وزیراعظم شہباز شریف کو تاجروں نے بانی تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) سے بات چیت کی تجویز دے دی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کراچی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کیا اور کہا کہ اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ کس صوبے میں کس کی حکومت ہے

وزیراعظم شہباز شریف کو تاجروں نے بانی تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) سے بات چیت کی تجویز دے دی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کراچی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کیا اور کہا کہ اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ کس صوبے میں کس کی حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر پاکستان کے مفاد کےلیے اکٹھے ہوجائیں، ہم سب کو مل کر مسائل کا حل نکالنا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگلے 5سال کا تہیہ کرلیں کہ برآمدات کو دُگنا کریں گے، چیلنجوں کو سمجھیں کہ انہیں کس طرح حل کرنا ہے، پاکستان کا کھویا ہوا مقام کس طرح واپس لانا ہے۔اس موقع پر تاجروں نے وزیراعظم کو بھارت سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے اور بانی پی ٹی آئی سے بات چیت کی تجویز دے دی۔اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی میں وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان سے خطاب میں وفاقی اور صوبائی وزرا کو مل کر کام کرنے کی ہدایت دی۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے وزیر ِاعظم شہباز شریف سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔صوبہ کے انتظامی امور، امن و امان، وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور کاروباری برادری کے مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔—–خیبرپختونخوا میں پہلی خاتون اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس کی تقرری کردی گئی۔سونیا شمروز کی بطور اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ تعیناتی کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔سونیا شمروز کا کہنا ہے کہ خواتین آفیسرز کو مرد آفیسرز کے برابر حقوق دیےجارہے ہیں۔سونیا شمروز اس سے قبل ڈی پی او چترال اور ڈی پی او بٹگرام رہ چکی ہیں۔—-جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا ہے کہ ایجنسیز میں کیا کوئی جوابدہ ہے؟ کیا کوئی خود احتسابی کا عمل ہے؟لاپتہ افراد کے کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ کوئی دہشت گرد ہے تو مقدمہ درج کریں، ماورائے عدالت کارروائی نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس والا ماورائے قانون کارروائی کرے تو معطل کر دیتے ہیں، پوچھتے ہیں کیا ایجنسیز میں کوئی جوابدہ ہے؟جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ بھی کہا کہ گمشدگی کمیشن کے خلاف ان کی رائے اس لیے ہے کہ کمیشن ان ہی لوگوں کے ساتھ کام کررہا ہوتا ہے، جن پر الزام ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ حکومت وزارت دفاع سے پوچھ کربتائے ایجنسیز کے اندر خود احتسابی کا کیا عمل ہے۔مدعی کی وکیل کہتی ہیں نگراں وزیر اعظم نے جس دن بیان دیا، اسی دن ایک بندہ اٹھا لیا گیا، یعنی وزیر اعظم کی عدالت میں بیان کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔لاپتہ افراد کیس کی مزید سماعت 21 مئی تک ملتوی کردی گئی۔—-الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نئے انٹراپارٹی انتخابات پر اعتراضات عائد کردیے۔ الیکشن کمیشن پولیٹیکل فنانس ونگ نے پی ٹی آئی کو 30 اپریل کو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کو 30 اپریل کیلئے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے 4 مارچ کو الیکشن کمیشن میں انٹراپارٹی الیکشنز کی تفصیلات جمع کروائی تھیں۔—— اپوزیشن اراکین زین قریشی، شیر افضل مروت اور حامد رضا نے سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، ملاقات میں پارلیمانی کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چیئرمین پی اے سی کے لئے حامد رضا کا نام سپیکر کو تجویز کر دیا، سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی کا انتخاب قواعد کے مطابق ہو گا، سپیکر کا چیئرمین پی اے سی کی نامزدگی میں کوئی اختیار نہیں، یہ فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے۔سپیکر نے مزید کہا کہ اپوزیشن جسے مرضی چاہے چیئرمین نامزد کرے، میں پارلیمانی کمیٹیوں کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتا ہوں، اپوزیشن کا وفد پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن خواجہ آصف سے بھی ملا۔—–چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملہ پر سپیکر قومی اسمبلی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ناکام ہوگیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے شیر افضل مروت کے نام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا، حکومت نے شیر افضل مروت کو چیئرمین پی اے سی بنانے کی مخالفت کر دی، حکومت عامر ڈوگر کو چیئرمین پی اے سی بنانے پر تیار ہے۔ذرائع اسمبلی سیکرٹریٹ نے مزید بتایا کہ سنی اتحاد کونسل میں عامر ڈوگر کے نام پر اختلاف ہے، عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو نامزد کیا ہے ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے نور عالم خان نے بھی لابنگ تیز کردی، چیئرمین پی اے سی کیلئے جے یو آئی (ف) کی طرف سے جلد درخواست جمع کروانے کا فیصلہ کیا گیا، جے یو آئی (ف) سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین آزاد ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سپیکر نے اپوزیشن اور حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں سینئر صحافی حفیظ اللہ نیازی آبدیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے بینچ پر اعتراض کا معاملہ واپس ججز انتظامی کمیٹی کو بھجوایا تو سینئر صحافی حفیظ اللہ خان نیازی روسٹرم پر آ گئے اور بینچ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’مجھے نہیں پرواہ کہ 6 ممبر بنچ ہو یا 9 ججز کیس سنیں، میرا بیٹا غائب ہے، آپ کے پاس بہت اختیار ہیں، جو مجھ پر بیت رہی ہے

سپریم کورٹ میں سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں سینئر صحافی حفیظ اللہ نیازی آبدیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے بینچ پر اعتراض کا معاملہ واپس ججز انتظامی کمیٹی کو بھجوایا تو سینئر صحافی حفیظ اللہ خان نیازی روسٹرم پر آ گئے اور بینچ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’مجھے نہیں پرواہ کہ 6 ممبر بنچ ہو یا 9 ججز کیس سنیں، میرا بیٹا غائب ہے، آپ کے پاس بہت اختیار ہیں، جو مجھ پر بیت رہی ہے وہ آپ سب پر نہیں بیت رہی، بچوں کو 8 سے 9 ماہ سے جسمانی ریمانڈ پر رکھا ہوا ہے، میرا بیٹا حسان اللہ نیازی 7، 8 دن سے فوجی تحویل سے غائب ہے، ملنے نہیں دیا جا رہا، مجھے کچھ پتا نہیں میرا بیٹا کہاں ہے؟ کیا مجھے راتوں کو نیند آتی ہوگی؟‘، جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو آج ہی حفیظ اللہ نیازی سے مل کر حسان اللہ نیازی کا معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔بتایا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ میں شامل ہیں، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی بینچ کا حصہ ہیں، دوران سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ ’لاہور ہائیکورٹ بار کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دائر کی تھی‘، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ ’جنتی بھی فریق بننے کی درخواستیں آئی ہیں ان کو بعد میں دیکھیں گے، پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں‘، جس پر اٹارنی جنرل روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ ’عید سے قبل کچھ ملزمان کو رہا کر دیا تھا، رہا ہونے والے ملزمان کی تفصیلات جمع کرا دی ہیں، عید سے قبل 20 ملزمان کو رہا کیا گیا‘۔جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ ’رہا ہونے والے ملزمان کے خلاف اب کوئی کیس نہیں ہے؟‘ وکیل اعتزاز احسن نے بتایا کہ ’ان ملزمان کو سزا یافتہ کر کے گھر بھیج دیا گیا ہے، ایک بچے کو ٹرائل کیے بغیر سزا یافتہ کیا گیا وہ اب چھپتا پھر رہا ہے، یہ جو کچھ بھی ہوا ہے بڑا غلط اور جلد بازی میں ہوا ہے، اٹارنی جنرل کی قابلیت اس کیس میں نظر نہیں آئی‘، جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ ’آپ جس لڑکے کی بات کر رہے ہیں وہ اٹارنی جنرل کی جمع کرائی گئی فہرست میں ہے؟‘ وکیل اعتزاز احسن نے بتایا کہ ’وہ اس فہرست میں شامل ہے‘۔اس موقع پر عدالت نے اٹارنی جنرل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جب کہ اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء کی جانب سے فیصلے ریکارڈ پر لانے کی استدعا کی گئی اور کہا کہ ’20 ملزمان کی حد تک جو فیصلے سنائے گئے وہ ریکارڈ پر لائے جائیں‘، جس کی تائید کرتے ہوئے جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ’ہمیں پتا تو چلے ٹرائل میں کیا طریقہ کار اپنایا گیا‘، اس پر جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ ’ہم اٹارنی جنرل سے فیصلوں کی نقول مانگ لیتے ہیں‘، اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کرلیں۔سماعت آگے بڑھی تو سابق جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا اور مؤقف اپنایا کہ ’9 رکنی بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس منصور علی شاہ نے اس کیس میں نوٹ لکھے، کم از کم 9 رکنی لارجر بینچ کو یہ کیس سننا چاہیے‘، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’کسی جج نے نوٹ میں لارجر بینچ تشکیل دینے کی بات نہیں کی‘، وکیل ملزمان سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’6 رکنی لارجر بینچ میں سے 2 ججز نے اختلاف کیا تو فیصلے کا کیا ہوگا؟ پاکستانی عوام سپریم کورٹ کے چار ججز کے فیصلے کو کس نظر سے دیکھے گی؟ خواجہ احمد حسین نے درست کہا کہ 9 رکنی لارجر بینچ اس کیس کو سنے، جسٹس یحیی آفریدی کے نوٹ کو مدنظر رکھنا چاہیے‘۔اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ ’جسٹس یحیی آفریدی سمیت کسی جج نے بینچ پر اعتراض نہیں اٹھایا، ججز نے اپنی رائے دی ہے مگر کسی جج نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا، جب نوٹ لکھنے والے ججز نہیں اٹھے تو ہم کیوں بینچ سے اٹھ جائیں، اگر ہم بھی بینچ سے الگ ہوگئے تو کیا یہاں پھر کوئی اور آکر کیس سنے گا‘، بعد ازاں عدالت عظمیٰ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف لارجر بینچ کیلئے دائر درخواست منظور کرلی اور لارجر بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوا دیا، سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کیس ہی دوبارہ انتظامی کمیٹی کو بھجوا دیا اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری سے چائنہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے چیئرمین لوؤچاؤہوئی کی قیادت میں وفد کی ملاقاتاجلاس میں چینی سفیر چیانگ زئے ڈونگ ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان اور چینی اور پاکستانی اعلیٰ حکام کی شرکتپاکستان اور چین کے درمیان طویل المدتی تزویراتی تعلقات ہیں

24-04-2024ایوانِ صدرپریس ونگ***اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے چائنہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے چیئرمین لوؤچاؤہوئی کی قیادت میں وفد کی ملاقاتاجلاس میں چینی سفیر چیانگ زئے ڈونگ ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان اور چینی اور پاکستانی اعلیٰ حکام کی شرکتپاکستان اور چین کے درمیان طویل المدتی تزویراتی تعلقات ہیں ، صدر مملکتپاک-چین تعلقات کو تجارت، معیشت، زراعت، عوامی روابط اور ثقافت کے شعبوں میں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکتصدر مملکت کا دوطرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے کیلئے مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زورپاکستان سی پیک کو تزویراتی اہمیت کا حامل منصوبہ سمجھتا ہے ، صدر مملکتپاکستان تمام سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے، صدر مملکتگوادر بندرگاہ سے علاقائی روابط کو فروغ ملے گا، چین تک سامان کی نقل و حمل سستی ہو گی، صدر مملکتصدر مملکت کی انسانی وسائل کو چین کی ضروریات کے مطابق ہنر سے آراستہ کرنے کیلئے مشترکہ تربیتی منصوبے شروع کرنے کی تجویزچیئرمین چائنہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی نے صدر مملکت کو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ایجنسی کے کردار کے بارے آگاہ کیاملاقات میں لوو چاؤ ہوئی کا سیاحت اور زرعی تعاون فروغ دینے کی ضرورت پر زورصدر مملکت کا بشام میں چینی شہریوں پر دہشت گردانہ حملے پر افسوس کا اظہارپاکستان چینی شہریوں ، سرمایہ کاروں کو پاکستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا، صدر مملکتدونوں ممالک کے دشمن دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، لوؤ چاؤ ہوئیصدرِمملکت نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیاصدر مملکت نے سیلاب متاثرہ افراد کی بحالی ، خیبرپختونخوا اور سندھ میں اسکولوں کی تعمیر نو میں ایجنسی کے کردار کو سراہاصدر مملکت نے سندھ اور بلوچستان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے گھروں کی تعمیر میں بھی ایجنسی کے کردار کی تعریف کی***

امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پر مبینہ تعاون پر 4 کمپنیاں بلیک لسٹ

امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون پر 4 کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے 3 کا تعلق چین اور ایک کا بیلاروس سے ہے۔ بیلاروس کی جس کمپنی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ منسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ (Minsk Wheel Tractor Plant) ہے جبکہ چینی کمپنیوں میں ژیان لونج ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (Xi’an Longde Technology Development Company Limited)، تیانجن کریٹو سورس انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ (Tianjin Creative Source International Trade Company Limited) اور گرین پیکٹ کمپنی لمیٹڈ (Granpect Company Limited) شامل ہیں۔ امریکا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ یا ان کی ترسیل کے لیے پاکستان کو مواد فراہم کرنے میں تعاون کیا جس سے پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری، حصول اور نقل و حمل کی کوششوں میں مدد ملی۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ رویے کی تبدیلی ہے۔ تاہم رویے تبدیل کرنے سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا ان کا اشارہ کمپنیوں کی طرف ہے یا پاکستان کی جانب۔ امریکا کے محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، پابندیوں کے ضمن میں جاری ہونے والا انتظامی حکم نامہ نمبر 13382 بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے ذرائع کو ہدف بناتا ہے۔ پابندیوں کے بعد ان کمپنیوں کے امریکا میں اثاثے منجمد کردیے گئے۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں سے وابستہ افراد، جیسے ملازمین یا ایگزیکٹوز، کو کسی بھی وجہ سے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔پاکستان نے امریکا کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی بغیر ثبوت فراہم کیے کچھ کمپنیوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔ پاکستان برآمدی کنٹرول کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں امریکا کی جانب سے تازہ ترین اقدامات کا علم نہیں۔ پاکستان نے کئی بار نشاندہی کی ہے کہ اس طرح کی اشیاء کے جائز اور سول تجارتی استعمال ہوتے ہیں اس لیے برآمدی کنٹرول کے من مانے اطلاق سے گریز کرنا ضروری ہے۔ ہتھیاروں کے کنٹرول کے دعویدار نے متعدد ملکوں کو جدید فوجی ٹیکنالوجی کے لائسنس میں استثنیٰ دیا جس سے خطے اور عالمی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے۔بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ترسیل میں معاونت سے متعلق الزام لگانے والا امریکا خود گزشتہ ساڑھے چھے مہینے کے دوران اسرائیل نامی دہشت گرد صہیونی ریاست کو تین ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیار مہیا کرچکا ہے اور یہ ہتھیار کسی جنگ میں استعمال کرنے کے لیے نہیں دیے گئے بلکہ غزہ میں موجود معصوم اور نہتے فلسطینیوں پر برسانے کے لیے دیے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں بھی امریکا کئی بار دہشت گرد اسرائیل کی حمایت کر کے یہ ثابت کرچکا ہے اس کا امن و امان کے قیام اور انسانی حقوق کے تحفظ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک ایسا ملک جو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہو اس کا کسی دوسرے ملک پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ بڑے پیمانے پر دیگر ممالک کی کمپنیوں کی اعانت سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کررہا ہے کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔امریکا کی طرف سے پاکستان کے میزائل پروگرام کا حوالہ دے کر ماضی میں بھی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اسی نوعیت کے الزامات لگا کر دسمبر 2021ء میں ایک چینی کمپنی پر پابندیاں لگیں، پھر اکتوبر 2023ء میں تین مزید کمپنیوں پر پابندیاں عائد ہوئیں۔ امریکا خود کو دنیا کا تھانے دار سمجھتا ہے اسی لیے وہ جب جو چاہتا ہے کرتا پھرتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر قیامِ امن کی راہ بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کے لیے بین الاقوامی برادری کو نہ صرف بے چین ہونا چاہیے بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔ جب تک عالمی برادری مل کر امریکا کو یہ احساس نہیں دلاتی کہ وہ خود کو دیگر ممالک کے مقابلے میں برتر نہ سمجھے تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کئی بڑے بین الاقوامی مسائل آج تک اسی لیے حل نہیں ہو پائے کہ امریکا غاصب قوت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر مظلوموں کی مخالفت کررہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل اسی نوعیت کی دو مثالیں ہیں۔ مزید یہ کہ اگر امریکا واقعی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے کے بارے میں فکر مند ہو تو اسے بھارت پر پابندیاں عائد کرنی چاہئیں تھیں جہاں کئی دہائیوں سے قدرتی یورینیم کی چوری کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں۔ اس سب سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا نہ تو ہتھیاروں کے حوالے سے متفکر ہے اور نہ ہی اسے انسانی حقوق کی کوئی پروا ہے، وہ بس دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ طاقت کا مرکز وہ ہے۔ یہ بین الاقوامی برادری کا فرض ہے کہ وہ اسے جلد از جلد یہ احساس دلائے کہ دنیا اس کی جاگیر نہیں ہے۔

اسلام آباد کی جوڈیشری سول جج چشتی جسکو ھای کورت کے جج کی معاونت ھے پراپرٹی مافیا کے ساتھ مل کر جی 10 کے بیلف کے ذریعہ رات گیے قبضہ کر لیا گیا نئے ای جی اسلام آباد پولیس کے لئے ایک بڑا چیلنج اڈیو میں متاثرہ بیورو کریٹ کی اڈیو سنئے

اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس

اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنس اسلام آباد۔23اپریل :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، انہوں نے اپنی ذات کی خاطر ملک کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی، عوام نے نفرت اور تقسیم کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے وزیر قانون نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے اس بارے شدید تحفظات ہیں، ان لوگوں نے ملک کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے بارے میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا جس کے تحت 10023 کیسز میں سے 7900 کیس حل ہو چکے ہیں، صرف 23 فیصد کیس زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے بہت کام کیا ہے، ہماری نیت اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون نے ماضی کی حکومت میں بھی اس پر کام کیا، دوبارہ بھی اس پر کام ہو رہا ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات میں کلین سویپ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے تحریک انصاف کے جھوٹ، تشدد، دفاعی اداروں کے خلاف بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز سمیت دیگر نے بھی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، ضمنی الیکشن نے 8 فروری کے انتخابات کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف سے لوگوں کی والہانہ محبت ہے، عوام نے شہباز شریف کی معاشی اصلاحات اور پنجاب میں خدمت کی سیاست کو ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت، منافقت اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ مسترد ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے تحریک انصاف مضحکہ خیز پروپیگنڈا کر رہی ہے، بشریٰ بی بی کے تمام طبی ٹیسٹ درست آئے، وہ صحت مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے کوئی تحفظات ہیں تو کھل کر بتائے جائیں، جب بشریٰ بی بی کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں تو وہ صحت مند ظاہر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جھوٹ پر مبنی مہم چلا رہی ہے کہ بشریٰ بی بی کی زندگی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیرا نویا سے باہر نکلیں، یہ کبھی دفاعی اداروں اور کبھی سپہ سالار کے خلاف بات کرتے ہیں، انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ ملکی دفاعی اداروں کے خلاف ہی بات کرنی ہے، ان کا جھوٹ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے، ان کا پیرا نویا پوری قوم کے سامنے آ رہا ہے، یہ متضاد بیانات دے کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا، کسی کو پاکستان کے دوست ممالک یا پاکستان کے سپہ سالار کے خلاف بات نہیں کرنی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ جیل میں بیٹھے شخص کو نظر آ رہا ہے کہ وہ تنہا ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی، ہم نے پاکستان کے عالمی سطح پر تعلقات اور ساکھ کو بحال کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان دورہ کیا اور اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی بات کی، ایران کے صدر نے کل 10 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سٹریٹجک حیثیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اڈیالہ جیل والے صاحب کے دور میں پاکستان تنہائی کا شکار ہو گیا تھا، اب وہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، دوست ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں اور تجارت اور سرمایہ کاری کی بات ہو رہی ہے، ملک ترقی کی طرف گامزن ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے، ملک میں سازگار ماحول کی موجودگی کی صورت میں ہی یہ ممکن ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شہباز شریف کی قیادت اور وژن کے تحت ایک حکومت موجود ہے جو سنجیدگی سے معاشی اصلاحات کرنا چاہتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 74 فیصد اوپر گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ سرپلس پہلی مرتبہ 9 سالوں میں 619 ملین ڈالر پر پہنچا، آئی ٹی برآمدات 306 ملین ڈالر پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ 20 مہینوں کے اندر 285 ملین ڈالر تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام چیزیں اس لئے اوپر جا رہی ہیں کہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہے اور ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے، عالمی ادارے بھی یہ بات کر رہے ہیں کہ پاکستان معاشی مسائل پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے نوجوانوں کو ترقی دیں گے، ملک کی آئی ٹی انڈسٹری سمیت زراعت کے شعبہ کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سازشی، جھوٹ اور منافقت پر مبنی بیانیہ مسترد ہو چکا ہے، خارجہ پالیسی کے خلاف باتیں کرنے والے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، پی ٹی آئی نے سائفر کا ڈرامہ رچایا، دوست ممالک کے سربراہان کے دیئے گئے تحفوں کو بیچ ڈالا۔ مشاہد اللہ خان مرحوم نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ زمیں بیچ ڈالی، زمن بیچ ڈالا، ایک قیدی نے میرا وطن بیچ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی ذات کی خاطر ملک کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے، سیاسی جماعتیں بعد میں ہیں، ترقی پاکستان کا مقدر ہے، مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی ہوگی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کی ترقی کے لئے ہر قدم اٹھائے گی، آنے والے دنوں میں بیرون ملک سے مزید وفود پاکستان آ رہے ہیں۔ وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ بھی آ رہا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے روشن امکانات موجود ہیں، اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دن رات ایک کریں گے اور پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کمیٹی لاپتہ افراد کے حوالے سے معاملہ کے حل کے لئے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ای سی ایل کے قواعد و ضوابط موجود ہیں کہ کن وجوہات کی بناء پر نام ای سی ایل میں ڈالا یا نکالا جاتا ہے۔ داخلہ ڈویژن اگر کسی کی سفارشات بھیجتا ہے تو اس پر قانون کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے، عیدالفطر کے موقع پر حکومت نے 3.82 روپے کی کمی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اخراجات میں کمی اور نجکاری پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری سے 800 ارب روپے کا خسارہ ختم ہوگا جس کا بوجھ عوام اور حکومت برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہی ہے۔ تمام اشاریئے مثبت ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت موجود ہے جو مسائل کو حل کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، اب اس ملک کو ترقی یافتہ بنائیں گے اور ایک ایسی معیشت بنائیں گے جس پر دنیا ناز کرے، یہ ہمارا مشن ہے اسے

لاپتہ افراد کا مسئلہ راتوں رات حل نہیں سکتے وزیر قانون

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا، بحث، جلد بازی، عدالتی احکامات سے لاپتا افراد کا مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہو سکتا، اس پر اب بھی بہت کام کی ضرورت ہے، تمام شراکت داروں کی مشاورت سے اس اہم مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا مسئلہ بڑے عرصہ سے سیاسی، قانون اور عسکری حلقوں میں ایک حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس پر بات چیت و تنقید کی جاتی ہے، اس پر آوازبھی اٹھائی جاری ہے، ملک کے آئین اور قانونی نظام میں بھی بنیادی حقوق کے حوالہ سے جو تحفظ حاصل ہے، بلا شبہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے لیکن لاپتا افراد کا معاملہ اتنا آسان نہیں، لاپتا افراد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، اس کی بہت ساری جہتیں ہیں، اس مسئلے کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا۔وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین و قانون شہریوں کو جو سہولیات دیتا ہے ان سے کوئی روگردانی نہیں اور ہونی بھی نہیں چاہیئے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، لاپتا افراد کے حوالے سے حکومت نے ماضی میں کام کیا اور ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی، لاپتا افراد کے 8 ہزار کے قریب کیسز حل ہو چکے ہیں، لاپتا افراد کا مسئلہ حل کرنے میں حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی، جب ہم اس ایشو کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ بدقسمتی سے گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان نے جنگ سے متاثرہ خطے میں فرنٹ سے کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جغرافیائی صورتحال ایسی ہے اور ہمارے ہمسایہ ممالک کے ساتھ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں جو معاملات ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی چیلنجز بہت بڑھ گئے، دہشتگردی کے حوالہ سے افواج پاکستان نے اور پاکستان کے عوام نے قربانیاں دی ہیں، خطے میں پاکستان نے ناقابل یقین حد تک اس کی قیمت ادا کی ہے، یہ مسئلہ بھی دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کئی مرتبہ یہ بات کی جاتی ہے کہ شاید حکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں یا سیاسی سنجیدگی نہیں ہے، اس لیے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سب کو یاد ہوگا مسنگ پرسنز پر پہلا قدم پاکستان پیپلز پارٹی دور حکومت میں 2011ء میں اٹھایا گیا، پھر ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیا اور کمیشن بنایا گیا جس کے بعد کمیشن نے اپنا کام شروع کیا، اس وقت سے لے کر آج تک تقریباً 10ہزار 200 سے زائد مسنگ پرسنز کے کیسز کمیشن میں گئے جن میں سے 8 ہزار کے قریب کیسز حل طلب تھے اور حل ہوئے تاہم اب بھی زیر التوا کیسز کی شرح اندازاً 23 فیصد کے قریب ہے، اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں 2022ء میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت بنی تو وزیراعظم نے کابینہ میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت میں شریک تمام اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی اور میں اس شریک تمام اتحادی کمیٹی کا کنوینر تھا، ہم نے کوئٹہ جا کر کام کیا، سارے شراکت داروں سے ملے، بعض چیزیں ابھی حل طلب تھیں کہ اسمبلی کی مدت پوری ہوگئی، نگران حکومت کے دور میں بھی میں نے رپورٹ منگوائی، تاہم نگران حکومت کا دائرہ اختیار کسی حد تک محدود ہوتا ہے کیونکہ وہ قانون سازی نہیں کر سکتے تھے، دیگر بہت سی ایسی چیزیں بھی تھیں جو نگران نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے کچھ تعطل آیا۔وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ہدایت پر اب دوبارہ اس پر کام شرو ع کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جس میں پارلیمانی نمائندگی ہوگی، یہ کام دوبارہ شروع کیا جارہا ہے، مسنگ پرسنز کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی لیکن جلد بازی یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کی جانے والی باتوں یا عدالتی احکامات سے راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے ابھی بھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے، دونوں اطراف سے کچھ نہ کچھ ایشوز ہیں، حکومتی اداروں کی مداخلت یکسر مسترد نہیں کا جا سکتی لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا آج تک کوئی ٹھوس شہادت آئی اور جہاں تک میں رپورٹ میں دیکھتا رہا تو اداروں کی مداخلت کا امکان نفی میں تھا لیکن اس بارے میں ایک تاثر ضرور ہے۔اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ رپورٹس کے 100 فیصد درست ہونے میں بھی ملی جلی صورتحال ہوتی ہے، لاپتا فرد حقیقت میں لاپتا ہوتا ہے لیکن بعض کیسز میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ وہ افراد جن کو بطور مسنگ پرسن رجسٹرڈ کیا گیا، کمیشن ان کو بطور لاپتا افراد ڈکلیئر بھی کر چکا تھا اور کوئی ایسی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی تھی کہ فلاں ادارے کے لوگ اسے اٹھا لے گئے ہیں لیکن کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ مسنگ پرسنز میں شامل دو افراد میں سے ایک لانڈھی جیل میں منشیات کے کیس میں اپنی سزا پوری کررہا تھا اور دوسرا سندھ کی کسی جیل میں قید تھا، اسی طرح پنجاب سے بھی ایسی رپورٹس وصول ہوئیں کہ سی ٹی ڈی نے ان کو پراسکیوٹ کرنا تھا اور ان کے سرگودھا میں ٹرائلز ہو رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں گوادر میں جو حملہ کیا گیا جب حملہ آوروں کی شناخت کی گئی تو ان میں بھی لاپتا افراد موجود تھے جو باقاعدہ ڈکلیئرڈ مسنگ پرسن تھے، ان کے ورثا نے یہ درخواست دی کہ ان کی لاش ہمارے حوالے کی جائے تاکہ تدفین کی جا سکے، اس لیے یہ معاملہ اتنا آسان نہیں اس کی بہت سی جہتیں ہیں، اس کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا کیوں کہ یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، دو تین دن سے یہ گفتگو چل رہی تھی اس لیے میں نے ضروری سمجھا اس پرمیڈیا سے بات کی جائے۔

مریم نواز شریف وزیر اعلی پنجاب کا آپریشن کلین اپ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

مریم نواز شریف وزیر اعلی پنجاب کا آپریشن کلین اپ تفصیلات بادبان ٹی وی پرڈی جی پی آر پنجاب روبینہ افضل تبدیل روبینہ افضل کو محکمہ ڈی جی پی آر رپورٹ کا حکمسیکرٹری اطلاعات وثقافت احمد عزیز تارڈ کو ڈی جی پی آر کا اضافی چارج سیکرٹری اطلاعات پنجاب دانیال عزیز گیلانی تبدیل دانیال عزیز گیلانی کو ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کا حکم ممبر پی اینڈ ڈی احمد عزیز تارڈ تبدیل احمد عزیز تارڈ سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب تعینات

مسنگ پرسن کا معاملہ دیرینہ ہے، وفاقی وزیر قانونحکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے، اعظم نذیر تارڑگزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان نے مشکلات کا سامنا کیا، وزیر قانونپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں، وفاقی وزیر قانون لاپتہ افراد کے حوالے سے حکومت نے کام کیا ہے

مسنگ پرسن کا معاملہ دیرینہ ہے، وفاقی وزیر قانونحکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے، اعظم نذیر تارڑگزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان نے مشکلات کا سامنا کیا، وزیر قانونپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں، وفاقی وزیر قانونلاپتہ افراد کے حوالے سے حکومت نے کام کیا ہے، وفاقی وزیر قانونحکومت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی، وفاقی وزیر قانونوزیراعظم کی ہدایت پر لاپتہ افراد کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے، وفاقی وزیر قانونلاپتہ افراد کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر قانونکسی بھی مسئلے کا حل راتوں رات نہیں نکل سکتا، وفاقی وزیر قانونمسنگ پرسن کا معاملہ اتنا زیادہ آسان نہیں، وزیر قانونقانونی حل کے ساتھ ساتھ اس کا سیاسی حل نکالنے کی بھی ضرورت ہے، وفاقی وزیر قانونیہ پیچیدہ معاملہ ہے، اس کی بہت سی جہتیں ہیں، وزیر قانونلاپتہ افراد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، وزیر قانوندہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ افراد ملوث پائے گئے، وزیر قانون