تازہ تر ین

عمران خان کے استیین کے سانپوں میں مزید 3 کا اضافہ۔۔اسلام آباد روالپندی 14گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری۔۔ ۔۔میت کو فری گھر چھوڑ کر ائیں گے عظمی بخاری۔۔ایف آئی اے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ۔۔ 31 افسران کے تقرروتبادلے کردئیے گئے۔آئی جی پنجاب نے 7 پولیس افسران کے تقرر و تبادلے کردئیے ۔۔نواز شریف نے ٹکٹوں کے فیصلے کیلئے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا۔۔ ۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 دن کے لئے جنگ بند ہو گئی ۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا۔عمران خان کو جیل میں 3 سال ھو گءے یہ جلسہ جلسہ کھیل رھے ۔وزیر اعطم کا سہ ملکی دورہ دنیا کو امن لوٹا رھے ھے وزیر اعظم۔۔ مرنے کے بعد ایمبولینس فری۔۔ ۔۔گیس اور تیل مھنگا اس لیے کیا کیسٹرول اور ھاضمہ درست رھے۔۔ٹرین کا کرایہ اس لئے بڑھایا کہ اپ فضول سفر نہ کرے۔پٹرول مھنگا کرنے کا مقصد سائیکل چلا کر توند کم کرے حکومت آپکی بیوی جیسا خیال کر رھی۔۔ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد : میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد ۔ ۔۔میں جاؤں گا، ہاں! میں پاکستان جاؤں گاصدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا۔اسلام آباد میں مفاہمت کے قریب تھے، امریکہ ایک بار پھر پیچھے ہٹ گیا: ایرانی سفیر رضا امیری مقدم۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پبلک ٹرانسپورٹ بس اڈے 10 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہراولپنڈی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اہم پیشگی اقدامات کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ بس اڈوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بندش آج رات سے شروع ہو کر 26 اپریل تک جاری رہے گی، جس کا مقصد ممکنہ خطرات سے نمٹنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی موجودگی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ یونین کے عہدے داران اور شہر بھر کے بس اڈوں کے مالکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی،

جہاں سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اس دوران راولپنڈی سے دیگر شہروں اور تحصیلوں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل رہے گی، جبکہ بوقت ضرورت دیگر شہروں سے آنے والی بسوں اور کوچز کو بھی شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ یونین کے عہدے داران کو باقاعدہ احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی الرٹ کے تحت اٹھایا گیا ہے اور حالات کے مطابق مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل سفری ذرائع اختیار کریں۔

پاکستان کی اب دنیا کی طاقتور شخصیت کی سیکورٹی اور حفاظت خدا کے بعد کمانڈوز ایس ایس جی اور انکی یونٹ جس میں بطور فوجی آفیسر آنکھ کھولتا ھے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏*پاکستان کی اونچی پرواز ۔۔۔۔تیاری پکڑ لیں*ایران امریکہ معاہدہ ہونے پر ایرانی صدر ۔امریکی صدر ٹرمپ ،ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان ،چینی وزیر اعظم یا وزیر خارجہ ،سعودی ولی عہد سمیت اہم شخصیات پاکستان آئیں گے اسلام آباد کی سجاوٹ اور غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات جاری ہیں۔*غیر مصدقہ ذرائعِ*

سردار اویس لغاری پرویز مشرف دور حکومت وفاقی وزیر تھا اس نے ق لیگ کا بیڑا غرق کر دیا اب ن لیگیوں کا بیڑا غرق کر دیا۔ نواز لیگ کے استین کا سانپ اویس لغاری بےنظیر بھٹو کی استین کا سانپ فاروق لغاری قائد اعظم محمد علی جناح کی استین کا سانپ ان کا دادا لغاری فاروق لغاری کے والد نے قائد اعظم محمد علی جناح سے غداری کی تھی غدار ابن غدار لغاری خاندان اب 25 کروڑ عوام کو 125 روپے فی یونٹ دینے والہ عوام کا غدار 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرنے والہ اویس احمد لغاری پاور پلانٹ کوٹ ادو سمیت کو پرائوٹیز کیا لکین ابھی تک کوی روپیہ پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع نھی ھوا مزید تفصیل کے لیے بادبان نیوز

پاکستان کی اب دنیا کی طاقتور شخصیت کی سیکورٹی اور حفاظت خدا کے بعد کمانڈوز ایس ایس جی اور انکی یونٹ جس میں بطور فوجی آفیسر آنکھ کھولتا ھے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان انگریز نے نہیں تو کیا تمہارے باپ نے بنایا تھا۔ ۔ ۔! پیر صاحب پگاڑاپاکستان کے ممتاز سیاست دان اور متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر پگاڑا مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو روزنامہ جنگ میں 16 جولائی 2000 کو شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے پینل میں سہیل وڑائچ، جناب زاہد حسین اور عارف الحق عارف شامل تھے۔ ذیل میں تاریخی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ منتخب حصے سماجی رابطے کی معروف website “ہم سب” کے شکریہ کیساتھ پیش کئے جا رہے ہیں۔ لنک کمنٹس میں ملاحظہ فرمائیں۔سوال: پیر صاحب! آپ متحدہ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، اس حوالے سے گفتگو کا آغاز تحریک پاکستان سے کرتے ہیں؟جواب: اس حوالے سے پہلے یہ واقعہ سن لیں پاکستان بننے سے پہلے تین جگہ پر ہندو مسلم فسادات ہوئے ان میں سے ایک علی گڑھ میں ہوا۔ یہ 1945 کا واقعہ ہے کہ میں علی گڑھ کی نئی بستی میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علم ہوا کہ ایک سندھی قتل ہوگیا، ہم وہاں گئے کہ ہم سندھی کی لاش کو سنبھالیں۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ہوا تو پتا چلا کہ یہاں پتھراؤ ہوا ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب آگئے

۔ یہ ایس پی ٹیکسن صاحب تھے۔ ان کے بارے میں کسی نے بتایا کہ یہ وہ ایس پی ہیں جو انگلینڈ سے اپنے دوست کی بیوی ورغلا کر لائے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اچھے خون والا بندہ ایسا کام نہیں کر سکتا۔ تو خیر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایس پی نے خود ہی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور اسی دوران بازار میں آگ لگ گئی اور فساد شروع ہوگیا تو اس واقعہ کا تو میں خود عینی شاہد ہوں کہ کس طرح ایک انگریز نے ایک سندھی کی بازار میں ذاتی لڑائی کو ہندو مسلم فساد بنا دیا۔ میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ فساد پاکستان کے لئے نہیں تھا۔ یہ تو کروایا گیا تھا۔سوال: پیر صاحب اس واقعہ سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ انگریزوں نے کیا؟جواب: دیکھو بھئی اگر تو لوگوں کو خوش کرنا ہے تو اور بات ہے اور اگر سچ سننا ہے تو میری معلومات یہی ہیں کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ایک مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھی۔ یہ فیصلہ قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ولی خان نے جب اس بارے میں بیان دیا تو جنرل ضیاالحق نے انہیں اس معاملے پر گفتگو کی دعوت دی۔ ولی خان نے جواباً ایک فوٹو سٹیٹ کاپی انہیں بھیجی جس میں واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ 1940 سے پہلے ہوچکا تھا۔ اس کے بعد ضیاالحق خاموش ہوگئے۔ میں نے لندن جا کر تو تحقیق نہیں کی لیکن میری معلومات یہی ہیں۔سوال: پیر صاحب کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یعنی پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا؟جواب: دیکھو بھئی سچ سننا ہے تو وہ تو یہی ہے وگرنہ میں بھی آپ کو کوئی کہانی سنا دیتا ہوں۔سوال: اس کا کوئی ثبوت ہے؟جواب: دیکھو بھئی برطانوی وزیراعظم چرچل کی پنجاب کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات سے قاہرہ میں ملاقات ہوئی تو چرچل نے کہا کہ مسلمانوں نے سلطنت برطانیہ کے لئے جو قربانیاں دی ہیں ان کی بلڈ منی کے طور پر انہیں الگ ریاست دی جائے گی۔

میں نے یہ بات سر سکندر حیات کے بیٹے سردار شوکت حیات سے پوچھی تو انہوں نے تصدیق کی کہ چرچل نے سردار سکندر حیات سے یہ بات کی تھی۔سوال: پیر صاحب ! آپ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، آپ بھی وہ بات کہہ رہے ہیں جو قوم پرست کہتے ہیں۔جواب: دیکھو بھئی سچ سے تکلیف تو ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس طرح دیگر بااثر لوگوں کو انگریز نے مسلم لیگ میں بھیجا تھا۔ علامہ اقبال بھی اسی طرح مسلم لیگ میں آئے تھے۔ آپ یہ بتائیں کہ علامہ اقبال کس کے کہنے پر قائداعظم کے پاس گئے تھے۔ دیکھو بھئی جتنے بھی بااثر لوگ تھے، وہ انگریزوں کے کہنے پر مسلم لیگ میں آئے تھے۔سوال: تو کیا آپ دو قومی نظریے سے انکار کرتے ہیں۔جواب: دیکھو بھئی ایک قوم ہندو تھی جو گئؤ ماتا کو پوجتی تھی دوسری قوم مسلمان تھی جو گئؤ ماتا کو کھاتی تھی تو دونوں قومیں تو الگ تھیں، البتہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں لبرل معاشرے کے قیام کے لئے بنا۔سوال: تو کیا پاکستان بنانے میں مسلم لیگ کا کردار نہیں تھا؟جواب: مسلم لیگ بااثر لوگوں کی جماعت تھی۔ یہ عوامی جماعت نہیں تھی کہ جس کے ووٹر ہوں، بااثر لوگوں کے ماننے والے اسے ووٹ دیتے تھے۔ مسلم لیگ اس وقت سے لے کر آج تک جماعت نہیں بن سکی، نہ یہ کبھی جماعت بن سکے گی۔ ملک میں اقتدار انگریز کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہے، وہی پالیسی آج تک چل رہی ہے، کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد جناب پیر پگاڑا پر روزنامہ نوائے وقت نے خوب لے دے کی۔ اسی دوران لاہور کے ایک اخبار نویس نے جب ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے اس بیان پر کیا اب بھی قائم ہیں کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا؟ تو پیر پگارا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، تو اور کیا آپ کے باپ نے بنایا تھا؟۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved