
نصیر اللہ خان بابر: ایک جامع تحقیقی مطالعہتحریر: ڈاکٹر مکمل شاہ یوسفزئیپاکستان کی عسکری، سیاسی اور ریاستی تاریخ میں چند ایسے نام ہیں جو ایک ساتھ فوجی جرأت، سیاسی اثر و رسوخ اور متنازع پالیسیوں کی علامت بن گئے۔ ان میں ایک نمایاں نام میجر جنرل (ر) نصیر اللہ خان بابر کا ہے، جنہوں نے فوج، سرحدی انتظام، انٹیلیجنس، اور سیاست—چاروں میدانوں میں گہرے اثرات چھوڑے۔۔🪖 فوجی پس منظر اور عسکری خدماتنصیر اللہ بابر 1928 میں خیبر پختونخوا کے علاقے پِرپائی (نوشہرہ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور اور برطانوی دور کے فوجی اداروں سے حاصل کی، بعد ازاں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت لے کر 1948 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔وہ آرٹلری کور اور بعد میں مختلف عسکری کمانڈز میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں ان کا کردار نمایاں رہا، اور انہیں ستارۂ جرات جیسے فوجی اعزازات بھی ملے۔بعد ازاں وہ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (FC) بھی رہے، جو قبائلی علاقوں میں امن و امان کے حوالے سے ایک اہم عسکری عہدہ تھا۔🧭 “کمیونیکیشن” اور سکیورٹی اسٹرٹیجک کردارنصیر اللہ بابر کا اصل اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کا کردار اسٹریٹجک سکیورٹی کمیونیکیشن اور خفیہ پالیسی سازی میں بھی نمایاں سمجھا جاتا ہے

۔قبائلی علاقوں میں ریاستی رابطہ کاریافغانستان سے متعلق پالیسی اور اثر و رسوخانٹیلیجنس اور داخلی سکیورٹی آپریشنز میں کردارفرنٹیئر کور کے ذریعے “گراؤنڈ نیٹ ورک” کا قیامان کا اندازِ کار “hard power + political communication” کا امتزاج سمجھا جاتا ہے، جس نے انہیں بعد میں سیاسی حلقوں میں بھی مضبوط بنایا۔🏛️ سیاسی سفر اور پیپلز پارٹی میں شمولیت1974 کے بعد انہوں نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) میں شامل ہو گئے۔ان کے اہم سیاسی کردار:📌 1. خیبر پختونخوا کے گورنر (1975–1977)انہوں نے صوبے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔📌 2. بے نظیر بھٹو کے قریبی مشیر1988–1990 کے دوران وہ داخلی امور کے خصوصی مشیر رہے۔📌 3. وزیر داخلہ (1993–1996)یہ ان کی سب سے اہم سیاسی ذمہ داری تھی، جس میں:کراچی میں امن و امان کے لیے سخت آپریشنزپولیس اصلاحاتداخلی سلامتی کی حکمت عملیان کے فیصلے آج بھی بحث کا موضوع ہیں⚔️ بڑے فیصلے اور متنازع اقداماتنصیر اللہ بابر کے چند اہم اور متنازع اقدامات:کراچی میں آپریشنز اور سیاسی گروہوں کے خلاف کارروائیاںریاستی سکیورٹی اسٹرٹیجی میں سخت لائنکراچی آپریشن (1992–1996): پس منظر، حقائق اور نصیر اللہ بابر کا کردارکراچی آپریشن پاکستان کی سیاسی و سکیورٹی تاریخ کا ایک انتہائی اہم، متنازع اور فیصلہ کن باب ہے۔ یہ آپریشن 1990 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب کراچی میں سیاسی، لسانی اور جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی اور خونریزی بڑھ گئی۔اس پورے عمل میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے

۔1990 کی دہائی کے آغاز میں کراچی:پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مرکزلاکھوں آبادی پر مشتمل کثیر النسلی شہرسیاسی جماعتوں اور مسلح گروہوں کا مرکزبھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کا شکاراہم کشیدگی MQM (متحدہ قومی موومنٹ)، پولیس، اور بعض ریاستی اداروں کے درمیان تھی۔1992 میں اس وقت کی حکومت نے کراچی میں “کلین اپ آپریشن” شروع کیا۔ اس کے بنیادی مقاصد تھے:سیاسی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہاسلحہ کی غیر قانونی موجودگی روکناشہر میں ریاستی رٹ بحال کرناٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کا خاتمہاس آپریشن کی نگرانی مختلف ادوار میں فوج، رینجرز اور پولیس نے کی، لیکن سیاسی سطح پر اس کی پالیسی سازی میں نصیر اللہ بابر کا کردار اہم تھا۔۔🧭 نصیر اللہ بابر کا کردارنصیر اللہ بابر (وزیر داخلہ 1993–1996) نے کراچی کی صورتحال کو “ریاستی بقا کا مسئلہ” قرار دیا۔ان کی پالیسی کے اہم نکات:سخت سکیورٹی آپریشن کی حمایتانٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کا فروغرینجرز کے اختیارات میں اضافہپولیس اصلاحات اور سیاسی مداخلت کم کرنے کی کوششجرائم پیشہ عناصر اور سیاسی گروہوں میں فرق کرنے کی پالیسیان کے نزدیک کراچی میں “ریاستی کنٹرول کی بحالی” اولین ترجیح تھی۔افغانستان اور قبائلی علاقوں میں اثر و رسوخ کی پالیسیانٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی توسیعان کے حامی انہیں “اسٹیبلٹی لانے والا سخت منتظم” کہتے ہیں،

جبکہ ناقد انہیں “سخت گیر پالیسی ساز” قرار دیتے ہیں۔🌍 افغانستان اور علاقائی کردارکچھ تاریخی رپورٹس کے مطابق وہ 1970s میں افغانستان کے حوالے سے خفیہ اور اسٹریٹجک آپریشنز سے بھی منسلک رہے، جو خطے کی جیوپولیٹکس میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے تھے۔👨👩👧 خاندان، اولاد اور ذاتی زندگیتعلق: پشتون قبیلہ بابرآبائی علاقہ: نوشہرہ، پِرپائیخاندان: نجی زندگی نسبتاً کم میڈیا میں رہیایک بیٹی (Maria Babar) کا ذکر بعض ذرائع میں ملتا ہےان کی نجی زندگی زیادہ تر سیاست اور عسکری ذمہ داریوں کے سائے میں رہی۔🎓 تعلیمابتدائی تعلیم: پشاورBurn Hall SchoolRoyal Indian Military College (Dehradun)پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA)⚰️ وفاتنصیر اللہ بابر 10 جنوری 2011 کو پشاور میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔ان کی تدفین آبائی علاقے پِرپائی میں کی گئی۔

🧾 مجموعی تجزیہنصیر اللہ بابر کو ایک “فوجی اسٹریٹیجسٹ + سیاسی سخت گیر منتظم” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی تین بڑے دائروں میں سمٹی ہوئی ہے:فوجی جرأت اور جنگی خدماتداخلی سکیورٹی اور ریاستی سخت پالیسیاںپیپلز پارٹی کی حکومت میں طاقتور سیاسی کردار📌 نتیجہنصیر اللہ بابر پاکستان کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کے اندر رہ کر طاقت، سیاست اور سکیورٹی تینوں کو ایک ساتھ متاثر کیا۔ ان کا کردار آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بحث، تعریف اور تنقید تینوں زاویوں سے زندہ ہے۔

پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اِس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ھے لیکن اُس کی قوم نے اُسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، اُن کے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر اِن کے ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں۔۔دنیا بدل رھی ھے۔۔۔ کسں کی پیروی کرنی چاھیئے ،شعور میں آ گئی ھے۔۔کیا آپ نے 2018 کے انتخابات کے بعد کسی کو اس طرح کی اصلاحات ان سب سے پہلے کرتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔؟کون ھے اصل ھیرو ۔۔۔۔سمجھ تو گئے ھوں گے ۔۔۔دنیا کے دو ملکوں میں کس نے کس کی پیروی کی، اور پھر ان کو کیا عوامی ردعمل ملا۔۔۔دو واقعات۔۔۔۔ پہلا حالیہ واقعہ ۔۔۔۔کروشیا کی منتخب صدر نے ملک کی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا jet جہاز اور وزراء کے استعمال میں 39 لگثری گاڑیاں فروخت کرکے وزراء کو حکم جاری کیا کہ اپنے علاقوں میں جاکر عوام کے مسائل معلوم کرو اور اپنے گھروں میں دفاتر بنا لو حالانکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کیمرج یونیورسٹی کی فارغ التحصیل خاتون جو شکل و صورت سے بھی جاذب نظر ھے Tiktok کا ڈرامہ بھی رچا سکتی تھی اسکے گھر سے دفتر کا فیصلہ 1.2 کلومیٹر ھے جو پیدل طے کرتی ھے گھر سے اپنے دفتر اپنا کھانا ساتھ لے کر آتی ھے اس نے غیر ملکی قرضہ لینے سے انکار کردیا اپنی تنخواہ ملک کے عام مزدور کے برابر کردی۔۔

(امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خصوصی رپورٹ)۔۔۔۔۔۔ دوسرا حالیہ واقعہ۔۔۔کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا ، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے

۔۔۔یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49,000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1,650 ڈالرکینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم۔۔ بتانے کا مقصد یہ ھے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اِس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ھے لیکن اُس کی قوم نے اُسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، اُن کے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر اِن کے ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔بشکریہ۔ صفدر حسین شاہ

*بڑا اسکینڈل بےنقاب**پاکستان کی مشہور بسکٹ بنانے والی کمپنی کے خلاف 6 ارب ٹیکس چوری کا مقدمہ درج، بینک افسران ملوث پائے گئے*
*بلوچستان شاہراہِ ایم 40 پر دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی، فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل، 3 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آپریشن جاری*

*تب تک ایران اپنا وفد پاکستان نہیں بھیجے گا جب تک امریکہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، ایران کا واضح پیغام* *بلوچستان شاہراہِ ایم 40 پر دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی، فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل، 3 جوان جام شہادت نوش کرگئے، آپریشن جاری*

وعجائیداد کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا بل منظورپنجاب اسمبلی نے “دی رجسٹریشن ترمیمی بل 2026” منظور کر لیا، جائیداد کی رجسٹریشن کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہلاہور : پنجاب اسمبلی نے “دی رجسٹریشن ترمیمی بل 2026” منظور کر لیا ہے جس کے تحت اب جائیداد کی تمام رجسٹریشن کاغذی (مینوئل) طریقے کے بجائے الیکٹرانک ریکارڈ سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔نئے قانون کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) ایک جدید ڈیجیٹل نظام قائم کرے گی جہاں ہر دستاویز کا اندراج برقی طریقے سے ہوگا اور روایتی رجسٹروں کا استعمال ختم کر دیا جائے گا۔قانون کے تحت اب ہر رجسٹری کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے، جس میں فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت شامل ہوگی اور یہ نظام نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا۔

اس ترمیم کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اب رجسٹرار کو قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی رجسٹری غلط بیانی، دھوکہ دہی یا اثر و رسوخ کے ذریعے کروائی گئی ہو تو وہ اسے خود منسوخ کر سکے گا۔حکام کے مطابق یہ قانون پورے پنجاب میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ نئے نظام کے تحت ہر رجسٹری پر الیکٹرانک دستخط ہوں گے جن کی قانونی حیثیت عدالتوں میں بھی تسلیم کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پٹواری کلچر، جعلی رجسٹریوں اور زمینوں کے تنازعات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے اور جائیداد کے معاملات زیادہ شفاف اور محفوظ ہو جائیں گے۔










