
ایرانی میزائلوں سےاسرائیل کی تباہی کے مناظراسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے مقامی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ امکان ہے کہ کئی سو کلوگرام وزنی ایرانی وارہیڈ دو اپارٹمنٹ بلڈنگز کے درمیان گرا، بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے میں 6 افراد زخمی اور ایک شخص ہلاک ہوا۔

سال 2026 میں پاکستان سے افغانستان واپس بھیجے گئے غیر قانونی، بغیر دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کی تعداد 160,000 سے زیادہ ہے 📍پاکستان کے عوام حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس عمل کو تیز کریں، 2026 میں 160 ہزار افراد کی واپسی بہت کم اور بالکل ناقابلِ قبول ہے، یہ تعداد 10 گنا زیادہ ہونی چاہیے تھی۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی پاکستانی سفارت خانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے قریب بمباری، خوش قسمتی سے تمام عملہ محفوظ رہا۔پاکستان اسٹریٹجک فورم کا دوٹوک مؤقف: پاکستان قطر نہیں، دنیا میں کہیں بھی ہمارے سفارتکاروں کو نقصان پہنچا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکہ اب نہیں بچے گا ۔ اظہر سیدڈالر کے زوال کا دعویٰ کرنا دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بددعا نہیں بلکہ سورج کی طرح روشن حقیقت ہے ۔2008 کا مالیاتی بحران امریکہ کو لے ڈوبا تھا ۔ستائیس بینک دیوالیہ ہو گئے تھے ۔ہاوسنگ لون کی نادہندگی نے انشورنس کمپنیوں کی لٹیا ڈبو دی تھی ۔ظالم سپر پاور نے خود کو بچانے کیلئے نائن الیون کے بہانے دنیا کو خوفناک جنگوں میں جھونک دیا ۔ان جنگوں نے جنگی صنعت کا پہیہ چلا دیا ۔خلیجی ممالک نے بیس سال میں امریکہ اور مغربی ممالک سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا اور امریکہ مالیاتی بحران کو ایک موقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔دو ہزار آٹھ کے اس مالیاتی بحران کی کوکھ سے جو بحران پیدا ہوا اس سے بچ نکلنے کا کوئی موقع موجود نہیں ۔اگر ڈوبتی ہوئی سپر پاور وینزویلا اور ایران کے توانائی کے وسائل پر قبضہ کر لے ۔گرین لینڈ کے نایاب معدنی وسائل کی مالک بن جائے ۔کینیڈا کے وسیع و عریض رقبہ کو یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کا حصہ بنا لے تو شائد دو دہائیاں مزید امریکی سپر پاور بنے رہیں لیکن اس میں بہت سارے اگر مگر شامل ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے ۔پچھلے بحران سے بچ نکلنے کا موقع گیارہ ستمبر نے فراہم کیا موجودہ بحران سے بچ نکلنے کا موقع لینے کیلئے جو سفر درکار ہے وہ راہ کانٹوں بھری ہے ۔امریکی قرضہ اس کے جی ڈی پی کے ایک سو پچیس فیصد کے برابر ہے جبکہ پاکستانی قرضہ اس کی جی ڈی پی کے ستر فیصد کے برابر ہے ۔امریکہ امیر ملک ہے ڈالر بہت طاقتور ہے اس لئے امریکہ کیلئے قرضہ کی ادائیگی مشکل نہیں ۔پاکستان غریب ملک ہے کرنسی کمزور ہے اس لئے ادائیگیاں مشکل ہیں ۔اب صورتحال بدل رہی ہے ۔

امریکیوں کو ہر ماہ ستر ارب ڈالر صرف سود کی ادائیگیوں کیلئے درکار ہیں جبکہ پاکستان کا کل قرضہ ہی ایک سو بیس ارب ڈالر ہے ۔عالمی گولڈ مارکیٹ کریش کر گئی ہے جبکہ موجودہ عالمی مالیاتی بحران میں گولڈ مارکیٹ کریش نہیں کرنا چاہئے تھی ۔وجہ صرف یہ ہے سرمایہ نے جان لیا ہے ڈالر خطرہ میں ہے اور فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرنے جا رہا ہے ۔سرمایہ بہت پہلے خطرہ سونگھ لیتا ہے ۔جب سے امریکہ سپر پاور ہے ۔ڈالر مضبوط ہے سونے کی عالمی مارکیٹ پر امریکہ فیڈرل ریزرو کا کنٹرول ہے ۔اب گولڈ مارکیٹ جس طرح ردعمل دے رہی ہے ایک ہی مطلب ہے امریکی ڈالر کمزور ہونے جا رہا ہے ۔برکس کے متبادل نظام میں بھارت،چین ،روس،برازیل ،جنوبی افریقہ اور اب سعودی عرب بھی شامل ہو گیا ہے ۔یہ متبادل مالیاتی نظام امریکی اجارہ داری کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے ۔ڈالر کو اس وقت صرف ائل کی عالمی تجارت بچائے ہوئے ہے جو ڈالر میں ہے ۔ایران نے چینی کرنسی یوان میں تجارت کرنے والے آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جو اجازت دی ہے وہ علامت ہے چین عالمی معیشت امریکہ سے ٹیک اوور کرنے کا عمل شروع کر چکا ہے ۔اب جو مالیاتی بحران شروع ہوا ۔امریکی بینک دیوالیہ ہونا شروع ہوئے امریکہ بھی دیوالیہ ہو جائے گا ۔جس طرح حصص بازار گرنے سے اربوں روپیہ غائب ہو جاتے ہیں ۔جس طرح دوبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں اربوں ڈالر غائب ہو گئے ہیں امریکی ارب پتی بھی اربوں ڈالر کے اثاثے ٹکہ ہونے سے غریب ہو جائیں گے ۔اب امریکہ کو بچانے کیلئے کوئی طریقہ موجود نہیں اور جو طریقہ موجود ہے اس منزل تک پہنچنے سے پہلے زوال کا عمل شروع ہو جائے گا ۔کوئی دن جاتا ہے امریکی ڈالر کی طاقت کے زور پر اپنے قرضے رول اوور کرنے کی اہلیت کھو بیٹھیں گے اور پھر رقص میں سارا جنگل ہو گا ۔










