
سردار ایاز صادق ایک نام نہیں، ایک ادارہ ھے۔

تین بار قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے ، 333 دنوں میں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے ، 20 سال سے روکی ہوئی پرموشن کا معاملہ ہو یا غیر قانونی ایکسٹنشن کا خاتمہ، بجٹ میں کمی کے لیے بھرتیوں پر پابندی ، غرض ہر اہم اور توجہ طلب مسلے کو حل کرنے کے علاوہ سر سبز پارلیمنٹ کا تصور کہ ؛جہاں پر کوئی گند نظر نہ آئے۔ اور اب 333 روز کے بعد میں پارلیمنٹ کے کسی کونے میں کوئی گند نظر نہیں آتا ۔

جہاں ایک سال میں قانون سازی کا ریکارڈ قائم کیا گیا وہیں پر ملازمین اور افسران کی عزت وتکریم میں اضافہ بھی نظر آیا۔ سردار ایاز صادق کی حکمت عملی اور رویے نے ایمان دار افسران اور ملازمین کو مزید عزت سے نوازا ۔ انہوں نے ایک سال میں 20 سال کے گند کو صاف کرنے کی کوشش کی ۔ سب سے بڑھ کر پارلیمنٹ کی بالادستی کو بھی مزید تقویت دی ۔ تفصیلات کے لئے










