—وزیراعظم۔۔ آسٹریاوزیراعظم شہباز شریف کی آسٹریا کے کاروباری طبقے کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوتویانا۔16فروری وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل و لیدر، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں، حکومت ان کی میزبانی کرے گی، دونوں ممالک میں تعاون اور دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پاکستان-آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی کے علاوہ دونوں ممالک کی نمایاں کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط بنیادوں پر استوار طویل دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹرین کمپنیاں دہائیوں سے پاکستان میں کام کرتی رہی ہیں لیکن ماضی قریب میں بوجوہ اس میں کمی آئی، قابل تجدید توانائی، معدنیات و کان کنی اور سیاحت کے شعبے میں کئی آسٹرین کمپنیاں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے ساتھ دوطرفہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کو بہت مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں طے ہونے والے امور کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط تاریخی حقائق پر مبنی ہیں، قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں آسٹریا کا تعاون قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے، حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کے لئے کوشاں ہیں، نوجوانوں کی ترقی کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن کے مسئلے پر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا اہم انحصار زراعت پر ہے، 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور گندم، مکئی اور گنے سمیت اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے کاوشیں جاری ہیں، زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے لئے آسٹریا کے تعاون کا خیرمقدم کریں گے کیونکہ اس شعبے میں آسٹریا کا وسیع تجربہ اور مہارت ہے۔ انہوں نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں آسٹریا کی بزنس کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ،ٹیکسٹائل، لیدر، ہائیڈرو پاور، سولر، بائیو ماس، سمارٹ سلوشنز، گرڈ ماڈرنائزیشن، انڈسٹریل آٹومیشن، مشینری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، معاشی شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے خواہاں ہیں، اپرل میں پاکستان ای بزنس فورم کا اسلام آباد میں انعقاد ہوگا۔ وزیراعظم نے آسٹرین سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی دعوت پر پاکستان آئیں، ہمارے مہمان بنیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیں۔ قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فورم کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز ہے، اپنے محل وقوع اور معاشی مواقع کی وجہ سے پاکستان اہم مارکیٹ ہے، معاشی استحکام اور ترقی کے لئے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے موجودہ دور میں معاشی سفارتکاری اور ترقیاتی عمل کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سفارتکاری میں آسٹریا کے اہم کردار کے معترف ہیں، برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے حکومت کے معاشی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، نوجوانوں کی بہت بڑی آبادی کے باعث پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جدت جس میں آسٹریا کو خصوصی مہارت حاصل ہے، کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ فورم میں پاکستانی اور آسٹرین کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی










