وفاقی دارالحکومت میں وکلا کے احتجاج کے باعث پولیس کی جانب سے ریڈ زون کے داخلی راستے بند کر دیئے گئے جبکہ اسلام آباد پولیس نے وکلاء کو پیچھے دھکیل دیا۔ وکلاء نے ڈی چوک پر دھرنا دیدیا۔رپورٹ کے مطابق وکلاء نے سرینہ چوک اسلام آباد کو خالی کر دیا، پولیس کی بھاری نفری سرینہ چوک اسلام آباد پہنچی تھی، وکلاء نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود وکلا نے بھی ڈی چوک جانے کا فیصلہ کرلیا، وکلاء ریلی کی صورت میں ڈی چوک جانے کو تیار، وکلاء میں ایمان مزاری اور دیگر وکلاء کی بڑی تعداد موجود ہے۔لاہورہائیکورٹ کے وکلا نے بھی ڈی چوک میں دھرنا دیدیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد بھی ڈی چوک پہنچ گئے،سپریم کورٹ پولیس نے وکلاء کیلئے مختص داخلی دروازہ بند کر دیا۔ جبکہ سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی مزید نفری پہنچا دی گئی،سپریم کورٹ کے مین انٹرنس کے بیرئیرز کو بند کردیا گیا،قیدی وین بھی سپریم کورٹ کے باہر موجود ہے اور بکتر بند گاڑی بھی سپریم کورٹ کے باہر پہنچا دی گئی۔پولیس اہلکاروں نے وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آرڈر ہے کہ اندر نہیں جانے دینا۔وکلاء نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ہمارا گھر ہے، دروازہ کھولا جائے، پولیس نے فاروق نائیک کو تالا کھول کر خصوصی طور پر آنے کی اجازت دے دی۔فاروق نائیک نے کہا کہ وکلاء سمیت سب کو داخلے کی اجازت ہونی چاہیے، وکلاء کو عدالت میں داخلے سے نہیں روکنا چاہیے۔ سرینہ چوک سری نگر ہائی وے ٹریفک کے لیے کھل گیا اور ٹریفک معمول پر آگئی ہے۔قبل ازیں سرینا چوک ایکسپریس چوک نادرا چوک سے ریڈ زون انٹری بند کر دی گئی، ریڈ زون بند کرنے کے باعث ٹریفک روانگی متاثر گاڑیوں کی رش لگ گئی، مارگلہ روڈ سے ریڈ زون داخلے کیلئے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے وکلا بھی پہنچ گئے،وکلا کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب مارچ جاری ہے،وکلا نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف نعرے بازی بھی کی جبکہ سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور قیدی وین بھی منگوالی گئی ہے۔ریڈ زون داخلے کیلئے سرینا چوک میں پولیس اور وکلا کے درمیان تصادم ،وکلا کی جانب سے زبردستی ریڈ زون میں داخلے کی کوشش جاری،وکلا اور پولیس کے درمیان ہاتھاپائی دھکم پیل جبکہ ڈی آئی جی سیکورٹی نے نفری کے ہمراہ وکلا کو پیچھے دھکیل دیا۔ادھر خواتین پولیس اہلکاروں کی نفری سپریم کورٹ کے باہر موجود ہے، وکلاء کے احتجاج میں خواتین وکلاء کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ سرینا چوک میں پولیس اور وکلا کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس نے وکلا کو پیچھے دھکیل دیا۔اینٹی رائٹس کٹس پہنے پولیس کے تازہ دم دست کے سپریم کورٹ کے باہر پہنچ گئے۔وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ شہر میں لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند ہوں گے۔وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون میں صرف مار گلہ روڈ سے داخلے کا راستہ دیا گیا ہے۔دوسری جانب وکلا رہنماؤں نے مقامی ہوٹل کے باہر پریس کانفرنس کی، منیر اے ملک نے کہا کہ آج وکلاء 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف آواز اٹھانے جمع ہوئے ہیں، ہمارا احتجاج پر امن ہے، ہم جوڈیشل کمیشن کے ممبران کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، ہم جوڈیشل کمیشن کو بھی باور کروانا چاہتے ہیں کہ موجودہ نظام سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے، ہم یہاں سے سپریم کورٹ کی طرف جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں آج پورے ملک کی بار سے وکلاء موجود ہیں، ہم وکلاء کا راستہ روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔علی احمد کرد نے کہا کہ آج کے وکلاء تحریک کی قیادت منیر اے ملک کر رہے ہیں، ہم سب آج کا احتجاج بھرپور ریکارڈ کروائیں گے، کوئی آدمی اقتدار پر بیٹھنے سے بڑا نہیں ہوتا، انسان اپنی سوچ اور اپنے کردار سے بڑا ہوتا ہے، ہم آج جوڈیشل کمیشن کے خلاف احتجاج کروانے نکلے ہیں۔علی احمد کرد نے کہا کہ آئین کو مینولپیٹ کیا جا جا رہا ہے، جنہوں نے 26ویں کو پاس کیا انہیں شرم آنی چاہیے، آدھی رات کو لاء منسٹر کہتے تھے ہمارے پاس ابھی ڈرافٹ نہیں آیا، جو بھی 26ویں آئینی ترمیم کے بینیفشری ہیں ہم انہیں بھی تسلیم نہیں کرتے، آج پورے ملک نے 26ویں آئینی ترمیم کو ٹھکرا دیا ہے۔سیکرٹری کراچی بار غلام رحمان جنرل نے کہا کہ ہمارا آج کا احتجاج پر امن ہے، 26ویں ترمیم غیر آئینی ہے، ہمارا احتجاج آئین کی بحالی کے لیے ہے، آج ججز ایس ایچ او کی طرح سیاسی سپورٹ لے رہے ہیں، ہم صحافت کی آزادی کے لیے نکلے ہیں، پیکا ایکٹ کالا قانون ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی عدلیہ نہیں چاہیے جو مقتدرہ کے ساتھ ملی ہو، آج شاہراہ دستور پر ہم صحافیوں، طلباء ،اور عوام کا مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں، کالا کوٹ آج مینڈیٹ کی بحالی کے لیے نکلا ہے۔ادھر ریڈ زون میں راستوں کی بندش کے باعث وکلا اور سائلین کو عدالتوں میں پیش ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے ہڑتال کے باعث عدم پیشی پر عدالت سے ایڈورس آرڈر نہ کرنے استدعا کی۔ صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویشن می ایشن ریاست علی آزاد نے ججز سے اپیل کی کہ راستوں کی بندش کے باعث پیش نہ ہونے والے وکلاء کے خلاف ایڈورس آرڈر جاری نہ کیاجائے۔










