ایک ایسا ملک جو صرف سات مہینوں میں 7 لاکھ 57 ہزار ٹن چینی بیرونِ ملک برآمد کر چکا ہے، اب اسی عرصے میں 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے رہا ہے۔ یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک کھلا فراڈ ہے۔ پہلے سستی چینی برآمد کی جاتی ہے تاکہ اندرونِ ملک قلت پیدا ہو، پھر وہی قلت جواز بن کر مہنگی درآمدات کا دروازہ کھولتی ہے اور اس پورے کھیل میں فائدہ صرف چینی مافیا، برآمدی نیٹ ورک اور کچھ مخصوص طبقات کو ہوتا ہے، نقصان صرف عام پاکستانی کو۔ یہ فیصلے معیشت کو سنوارنے کے لیے نہیں بلکہ مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔کیا سمجھے