آج کل کی کرکٹ میں کسی بھی باؤلر کو کوئی بھی بیٹسمین دھو دیتا ہے، بڑے بڑے سکور بن رہے ہیں تو ایسے میں اگر آپ نے جیتنا ہے تو آپ کے بیٹسمینوں کو تیز کھیلنا ہو گا، لمبی اننگ ہو یا چھوٹی تیز کھیلنا لازمی ہے- ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز ہی تیز تھا، وکٹیں گریں لیکن اچھی بات یہ تھی کہ مطلوبہ رن ریٹ کو ایک حد سے بڑھنے نہیں دیا گیا- تیسویں اوور کے بعد تو رضوان اور سلمان کچھ ایسا شاندار کھیلے کہ جنوبی افریقہ کے پاس کوئی موقع ہی نہیں بچا- موقع بن سکتا تھا اگر جنوبی افریقہ کی ٹیم کچھ وکٹیں حاصل کر پاتی لیکن دونوں بیٹسمینوں کی عمدہ بیٹنگ نے ایسا موقع ہی نہیں دیا- رضوان اور سلمان دونوں نے عمدہ شاٹس کھیلیں لیکن خاص شاٹس سلمان آغا کی ایکسٹرا کور پر کھیلی گئی شاٹس تھیں- زیادہ تر فاسٹ باؤلرز کو اور کچھ شمسی کو، اتنے تسلسل سے ایکسٹرا کور پر اتنی پیاری شاٹس کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں- مڈوکٹ اور سامنے بھی کچھ اچھی شاٹس کھیلیں لیکن ایکسٹرا کور والی شاٹس کمال تھیں- دوسری جانب کپتان نے کپتان والی اننگ کھیلی، پرسکون، بغیر کوئی دباؤ لئے بس اپنا کھیل کھیلے جاؤ اور ایسی بیٹنگ وکٹ پر سکور تو بن ہی جاتا ہے- ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا شاندار کھیل!










