گیاری سیکٹر ھم نے کیا کھویا کیا پایا 14 سال گزر گئے ھم نے سب کچھ کھو دیا

گیاری سیکٹر 2012 — جب برف نے 140 سپاہیوں کو خاموشی سے اپنی آغوش میں لے لیاسیاچن کی برف ہمیشہ سے سرد رہی ہے، مگر 7 اپریل 2012 کی صبح اس کی سردی میں ایک عجیب سی خاموشی شامل تھی۔ یہ خاموشی عام نہیں تھی… یہ کسی آنے والے سانحے کی خاموشی تھی۔تحریر : Kashif Ali گیاری سیکٹر میں تعینات پاکستانی فوجی اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جو دنیا کے سب سے سرد اور بلند محاذ پر اپنے وطن کی حفاظت کر رہے تھے۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں کے درمیان ان کی چھوٹی سی چوکی ان کا گھر بن چکی تھی۔وہ اپنے خاندانوں سے دور تھے، مگر ان کے دلوں میں ایک سکون تھا… کیونکہ وہ اپنے فرض پر تھے۔اس صبح کچھ سپاہی چائے بنا رہے تھے۔ کچھ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ کسی نے شاید اپنے گھر کے بارے میں سوچا ہوگا، کسی نے اپنے بچوں کی مسکراہٹ کو یاد کیا ہوگا۔انہیں کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد وقت رک جائے گا۔اچانک زمین نے ایک عجیب سی آواز نکالی۔یہ آواز دھماکے جیسی نہیں تھی… بلکہ ایک گہری، بھاری گرج تھی۔پہاڑ ہلنے لگا۔سپاہیوں کو کچھ سمجھنے کا موقع بھی نہیں ملا کہ ایک بہت بڑا برفانی تودہ ان کی چوکی کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ برف جو صدیوں سے پہاڑ پر خاموش کھڑی تھی، اچانک زندہ ہو گئی تھی۔چند سیکنڈ…صرف چند سیکنڈ میں، سب کچھ ختم ہوگیا۔ہزاروں ٹن وزنی برف چوکی پر آ گری۔ ٹینٹ، سامان، اور وہاں موجود تمام سپاہی اس کے نیچے دب گئے۔ہر چیز سفید ہو گئی۔کوئی آواز نہیں تھی۔ کوئی چیخ نہیں تھی۔ صرف برف تھی… اور خاموشی۔نیچے دبے ہوئے سپاہیوں کو شاید آخری لمحوں میں اپنے پیاروں کا خیال آیا ہوگا۔ کسی نے اپنی ماں کو یاد کیا ہوگا، کسی نے اپنی بیوی کو، اور کسی نے اپنے بچوں کو۔مگر اس برف نے کسی کو موقع نہیں دیا۔جب خبر نیچے پہنچی، تو پورے پاکستان میں ایک غم کی لہر دوڑ گئی۔ریسکیو ٹیمیں فوراً روانہ ہوئیں۔ انہوں نے دن رات برف کو ہٹانے کی کوشش کی۔ شدید سردی، برفانی ہوائیں، اور مشکل حالات کے باوجود، وہ امید کے ساتھ کام کرتے رہے۔ہر کوئی ایک معجزے کا انتظار کر رہا تھا۔ہر کوئی امید کر رہا تھا کہ شاید کوئی زندہ مل جائے۔مگر دن گزرتے گئے…اور برف نے اپنی خاموشی برقرار رکھی۔ایک ایک کرکے لاشیں نکالی گئیں۔

ہر لاش ایک کہانی تھی۔ ایک بیٹا، ایک باپ، ایک بھائی… جو اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔پاکستان کے مختلف شہروں میں گھروں کے دروازے کھلے، مگر اس بار خوشی نہیں، بلکہ غم آیا۔ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر کو دیکھتی رہی۔ ایک بیوی اپنے شوہر کی واپسی کا انتظار کرتی رہی، مگر اب وہ انتظار ہمیشہ کے لیے ادھورا رہنے والا تھا۔یہ جنگ نہیں تھی، مگر یہ نقصان کسی جنگ سے کم بھی نہیں تھا۔گیاری سیکٹر آج بھی وہاں ہے۔ برف آج بھی وہاں موجود ہے۔ مگر اس برف کے نیچے ایک ایسی کہانی دفن ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔یہ کہانی ہے ان سپاہیوں کی…جو گولی سے نہیں، بلکہ برف کی خاموشی سے شہید ہوئے۔اور شاید سیاچن کی ہوائیں آج بھی ان کے نام سرگوشی کرتی ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved