بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات کے بعد صدر ریاست کا انتخاب 53 کے ارکان میں سے پیپلز پارٹی کی حکومت کو صدر بنانے کیلئے سادہ اکثریت (27) ارکان کی ووٹ کی ضرورت ہے جبکہ صدر کی معزولیِ کے لیے صدر دو تہائی اکثریت (36) کے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے پیپلز پارٹی چاہتی ہے حکومت ہماری صدر بھی ہمارا ہونا چاہئے جبکہ ن لیگ کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا صدد کسی صورت نہیں بن سکتا پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت نہیں جبکہ دوسری جانب دیکھا جائے تو متحدہ اپوزیشن کے پاس بھی سادہ اکثریت نہیں ن لیگ کی مرضی ہے صدر کا انتخاب آمدہ الیکشن کے بعد ہو جبکہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت کے دوران ہی صدر کا انتخاب ہو جائے الیکشن کے بعد اگر ن لیگ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے پھر ن لیگ کو صدر کی معزولی صدر کو ہٹانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی صدر بنانے میں سادہ اکثریت اب ن لیگ آمدہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر سکے گی یا نہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ اگر پیپلز پارٹی موجودہ حالات میں اپنا صدر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے پھر آنے والی حکومت اگر کسی دوسری جماعت کی بن جاتی ہے اسکو صدر کو ہٹانے کیلئے مشکلات ضرور ہونگی کیونکہ بظاہر کوئی جماعت انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرتے دکھائی نہیں دیتی حکومت بنانے کیلئے سادہ اکثریت کسی جماعت کو حاصل ہو جائے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اعلی سطح قیادت نے کرنا ہے آزادکشمیر میں انکی جماعت کے ممبران نے فیصلے کو من عن سر خم تسلیم کرنا ہے










