تازہ تر ین

*ہمیں اسرائیل کے ایران پر حملے کی تیاریوں کے اشارے ملے ہیں۔ وزارتِ خارجہ ترکی روس کے شہری ایران کے سفر سے گریز کریں ۔۔۔۔۔رشین وزارتِ خارجہ*ایران اس وقت مکمل ہائی الرٹ پر ہے امریکی کیریئر سٹرائیک گروپ ابراہام لنکن بحیرہ عرب میں داخل ۔پاکستان اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہے، اسوقت درجہ حرارت 4 سینٹی گریڈ ہے،پاکستان ھر حالات میں اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے گا غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار کیا کچھ بڑا ھونے والہ ھے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جنوبی ایشیا میں بڑی سیاسی تبدیلی: پاکستان نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر یو اے ای کا کردار ختم کر دیاپاکستان نے ایک اہم فیصلے کے تحت متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام سے متعلق معاہدہ باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب اپنے اہم اور حساس اداروں پر مکمل قومی کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس اقدام سے یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ آئندہ پاکستان میں خلیجی ممالک کی شراکت داری کس حد تک برقرار رہے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کی سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

پاکستان ذندہ باد ۔اظہر سیدن لیگ اور پیپلز پارٹی والے ناحق لڑتے ہیں ،مسٹر ٹن پرسنٹ،سرے محل، ایس جی ایس کوٹیکنا ، لندن فلیٹ اور مرحومہ تحریک لبیک سب ہتھیار تھے جو ریاست کی ملکیت برقرار رکھنے کیلئے استمال ہوتے تھے ۔ ثاقب نثار یا کھوسہ اکلوتے پالتو نہیں اس حمام میں جسٹس منیر،ارشاد حسن ،افتخار چوہدری، مولوی مشتاق ایسے بہت سارے منصف ننگے نہا رہے ہیں۔استمال کرنے والے تو ایسے ہنر مند ہیں جے سندھ کا نعرہ لگانے والے جی ایم سید کو مرشد بنا لیتے تھے ۔ہم کیو ایم بنانے کے پیچھے اردو سپیکنگ نوجوانوں کی بھلائی نہیں تھی پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنا تھا۔جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغکے پیچھے پنجاب سے محبت نہیں تھی

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو لوٹنا تھا ن لیگ کا ووٹ بینک بنانا تھا ۔جنرل باجوہ ،جنرل فیض کا پالتو ججوں اور ففتھ جنریشن پلاٹون کی مدد سے نواز شریف،اصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو گالیاں دینا،چور ڈاکو مشہور کرنا اور سیکورٹی رسک بتانا ایک نوسر باز کو لیڈر بنانے کیلئے تھا ۔میثاق جمہوریت کے ہوتے ہوئے مالکوں سے ریاست کی ملکیت واپس لینے کا سنہری موقع نوسر باز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر کے ضائع کر دیا گیا ۔اب مالکان بہت طاقتور ہیں۔بین الاقوامی حالات واقعات مالکان کو بہت زیادہ طاقت فراہم کر چکے ہیں ۔جمہوریت اب نہیں آئے گی ۔جمہوریت تو دنیا کے مہذب سمجھے جانے والے مغربی ممالک میں بھی نہیں ہے ۔خلق خدا نے کبھی راج کیا ہے نہ کرے گی ۔انسانی حقوق اور آئین قانون کی باتیں صرف کتابوں میں اچھی ہیں حقیقت یکسر مختلف ہے۔فوج پر تنقید کرنا بند کریں اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں ۔

‼️ *سوشیل میڈیا انفلوئنسرز اور وی لاگرز کے ساتھ ایک خصوصی نشست*‼️*سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آج ایک اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار سے نشست ہوئی جسمیں شرکاء کے ساتھ اہم سیکورٹی معاملات پر کھل کر بات چیت کی گئی ۔ حکام نے شرکاء کے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ بات چیت کے اختتام پر شرکاء نے سیکورٹی حکام کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کو سراہا۔ بریفنگ کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں:*📌 پاکستان ہر حال میں اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا، سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان کا مفاد سب کیلئے مقدم ہے اور ہمارے تمام قومی فیصلوں کا محور پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد ہے۔ سیکورٹی ذرائع 📌 فوج اور قوم کے درمیان کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی جائے گی۔ یہ رشتہ بہت گہرا ہے، سیکورٹی ذرائع📌 تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت قابلِ احترام ہیں تاہم کوئی بھی اپنی ذات کو پاکستان سے بالاتر نہ سمجھے

