تازہ تر ین

میں اور خامنہ ای مل کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کریں گے :ٹرمپ کا اعلان۔تھران پر بمبار-ی کا جواب آج رات شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔امریکہ سے کسی قسم کے مذاکرات نھی ھونگے خمینی کےقتل کا بدلہ لینگے۔کسی ملک کو ثالثی کا نھی کھا اسلام میں انکھ کا بدلہ انکھ اور قتل کا بدلہ قتل ھےایران۔۔پاکستان میں مذاکرات کی خبروں پر تبصرہ صرف یہ ہے سدی نہ سدای کھیتوں ا گئی کڑی دی تای۔۔ ۔۔جنگ کا پہلا مرحلہ ایران جیت گیا ٹرمپ جنگ سے بھاگنے لگا۔۔پاکستان میں عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔۔ ۔۔عمران عید کے موقع پر دس ارب کا جہاز خرید سکتا تھا لکین ایک دن میں دس لاکھ درخت لگواے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اچھی طرح یاد ہے جب عمران نیازی کے دور میں دونوں بہن بھائی جیل میں بے جرم قید تھے تو آئے روز پیشیاں بھگتنی پڑتی تھیں صدر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو جج نے کہا ایمبولینس میں لے کر آؤایک پیشی پر دونوں بہن بھائی پیش ہوئے صدر آصف علی زرداری نحیف حالت میں لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے آگے ادی فریال تالپور تھیں اور پیچھے وہ تھے جب سرکاری اہلکاروں کے رش میں ادی فریال تالپور کو گھیرا ہوا تھا تو اسی وقت مردِ حُر نے اپنی لاٹھی کو اوپر اٹھایا اور غصے میں بولا کہ میری بہن سے دور رہو ، وہ منظر آج بھی یاد ہے مجھےدونوں بہن بھائیوں نے اپنی ذاتی زندگیوں کو قربان کرکے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ وفا کا رشتہ ہر حال میں نبھایا ہے

🚨 بریکنگ نیوزروسی وزیر دفاع کا دعویٰ: ایران کے پاس جدید میزائل نظام، جنگ روکنے کا انتباہروس کے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ Iran کے پاس ایسا مؤثر اور جدید میزائل نظام موجود ہے جو امریکہ کے پاس بھی نہیں ہےانہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے جدید میزائل موجود ہیں جو ابھی تک استعمال نہیں ہوئے اور ان کا ذخیرہ نہ صرف Is*ra*el بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےروسی وزیر دفاع نے United States اور اسر**ائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بند کریں، بصورت دیگر نقصانات “حیران کن” ہو سکتے ہیںماہرین کے مطابق یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات عالمی سطح پر بھی پڑ سکتے

کولمبیا کا طیارہ گر کر تباہ فوجیوں کو لے جانے والا ایک فوجی طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ حادثے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں جبکہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔متعدد ہلاکتوں اندیشہ

امریکہ نے چار ٹن محفوظ سونے کے زخائر فروخت کیلئے پیش کر دئے ۔گزشتہ ہفتہ بھی تین ٹن زخائر بیچے تھے ۔ایک طرف امریکی ایران جنگ کی وجہ سے اربوں ڈالر کے اضافی بوجھ تلے دب گئے ہیں دوسری طرف امریکیوں کو تنگ کرنے کیلئے چین نے امریکی بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری نکالنا شروع کر دی ہے ۔دو ہفتوں کے دوران چینی دس ارب ڈالر کے بانڈز بھنا چکے ہیں ۔امریکی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے سونے کے محفوظ زخائر بیچنے نکل پڑے ہیں ۔امریکی ڈالر کو صرف “امریکہ سپر پاور ہے”کا تصور بچائے ہوئے ہے ۔سپر پاور ہونے کا تاثر ختم ہوتے ہی عالمی کیپٹل مارکیٹ ڈالر کی اس گراوٹ کا نظارہ کرے گی دنیا بھر کے حصص بازار زمیں بوس ہو جائیں گے اور مارکیٹیں مالیاتی زلزلے تلے دب مریں گی ۔

جنگ چین امریکہ کی ہے ۔اظہر سیدنری حماقت ہے یہ سوچنا ایران اسرائیل اور مہلک ہتھیاروں سے لیس امریکہ کو برابر کی ٹکر دے رہا ہے ۔اسرائیل کے پہلے حملہ میں ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا گیا تھا ۔حالیہ دوسرے حملہ میں امریکہ کو برطانیہ کی عملی معاونت اور خلیجی ریاستوں میں اپنے اڈوں کی مدد حاصل تھی ۔ایران کی صف اول کی سیاسی اور فوجی قیادت ختم کی جا چکی ہے ۔اتنے بڑے نقصانات کے باوجود ایران کی کامیابیاں سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے ۔اگر یہ تصور کیا جائے ایران میں عملاً چین امریکہ اور اسرائیل سے لڑ رہا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ایک چھوٹی سی مثال ہے جنگ کے اٹھارویں یعنی کل کے روز امریکہ کا سٹلییھ ایف 35 طیارہ لاک کر کے گرایا گیا تو اج ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے غائب تھے ۔جنگ کے تیسرے روز بحرین،قطر اور اردن میں جدید ترین ریڈار سسٹم ایک ہی روز اسی طرح تباہ کر دئے گئے جس طرح آپریشن سیندور میں پاکستان نے ایس 400 نظام تباہ کیا تھا ۔اگلے تین روز میں امریکی بچا کچھا سسٹم اٹھا کر اسرائیل لے گئے ۔یوکرائن سے فضائی نگرانی کا نظام اور جنوبی کوریا سے دو ریڈار سسٹم واپس لے لئے ۔امریکہ اسرائیل حملہ کے پورے سات دن کے بعد طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر کامیاب میزائل حملہ سے یہ خوفناک جنگی مشین میدان جنگ سے واپس بلا لی گئی ۔جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز جس طمطراق سے آیا تھا

جہاز کے مختلف حصوں میں آگ لگنے کے بعد اسی تیز رفتاری سے واپس بھاگ نکلا جس طرح بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جو کراچی کی طرف روانہ ہوا تھا راستے میں ہی واپس بھاگ نکلا تھا ۔کل ایرانی میزائلوں نے دس جہتی میزائل شیلڈ کو ناکام بنا کر اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی مرکز پر حملہ کیا ۔اس سے دو روز قبل اسرائیل کی حیفا ائل ریفائنری پر کامیاب حملہ کیا گیا تھا اور تاحال وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ایران پر ڈھائی ہفتے سے روزانہ دو سو سے زیادہ جدید ترین لڑاکا طیارے تباہی مچا رہے ہیں۔شہری انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو چکا ہے ۔پھر کونسی قوت ہے جو ایران کے جوابی حملے کامیاب بنا رہی ہے ۔ڈرون ختم ہو رہے ہیں نہ میزائل لانچر ۔دو اور دو چار کے مطابق ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے ۔ایران کو مسلسل ٹیکنیکی معاونت مل رہی ہے ۔ایران کی مدد کرنے والی قوت چین ہے ۔خلیجی ریاستوں کو ایران پر جوابی حملوں سے روکنے والی قوت پاکستان ہے ۔جنگ بندی ہو یا جنگ جاری رہے حتمی لوزر امریکہ اور اسرائیل ہیں۔یہ جنگ ختم ہو کر بھی جاری رہے گی کہ اس کے اثرات امریکہ اور اسرائیل دونوں کو بھگتنا ہیں۔امریکی معیشت نادہندہ ہے ۔اسے ہر مہینے اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔امریکی دیوانوں کی طرح کبھی وینزویلا چڑھ دوڑتے ہیں ۔کبھی ایران پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ، کینیڈا اور کبھی کیوبا پر قبضہ کے اعلان کرتے ہیں اصل میں انکے دانے مک گئے ہیں۔انہیں سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے نئے وسائل کی ضرورت ہے ۔انہیں چین کا راستہ روکنے کیلئے توانائی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ۔چینی سب جانتے ہیں ۔ایران چینیوں کیلئے ریڈ لائن ہے ۔چین کو اپنی صنعتی مشین چلانے کیلئے تیل کی ضرورت ہے ۔ایران پر امریکی حملہ کامیاب ہو یا ناکام افراتفری ضرور پیدا ہونا ہے ۔عالمی افراتفری شروع بھی ہو چکی ہے ۔امریکی ناکام ہونگے اور انہیں ناکام ہونا ہی ہے ۔توانائی کے زخائر پر امریکی کنٹرول ختم ہونا ہی ہے ۔چین کی زنبیل میں بہت سارے تیر موجود ہیں۔چینی توانائی کے زخائر پر امریکی قبضہ کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ یہ انکی بقا کا سوال ہے ۔

جنگ چین امریکہ کی ہے ۔اظہر سیدنری حماقت ہے یہ سوچنا ایران اسرائیل اور مہلک ہتھیاروں سے لیس امریکہ کو برابر کی ٹکر دے رہا ہے ۔اسرائیل کے پہلے حملہ میں ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا گیا تھا ۔حالیہ دوسرے حملہ میں امریکہ کو برطانیہ کی عملی معاونت اور خلیجی ریاستوں میں اپنے اڈوں کی مدد حاصل تھی ۔ایران کی صف اول کی سیاسی اور فوجی قیادت ختم کی جا چکی ہے ۔اتنے بڑے نقصانات کے باوجود ایران کی کامیابیاں سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے ۔اگر یہ تصور کیا جائے ایران میں عملاً چین امریکہ اور اسرائیل سے لڑ رہا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ایک چھوٹی سی مثال ہے جنگ کے اٹھارویں یعنی کل کے روز امریکہ کا سٹلییھ ایف 35 طیارہ لاک کر کے گرایا گیا تو اج ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے غائب تھے ۔جنگ کے تیسرے روز بحرین،قطر اور اردن میں جدید ترین ریڈار سسٹم ایک ہی روز اسی طرح تباہ کر دئے گئے جس طرح آپریشن سیندور میں پاکستان نے ایس 400 نظام تباہ کیا تھا ۔اگلے تین روز میں امریکی بچا کچھا سسٹم اٹھا کر اسرائیل لے گئے ۔یوکرائن سے فضائی نگرانی کا نظام اور جنوبی کوریا سے دو ریڈار سسٹم واپس لے لئے ۔امریکہ اسرائیل حملہ کے پورے سات دن کے بعد طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر کامیاب میزائل حملہ سے یہ خوفناک جنگی مشین میدان جنگ سے واپس بلا لی گئی ۔جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز جس طمطراق سے آیا تھا جہاز کے مختلف حصوں میں آگ لگنے کے بعد اسی تیز رفتاری سے واپس بھاگ نکلا جس طرح بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جو کراچی کی طرف روانہ ہوا تھا راستے میں ہی واپس بھاگ نکلا تھا

۔کل ایرانی میزائلوں نے دس جہتی میزائل شیلڈ کو ناکام بنا کر اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی مرکز پر حملہ کیا ۔اس سے دو روز قبل اسرائیل کی حیفا ائل ریفائنری پر کامیاب حملہ کیا گیا تھا اور تاحال وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ایران پر ڈھائی ہفتے سے روزانہ دو سو سے زیادہ جدید ترین لڑاکا طیارے تباہی مچا رہے ہیں۔شہری انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو چکا ہے ۔پھر کونسی قوت ہے جو ایران کے جوابی حملے کامیاب بنا رہی ہے ۔ڈرون ختم ہو رہے ہیں نہ میزائل لانچر ۔دو اور دو چار کے مطابق ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے ۔ایران کو مسلسل ٹیکنیکی معاونت مل رہی ہے ۔ایران کی مدد کرنے والی قوت چین ہے ۔خلیجی ریاستوں کو ایران پر جوابی حملوں سے روکنے والی قوت پاکستان ہے ۔جنگ بندی ہو یا جنگ جاری رہے حتمی لوزر امریکہ اور اسرائیل ہیں۔یہ جنگ ختم ہو کر بھی جاری رہے گی کہ اس کے اثرات امریکہ اور اسرائیل دونوں کو بھگتنا ہیں۔امریکی معیشت نادہندہ ہے ۔اسے ہر مہینے اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔امریکی دیوانوں کی طرح کبھی وینزویلا چڑھ دوڑتے ہیں ۔کبھی ایران پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ، کینیڈا اور کبھی کیوبا پر قبضہ کے اعلان کرتے ہیں اصل میں انکے دانے مک گئے ہیں۔

انہیں سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے نئے وسائل کی ضرورت ہے ۔انہیں چین کا راستہ روکنے کیلئے توانائی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ۔چینی سب جانتے ہیں ۔ایران چینیوں کیلئے ریڈ لائن ہے ۔چین کو اپنی صنعتی مشین چلانے کیلئے تیل کی ضرورت ہے ۔ایران پر امریکی حملہ کامیاب ہو یا ناکام افراتفری ضرور پیدا ہونا ہے ۔عالمی افراتفری شروع بھی ہو چکی ہے ۔امریکی ناکام ہونگے اور انہیں ناکام ہونا ہی ہے ۔توانائی کے زخائر پر امریکی کنٹرول ختم ہونا ہی ہے ۔چین کی زنبیل میں بہت سارے تیر موجود ہیں۔چینی توانائی کے زخائر پر امریکی قبضہ کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ یہ انکی بقا کا سوال ہے ۔

ملا یعقوب ڈالر عرف آستین کا سانپ‼️‼️بیس سال اس نے پاکستان میں پرتعیش زندگی گزاری۔ جب ملا عمر فوت ہوئے تو ان کا جانشین چننے کی باری آئی۔ یعقوب کم عم بھی تھا اور کم عقل بھی، سب سے بڑھ کر اس نے جہاد میں ایک دن بھی حصہ نہ لیا تھا اس لیے شوری نے ملا اختر منصور کو امیر بنانے کا فیصلہ کیا۔اس پر یہ موصوف ناراض ہو گئے۔ اس کی ناراظگی کو دور کرنے کے لیے اسے امریکہ سے پانچ لاکھ ڈالر ملے۔ وقتی طور پر یہ چپ رہا لیکن جب دوبارہ طاقت میں آیا تو اس نے سانپ کا روپ دوبارہ اپنا لیا۔ اس کی پاکستان سے دشمنی بھی اسی بات پر ہے کہ اس کو امیر بننے میں پاکستان نے کردار ادا نہ کیا۔ اس بات کا انکشاف مفتی عبدالرحیم نے کیا جو ملا عمر کی نہایت عقیدت مند اور قریبی ساتھی رہے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved