
طالبان، کرنل امام اور قندھار: ایک تصویر، ایک یرغمالی ٹیم، اور ایک خاموش انجامتحریر: ڈاکٹر مکمل شاہ یوسفزئیآغاز: ریت، بارود اور رازافغانستان کی سرزمین ہمیشہ سے کہانیوں کی ماں رہی ہے—لیکن کچھ کہانیاں تاریخ کی کتابوں میں نہیں، بلکہ خوف، راز اور خاموش قبروں میں لکھی جاتی ہیں۔ یہ کہانی بھی ایسی ہی ہے… قندھار کی جلتی ہوئی زمین سے شروع ہو کر ایک پراسرار انجام تک۔یہ وہ وقت تھا جب Taliban ایک ابھرتی ہوئی طاقت بن رہے تھے۔ سوویت انخلا کے بعد افغانستان ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا، اور ہر طرف وار لارڈز کا راج تھا۔ اسی انتشار میں ایک نیا نظم ابھر رہا تھا—سخت، خاموش، اور خوفناکقندھار کا قبضہ: ایک نئے دور کی شروعات1994—قندھار۔یہ وہ لمحہ تھا جب Mullah Omar نے چند سو طلبہ کے ساتھ ایک ایسی تحریک شروع کی جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے افغانستان پر چھا گئی۔ ایک سادہ ملا، ایک آنکھ سے محروم، لیکن نظریے میں سخت—وہ خود کو امیرالمؤمنین کہلوانے لگا۔کرنل امام: پردے کے پیچھے کا کرداراس کہانی کا دوسرا کردار ہے Sultan Amir Tarar، جسے دنیا “کرنل امام” کے نام سے جانتی ہے۔وہ افغان جہاد کا ایک خاموش معمار تھا—ایسا شخص جس نے مجاہدین کو تربیت دی، راستے دکھائے، اور بعد میں طالبان کے ابھار میں بھی ایک پیچیدہ کردار ادا کیا۔لیکن تاریخ ہمیشہ اپنے کرداروں کو انعام نہیں دیتی… کبھی کبھی وہ انہی کو نگل جاتی ہے۔پی ٹی وی ٹیم: سچ کی تلاش یا خطرے کی دعوت؟پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک ٹیم قندھار پہنچی—مقصد تھا دنیا کو طالبان کا چہرہ دکھانا۔لیکن ایک سوال تھا:کیا وہ چہرہ دکھانا چاہتا بھی تھا؟جب ٹیم نے Mullah Omar کی تصویر لینے کی کوشش کی، تو تنازعہ بھڑک اٹھا۔ ملا عمر کی تصویر بنانا صرف ایک صحافتی عمل نہیں تھا—یہ ایک “حد” کو پار کرنا تھا۔تنازع: ایک تصویر کی قیمتطالبان کے لیے تصویر بنانا صرف ثقافتی مسئلہ نہیں تھا—

یہ نظریاتی سرکشی تھی۔کہا جاتا ہے کہ ملا عمر کی تصویر لینے کی کوشش نے ٹیم کو خطرے میں ڈال دیا۔ کچھ روایات کے مطابق ٹیم کو محدود کر دیا گیا، پوچھ گچھ ہوئی، اور لمحوں میں صحافت ایک یرغمالی صورتحال میں بدل گئی۔یہاں سوال صرف ایک تصویر کا نہیں تھا…یہ طاقت، نظریہ اور کنٹرول کا سوال تھا۔کرنل امام کی واپسی اور انجامسالوں بعد، وہی Sultan Amir Tarar—جو کبھی طالبان کے قریب سمجھے جاتے تھے—خود ایک نئے کھیل کا شکار بن گئے۔2010 میں، افغانستان کے قبائلی علاقوں میں ایک سفر کے دوران، وہ اغوا ہو گئے۔ اغوا کار کوئی اور نہیں بلکہ Tehrik-i-Taliban Pakistan کے شدت پسند تھے۔2011—ایک ویڈیو، ایک پیغام، اور ایک انجام۔کرنل امام کو قتل کر دیا گیا۔انجام: خاموش قبریں اور زندہ سوالاتیہ کہانی ختم نہیں ہوتی—یہ صرف خاموش ہو جاتی ہے۔قندھار آج بھی کھڑا ہے، لیکن اس کی دیواروں میں وہ چیخیں چھپی ہیں جو کبھی ریکارڈ نہیں ہوئیں۔پی ٹی وی ٹیم کی وہ جرات، ملا عمر کی وہ خاموشی، اور کرنل امام کا وہ انجام—سب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔آخری لفظیہ صرف تاریخ نہیں—یہ سبق ہے۔کہ کچھ تصویریں نہیں لی جاتیں،کچھ سچ نہیں دکھائے جاتے،اور کچھ کردار… آخرکار اپنی ہی کہانی میں گم ہو جاتے ہیں۔










