدہ اٹھانا چاہئیے۔______________________

ہم کوئی شہادت بھولے نہیں، سانحہ گیاری کو پانچ سال گزر گئےبرفانی تودےتلے دبے پاک فوج کے سپوتوں کو نکالنے کے لئے تاریخی ریسکیو آپریشن کی کامیاب تکمیل سے پاک فوج نے عزم و ہمت اور حوصلے کی نئی داستاں رقم کی۔لاہور: ) ملک بھر کے تمام کنٹونمنٹس میں شہدائے گیاری کی آج پانچویں برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔ سات اپریل 2012 کا دن سانحہ بن کر طلوع ہوا۔ گیاری سیکٹر میں ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر برفانی تودا آن گرا، جس کے نتیجے میں ایک سو انتیس آرمی کے افسر اور جوان جبکہ گیارہ عام شہری شہید ہو گئے تھے۔ برفانی تودے نے تقریباً ایک کلو میٹر کے علاقے کو متاثر کیا تھا۔ بٹالین ہیڈ کوارٹر گزشتہ بیس سال سے اسی مقام پر موجود تھا۔ سخت موسمی حالات نے امدادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا مگر مسلح افواج نے شہداء کے جسد خاکی کی تلاش جاری رکھی۔ جہاں پیدل پہنچنا مشکل ہے وہاں بھاری مشینری پہنچائی گئی۔ امدادی سرگرمیوں میں ہیلی کاپٹرز، انجینئرنگ کی بھاری مشینری راولپنڈی، گلگت، بشام، مظفر آباد اور چلاس سے روانہ کی گئی۔ امدادی سرگرمیاں ڈیڑھ سال تک جاری رہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں امریکہ سمیت کئی ملکی ماہرین کی ٹیموں نے بھی حصہ لیا۔ سانحہ گیاری کے بعد ہونے والا تاریخی آپریشن ہمیشہ عزم وہمت کی شاندار مثال رہے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved