
اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار وزیر اعلیٰ مریم نواز کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت مقررعلی مصطفیٰ ڈار کو مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر کردیا۔چیف سیکرٹری پنجاب نےتقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا، جس کے مطابق علی مصطفیٰ ڈار کو مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ علی مصطفیٰ ڈار ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے ، اورصدر مسلم لیگ ن نواز شریف کے

کچھ عقلمند بغلیں بجا رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا انڈیا سے ڈیل کر لی عقل کے اندھو ہر شخص ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں جہاں انڈیا اندرونی طور پر مستحکم اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے اس کی انڈسٹری کی ایک طویل تاریخ ہے جس کے پیچھے خالص کاروباری سوچ، جمہوری رویوں اور پالیسیوں کا تسلسل ہے جبکہ اپن کے ملک پر ہر چھ اٹھ سال بعد “ہو شیار۔ آسان باش۔ پیچھے مڑ “والے بھائی صاحب آ جاتے ہیں۔جہاں سیاستدان پورے دنوں کے بدمعاش و بدقماش اور حرامخور ہیں وہیں تین و چار ستاروں والے بڑے افسران تاجروں سے مقامی ایم کیو ایم سے مل کر اور کہیں کچے کے ڈاکوووں کی بندوق پر ہاتھ پھیر کر بھتہ لیتے دیکھے پائے جاتے ہیں۔۔لوٹ مار انڈیا میں بھی ہے مگر ہمارے ہاں تو وحشیانہ لوٹ مار ہے جس کے بغیر گزارہ تک نہیں ہوتا ۔ہر وزیر اعظم پر کرپشن کے الزام والے پاکستان کے مقابلے انڈیا میں نریند مودی من موہن سنگھ نرسیماراو گجرال واجپائئ سے نہرو تک کسی وزیراعظم پر کرپشن کا الزام نہیں لگا ۔قصہ مختصر پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے کا بھی الزام انڈیا پر کبھی نہیں لگا

جبکہ ہم اسے کمبل سے جان چھڑاتے چھڑاتے اے ائی کی دنیا میں پہنچ آئے ہیں انڈسٹری کس نے لگانی تھی صرف پچھلے چھبیس سال کو دیکھ لو پہلے جرنیل آ کر سگار پیتا رہا ۔بعد از پیپلزپارٹی والے پانچ سال دن و رات سوئس بینکوں کو خط لکھو پر کھیلتے رہے یوں میاں نامی ہی ٹیم مے فیلڈ کی رسیدوں کے دفاع میں جت گئی جاتے جاتے تبدیلی کو ناتجربہ کار ٹیم و کرونا چمٹ گیا جبکہ موجودہ چارلی شہزادے وہیں کھڑے ہیں جیسے فوجی اصطلاح میں “جیسے تھے ” کہتے ہیں ۔تو انڈیا کے مقابلے امریکہ آپ کو آخر دے تو دے کیا ؟ بولو ؟بجلی اور گیس جس کے بغیر کاروبار اور صنعت کا پہیہ نہیں چلتا یہ دو بنیادی چیزیں تمارے پاس سب سے مہنگی ہیں ذرائع آمدرفت کا کوئی حال نہیں۔ ٹیکس نظام سرخ فیتہ اور نوکر شاہی تمہارے کاروبار اور صنعت کا دشمن ہے۔کاریگر کام میں دھیان دینے کے بجاے بابو بنے پھر رہے ہیں

۔ تو دنیا تم سے خاک خریدے ؟انڈیا نے ڈیل ہنسی خوشی نہیں کی۔ بلکہ نو ماہ چاچا کی جھڑکیں اور گالیاں کھا کر جب چاچا ٹرمپ کے پاس بھی کچھ نہ بچا تو معاملہ طے ہوا ۔چاچا ٹرمپ دنیا کی تیسری بڑی منڈی انڈیا کو نتھ ڈال کر مودی کی مہار کھینچ کر روس سے تیل بند کروا کر اپنا وینزویلا والا بیچنے کی ڈیل پر مہر لگوا کر امریکی مصنوعات پر انڈین منڈیوں میں برابر ٹیکس لگوا کر اٹھارہ فیصد پر مانا ۔ تو اس میں انڈیا سے زیادہ امریکہ فائدے میں رہا ۔ رہ گیا یورپ تو وہ امریکہ سے دھتکارے ہوے مرتا کیا نہ کرتا انڈیا سے فری ٹریڈ میں چلنے کے علاوہ کر ہی کیا سکتا ہے ۔ چائنا سے مال لیں تو چاچا ٹرمپ کی گالیاں کھائیں جبکہ منڈی اتنی بڑی ہے کھپت انڈیا جیسے بڑے انڈسٹریل ملک کے علاوہ کوئی پوری نہیں کر سکتا تو ایسا ہونا ہی تھا ۔یورپ بھی انڈین مارکیٹ میں اپنا سودہ فری ٹریڈ کے تحت بیچے گا یہ دو طرفہ معاملہ ہے ۔ اب ہمارا حال یہ ہے بجلی اج بھی کوئی نہیں بل انگلینڈ سے زیادہ۔ریاستی قرضہ بدمعاشوں کیلئے جبکہ فیکٹری تجربہ و تربیت ناپید ۔ آئی ٹی چند نوجوان اپنے تئیں سیکھ رہے ہیں سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ابھی تک بنیادی کورس سکھاے جا رہے ہیں۔ سرحد پر گولی جبکہ ملک میں کہیں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد اور کہیں بلوچ دہشت گرد کہیں کچے کے ڈاکوؤں کا راج اور اگر کوئی شہری ان سے بچ جائے تو پکے والے چھوڑتے نہیں۔انڈیا امریکہ ڈیل پر طعنے دینے کے بجاے اپنے اپنے گریبان میں جھانکو ۔ ملک سے محبت کرنے والے باصلاحیت پڑھے لکھے یا ہنرمند نوجوان موجودہ پاکستانی کرتا دھرتاوں کو اسرائیلی سمجھ کر پاکستان کو بھی تین طلاقیں دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔ ہم تیارکردہ مال باہرلے ملکوں کی منڈیوں میں بھیجنے کی بجائے اپنے نوجوان روشن دماغ دنیا بھر کو سپلائی کرنے کو کامیابی سمجھتے ہیں شاید برما کے بعد پاکستان دنیا کا دوسرا ملک ہے جو سیاسی معاشی اور طاقت کی تمام اکائیوں میں تقسیم ہے ۔جاری ہے

گُڈی لٹنا اور جَنج لٹنا یہ جنریشن Z کی پیدائش سے کچھ برس پہلے کی بات ہے جب پنجاب کی ثقافت میں گڈی اور جنج لوٹنے کی روایت کو بچوں میں بہت مقبولیت حاصل تھی-جنج لٹن دا اے مطلب نئی کہ جنج نوں گن پوائنٹ تے لٹیا جاندا سی- یہ بچوں اور جنج کا آپس کا باہمی معاھدہ تھا- ایک روپیہ بہت بڑی رقم ہوتی تھی- ایک روپے کے سو پیسے ھوتے اور ایک ایک پیسہ قیمتی تھا- اب تو رقم کی گنتی سو یا پچاس کے نوٹ سے شروع ہوتی ھے- سادہ دال اور دو دوٹیاں بھی کم از کم تین سو کی پڑتی ہیں – اس زمانے میں اچھے بھلے سرکاری ملازم کی تنخواہ پچاس ساٹھ روپے ہی ھوتی تھی- جنج میں بچوں کی طرف پانچ پیسے، دس پیسے، چوانی، اٹھانی کے سکے پھینکے جاتے اور بچے حسب جُثہ، سکّے لوٹ کر مال نیفے لگاتے جاتے- پھر جنجوں کو بسوں اور فلائنگ کوچز میں گن پوائنٹ پر لوٹنے کا دور شروع ہوا اور یہ کام بچوں کی جگہ اوباش نوجوانوں نے سنبھال لیا- جب مارکیٹ اکانومی کا دور آیا تو لوگ سیٹھ اور دوکاندار کے ہاتھوں ،خود لٹنے بازار آنے لگے

-انٹر نیٹ کی سہولت نے ڈاکوؤں کا کام اب آسان کر دیا ہے-اب ڈاکو، کمپیوٹر کی مدد سے گھر بیٹھے ہی لوٹ لیتے ہیں- بچوں اور جنج کا لوٹنے اور لٹے جانے کا باہمی معاھدہ اب ترقی کرتا ھوا حکومت اور عوام تک پہنچ چکا ہے-دونوں ایک دوسرے کو بلا جھجک لوٹ رھے ہیں -گڈی لٹنے کی داستان ایک علیحدہ ایڈوینچر تھا- گڈی کا رابطہ جب ڈور سے کٹ جائے تو اس عمل کو بو کاٹا اور گڈی کو ” کٹی پتنگ” کہتے ہیں- اس منظر نامے سے متاثر ھو کر ہی بھارتی نغمہ نگار آنند بخشی نے فلم “کٹی پتنگ” کے لئےنغمہ ” میری زندگی ھے کیا، اک کٹی پتنگ ھے” لکھا تھا اور فلم ھٹ ھو گئی -6 فروری کو لاھور میں “جشن بو کاٹا” میں خوب پیچے پڑے اور پتنگیں لٹیں-

کبوتر بازی سے پتنگ بازی تک کا سفر مائیک ہاتھ میں تھامے میاں نواز شریف کی پہلی تصویر آج سے دو سال پہلے کی ہے، جب 8 فروری 2024 کے انتخابات میں محض 17 نشستوں کے باوجود پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے تاریخی دھاندلی، بلکہ بدمعاشی کے ذریعے نواز لیگ کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ اس کے بعد ان کے بھائی وزیرِ اعظم بنے اور بیٹی پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو گئیں۔نیلے لباس میں ملبوس میاں صاحب کی دوسری تصویر ٹھیک دو سال بعد، یعنی 8 فروری 2026 کی ہے۔ دونوں تصاویر میں ان کی صحت میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ آج میاں صاحب نہایت کمزور اور نحیف نظر آ رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا صحت میں یہ گراوٹ صرف دو سال کے عرصے میں ایک فطری عمل ہے؟ کیا یہ صرف ذیابیطس کا نتیجہ ہے، یا ان دو سالوں کا اخلاقی دباؤ اور ذہنی تناؤ بھی اس میں شامل ہے؟ یا شاید ان تمام عوامل نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہو۔ ویسے میرے خیال میں تو قوم کی لوٹی دولت گیرب کے حیصےکے کھائے ھوئے مال کی بدولت اور قوم کی طرف سے بھجی گئے لعنتوں کی بنا پر اس کی شکل پہ اثرات پڑھ رہے ہیں ورنہ شرم ضمیر غیرت سے تو ان کا ات کتے کا ویر ہے اس کو ضمیر کا کوئی بوجھ نہیں آپ کا کیا خیال ہے ؟
ایپسٹین کے فارم ہاوس میں عورتوں کو کثیر تعداد میں حاملہ کر کے ایک نام نہاد ’اعلیٰ نسل‘ تیار کرنے کا منصوبہ: نئی دستاویزات میں خوفناک انکشافات نیویارک کی جیل میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی موت کو کئی سال گزر چکے ہیں، تاہم اب سامنے آنے والی نئی دستاویزات، بیانات اور امریکی محکمہ انصاف کے حالیہ ریکارڈز نے اس بدنام فنانسر کی سوچ اور مبینہ منصوبوں کے بارے میں ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں جاری کردہ تازہ معلومات کے مطابق ایپسٹین نے اپنے قریبی افراد سے کہا تھا کہ وہ نیو میکسیکو میں واقع اپنے وسیع و عریض فارم کو ایک ایسے منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے جہاں وہ عورتوں کو حاملہ کرے اور اس کے خون سے ایک نام نہاد ’اعلیٰ نسل‘ تیار کی جاسکے۔بعض لوگوں نے نجی طور پر اس خیال کو ’بیبی رینچ‘ (بچوں کا باڑہ) کا نام دیا۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کبھی نافذ ہوا، تاہم سائنس دانوں، مشیروں اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی سرکاری فائلوں سے ایک ایسی تصویر ضرور سامنے آتی ہے جو طاقت، اختیار اور خیالی تصورات کے خطرناک امتزاج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ایپسٹین کی یہ گفتگو مبینہ طور پر ’ٹرانس ہیومن ازم‘ میں اس کی دلچسپی سے جڑی ہوئی تھی، جو ایک ایسا نظریہ ہے جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے

کہ اس طرز فکر میں ماضی کے متنازع اور مسترد شدہ نظریات، خاص طور پر یوجینکس، کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔2019 میں گرفتاری سے قبل ایپسٹین نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی تھی اور وہ اکثر اپنے خیالات کو علمی اور فکری انداز میں پیش کرتا تھا۔ تاہم بعد میں اس سے گفتگو کرنے والے کئی افراد نے اعتراف کیا کہ اس وقت انہوں نے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے چیلنج نہیں کیا۔ایپسٹین نے بااثر علمی حلقوں میں رسائی حاصل کرنے کے لیے بھاری عطیات، تقریبات اور نجی ملاقاتوں کا سہارا لیا۔ اس کے روابط معروف سائنس دانوں اور دانشوروں تک جا پہنچے، جن میں طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ، ماہر نفسیات اسٹیون پنکر اور جینیٹکس کے ماہر جارج ایم چرچ جیسے نام شامل تھے۔اس نے کانفرنسز کی مالی معاونت کی، نجی عشائیے منعقد کیے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کی، جس کے باعث بعض محققین نے بعد میں تسلیم کیا کہ مالی تعاون نے انہیں اس کے ماضی پر سخت سوال اٹھانے سے روکے رکھا۔ایپسٹین کے نیو میکسیکو میں واقع زورو رینچ سے متعلق متاثرین کے بیانات نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔بعض افراد کے مطابق ایپسٹین تولید اور انسانی کنٹرول کے موضوع پر محض نظری گفتگو تک محدود نہیں تھا۔ تعلیمی نشستوں میں، جن میں ہارورڈ جیسے ادارے بھی شامل تھے، اس نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ غریب ممالک میں صحت اور غربت کے خاتمے کی کوششیں آبادی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔کچھ شرکاء نے بعد میں بتایا کہ انسانی زندگی کو اعداد و شمار میں تولنے کا یہ انداز انہیں پریشان کن لگا۔ایک خاتون، جنہوں نے خود کو ناسا کی سائنس دان بتایا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین ایک وقت میں اپنے فارم پر 20 خواتین کو حاملہ دیکھنا چاہتا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اسے ایک ایسے سپرم بینک سے تحریک ملی جو اب بند ہو چکا ہے اور جہاں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ نوبیل انعام یافتہ افراد کے جینز سے انسانیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ایپسٹین نے اپنی موت کے بعد جسم کو محفوظ رکھنے جیسے خیالات پر بھی بات کی۔ایک سابق ساتھی کے مطابق اس نے کرائیونکس، یعنی انسانی جسم کو منجمد کر کے محفوظ کرنے کے متنازع عمل، پر گفتگو کی اور یہاں تک کہا کہ وہ اپنے جسم کے کچھ حصے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے

۔امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ شائع شدہ فائلوں میں شامل ایک ڈائری نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔اس ڈائری میں ایک خاتون نے لکھا کہ اس نے کم عمری میں بچے کو جنم دیا اور کچھ عرصے بعد وہ بچہ اس سے لے لیا گیا، جس کی نگرانی مبینہ طور پر ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھیسلین میکسویل کر رہی تھیں۔اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور بچے کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔زورو رینچ، جو ہزاروں ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، بظاہر ایک نجی تفریحی مقام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر متاثرین نے بعد میں اسے خوف اور استحصال کی جگہ قرار دیا۔کئی خواتین نے عدالت میں بتایا کہ انہیں کم عمری میں وہاں لے جایا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں مدد سے دور رکھا گیا۔گھیسلین میکسویل کو بعد ازاں لڑکیوں کو ورغلانے اور جنسی اسمگلنگ میں مدد دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی، جبکہ بعض گواہوں نے تصدیق کی کہ وہ اہم ادوار میں زورو رینچ پر موجود تھیں۔










