
میں آپ کو گوشت نہیں دے سکتا۔۔کل وزیر اعظم نے گوشت مارکیٹ کا دورہ کیا:انتہائی صاف و شفاف مارکیٹ میں چہل قدمی کرتے ہوئے وزیراعظم ایک قصائی کے پاس جاکر کھڑے ہوئے اور ان سے بات چیت کے بعد ان کے پاس موجود صاف و شفاف گوشت دیکھ کر تعریف کی اور پوچھا گوشت تو خوب بکتا ہوگا؟قصائی: گوشت تو واقعی اچھا ہے لیکن آج ابھی تک صبح سے ایک کلو بھی فروخت نہیں ہوا۔وزیراعظم: فروخت نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟قصائی: کیونکہ آپ کے آنے کے سبب خریداروں کو مارکیٹ آنے ہی نہیں دیا گیا۔وزیراعظم: اوہو پھر تو میں چار کلو خرید لوں گا۔قصائی: میں آپ کو گوشت نہیں دے سکتا۔وزیراعظم: کیوں؟قصائی: کیونکہ آپ کی حفاظت کے لئے ہم سے چھریاں لے لی گئی ہیں۔وزیراعظم: تو تم بغیر کاٹے بھی مجھے دے سکتے ہو۔قصائی: نہیں میں نہیں دے سکتا۔وزیراعظم: کیوں؟قصائی: کیونکہ میں سیکیورٹی ادارے کا آفیسر ہوں، قصائی نہیں۔وزیراعظم (غصے سے): جاؤ! فوری طور پر اپنے سینئر آفیسر کو بلا کر لاؤ۔قصائی: سوری سر ایسا نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم: کیوں؟قصائی: کیونکہ وہ سامنے والی دوکان پر مچھلی فروش بن کر بیٹھے ہیں🤦🏻♀️🤦🏻♀️🤦🏻♀️🤦🏻♀️🤦🏻♀️

اگر اس ملک میں سیاست اور سیاستدان ہوتے ، تو وزیراعلی اس انکل کے گھر جا کر شہر میں پانی بھر جانے اور لوگوں کو تکلیف ہونے پر معذرت کرتی۔پھر دیکھتی کہ مقبولیت کا گراف کیا رخ اختیار کرتا ہے۔اس گم نام چچا کی سخت زبانی بے بس و بے نوا عامتہ الناس کے دلوں کی آواز تھی۔










