
ایران کا تل ابیب پر بڑا حملہ: 89 بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کا استعمالتل ابیب: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے اس وقت نئی صورتحال اختیار کر لی جب ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر 89 بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔اہم تفصیلات: * نشاہ: تل ابیب کے حساس مقامات اور فوجی تنصیبات۔ * شدت: حملے کے نتیجے میں شہر میں سائرن گونج اٹھے اور دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔ * ردعمل: ایرانی حکام کی جانب سے اس کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔علاقے میں اس وقت شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

*اسلام آباد ، سویٹ ہوم میں پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کی بیٹی کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا* *فاتحہ خوانی میں اہم سیاسی و سماجی شخصیات اور سویٹ ہوم کے بچوں کی شرکت* *فاتحہ خوانی میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی ،وفاقی وزرا مصدق ملک ،محمد اورنگزیب ،عبدالعلیم خان ،چودھری سالک حسین ،خورشید شاہ ،نیئر بخاری ،شاہد خاقان عباسی ،سینیٹر فیصل جاوید ،سینیٹر ذیشان خانزادہ اور سینیٹر اعظم سواتی سمیت دیگر اہم شخصیات کی شرکت* *ماروی خورشید ملک کے درجات بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی*

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے زرداری ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے عوامی مسائل اور حکومت کی جانب سے ان کے حل سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔

پٹرول کی قیمت میں ایک سو سینتس روپے اضافہ کر کے فی لٹر قیمت چار سو اٹھاون (458) روپے کر دی گئی ۔ یہ اضافہ مجھے تو ظالمانہ لگ رہا ہے ، خاص کر جب اس پر پٹرولیم لیوی میں پچپن روپے اضافہ کیا گیا اور یوں پٹرول پر لیوی (یعنی وہ ٹیکس جو فیڈرل گورنمنٹ ڈائریکٹ وصول کرے گی، صوبوں کو حصہ نہیں ملے گا)ایک سو ساٹھ روپے اکسٹھ پیسے فی لٹر ہوگئی۔ دوسرے لفظوں میں اگر پٹرولیم لیوی نہ ہو تو یہی پٹرول چار سو اٹھاون روپے کے بجائے تین سو روپے میں فروخت ہوتا۔ ڈیزل تو مزید مہنگا ہوا ہے۔ اس کی نئی قیمت پانچ سو بیس روپے ہوگئی ہے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بسوں کے کرایوں میں کس قدر اضافہ ہوجائے گا۔ بہرحال بہت ہی خوفناک اور مشکل دور ہے، اللہ کرم فرمائے مزید مشکل نہ ہوجائے۔

میرے جیسے لوگ جو کئی جگہوں پر (قلم) مزدوری کر کے اپنا گھر چلاتے ہیں، ان کو اب اور زیادہ احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ ایک سادہ نسخہ یہ ہے کہ اب اگر کوئی یار دوست کہیں کھانے وغیرہ پر بلائے تو فوری طور پر پہلے وہاں کی لوکیشن نکال کر یہ دیکھ لیا جائے کہ کتنے کلومیٹر کا آنے جانے کا سفر ہوگا اور پھر بہتر یہی ہے کہ ایسے رزق پر گھر کی سادہ دال روٹی کو ترجیح دی جائے۔ خاکسار کی جانب سے جب تک پٹرول سستا نہیں ہوجاتا، ایسی ہر دعوت کے جواب میں معذرت قبول کی جائے۔

تاہم بچوں کو سکول وغیرہ بھیجنا تو مجبوری ہے، جنہوں نے روزانہ دفتر جانا ہے، ان کے پاس بھی زیادہ آپشن نہیں۔ اگر قریب رہنے والے لوگ آپس میں گاڑی وغیرہ شیئر کر سکیں تو ایسا کرنے میں حجاب محسوس نہ کریں۔ گاڑی پول کر کے اپنا آنا جانا کر لیں۔ اللہ رحم فرمائے۔ ن لیگی حکومت کے پلو میں نحوست کی ایسی گٹھی بندی ہے کہ جب بھی یہ آتے ہیں کسانوں پر بھی قیامت بن کر گرتے ہیں اور ملک میں بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔

اور ہاں تصویر ان حضرات کی اس لئے لگائی کہ یہ منحوس اعلان دونوں نے مل کر کیا ہے، وزیرخزانہ اور وزیر پٹرولیم۔ ان کی “حسین “تصویر پر آپ دل وجاں سے “پھول”نچھاور کر سکتےہیں، اپنی “دعائیں” بھی ناپ تول کر ان تقدس مآب چہروں کو دیکھتے ہوئے ان کی جانب روانہ کی جا سکتی ہیں۔

ایران کے مطابق ہم نے پاکستان کا تیل نہیں روکا مسلسل سپلائی جاری ہے جب سپلائی جاری ہے کوئی شارٹج نہیں تو پھر ان ملکوں کے ساتھ موازنہ دیکھا کر جن کی سپلائی بند ہے حکومت کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہے کہ عوام بیوقوف ہے عوام کو کچھ پتہ نہیں ہے اس ہوشربا اضافے کی وجہ آئی ایم ایف سے اگلے قرضے کی قسط ہے وہی قرضے جو حکومت لیتی ہے اپنی عیاشیوں کے لیے اور بوجھ عوام پر آتا جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بے دریغ روزانہ کی بنیاد پر قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ کرتی گئی ہے قرضے حکومت نے ہڑپہ لیے اب بوجھ گدھوں کی طرح عوام اٹھائے