سیکورٹی ذرائع📌موجودہ سیاسی قیادت قابل احترام ہے جس نے وقت کے تقاضوں کے مطابق مشکل لیکن بروقت اور دلیر فیصلے کیے، سیکورٹی ذرائع📌 قیاس آرائیوں کے تدارک اور حقائق کی ترویج کیلئے روابط ضروری ہیں، ہمیں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں۔ سیکورٹی ذرائع📌 نوجوانوں کو مثبت سمت میں گامزن کرنے کیلئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، سیکورٹی ذرائع 📌 پاکستان کبھی بھی فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف نہیں جائے گا، سیکورٹی ذرائع 📌 اس وقت غزہ میں ہونے والی خونریزی کو روکنا ہماری اور دوست مسلمان ممالک کی اولین کوشش ہے۔سیکورٹی ذرائع 📌 کسی بھی فورس کی تشکیل، مینڈیٹ اور تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، امن بورڈ کا قیام غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ہے، سیکورٹی ذرائع📌 افواج کی بیرون ملک کسی بھی تعیناتی کا فیصلہ حکومت کا استحقاق ہے ، سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ دار نہیں ہونگی۔ حماس کو غیر مسلح کرنے میں شرکت ہماری ریڈ لائن ہے، سیکورٹی ذرائع📌پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر آج بھی قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا ۔ سیکورٹی ذرائع 📌 غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ 8 بڑےاسلامی ممالک سے مشاورت اور مکمل سوچ بچار کے بعد کیا، سیکیورٹی ذرائع📌 فلسطینیوں کی نسل کشی سے اسرائیل کو صرف امریکا ہی روکنے کی پوزیشن میں ہے۔ غزہ میں خون ریزی کو سیاسی عمل اور بات چیت سے ہی روکا جاسکتا ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں کثیر الجہتی طریقہ اپناتا رہا ہے، سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان چین تعلقات مضبوط اور اسٹریٹجک ہیں اور باہمی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مزید مستحکم ہو رہے ہیں سیکورٹی ذرائع📌 بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرانے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لاتا رہے گا- کشمیر بنے گا پاکستان، ہمارا قومی عزم ہے۔ سیکورٹی ذرائع

📌 قومی ایکشن پلان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں نے کی۔ دہشت گردی کے مکمل تدارک کیلئے اس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔ سیکورٹی ذرائع📌 انسدادِ دہشت گردی کیلئے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شب وروز قربانیاں دے رہے ہیں۔ مکمل کامیابی کا حصول تمام سٹیک ہولڈرز کی یکسوئی کے ساتھ کردار ادا کرنے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو خلوص نیت سے کام کرنا ہو گا،سیکورٹی ذرائع📌 بلوچستان سیاسی سرپرستی میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، گورننس، روزگار کے مواقع کی فراہمی،

اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اداروں کی استعداد کار میں اضافے سے سیکورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ سیکورٹی ذرائع📌 افغانستان کی طرف سے جارحیت کے مؤثر جواب کے بعد دہشتگردی کے سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی۔ سیکورٹی ذرائع معرکۂ حق سے متعلق تمام فیصلے وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت وقت نے کیے۔ افوج پاکستان نے معرکۂ حق میں اپنی پیشہ ورانہ رائے دی، سیکیورٹی ذرائع📌ہمارے سیاستدانوں اور سفارتکاروں نے معرکۂ حق کے بعد بہترین سفارتکاری کی۔ سیاستدانوں کی ملک کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔ سیکورٹی ذرائع 📌 پاکستان جمہوریت سے ہی آگے بڑھے گا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمہوری اقدار کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع📌 کسی صوبائی حکومت کو سیکورٹی بریفنگ کیلئے وفاق سے رجوع کرنا چائیے۔ سیکورٹی ذرائع📌 سیاست، مالی فائدے یا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،سیکورٹی ذرائع

یہ تو ہم کل پڑھ چکے ہیں کہ شہنشاہ ایران خود اپنا طیارہ اڑا کر مصر روانہ ہوگئے تھے….. لیکن بعد میں شہنشاہ کے طیارے کا کیا ہوا؟ شاہ ایران کا طیارہ “شاہین” (Boeing 707-386C) اپنی ایک الگ اور دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ شاہ تہران سے اڑ کر پہلے مصر گئے اور پھر وہاں سے مراکش چلے گئے، جہاں “شاہین طیارہ” مراکش کے ایئرپورٹ پر ہی کھڑا رہا۔جب شاہ مراکش سے بہاماس اور دیگر ممالک کی طرف روانہ ہوئے تو وہ اس بڑے جہاز کے بجائے چھوٹے نجی طیاروں میں سفر کرنے لگے، کیونکہ اب وہ ایک بادشاہ کے بجائے ایک پناہ گزین کی حیثیت میں تھے اور اتنے بڑے عملے اور جہاز کو ہر جگہ ساتھ لے جانا ممکن نہیں رہا تھا۔”شاہین” اپنے دور کا جدید ترین اور پرتعیش ترین طیارہ تھا، جسے اس کی بے پناہ آسائشات کی وجہ سے “اڑتا ہوا محل” کہا جاتا تھا۔ اس وقت (1970 کی دہائی میں) اس کی تزئین و آرائش پر تقریباً 15 ملین ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔اس کے اندرونی حصے میں عیش و عشرت کا یہ عالم تھا کہطیارے میں سونے کا استعمال (Gold Plating) ہوچکا تھا۔ اس کے باتھ روم کے نل (Faucets)، سنک، تولیے رکھنے کے سٹینڈ اور یہاں تک کہ سیٹ بیلٹس کے بکلز (Buckles) پر بھی 24 قیراط سونے کی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔اس میں ایک وسیع بیڈروم تھا جس میں شاہی سائز کا بستر (King-size bed) موجود تھا۔ بیڈروم کے ساتھ ایک پرتعیش باتھ روم تھا جس میں شاور کی سہولت بھی موجود تھی، جو اس دور کے طیاروں میں ایک انتہائی نایاب چیز تھی۔طیارے میں ایک بڑا ڈائننگ ٹیبل تھا، یہاں استعمال ہونے والے برتن اعلیٰ معیار کے چینی مٹی (Fine China) اور چاندی کے تھے۔ مخمل اور چمڑے کے آرام دہ صوفے لگے ہوئے تھے، اور فرش پر ہاتھ کے بنے ہوئے قیمتی ایرانی قالین بچھے ہوئے تھے۔اس دور میں یہ طیارہ دنیا کے جدید ترین مواصلاتی نظام سے لیس تھا۔ یہ ٹیلی فون سسٹم سے منسلک تھا، جس کے زریعے شاہ فضا سے دنیا کے کسی بھی کونے میں رابطہ کر سکتے تھے۔

اس وقت کا بہترین ٹیلی ویژن، ساؤنڈ سسٹم آڈیوز اور ویڈیو پلیئرز نصب تھے۔طیارے میں ایک مکمل جدید باورچی خانہ (Galley) تھا۔ اس کے علاوہ عملے کے آرام کرنے کے لیے الگ سے کیبن بنے ہوئے تھے۔ اندرونی سجاوٹ کے علاوہ، طیارہ اس وقت کے اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم سے بھی لیس تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے۔کیا یہ جہاز کی ایران واپس لایا گیا؟اسلامی انقلاب کے آنے کے بعد، فروری 1979 نئی حکومت نے مطالبہ کیا کہ شاہی اثاثے واپس کیے جائیں۔ شاہین طیارے کے پائلٹ اور عملے کے کچھ ارکان نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ جہاز ایران کی نئی حکومت کے حوالے کر دیں گے۔پائلٹ کرنل بہزاد معزی اس طیارے کو مراکش سے اڑا کر واپس تہران لے آئے۔تہران پہنچنے پر انقلابیوں نے اس کا نام بدل کر “1001” رکھ دیا اور اسے سرکاری بیڑے کا حصہ بنا لیا۔ انقلابیوں نے اس کی شاہانہ آسائشات دیکھ کر اسے “عوام کے خون سے بنی ہوئی عیاشی” قرار دیا تھا۔اس جہاز کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔۔۔جولائی 1981 میں، اسی طیارے کو استعمال کرتے ہوئے سابق صدر ابوالحسن بنی صدر اور مجاہدینِ خلق کے رہنما مسعود رجوی ایران سے فرار ہو کر پیرس گئے۔ اس پرواز کو وہی پائلٹ کرنل بہزاد معزی اڑا رہا تھا جو اسے مراکش سے واپس لایا تھا۔ فرانس پہنچنے کے بعد، فرانسیسی حکومت نے طیارہ دوبارہ ایران کے حوالے کر دیا۔موجودہ حیثیتایران کی فضائیہ نے اس طیارے کو دہائیوں تک استعمال کیا۔ اس کا شاہی نام “شاہین” ختم کر کے اسے “تہختِ جمشید” کا نام دیا گیا اور اسے وی آئی پی (VIP) شخصیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔اطلاعات کے مطابق، آج یہ طیارہ اپنی تمام پرانی سجاوٹ کے ساتھ تہران کے مہر آباد ایئرپورٹ پر کھڑا ہے۔ اس کی چمک دمک وقت کے ساتھ ماند پڑ چکی ہے۔ اب یہ اپنی عمر اور پرزوں کی کمی کی وجہ سے اب یہ پرواز کے قابل نہیں رہا اور اسے ایک تاریخی یادگار یا “اسٹیٹک ڈسپلے” کے طور پر رکھا گیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved