تازہ تر ین

لیبیا کرنل قذافی کے بیٹے کی نماز جنازہ بتا رہی ہے کہ امریکہ کے غلاموں سے کس قدر نفرت اور محب وطن سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ملک میں جعلی مینڈیٹ کے ذریعے جعلی حکومت بنائی گئی ، موجودہ حکومت جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے: مولانا فضل الرحمان۔ سمدھی امور کے وزیر ۔چیلنج کرتا ہوں کہ ایک حلقے کا نتیجہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں تیار کیا،۔اسحق ڈار یا پھر امپورٹڈ وزیروں کے سر ہے۔۔ ۔پنجاب میں پولیس کے وسیع پیمانے پر تبدیلیاں۔۔احسن یونس کی سی سی پی او لاہور تعیناتی۔۔قومی ائیر لائن کی ھزاروں ارب روپے کی جائدادوں کی بندر بانٹ۔۔ گنڈا سنگھ اور پاکستان۔ملک بھر میں مکمل شٹر ڈاون۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جدید ہندوستان کے بانی اور معیشت دان ڈاکٹر من موہن سنگھ مرحوم کا تعلق چکوال سے اور ورلڈ بنک کے موجودہ صدر اجے بنگا صاحب کا تعلق خوشاب سے ہے پاکستان کی اکانومی کو تباہ کرنے کا سہرا سمدھی امور کے وزیر اسحق ڈار یا پھر امپورٹڈ وزیروں کے سر ہے جہاں معیشت کے معاملات معیشت دانوں کو نہیں بینکرز اور چارٹڈ اکاؤنٹنٹس کے حوالے کیئے جاتے ہیںکوشش کریں کہ شاید آپ کو چکوال یا خوشاب سے کوئ اچھا معیشت دان مل جاۓ ؟

امام خمینی کے بعد موجودہ “رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای” کی جانشینی کا تاریخی پس منظر! یہ سوال ایرانی سیاسی تاریخ کے نہایت اہم اور نازک موڑ سے جڑا ہے کہ روح اللہ خمینی کے بعد علی خامنہ ای ایران کے رہبرِ اعلیٰ کیسے بنے، اور اس مقصد کے لیے آئینِ ایران میں ترمیم کیوں ضروری سمجھی گئی؟ امام خمینی نے پہلے سے مقرر کردہ اپنا جانشین کیوں ہٹایا؟ آیت اللہ “حسین علی منتظری” جو خمینی کے سابق شاگرد اور انقلاب کی ایک بڑی شخصیت تھے، کو خمینی نے اپنے جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔نومبر 1985 میں مجلسِ خبرگانِ رہبری نے باضابطہ طور پر انہیں قائم مقام رہبر (جانشینِ رہبر) منظور کر لیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ امام خمینی کے انتقال کے بعد وہ بلا رکاوٹ ایران کے سپریم لیڈر بن جاتے۔

آیت اللہ منتظری 1922 میں ایران کے شہر نجف آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے اصفہان اور پھر قم گئے۔ قم میں وہ امام خمینی کے نہایت ذہین اور قابل اعتماد شاگردوں میں شمار ہونے لگے۔ شاہِ ایران کے خلاف انقلابی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔ اسی سرگرمی کے باعث وہ بارہا قید و بند اور تشدد کا نشانہ بھی بنے۔انقلاب کے بعد، انہیں “قائم مقام رہبر” (Successor) مقرر کیا گیا، یعنی یہ طے تھا کہ امام خمینی کے بعد وہ ایران کے سپریم لیڈر بنیں گے۔ولایتِ فقیہ اور مرجعیت کی شرط1979 کے انقلاب کے بعد جو اسلامی آئین نافذ ہوا، اس کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے “مرجعِ تقلید” ہونا ایک لازمی شرط تھی۔ 1980 کی دہائی کے اوائل میں زندہ آیت اللہ کی تعداد محدود تھی، اور ان میں سے آیت اللہ منتظری واحد شخصیت تھے جو نہ صرف مرجع تھے بلکہ خمینی کے تصورِ ولایتِ فقیہ کے بھی حامی تھے۔ اسی لیے وہ فطری طور پر خمینی کے جانشین سمجھے جاتے تھے۔امام خمینی اور منتظری کے اختلافات کیسے پیدا ہوئے؟ 1980 کی دہائی کے آخری برسوں میں خمینی اور آیت اللہ منتظری کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ “مہدی ہاشمی” کا معاملہ تھا، جو آیت اللہ منتظری کے قریبی رشتہ دار اور انقلابی نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔ستمبر 1987 میں مہدی ہاشمی کو سنگین الزامات کے تحت پھانسی دے دی گئی، جسے منتظری نے ناانصافی قرار دیا۔بعد ازاں 1988–89 میں سیاسی قیدیوں کی بڑے پیمانے پر پھانسیوں پر آیت اللہ منتظری نے کھل کر اعتراض کیا۔انہوں نے امام خمینی کو ایک خط میں سخت الفاظ میں لکھا:“آپ کی جیلیں شاہ اور اس کی ساواک سے بھی بدتر ہو چکی ہیں۔”یہ خط بعد میں یورپ میں لیک ہوگیا اور بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً بی بی سی، پر نشر ہوا۔ اس واقعے نے امام خمینی کو شدید برہم کر دیا

۔معزولی اور سیاسی تنہائیمارچ 1989 میں امام خمینی نے آیت اللہ منتظری کو “قائم مقام” رہبر کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ سرکاری دفاتر اور مساجد سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں، اور وہ عملاً اقتدار کے دائرے سے باہر ہو گئے۔اس فیصلے کے بعد ایران ایک آئینی بحران میں داخل ہو گیا، کیونکہ رہبری کے لیے جو واحد اہل مرجع موجود تھا، وہ نااہل قرار دیا جا چکا تھا۔آئین میں ترمیم کی ضرورتاسی بحران کے حل کے لیےخمینی نے آئینِ ایران پر نظرِ ثانی کی اسمبلی بلانے کا حکم دیا۔ نتیجتاً 1989 میں آئین میں ایک بنیادی ترمیم کی گئی، جس کے تحت سپریم لیڈر کے لیے مرجعِ تقلید ہونا “لازمی شرط” نہیں رہا۔ اب صرف مجتہد ہونا کافی سمجھا گیا۔یہ ترمیم دراصل “علی خامنہ ای” کی رہبری کے لیے آئینی راستہ ہموار کرنے کے مترادف تھی، جو اگرچہ ایک انقلابی اور سیاسی رہنما تھے، مگر اس وقت مرجع کے درجے پر فائز نہیں تھے۔علی خامنہ ایعلی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جواد خامنہ ای کا تعلق آذربائیجان کے علاقے “خامنہ” سے تھا، اس لیے نام کے ساتھ خامنہ ای لکھتے ہیں۔ خامنہ ای نے 1958 میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے قم کا رخ کیا،

جہاں انہوں نے خمینی، آیت اللہ بروجردی اور علامہ طباطبائی جیسے جید علما سے استفادہ کیا۔1960 کی دہائی میں انہوں نے امام خمینی کی تحریک میں عملی حصہ لیا، جس کے نتیجے میں قید، جلاوطنی اور سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا، جس کے بعد انہیں ایران میں “زندہ شہید” کہا جانے لگا۔انقلاب کے بعد علی خامنہ ای مختلف اہم مناصب پر فائز رہے اور 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔ ان کے دورِ صدارت میں ایران–عراق جنگ کے انتہائی مشکل سال شامل تھے۔4 جون 1989 کو امام خمینی کے انتقال کے فوراً بعد، مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آئینی ترمیم کے تحت علی خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا۔آیت اللہ منتظری نے بعد ازاں بھی رہبری کے نظام اور خامنہ ای کی غیر جواب دہ طاقت پر تنقید جاری رکھی۔ اسی بنا پر 1997 سے 2003 تک وہ چھ سال نظر بند بھی رہے۔ انہوں نے 2009 کے ایرانی صدارتی انتخاب کے بعد صدر احمدی نژاد کی مذمت میں فتوٰی بھی دیا تھا۔علی خامنہ ای 1989 سے اب تک تقریباً 36 سال، 8 ماہ اور 4 دن سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔دفاع، خارجہ پالیسی، عدلیہ اور فوج سمیت تمام اہم ریاستی ادارے ان کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ سیاست کے ساتھ ساتھ وہ ادب، شاعری اور ترجمہ نگاری سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

‏پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے ایک کمانڈر کو زندہ پکڑ لیا ۔ اب کہنے والے کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سامنے پتھر بھی بول پڑتے ہیں ۔ اس لئے جب کلبھوشن بول پڑا تھا تو یہ اس کے ہاتھ کے لگائے پودے کیسے فر فر نہ بولتے ہیں ۔ اس نے جو انکشاف کیا اس نے سیکیورٹی فورسز کو بھی چکرا کر رکھ دیا ۔ اس نے بتایا کہ اس کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ تم نے کسی بھی طرح ایف سی کے ہیڈ کوارٹر پر بی ایل اے کا پرچم لہرانا ہے اور ویڈیو بنانی ہے ۔ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ آرڈر اوپر سے آیا تھا اور ویڈیو بنتے ہی سیٹلائیٹ کے زریعے اس نے اپلوڈ کرنی تھی جو کہ ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے سوشل میڈیا پر وائرل کی جانی تھی ۔

جبکہ بی ایل اے کے گرفتار اور ہلاک کمانڈرز سے بڑی تعداد میں جدید کیمرے اور مواصلاتی سیٹس ملے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بی ایل اے نے عملی طور پر عسکری ناکامی کا سامنا کیا لیکن اس کا مقصد عسکری محاز پر لڑنے کے بجائے ویڈیوز کری ایشن تھا ۔ کیوں کہ سیکیورٹی فورسز الرٹ تھیں اور بی ایل اے کو پہلے سے علم تھا کہ وہ زیادہ کچھ نہیں کرسکیں گے بلکہ ان کا مقصد کانٹینٹ کری ایشن تھی ویڈیوز بنانا تھا اور وہ انہوں نے بنالی ۔ اور اپلوڈ بھی کردیں ۔ البتہ ان کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ایک ویڈیو کی قیمت سرمچاروں کی لاشوں سے ادا کرنا پڑی ۔یہ ویڈیوز اب پورے سال ٹائٹل بدل بدل کر اپلوڈ کی جائیں گی اور فنڈنگ حاصل کی جائے گی اور عالمی سطح پر کلیم کیا جائے گا کہ بلوچستان محفوظ نہیں ہے ۔ اور یہاں سرمایہ کاری نہ آئے ۔

بسنت کا تاریخی پس مظربسنت منانے والے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ جب موسم سرما رخصت ہوتا ہے اور بہا ر کی آمد آمد ہوتی ہے تو یہ تہوار منایا جاتا ہے جبکہ تاریخی حقائق اس کے خلاف ہیں۔سکھ مورخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب پنجاب میں آخری مغل دور حکومت میں لکھا ہے کہ ۱۷۰۷ء تا ۱۷۵۹ء زکریاخان پنجاب کا گورنر تھا۔ حقیقت رائے سیالکوٹ کے ایک کھتری باکھ مل پوری کا بیٹا تھا۔ اس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی صاحب زادی سیدہ سلام اللہ علیہا کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس جرم پر حقیقت رائے کو قاضی وقت نے موت کی سزا دی۔ اس واقعہ سے غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا اور بڑے بڑے ہندو مہاشے اور سرکردہ لوگ زکریا خان گورنر کے پاس گئے کہ حقیقت رائے کی سزا ئے موت معاف کر دی جائے لیکن زکریا خان نے ان کی سفارش ماننے سے انکار کر دیا اور ۱۷۴۷ء میں اسے موت کی سزا دے دی گئی۔

ہندوؤں کے نزدیک حقیقت رائے نے ہندو دھرم کے لیے قربانی دی۔ اس لیے انہوں نے پیلی (بسنتی) پگڑیاں اور ان کی عورتوں نے پیلی ساڑھیاں پہنیں اور اس کی مڑھی پر پیلا رنگ بکھیر دیا۔ بعد میں ایک ہندو کالو رام نے اس مڑھی پر ایک مندر تعمیر کروایا۔ جس دن حقیقت رائے کو موت کی سزا دی گئی اس دن کو پیلے رنگ کی نسبت سے بسنت کا نام دیا گیا۔ اس دن ملحقہ میدان میں پتنگ بازی بھی ہوئی اور حقیقت رائے کی یاد تازہ رکھنے کے لیے یہ بسنت ہندو تہوار کے طور پر ہر سال منانے کا سلسلہ قائم ہوا جو بھارت میں تو معمولی انداز میں منایا جاتا ہے اور یہاں بڑی دھوم دھام سے پتنگ بازی اور دیگر ہر قسم کی لغویات اور بے ہودگی کا مظاہرہ کئی کئی دن تک شب وروز کیا جاتا ہے جس میں ہمارے ذرائع ابلاغ بھرپور رنگینی اور فحاشی کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔حقیقت رائے کی یہ مڑھی کوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہ / گھوڑے شاہ) لاہور میں ہے۔ اب یہ جگہ باغبان پورہ میں باوے دی مڑھی کے نام سے مشہور ہے اور اسی علاقہ کے قبرستان میں موجود ہے۔ ہندو سکھ زائرین بسنت کے موقع پر اب تک باوے دی مڑھی پر حاضری دیتے اور منتیں مانتے ہیں۔ شاید ان میں بسنت منانے والے مسلمان بھی ہوں۔ اس لیے بسنت موسمی تہوار نہیں ہے بلکہ ہندو اسے یادگار حقیقت رائے کے طور پرمناتے ہیں اور یہ خالصتا ہندوانہ تہوار ہے لیکن مسلمانوں کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ ایک گستاخ رسول کی یاد میں منائے جانے والے تہوار پر لاکھوں روپیہ لٹا کر اور جانی نقصان اٹھا کر وہ ہر سال اس منحوس رسم کی آبیاری کرتے ہیں۔اس پیغام کو دوسروں تک پہنچا دیں میرا کام آپ تک پہنچانا تھا کیوں کے شراب کی بوتل پر روح افزا لکھ دینے سے وہ ہلال نہیں ہو جاتی نوجوانوں کو علم ہونا چاہیے اس تہوار کے پہچھے کی سچائی کا زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ہو سکتا ہے کوئی عمل کر لے۔

مذہب اور پختون معاشرہ ۔اظہر سیدسوویت یونین اور امریکہ کی افغانستان موجودگی سے نپٹنے کیلئے خیبرپختونخوا سے افغانستان تک مذہب بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا ۔چار دہائیوں تک مسلسل استعمال نے مذہب کو پختون معاشرے کے ڈی این اے میں شامل کر دیا ہے ۔ منشیات فروشی،اغلام بازی ،کار چوری،اسمگلنگ سمیت دنیا بھر کے جرائم ہونگے لیکن ساتھ ساتھ مذہب ناگزیر شہ کے طور پر موجود ہو گا ۔مذہب کی ڈی این اے میں شمولیت نے خواتین کو پختون معاشرہ کا وہ اچھوت بنا دیا ہے جن کے بازاروں میں نکلنے سے مذہب خطرہ میں پڑ جاتا ہے لیکن پنجابی سندھی یا دوسری قومیت کی خواتین بازاروں میں نکلیں وہ پختونوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا باعت ہوتی ہیں ۔معاشرے کی نصف ابادی پر پابندیوں نے خوبصورت لڑکوں سے انسیت بھی پختون معاشرے میں شامل کر دی ہے ۔خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سے افغانستان تک کم عمر خوبصورت پختون لڑکوں کو اپنے ساتھ رکھنا گویا فخر اور مردانگی کا استعارہ ہے ۔سوویت یونین تحلیل ہو گیا ۔امریکہ واپس چلا گیا

لیکن مذہب پوری طاقت سے موجود ہے ۔پاکستان کے مالکان پالیسی شفٹ سے مذہب کے استمال کو چھوڑ بھی دیں افغانستان کی وجہ سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹے گی ۔خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں کوئی سیاسی جماعت کوئی لیڈر اتنی طاقت نہیں رکھتا پختون معاشرے کو مذہبی بنیاد پرستی سے نجات دلا سکے ۔خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے ساتھ سندھ اور خاص طور پر پنجاب میں مذہب کو تقویت دینے کیلئے مذہبی جماعتوں کو طاقت فراہم کی گئی تھی ۔اب کوئی بھی مذہبی انتہا پسندی سے محفوظ نہیں ۔ شیعہ ہو یا قادیانی ایک بہت بڑی تعداد انہیں واجب القتل سمجھتی ہے ۔بھٹو حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے باوجود انہیں بطور ثواب قتل کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا ۔شیعہ کافر بھی قرار نہیں دئے جاتے تھے ۔دعا دیں جنرل ضیا الحق کے دور کو جس میں فرقہ واریت کا جن بوتل سے نکالا گیا ۔اب صرف شیعہ اور قادیانی ہی کافر نہیں مخالف فرقے اور گروہ کو بھی کافر قرار دے کر مارا جا سکتا ہے ۔خود کش حملے اس وقت ختم ہونگے جب معاشرہ انتہا پسندی سے اعتدال پسندی کی طرف بڑھے گا ۔ریاستی مقاصد کیلئے مذہب کو جس طرح استعمال کیا اسکی قیمت تو ادا کرنا ہی ہے ۔امام بارگاہ کا موجودہ خودکش حملہ بھی ایک قیمت ہی ہے ۔

*قومی ایئر لائن انتظامیہ کا ملک میں موجود 5 جائیدادوں کا تخمینہ لگانے کا فیصلہ*قومی ایئر لائن انتظامیہ نے ملک میں موجود 5 جائیدادوں کا تخمینہ لگانے کا فیصلہ کر لیا۔انتظامیہ کی جانب سے ان 5 جائیدادوں، جن میں سیلز آفس بلیو ایریا اسلام آباد، بکنگ آفس راولپنڈی اور ہیڈکوارٹرز کے لیے مختص پلاٹ کے علاوہ قومی ایئر لائن کے سیلز آفس پشاور اور کوئٹہ کا نئے سرے سے تخمینہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

۔اس سلسلے میں قومی ایئر لائن انتظامیہ نے حکومت سے رجسٹرڈ فرموں سے درخواست طلب کر لی۔رجسٹرڈ فرموں کو درخواست قومی ایئر لائن کو 13 فروری تک ارسال کرنا ہو گی۔

سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عمران خان کے آنکھ کے علاج کی واضح رپورٹ عدالتی حکم کے باوجود جمع نہ کرائی گئی !!!عمران خان اور بشریٰ بی بی کا جیل رولز کے مطابق میڈیکل ٹریٹمنٹ کرایا جا رہا ہے، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک جملے کی رپورٹ

پی ٹی آئی کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو سروس بندراولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، میٹرو بس سروس بند,شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آبادانتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی کال کے بعد راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ راولپنڈی اسلام آباد میں چلنے والی میٹرو بس سروس اور راولپنڈی میں چلنے والی الیکٹرک بس سروس مکمل بند کی گئی ہے۔راولپنڈی شہر میں بڑے کاروباری مراکز کھل رہے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق ہے۔سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کے مطابق شہر بھر میں 82 مقامات پر خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں اور شہر میں پولیس کے تین ہزار سے زیادہ افسران اور جوان سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 21 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے اور شہر میں جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 میں توسیع ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر کی گئی۔ نوٹیفیکیشن کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ضلع راولپنڈی کی حدود میں ایک فوری اور سنگین خطرہ موجود ہے جو انسانی جان، عوامی املاک اور ضلع کے امن و امان کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔نوٹیفیکیشن میں درج ہے:

’ضلعی کمیٹی نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر آگاہ کیا ہے کہ بعض گروہ اور عناصر بڑے اجتماعات، احتجاج اور انتشار انگیز سرگرمیوں کے ذریعے امن و امان بگاڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ عناصر ایسے افراد کو متحرک کر سکتے ہیں جو اہم تنصیبات اور حساس مقامات کے قریب پُر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔‘اس بنیاد پر راولپنڈی میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے کسی بھی ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور نوٹیفیکیشن کے مطابق، کسی پولیس افسر نے عوامی اجتماع یا ٹریفک کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے کوئی رکاوٹ کھڑی کی تو اسے ہٹانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی، بشکریہ بی بی سی

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved