Monthly Archives: July 2024
پاکستانی ائیرلائنز کے پائلٹوں کو طیارہ اڑانے کےلیے فلائنگ فٹنس میڈیکل لائسنس جاری کرنے والا پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا سابقہ ڈاکٹر خود ایک کان سے بہرا تھا۔ پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری جعلی پائلٹ لائسنس کےگرداب سے نکلی نہیں کہ اب کمرشل پائلٹس کی میڈیکل فٹنس پر بھی سوالیہ نشان لگنے کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے
پاکستانی ائیرلائنز کے پائلٹوں کو طیارہ اڑانے کےلیے فلائنگ فٹنس میڈیکل لائسنس جاری کرنے والا پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا سابقہ ڈاکٹر خود ایک کان سے بہرا تھا۔ پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری جعلی پائلٹ لائسنس کےگرداب سے نکلی نہیں کہ اب کمرشل پائلٹس کی میڈیکل فٹنس پر بھی سوالیہ نشان لگنے کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے کیونکہ اب یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ پاکستانی پائلٹوں کو طیارے اڑانے کے لیے فٹ قرار دینے والا ڈاکٹر خود اس عہدے کیلئے فٹ ہے بھی یا نہیں۔کیا آپ یقین کریں گےکہ پاکستانی ائیر لائنز کے پائلٹوں کو طیارہ اڑانے کے لیے فلائنگ فٹنس میڈیکل لائسنس جاری کرنے والا پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا سابقہ ڈاکٹر خود ایک کان سے بہرا تھا اور اب اس کی جگہ جس ڈاکٹر کا تقرر ہوا ہے اس کے پاس نہ مطلوبہ تجربہ ہے اور نہ ہی تعلیمی قابلیت ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایرو میڈیکل کے عہدے پر فائز ڈاکٹر فلائٹ سرجن اور میڈیکل ایسیسر Medical Assessor کی اہم ترین ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اور اس کا کام کمرشل پائلٹس کو طیارہ اڑانے کے لیے طبی لحاظ سے فٹ ہونے کا لائسنس جاری کرنا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایرو میڈیکل کے عہدے پر ڈاکٹر احریما کی حالیہ متنازعہ تقرری کے بارے میں سوال پر سی اے اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی میں تقرریاں خالصتاً میرٹ پر کی جاتی ہیں، سی اے اے بھرتی کے لیے ایک سخت اور شفاف طریقہ کار پر عمل کرتا ہے جو کہ اہلیت، تجربہ، مہارت اور اس عہدے کےلیے موزوں ہونے پر مبنی ہے۔
صحافیوں کی زبان اور چوروں کے ھاتھ کاٹ دیئے جاے تو پاکستان امن کا گہوارہ بن سکتا ھے تفصیلات کے لئے کلک کرے
بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا، “تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟”کمہار نے جواب دیا کہ “جو بھی گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں، بس اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔”بادشاہ نے کہا، “کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟”کمہار نے حامی بھر لی، بادشاہ نے اسے منصب عطا کر دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ لایا گیا۔ کمہار نے فیصلہ سنایا کہ “چور کے ہاتھ کاٹ دو۔”جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ “جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔”کمہار نے دوبارہ کہا کہ “چور کے ہاتھ کاٹ دو۔”اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ “جناب تھوڑا خیال کریں۔ یہ اپنا خاص آدمی ہے۔”کمہار بولا، “چور کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور سفارشی کی زبان کاٹ دی جائے۔”اور کہتے ہیں کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔ہمارے ہاں بھی امن قائم ہو سکتا ہے مگر اس کے لیئے چوروں کے ہاتھ کاٹنا پڑیں گے اور کچھ لوگوں کی زبانیں کاٹنا پڑیں گی!.
الحمدللہ محرم الحرام کا چاند نظر آگیا یہ چاند ھمارے ملک کے لئے امن و امان کا سامان لے کر آئے
قیصر احمد شیخ پاکستان کے سب سے پسندیدہ اور ایماندار وفاقی وزیر بحری امور کے وفاقی وزیر ھے وزیر اعطم شھباز گل کا دورہ



وزیر اعظم سے تاجر برادری کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملاقات ہوئی، بندرگاہ پر درپیش مشکلات اور شپنگ لائنز کی زیادتیوں بارے آگاہ کیا۔تاجروں نے وزیر اعظم سے پورٹ کے انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا، وزیراعظم نے پورٹ پر کلیئرنس میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا، متعلقہ اداروں کو پورٹ پر درپیش مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم سے تاجروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی سستی ہوگی تو برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک بڑھا دیں گے، ایکسپورٹ بڑھے گی تو بیرونی قرض کی ضرورت نہیں ہوگی، ایکسپورٹرز پر فکسڈ ٹیکس ختم کرنے پر تحفظات سے بھی شہباز شریف کو آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے اگلے ہفتے ایف پی سی سی آئی سے پورٹ پر بہتری کیلئے تجاویز مانگ لیں۔
بادبان ٹی وی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اوسطاً عمرے پر 5ارب ڈالر، حج پر 3 ارب ڈالر اور زیارات پر اعشاریہ 5 ارب ڈالرکا خرچ ہوتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری حج، عمرہ اور زیارات پر 6ارب ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری حج، عمرہ اور زیارات پر 6ارب ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتے ہیں۔نجی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اوسطاً عمرے پر 2 ارب ڈالر، حج پر ایک ارب ڈالر اور زیارات پر اعشاریہ 5 ارب ڈالرکا خرچ ہوتا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس سال ملک میں عیدالاضحٰی پر 2.5 ارب ڈالر کے جانور قربان کیےگئے اور مجموعی خرچ 3 ارب ڈالر ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ہر سال قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے لیدر سیکٹرکی 37 فیصد ضروریات پوری ہوتی ہیں
افواج پاکستان کی 100 اھم تبادلے کچھ دیر بعد۔بادبان یو ٹیوب بادبان ٹوئٹر بادبان نی وی کو فالو کریں7 بجکر 45 منٹ اتوار کی شام
انڈیا کے لیے ایک اور سنڈے سرپرایز کرکٹ میں عبرت ناک شکست کے بعد پاکستانی پہلوان شھیر نے انڈین پہلوان کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیت لیا
میر جعفر اور سراج الدولہ کا انجام اس وقت بھی میر جعفر ظاہری طور پر کامیاب ھوے وہ کونسی میٹینگ تھی اور کیا طے ھوا اور اج کے میر بھی انسانی حقوق کے نام پر میٹینگ کرتے ہیں میر اس وقت بھی غدار تھا اور اج بھی تفصیلات کے لئے کلک کرے
ٹھیک 266 سال پہلے 22 جون کی شام بنگال کے محل میں ایک میٹنگ ہوئی تھی ۔یہ میٹنگ محل مالک کے پرسنل بیڈ روم میں ہوئی تھی اور اس میٹنگ میں تین لوگ موجود تھے ۔ایک انگریز ، محل کا مالک اور اس کا بیٹا ۔انگریز فراوانی سے ہندی ، فارسی اور بنگالی بول سکتا تھا لہٰذا اس نے محل مالک کے سر پر قرآن اور اس کے بیٹے کے سر پر اس کا ایک ہاتھ رکھا اور قسم اٹھوائی کہ وہ وہی کرے گا جو انگریز اسے کہیں گے اور اگر وہ ویسا ہی کرے گا تو انعام میں اسے طاقت اور حکومت دی جائے گی ۔لیکن میٹنگ کے آخر میں انگریز کے سامنے ایک شرط بھی رکھ دی گئی جو انگریز نے مان لی …چونکہ میٹنگ کامیاب ہو گئی تھی اس لیے اگلے دن انگریزوں نے ایک لڑائی کا فیصلہ کیا حالانکہ جیتنے کا کوئی چانس ہی نہیں تھا کیوں کہ انگریز بمشکل 3,100 تھے جبکہ ان کا مقابلہ پچاس ہزار کے ساتھ تھا ۔اور پچاس ہزار بھی ایسے کہ جن کے پاس اتنی بڑی بڑی توپیں تھیں کہ انہیں سفید رنگ کے …بڑے بڑے پچاس بیل کھینچ رہے تھے ۔ ان بیلوں کو بہار میں breed ہی اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ وہ لوہے کی توپیں کھینچ سکیں اور ہر توپ کے پیچھے ایک بڑا ہاتھی اسے دھکا دے رہا تھا ۔اگر آپ نے دیکھا ہو تو لارڈ آف دی رنگز فلم کا ایک سین بھی اس منظر سے انسپائرڈ ہو کر فلمایا گیا ہےلیکن انگریزوں کو ان بیلوں یا توپوں یا ہاتھیوں کی فکر نہیں تھی کیوں کہ وہ ایک کامیاب میٹنگ کر چکے تھے اور ہوا بھی وہی جس کی انہیں امید تھی ۔جب لڑائی شروع ہوئی تو پچاس میں سے پینتالیس ہزار فوج خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی اور محض گیارہ گھنٹے کے اندر بنگال کا پورا صوبہ انگریزوں کی ..جھولی میں جا چکا تھا اور ایسا گیا کہ صرف اگلے سو سال میں انگریزوں نے برصغیر سے لے کر برما تک کے علاقے پر اپنا راج قائم کر لیا تھا ۔لیکن آپ کو یاد ہے کہ میٹنگ میں انگریز کے سامنے ایک شرط بھی رکھی گئی تھی ۔وہ شرط تھی کہ جیتنے کے بعد انگریز ایک مخصوص شخص کی بے حرمتی کریں گے …اور وعدے کے مطابق انہوں نے ایسا کیا بھی ۔ایک خاص لاش کو ساری رات جعفر گنج دریا پر پڑا رہنے دیا گیا اور اگلی صبح اسے ہاتھی پر ڈال کر پورے شہر میں گھمایا گیا یہاں تک کہ جان بوجھ کر اس کی ماں آمنہ بیگم کے گھر کے سامنے سے بھی کر گزارا گیا ۔پلاسی کی اس لڑائی میں مرنے والا وہ شخص تھا …بنگال کا نواب سراج الدّولہ اور انگریز william watts کے سامنے یہ شرط رکھنے والا تھا بنگال کی فوج کا سربراہ … غدار میر جعفر ۔انگریز جیت تو گئے ، انہوں نے میر جعفر کو بہت کچھ دیا بھی یہاں تک کہ پورے کا پورا بنگال دے دیا ۔وہ میٹنگ ایک کامیاب میٹنگ تھی ۔لیکن …یاد رکھیں کہ ہمیشہ کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا !ایک دن ایسا آیا کہ میر جعفر بھی ذلیل ہو کر مر گیا ۔ایک دن ایسا آیا کہ انگریز بھی ہندوستان سے واپس چلے گئے ۔لیکن جس محل میں 22 جون کی شام وہ میٹنگ ہوئی تھی …آج 266 سال گزرنے کے بعد بھی اس محل کے کھنڈرات اپنی جگہ کھڑے ہیں ۔اور وہاں سے گزرنے والا ہر شخص نفرت سے ان کھنڈرات کو دیکھ کر انہیں ’’نمک حرام ڈیوڑھی‘‘کہہ کر بلاتا ہے ۔اور کھنڈر ہو چکے اس محل کا نام ابد تک …’’نمک حرام ڈیوڑھی‘‘ہی رہے گا ۔تاریخ شاید خود دوبارہ دہرا رہی ہے لیکن رب العالمین کی شان نرالی ہے آج کے میر جعفروں کا انجام بھی ان جد امجد میر جعفر جیسا ہی ہوگا ان شااللہ
اسلام آباد کے کرپٹ ترین پولیس افسران آھم عھدوں پر تعینات تفصیلات کے لئے کلک کرے
اسلام آباد پولیس میں کارکردگی دیکھانے والے افسران کو کھڈے لائن لگانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ سفارشی، خوشامدی افسران کو اہم پوسٹوں پر تعینات کر دیا گیا ہے 02 جولائی کو انسپکٹر جنرل آف پولیس سید علی ناصر رضوی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکشن میں 13 افسران کے تقرر و تبادلے کیے گئے ہیںنوٹیفیکشن کے مطابق ایس پی صدر زون ارسلان شعیب ایس پی سٹی زون تعینات،رینکر حاکم خان کو ایس پی ہیڈکوارٹر سے ایس پی صدر زون لگا دیا گیا، ایس پی سٹی خان زیب کو ایس پی سیکورٹی ڈویثرن تعینات کردیا گیا وزیراعظم ہاؤس میں تعینات ایس پی ظہیر احمد کو ایس پی جوڈیشل پروٹیکشن یونٹ میں تعینات کردیا گیا اقبال حسین کو جوڈیشل پروٹیکشن یونٹ سے ایس پی سوہان تعینات کردیا گیاایس پی علی رضا کو سوہان سے ہٹا کر ایس پی ڈولفن تعینات کردیا گیا پنجاب پولیس سے آنے والے ایس پی کاظم نقوی کو ایس پی سی ٹی ڈی تعینات کردیا گیا ایس ڈی پی او سیکرٹریٹ اسد اقبال کو تھانہ ویمن اور کوہسار کا اضافی چارج دے دیا گیا ڈی ایس پی امتیاز علی میرانی کو وزیراعظم ہاوس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ایس ڈی پی او شالیمار عبداللہ شہریار کو گولڑہ کا اضافی چارج دے دیا گیاڈی ایس پی ہیڈکوارٹر قیصر نیاز گیلانی کو ایس پی ہیڈ کوارٹر کا اضافی چارج دے دیا گیا پاکستان پیپلز پارٹی سے قربت رکھنے والے وزیراعظم ہاؤس میں تعینات ڈی ایس پی ارشاد علی ابڑو کو ایس ڈی پی او سہالہ لگا دیا گیا ہے جبکہ ایس ڈی پی او سہالہ اسد للّٰہ منگی کو معطل کرکے سی پی او رپورٹ کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے









