
*مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیار ہیں: سربراہ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر*تہران: ایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللّہی نے کہا ہےکہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیارہے۔ایک بیان میں جنرل عبداللّہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مضبوط ہے،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ادھر ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ حملوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایرانی جہاز کے خلاف اقدام کا یقینی طور پر جواب دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ہزار ایکٹر پر مارگلہ پہاڑی کے دامن میں نیا پارک تعمیر کیا جائے گا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس میں بڑا فیصلہ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں جاری اور مسقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیااسلام آباد کو ایک مثالی شہر بنانا ہے، جہاں بین الاقوامی معیار کی سہولتیں اور تفریح کے مواقع عوام کو فراہم کئے جائیں گے، محسن نقویبین الاقوامی معیار کی فرمز کے ساتھ جوائنٹ ونچر کے تحت فائیو سٹار ہوٹل بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہای او بی آئی کے اشتراک سے تیار ہونے والے فائیو سٹار ہوٹل پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیاوفاقی وزیرداخلہ نے سرمایہ کاروں کے لئے زیرو ٹیکس نئی ہوٹل پالیسی مرتب کرنے کے آحکامات دئیےاسلام آباد کے تمام رقبے اور پراپرٹی کا سروے آف پاکستان سے مکمل سروے کرایا جائے گا، اجلاس میں فیصلہوزیر داخلہ کی آئندہ تمام آکشنز کیلئے مارکیٹنگ ٹیم تعینات کرنے کی ہدایتاس اقدام سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کی بولی میں شرکت ممکن ہو سکے گی

کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کا کنٹرول روم سیف سٹی میں قائم کیا جائے گا، اجلاس میں فیصلہچئیرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف نے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیسی ڈی کے تمام ڈیٹا اور ٹرانسفر کے نظام کو ڈیجیٹلائزڈ کیا جا رہا ہے، بریفنگسی ڈی اے میں ون ونڈو آپریشن کے تحت ڈیجیٹل ڈیش بورڈ متعارف کرایا جائے گا، بریفنگسی ڈی اے میں غیر ضروری پوسٹیوں کو ختم کیا جائے گا، بریفنگچیئرمین اسلام آباد سہیل اشرف، ممبران سی ڈی اے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے#InteriorMinister #mohsinnaqvi #governmentofPakistan #CDA #CapitalDevelopmentAuthority Mohsin Naqvi Chief Commissioner Islamabad Capital Development Authority – CDA, Islamabad

“جب اختیار من مانی میں بدل جائے اور ادارے خاموش ہو جائیں تو عوامی اعتماد سب سے پہلے قربان ہوتا ہے۔”رانا تصدق حسیناسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے اندرونی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات نے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جہاں مبینہ طور پر مداخلت، انتظامی تجاوزات اور وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے نامناسب زبان کے استعمال کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔یہ پیش رفت گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی خودمختاری سے متعلق بنیادی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔متعدد سینئر افسران، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، کے مطابق وزیر موصوف کا سرکاری اجلاسوں کے دوران رویہ ایک غیر یقینی اور دباؤ پر مبنی ماحول پیدا کر رہا ہے۔ان کے بقول عبدالعلیم خان کا اندازِ گفتگو کئی مواقع پر پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کر چکا ہے،

جہاں سخت اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال سینئر افسران کے ساتھ کیا گیا، جو کہ ایک منظم سرکاری ادارے کے لیے ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے۔صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایک حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر نے 8 ارب روپے کی ادائیگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر انتہائی نامناسب انداز میں اس کی منظوری دینے والے سے متعلق سوال اٹھایا.تاہم، اس معاملے سے واقف افسران نے وضاحت کی کہ یہ ادائیگی مکمل طور پر مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اور این ایچ اے کے سی ای او کیپٹن (ریٹائرڈ) اسداللہ خان، جو اس معاملے میں مجاز اتھارٹی ہیں، کی منظوری کے بعد کی گئی تھی۔سینئر حکام کا کہنا ہے کہ نہ تو وفاقی وزیر اور نہ ہی قائم مقام سیکرٹری مواصلات کو این ایچ اے کے روزمرہ انتظامی، آپریشنل یا مینٹیننس سے متعلق مالی معاملات میں کوئی براہِ راست قانونی اختیار حاصل ہے۔ان کے مطابق اس نوعیت کی مداخلت نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ ادارے کی خودمختاری اور کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔مزید برآں، مستند ذرائع نے انکشاف کیا ہے

کہ قومی شاہراہوں اور موٹر ویز پر دیکھ بھال کے بیشتر کام مالی وسائل کی کمی کے باعث معطل ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب بھاری عوامی فنڈز کو مخصوص منصوبوں کی طرف منتقل کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں.ان منصوبوں میں ایک محدود سڑک کا حصہ بھی شامل ہے جو پارک ویو سٹی کے سامنے واقع ہے، جو کہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم ہے اور مبینہ طور پر وزیر کے کاروباری مفادات سے منسلک بتائی جاتی ہے.اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مفادات کے ٹکراؤ اور عوامی وسائل کے غلط استعمال سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔مزید الزامات کے مطابق اسلام آباد مری ایکسپریس وے پر بھی اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، جہاں مبینہ طور پر مسابقتی خریداری کے عمل اور مناسب آڈٹ نگرانی کو نظر انداز کیا گیا،

جو مالی نظم و ضبط اور شفافیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ادارہ جاتی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ان خدشات کی توثیق کرتی ہے جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، کی جانب سے ریاستی اداروں میں گورننس کی کمزوریوں کے حوالے سے بارہا ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔این ایچ اے کی موجودہ صورتحال کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں انتظامی دباؤ اور کمزور ادارہ جاتی مزاحمت احتساب اور آپریشنل شفافیت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔اس کے علاوہ ادارہ جاتی ڈھانچے میں بھی کئی تضادات کی نشاندہی کی جا رہی ہے،

جن میں چیف ایگزیکٹو کی تقرری اور 57 ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتی شامل ہے، جسے بعض اندرونی ذرائع اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کے اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔مزید یہ کہ نیشنل ہائی وے کونسل کی تشکیل بھی تنقید کی زد میں ہے، جہاں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متعدد ارکان کو وزیر کی سفارش پر تعینات کیا گیا، جن کے پاس روڈ سیکٹر کا متعلقہ تجربہ موجود نہیں، جس کے باعث کونسل ایک مؤثر نگران ادارے کے بجائے محض ایک رسمی فورم بن کر رہ گئی ہے۔اس حوالے سے وزارت مواصلات اور این ایچ اے انتظامیہ سے بارہا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر مختلف حلقوں کی جانب سے فوری اعلیٰ سطحی تحقیقات، آزادانہ آڈٹ اور قانونی و ادارہ جاتی اصولوں کی سختی سے پاسداری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاکہ ملک کے ایک اہم ترین عوامی ادارے کی ساکھ اور کارکردگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

*ایران-امریکا مذاکرات: ایران کے جواب نہ دینے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر، امریکی میڈیا کا دعویٰ*ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر ہوگیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے جواب نہ دینے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا۔معاملے سے باخبر امریکی حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ کسی بھی وقت دوبارہ طے ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکا اگلا قدم کیا اٹھائیں گے۔امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے۔دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ ابتدائی طور پر ہے لیکن اس پہ مطمئن ہوکر بیٹھ نہ جائیں کیونکہ جب اگلا مرحلہ شروع ہو گا تو یہ گلی محلوں تک پہنچ جائیں گے حکومت عوام کو سہولیات دینے میں یکسر ناکام رہی ہے مہنگائی اور بربادی عوام کے لیے عذاب بن چکے ہیں اس کے باوجود بھی حکومت رک نہیں رہی ہے اب چالان پہ چالان مقصد پیسہ اکٹھا کرکے اپنی عیاشیوں کے لیے گئے قرضوں کا سود بھرنا ہے اوپر سے صفائی ٹیکس لگ گیا ہے کل کو واسا ٹیکس لگے پھر بیوٹی فیکیشن ٹیکس لگے لگتے لگتے سانس لینے پہ بھی ٹیکس لگے گا حکومت نے غریب کے لیے جینا حرام کر دیا ہے اور امیروں کے لیے کاروبار کرنا وزیر داخلہ صاحب کہتے ہیں تین سال میں 100 ارب ڈالر باہر چلے جب ملک حالات ہی سازگار نہیں ہوں گے تو ہر کوئی ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش کرے ملک میں کاروبار چل نہیں رہے اوپر سے پنجاب پر کوئی بہت ہی خاص عذاب نازل کرکے اس کو پولیس اسٹیٹ اور جیل بنا دیا گیا ہے جیل میں رہنا تو دور کی جیل کا نام سننا بھی کسی کو پسند نہیں ہے جو اس ملک کے ساتھ خاص طور پر پنجاب کے ساتھ ہو رہا ہے اتنے برے حالات صرف فلسطین کے ہیں یا پنجاب کے لیکن عوام خاص طور پر نعرے مارنے اب بھی مطمئن ہیں

ہر بار جب پاکستان امریکہ کی مدد کے لیے قدم بڑھاتا ہے، معاملات خراب ہو جاتے ہیں۔ چین کے لیے دروازے کھولنے، سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کی حمایت کرنے اور نائن الیون کے بعد جنگ تک۔اب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ تو اس بار امریکہ سے پاکستان کے لیے کس چیز کا انتظار کیا جا










