جوابی کارروائی کا حق ہے لیکن تحمل کا مظاہرہ کیا، طالبانافغان طالبان کے بقول پاکستان کی طرف سے کیے گئے تازہ حملوں کا جواب دیا جا سکتا ہے لیکن امن کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ادھر بھارت نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے تاہم ’’مذاکراتی ٹیم کی عزت اور وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے‘‘ افغان فورسز کو نئی فوجی کارروائی سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ہفتے کے روز قطر میں پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات سے قبل سامنے آیا، جو ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب پاکستان نے جمعہ کو افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں سے دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ جنگ بندی کا خاتمہ ہو گیا، جو سرحدی جھڑپوں کے بعد عارضی طور پر نافذ کی گئی تھی۔پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر کیے گئے۔ پاکستانی حکومت اس گروپ پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان میں پاکستانی نیم فوجی اہلکاروں پر حملے کیے۔مزید پڑھنے کے لیے کمنٹس میں موجود لنک کو کلک کیجیے۔










