بھارت میں یوم آزادی خواتین کے لیے سیاہ دن قرار*اکیسویں صدی میں بھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار مودی سرکار خواتین کو تحفظ دینے میں ناکامبھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بھارتی عوام خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سراپا احتجاجبھارتی عوام نے مودی سرکار کا ہندوتوا نظریہ مسترد کرتے ہوئے ملک میں خواتین کے تحفظ کا مطالبہ کر دیا

*بھارت میں یوم آزادی خواتین کے لیے سیاہ دن قرار*اکیسویں صدی میں بھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار مودی سرکار خواتین کو تحفظ دینے میں ناکامبھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بھارتی عوام خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سراپا احتجاجبھارتی عوام نے مودی سرکار کا ہندوتوا نظریہ مسترد کرتے ہوئے ملک میں خواتین کے تحفظ کا مطالبہ کر دیاحال ہی میں آر جی کار میڈیکل کالج کی ٹرینی ڈاکٹر سے زیادتی کے بعد قتل پر بھارتی عوام کا شدید غم و غصے کا اظہار نام نہاد مودی سرکار ملک بھر کے ڈاکٹر کی جانب سے شدید تنقید کی زد میںجمہوریت کا دعوےدار بھارت آخر شفاف تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن رہا ہے؟، طلبا کا سوالمودی سرکار کی دوغلی حکومت متاثرین کو انصاف دلانے میں تاخیر کیوں کر رہی ہے؟ ،عوامملک بھر میں احتجاج اورعالمی سطح پر بدنامی کے باوجود مودی سرکار کی ہٹ دھرمی ابھی بھی برقرار عصمت دری کے مجرموں کی پشت پناہی کرنے والی بی جے پی حکومت پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہےسوال تو یہ ہے کہ کیا مودی حکومت بھارت کو عام ہندوستانیوں کے لئے محفوظ بنا پائے گی؟

بی جے پی کے تیسرے دور حکومت میں ریپ کے بڑھتے واقعات*مودی سرکار کے دور اقتدار میں بھارت کا امن و امان خطرے میںبھارت میں خواتین ہمیشہ سے ہی غیر محفوظ رہی ہیںبھارت میں خواتین کو متعدد مسائل درپیش ہیں

*بی جے پی کے تیسرے دور حکومت میں ریپ کے بڑھتے واقعات*مودی سرکار کے دور اقتدار میں بھارت کا امن و امان خطرے میںبھارت میں خواتین ہمیشہ سے ہی غیر محفوظ رہی ہیںبھارت میں خواتین کو متعدد مسائل درپیش ہیں جن میں ریپ جیسے انسانیت سوز واقعات کا ہونا سر فہرست ہےحا ل ہی میں نریندر مودی نے آزادی کی تقریب میں خواتین کے حقوق کی بات کی جس کے بعد سیاسی مخالفوں نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیامودی کے سیاسی حریفوں کا کہنا تھا کہ ؛”مودی کے اپنے دور حکو مت میں بلقیس بانو کے ریپ کرنے والوں اور خاندان کے قاتلوں کو رہا کیا گیا ” اسد الدین اویسی کرناٹکا میں بی جے پی کے سیاسی نمائندے مودی کی پشت پناہی میں بڑے پیمانے پر خواتین کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں ، اسد الدین اویسیبھارت میں ایک زیِرتربیت ڈاکٹر کے ریپ اور قتل ہونے کے بعد ہزاروں لوگ سراپا احتجاج ہیںمودی سرکار بھارت میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی روک تھام میں بے بس نظر آتی ہےحال ہی میں بھارتی میڈیا نے پراپیگینڈا کیا کہ پپاکستان غیر ملکی سیاحوں کے لیےایک غیر محفوظ ملک ہے اس سے قبل بھی بھارت اپنی نا اہلیوں اور انتہا پسندی کو چھپانے کے لیے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگاتا رہا ہےبھارت میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک میں خواتین کے مستقبل پر شدید تشوییش کا اظہار کیا ہے اس سے قبل بھارت کو عالمی سطح پر ریپ کیپیٹل بھی نامزد کیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے ڈیڑھ لاکھ ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی نے تجاویز پیش کیں۔ جس میں گریڈ ایک سے سولہ تک کی اسامیاں بتدریج ختم کرنے اور نئی بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی

وفاقی حکومت نے ڈیڑھ لاکھ ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی نے تجاویز پیش کیں۔ جس میں گریڈ ایک سے سولہ تک کی اسامیاں بتدریج ختم کرنے اور نئی بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حکومتی ڈھانچے کا حجم اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنے والے ادارے اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے سمیڈا کو وزیراعظم آفس کے تحت لانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی ہماری ترجیح ہے، حکومت کی ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد قومی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا اور عوامی سروسز میں بہتری لانا ہے، ایسے ادارے جنہوں نے پبلک سروس کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی اور قومی خزانے پر بوجھ ہیں ان کو یا تو فوری ختم کیا جائے یا پھر ان کی فوری نجکاری کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا موجودہ وزیر اعظم پر عدم اعتماد۔۔16 روپے یونٹ کو 100 روپے پر لانے والے کسی معافی کے حق دار نھی۔۔104 کے ڈالر کو عمران خان نے 180 اور شھباز شریف نے 337 پر پہنچایا جبکہ جنرل سعید اور جنرل سرفراز 270 پر واپس لاے۔۔پٹرول کو عمران خان نے 95 سے 150 روپے جبکہ شھباز شریف نے 335 اور نگران حکومت نے 255 پر چھوڑا۔۔نواز شریف کے دلچسپ اعداد وشمار مجھے کیوں نکالہ پر قائم۔۔۔شیخ حسینہ دماغی توازن برقرار نہ رکھ سکی۔۔ای ایم ایف کا دباو ھے اس لئے پٹرول مھنگا سیکرٹری پٹرول کا اعتراف۔۔بجلی کی قیمتوں میں کمی۔۔سابق ای ایس چیف کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے امریکہ۔۔100 سے زائد افراد گرفتار ٹاپ سٹی کا مالک بھی شکنجے مے۔۔سائبر سیکورٹی کو موٹر بنانے کے لیے دس رکنی کمیٹی تشکیل۔۔سعودی حکومت کی غار حرا۔۔صحت سمیت 5 وزارتیں ختم۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے

شادی پسند کی اور 11 ربیع الاول کو ھوی۔۔سسر کی طرف سے بھینس کا معلوم نہیں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

قوم کے ہیرو، پیرس اولمپکس 2024 کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے سُسر کی جانب سے بطور تحفہ ملنے والی بھینس پر دلچسپ ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس کے بعد حال ہی میں کراچی کا دورہ کیا جہاں اُن کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ارشد ندیم نے گزشتہ شب نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا ہے۔انٹرویو کے دوران جیویلن کھلاڑی، ارشد ندیم نے اپنی جدو جہد، زندگی اور ٹریننگ کے دوران آنے والی مشکلات سے متعلق بات کی۔ارشد ندیم نے معروف صحافی وسیم بادامی کے متعدد دلچسپ سوالات کے جواب دیے۔شو کے وسط میں ارشد ندیم کی اہلیہ، راشدہ نے بھی شرکت کی۔ارشد ندیم اور راشدہ نے بتایا کہ ہماری شادی کو 8 سال ہو گئے ہیں، 2016ء میں شادی ہوئی تھی، 11 ربیع الاول کو شادی ہوئی تھی اور انگریزی مہینے، دسمبر کی تاریخ بھی 11 ہی تھی۔شو کے دوران ارشد ندیم کی اہلیہ نے بتایا کہ ہماری محبت کی شادی تھی، ہمارے تین بچے ہیں، ایک بیٹی اور دو بیٹے، جب یہ اولمپکس کے لیے گئے تو میں نے اِنہیں بتا دیا تھا کہ یہ گولڈ میڈل صرف آپ کا ہے، یہ آپ کو ہی ملے گا۔ارشد ندیم کو سُسر کی جانب سے بھینس کا تحفہ، عمر عالم کا دلچسپ تبصرہراشدہ نے بتایا کہ گھر میں صرف مجھے معلوم تھا کہ ارشد زخمی ہیں، پیرس جانے سے قبل ارشد میرے سامنے ہی اپنے زخم کی ٹِکور کیا کرتے تھے، میں تین دن سوئی نہیں، پریشان بھی تھی، گھر والوں اور ارشد کے کہنے کے باوجود میں نے آرام نہیں کیا، شوہر کی آخری تھرو نہیں دیکھی تھی مگر یقین تھا کہ یہ جیت جائیں گے۔شو کے دوران ارشد اور راشدہ نے بطور تحفہ بھینس ملنے پر بھی بات کی۔ارشد ندیم نے بتایا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے سُسر نے ایسا کوئی اعلان کیا ہے، اہلیہ نے بتایا تھا، اہلیہ کو بھی ٹی وی کے ذریعے ہی اس اعلان اور انعام کا معلوم ہوا تھا۔ارشد ندیم نے کہا کہ اہلیہ سے بھینس کے تحفے کا سُن کر میں نے کہا تھا کہ میرے سُسر اچھے خاصے امیر ہیں، اُن کے پاس ڈیڑھ دو مربع زمین ہے، مجھے بطور تحفہ کوئی پانچ ایکڑ زمین ہی دے دیتے، صرف بھینس دی ہے، چلو خیر ہے۔

شیخ حسینہ دماغی توازن برقرار نہ رکھ سکی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

طلباء کے ہنگاموں کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے نے سب کو چونکا دیا ہے۔ 15سال سے مسلسل اقتدار میں رہنے والی’ آئرن لیڈی‘ کی حکومت آج سے دو ماہ پہلے تک خاصی مضبوط دکھائی دیتی تھی لیکن وسط جون سے ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف طالب علموں کے احتجاج اور پر تشدّد ہنگاموں نے اس مضبوط حکومت کو اس قدر کمزور کر دیا کہ 5اگست کو بنگلہ دیش کی آئرن لیڈی شیخ حسینہ واجد کو استعفیٰ دے کر ملک سے بھا گنا پڑا۔ تاریخ اور سیاست کے طالب علم اس حیرت انگیز تبدیلی پر انگشت بہ دندان ہیں کہ اچانک یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔ کیا یہ صرف طالب علموں کی احتجاجی تحریک تھی جس نے اس حسینہ واجد کی حکومت کو زمین بوس کر دیا۔ جس نے سائوتھ ایشیا کے سب سے پس ماندہ ملک کو نہ صرف ایشیائی ٹائیگربنا دیا تھا بلکہ اس خطے میں سب سے زیادہ تیز رفتار ترقی کرنے والے ملک کا اعزاز بخشا تھا۔ کیا اس میںکوئی بیرونی ہاتھ بھی ملّوث تھا۔ سڑکوں پر احتجاج کرنیوالے طالب علموں کو اندرون ِ ملک کسی بنگلہ دیشی سیاستدان کی سربراہی بھی میّسر نہیں تھی کیونکہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن رہنما بیگم خالدہ ضیاء سمیت تمام سرکردہ سیاسی رہنما پابندِ سلاسل تھے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے والی حسینہ واجد جو بنگلہ دیش کے بابائے قوم کی صاحبزادی بھی تھی اور اس پارٹی کی سربراہ بھی جس نے بنگلہ دیش کو آزادی دلائی تھی۔ اچانک نہ صرف بنگلہ دیش سے خودفرار ہوگئی بلکہ بپھرے ہوئے ہجوم نے اس کے والد بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرّحمان کے مجسموں کو بھی زمین بوس کردیا۔ شیخ مجیب اور اس کے مجسموں کے ساتھ یہ سلوک دوسری مرتبہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے 15اگست 1975کو بنگلہ دیش کے فوجی جوانوں نے بنگلہ بندھوکے دھان منڈی کے بنگلے میں گھس کر شیخ مجیب الرحمان کو خاندان سمیت قتل کردیا تھا۔ جس میں اسکی بیوی، بیٹے اور بہویں بھی شامل تھیں۔ صرف شیخ مجیب کی دو بیٹیاں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ زندہ بچی تھیں کیونکہ اس وقت وہ جرمنی میں زیرِ تعلیم تھیں۔ بہر حال حسینہ واجد شیخ مجیب کے قتل کے بعداپنی سیاسی حریف بیگم خالدہ ضیاء کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کرتی رہیں۔ جس کے نتیجے میں پہلے بیگم خالدہ ضیاء اور اس کے بعد شیخ حسینہ برسرِ اقتدار آگئیں۔ اسی زمانے یعنی 2005میں مجھے بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا اور میں نے محسوس کیا کہ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد دونوں خواتین سے ناخوش تھے کیونکہ انکی باہمی رفاقت سیاسی سے زیادہ ذاتی انتقام میں بدل چکی تھی۔ شیخ حسینہ 2009سے مسلسل اقتدار میں تھیں اور فوج کے تعاون سے وہ ایک ڈکٹیٹر کا روپ دھار چکی تھیں ۔ 2015کے عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے باوجود شیخ حسینہ نے انتخابات کروائے اور دوتہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کرلی ۔ انہی دنوں ایک امن کانفرنس کے سلسلے میں مجھے نئی دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے عوامی لیگ کے مندوبین سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان میں سے بھی بعض افراد ان انتخابات کے نتائج سے مطمئن نہیں تھے۔ وطن واپسی پر میں نے روزنامہ جنگ میں ’’ بنگلہ دیش عدم استحکام کے راستے پر ‘‘ کے عنوان سے ایک آرٹیکل لکھّا تھا۔ جس کا لُبِ لباب یہ تھا کہ معاشی ترقی کے باوجود بنگلہ دیش سیاسی عدم استحکام کے راستے پر گامزن ہے اور کسی وقت بھی سیاسی بحران کی زد میں آسکتا ہے کیونکہ حسینہ واجد کا طرزِ حکومت مکمل طور پر فاشسٹ اور آمرانہ ہے۔ بظاہر تو سب سے بڑا فیکٹر یہی ہے کہ بنگلہ دیش کے سیاسی کلچر میں زیادہ دیر تک آمریت کو برداشت کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہی فرق متحدہ پاکستان کے زمانے میں بھی مغربی اور مشرقی پاکستان میں پایا جاتا تھا۔ جسکے تحت بنگلہ زبان تحریک سے لیکر جنرل ایوب اور جنرل یحیٰی خان کی ڈکٹیٹر شپ نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ ہونے پر مجبور کردیا۔ جبکہ مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان کے نیم جاگیردارانہ معاشرے میں ڈکٹیٹر شپ کی قبولیت کیلئے زیادہ گنجائش پائی جاتی ہے۔ تقسیم ِ ہند سے پہلے 1905میں بنگال کی تقسیم اور 1937میں مشرقی بنگال میں مسلم لیگ کی فتح نے بھی ثابت کردیا تھا کہ بنگالی سیاسی طور پر مغربی پاکستان سے زیادہ بالغ ِ نظر ہیں کیونکہ 1937 میں مسلم لیگ مغربی پاکستان میں انتخابات ہار گئی تھی۔ حسینہ واجد کی پالیسیوں کے علاوہ بیرونی سازشی نظریات کی بھی آج کل شدید بھرمار ہے۔ کوئی اسے آئی ایس آئی سے منسوب کر رہا ہے اور کوئی امریکی مداخلت سے ۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اس سارے عمل کو ’’ نظریہ پاکستان ‘‘ کے دوبارہ زندہ ہونے سے جوڑ رہا ہے۔ میرے خیال کے مطابق یہ تصّور خوش فہمی کے زمرے میں آتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حالیہ معاشی ترقی کی بنیاد ہی اس کا سیکولرنظریہ ہے۔ چونکہ بنگلہ دیش پاکستان کے برعکس صرف ایک قوم یعنی بنگالیوں پر مشتمل ہے لہٰذا وہاں بنگلہ قوم پرستی کو اس سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک بیرونی مداخلت کا تعلق ہے تواس میں امریکی ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو بنگلہ دیش میںبڑھتے ہوئے چینی اثرات کو روکنا چاہتا ہے۔ آنیوالے دنوں میںبنگلہ دیش میں شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے مستقبل کا دارومدار عبوری حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے معروف اور مضبوط لیڈر شپ کی غیر موجودگی میں بنگلہ دیش کا یہ انقلاب انارکی اور فوجی ڈکٹیٹر شپ کا روپ بھی دھار سکتا ہے اگر ایسا ہوا تو وقتی جوش ٹھنڈا ہونے کے بعد عوام شیخ حسینہ کے دور میں ہونے والی ترقی کو دوبارہ یاد بھی کرسکتے ہیں ۔ جس سے کسی وقت بھی عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کیلئے بنگلہ دیش میں قبولیت کے جذبات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

16 روپے یونٹ کو 100 روپے پر لانے والے کسی معافی کے حق دار نھی۔۔ 104 کے ڈالر کو عمران خان نے 180 اور شھباز شریف نے 337 پر پہنچایا جبکہ جنرل سعید اور جنرل سرفراز 270 پر واپس لاے۔۔پٹرول کو عمران خان نے 95 سے 150 روپے جبکہ شھباز شریف نے 335 اور نگران حکومت نے 255 پر چھوڑا۔۔نواز شریف کے دلچسپ اعداد وشمار مجھے کیوں نکالہ پر قائم تفصیلات کے لئے کلک کریں

سابق وزیر اعظم و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے پنجاب حکومت کی جانب سے 1سی500یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لئے اگست اور ستمبر کے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 14روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب عوام کے 1600کے بل کو 18ہزار تک پہنچانے والے نا قابل معافی ہیں ،میرا سوال ہے مجھے اس لئے نکالا کہ غریبوں کا بل 1600روپے کیوں آتا تھا ، اس لئے نکالا کہ 104والے ڈالر کر 250روپے پر پہنچا دیا جائے ، کیا ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں جنہوں نے ملک کو اس حالت تک پہنچایا ، انہوں نے بہت بڑا جرم کیا ہے ،ملک کے ساتھ زیادتی کی ہے ، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں یہ عمران خان کے زمانے سے سارا کام شروع ہوا ،مجھے کوئی جواب دے گا کہ مجھے کیوں نکالا گیا ،کیوں ہمارے خلاف سازش بنی گئی ،کون تھے وہ چہرے ، عمران خان کس طرح اقتدارمیں آئے ، جو پاکستان کی تباہی و بربادی کا سامان کر کے چلے گئے ہیں میں عوام سے درخواست کرتا ہوں ان کے دھوکے میں نہ آئیں ، ہم نے تو آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا،پھر آئی ایم ایف کو دوبارہ لانے والے کون ہیں ، عوام وہ چہرے پہچانے ،یہ وہ ہیں جو آج بڑھ چرھ کر جیل میں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ عوام مہنگائی اور بجلی کے مہنگے بلوں کی وجہ سے جس کرب سے گزر رہے ہیں ۔جب میں 21اکتوبر کو مینار پاکستان پر آپ سے مخاطب ہوا تھا تو اس وقت بھی بجلی کے مسئلے پر کافی دیر گفتگو کی تھی ۔ میںنے اس وقت بھی آگاہ کیا تھا کہ میرے زمانے میں بجلی کا بل کتنا ہوا کرتا تھا اور آج کتنا ہو گیا ہے ۔میں اس دن سے لے کر آج کے دن تک آپ کاکرب محسوس کررہا ہوں ، میں آپ کی تکالیف کوبھی محسوس کرتا ہوں ، میرا ذہن بار بار 2017کی طرف جاتا ہے اور جانا بھی چاہیے کیونکہ اس وقت اللہ کے فضل و کرم سے مہنگائی کا نام و نشان نہیں تھا،بجلی کے بل بہت کم آتے تھے ،آپ کی آمدن آپ کے اخراجات سے زیادہ تھی اور عوام آسانی سے زندگی گزار رہے تھے ،آپ کے بچے سکول جاتے تھے اور پھر گھر کا خرچہ بھی چلتا تھا بجلی کا بل بھی ادا ہوتا تھا گھر کا کرایہ بھی ادا ہوتا تھا ، لوگ اس میں سے بچت بھی کر لیتے تھے ۔میرے دور میں بیشتر سبزیاں دس رو پے کلو ملتی تھیں ۔ 2013میں بھی جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان تقریباًڈیفالٹ کی حالت میں تھا ،ہم نے معیشت کو نہ صرف ٹھیک کیا بلکہ پاکستان کو دنیا کی بہترین ترقی والی قوموں میں شامل کیا،یہ میں نہیں کہتا بلکہ دنیا کے جریدے کہتے ہیں ، اس وقت یہ کہا جارہا تھا کہ پاکستان چند سالوں میں معاشی قوت بننے والا ہے ،اس خطے میں مثالی ترقی والا ملک بننے والا ہے ، ہم ڈالر کو 95 روپے پر لے کر آئے ، اس کے بعد ایکسپورٹ اور ددوسرے معاملے کے لئے اسحاق ڈار اور میری مشاورت سے اسے 104روپے کیا گیا ، ہم نے ڈالر کو چار سال تک 104پر مستحکم رکھا ۔انہوںنے کہا کہ چند ججوں نے مجھے اس لئے نکالا کہ میں نے اپنے بیٹے حسن نوازسے 10ہزار درہم تنخواہ نہیں لی اس لئے مجھے نکال دیا ،آب مجھے بتائیں آپ کو یہ وجہ سمجھ آتی ہے کہ اس پر ایک وزیر اعظم کونکالا جا سکتا ہے ، میں اس لئے کہتا ہوں مجھے کیوں نکالا ، یہ دن دیکھنے کے لئے جو آج ہم سب دیکھ رہے ہیں ، مجھے اس لئے نکالا کہ غریبوں کا بل 1600روپے کیوں آتا تھا جو آج 18ہزار روپے آرہا ہے ، اس لئے نکالا کہ 104والے ڈالر کر 250روپے پر پہنچا دیا جائے ، آج لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج پارہے کیونکہ وہ فیس نہیں دے سکتے ، اس وقت آتا 35روپے کلو ملتا تھا جو آج بہت مہنگا ہو گیا ہے، کچھ مجھے پتہ چلا کہ وزیراعظم کو نکالنے کیلئے کیا یہ وجہ مناسب تھی ، انہوںنے پاکستان کے وزیر اعظم کو جس طرح نکالا وہ بات مذاق لگتی ہے ،کیا ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں جنہوں نے ملک کو اس حالت تک پہنچایا ہے،غریبوں کا جینا مشکل کر دیا ہے ، مجھے ان چیزوں کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ،مجھے سمجھ نہیں آتی میں ان لوگوں کو کیا کہوں ، انہوں نے بہت بڑا جرم کیا ہے ،ملک کے ساتھ زیادتی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب سے مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف وزیر اعظم بنے ہیں میں تواتر سے کہہ رہا ہوں پاکستان سے مہنگائی کا طوفان ختم کریں حالانکہ یہ طوفان ہم نے لے کر آئے ،یہ کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں ، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ عمران خان کے زمانے سے سارا کام شروع ہوا ،ہم نے تو آئی ایم ایف کے ساتھ ہاتھ ملا کر اسے خدا حافظ کہہ دیا تھا ، آئی ایم ایف نے خود کہا تھاکہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی ، دنیا کہہ رہی تھی پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد ہو گیا ہے ،پھر آئی ایم ایف کو دوبارہ لانے والے کون ہیں ، عوام وہ چہرے پہچانے وہ کون ہیں ،میں نہیں ہوں ، مریم نواز شریف یا شہباز شریف نہیں ہے بلکہ وہ ہیں جو آج بڑھ چرھ کر جیل میں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں وہ ہیں جو دوبارہ آئی ایم ایف کو لے کر آئے ۔میںتو ڈالر کو 104روپے پر چھوڑ کر گیا تھااور چار سال اس پر مستحکم رہا ،مجھے پاکستان کی خدمت کا موقع ملتا تو ڈالر 104پر ہی رہتا ،سبزیاں بھی مہنگی نہ ہوتیں ،بجلی بھی کبھی مہنگی نہ ہوتی ،ہم ہی ہیں جنہوںنے پاکستان کے اندر لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا ، ہمارے سے پہلے ملک میں 18،18گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی ، یہ لوڈشیڈنگ کس نے ختم کی ،کس نے بجلی کے بند کارخانوں کو چلایا اور نئے کارخانے لگائے ۔میں نے 2013میں وزیر اعظم بننے سے پہلے کہا تھاکہ ہم لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ اپنے اس دور حکومت میں ختم کریں گے ،ہم نے پانچ سالوں سے بہت پہلے اس مسئلے کو ختم کر دیا کیونکہ ہمیں عوا م کا درد تھا ، میرے ساتھ شہباز شریف بھی بھاگتے تھے ،ہم نے ریکارڈ عرصے میں بجلی کے کارخانے مکمل کئے اور اس پر میں اپنے دوست ملک چین کا مشکور ہوں جن کے تعاون سے سی پیک کے تحت کارخانے لگائے اور بجلی کے بحران پر تین سالوں میں قابو پا لیا ، ہم نے بجلی کا ریٹ بھی مہنگا نہیں ہونے دیا ۔جن کو آج 18،18ہزار روپے بل آتا ہے 2017 میں 1600کا بل آتا تھا ۔ غریب کہاں سے بجلی کا بل دے گا ، وہ بال بچوں کا پیٹ پالے گا یا بلوں میں ساری تنخواہ کو اجاڑ دے گا ۔ میں مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور شاباش بھی دیتا ہوں انہوں نے آتے ساتھ ہی آٹے کی قیمت پر قابو پایا ، گندم کی قیمت کم ہوئی جس کے نتیجے میں روٹی کی قیمت کم ہو ئی یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ، یہ دن رات ہائوسنگ کے منصوبے کے پیچھے بھاگتی ہیں ،کبھی صحت کے مسائل کو حل کرنے اورکبھی تعلیم کے لئے بھاگ دوڑ کر رہی ہوتی ہیں ،صفائی کے بارے میں سوچتی رہتی ہیں کہ پورے پنجاب میں کس طرح سے صفائی کے نظام کو بہترین سطح پر لایا جائے ، دیہی اور شہری علاقو ں میں مساوی ترقی ہونی چاہیے اور عوام کی حالت سدھرنی چاہیے ،کوشش کر رہی ہیں کہ کس طرح عوام کو آسان شرائط پر گھر فراہم کریں۔میں سوال کرتا ہوں آج ملک جن حالات کا شکار ہے یہ سب کچھ نے کیا اس کا ذمہ دار کون ہے ،میں تو نہیں ہوں ،کوئی نہ کوئی تو ہے اور وہی ہیں جو ہمارے بعد میں آئے ۔ ہمارے زمانے میں انٹر سٹ ریٹ سوا 5فیصد تھا پھر کون ہے جو اس کو 22فیصد پر لے کر گئے ، آج بھی یہ ساڑھے 19فیصد پر ہے ،اس شرح پر کون اس ملک میںسرمایہ کاری کرے گا ،کون انڈسٹری لگائے ،کون پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لئے جدوجہد کرے گا ۔ہمیں تو آئی ایم ایف کی اور دوسری شرائط میں جکڑ دیا گیا ہے ۔کون ہیں وہ لوگ جو ایک ،ایک بلین ڈالر مانگنے کے لئے کشکول اٹھائے پھرتے تھے ، یہ میرے بعد آئے ۔ ہم نے غیر ملکی قرضوں کو ادا کیا ،ہم نے موٹر ویز قرضہ لے کر یا بھیک مانگ کر نہیں بنائیںبلکہ اپنے وسائل سے بنائی ، اپنے زور بازوپر بنائیں ۔ 1991میں جو سلسلہ چلا تھا آج تک چلتا رہتا تو ہم دنیا میں خوش قسمت ترین قوم بن چکے ہوتے ،ایشین ٹائیگر نہ ہوتے بلکہ دنیا میں مقام حاصل کر چکے ہوتے ،اگر کوملک ایٹمی قوت بننے کے بعد صحیح طریقے سے چلنے دیا جاتا اورخلل نہ آتے تو ہم دنیا میں با عزت مقام پر پہنچ چکے ہوتے ۔2017میں ہمیں سازش کے تحت نہ نکالا جاتا تو ہم آج بھی دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام حاصل کر چکے ہوتے ۔ مجھے کوئی جواب دے گا کہ مجھے کیوں نکالا گیا کیوں ہمارے خلاف سازش بنی گئی کون تھے وہ چہرے ، عمران خان کس طرح اقتدارمیں آئے ، یہ سب باتیں آپ کو سوچنی چاہئیں ، میں اقتدار کا خواہشمند انسان نہیں ہوں ، اللہ کا شکر ہے میں نے بڑے صدق دل سے اس ملک کی خدمت کی ہے لیکن آج میرا دل دکھتا ہے کہ ہم نے اپنے ملک کے ساتھ کیا کیا ہے ۔کون لوگ ہیں جنہوںنے پاکستان کو یہاں تک پہنچایاہے وہ لوگ نا قابل معافی ہیں، جو 1600کے بل کو 18ہزار روپے کر کے چلے گئے ، جو پاکستان کی تباہی و بربادی کا سامان کر کے چلے گئے ہیں ۔ میں درخواست کرتا ہوں ان لوگوں کے دھوکے میں نہ آئیں ، دیکھیں اس ملک کے اندر کس نے کیا کیا ہے ، اس ملک میں صرف اور صرف آپ کو ایکسپلائیڈ کس نے کیا ہے ، میری ان سب باتوں پر نظر دوڑتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے ، اس معاملے میں دل بہت دکھی ہے ،میں آپ سے اپنا دکھ کبھی تفصیل سے بیان نہیں کرتا،میں سمجھتا ہوں کچھ ذمہ داریاں قوم کی بھی ہیں جو قوم کو پوری کرنی چاہئیں تھی ،2017میں جو کچھ ہو رہا تھا وزیر اعظم کے خلاف سازش ہوئی نکالا گیا اس کے کئی ثبوت بھی موجود ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ میں نے شہباز شریف اور مریم نواز شریف سے بات کی ہے ، انہیں میرے کہنے سے پہلے بھی احساس ہے اور یہ گزشتہ پانچ ،چھ ماہ سے اسی سمت میں سوچ رہے ہیں کہ مظلوم کو کس طرح سے آسودگی دیں کس طرح سے ان کو سکون دیں اور کس طرح سے ریلیف دیں اور ان کا بوجھ بانٹیں ،عوام کو بے یارو مددگار نہ چھوڑ دیں ، میں اپنے اس دکھ کی وجہ سے اتنے عرصے کے بعد حاضر ہوا ہوں کیونکہ مجھ سے یہ صورتحال دیکھی نہیں جاتی ، یہ میرے لئے نا قابل برداشت ہے ، میں دن رات یہی بات کرتا ہوں کہ یہ صورتحال چاہے خراب ہوئی ہے جس نے بھی خراب کی ہے ان کا محاسبہ ہونا چاہیے لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو ٹھیک کریں ، عوام کو سکون دیں تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اپنے بال بچوں کی زندگی گزار سکیں ،شہباز شریف نے کچھ عرصہ پہلے 1سی200یونٹس تک کے صارفین کے لئے بہت اچھا ریلیف دیا ہے جو کہ غالباً اربوں روپے کا ریلیف ہے ، اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے یہ فیصلہ کیا ہے گرمیوں کے مہینے میں بل زیادہ آتا ہے اور عوام کو بڑی تکلیف ہوتی ہے اس لئے انہوں نے اگست اور ستمبر میں بلوں میں فوری ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک ریلیف پیکیج تیار کا ہے جس کے تحت 1سے 500یونٹس تک کے صارفین کو بجلی کے فی یونٹ میں 14روپے ریلیف دیا جائے گا ، یہ بہت بڑا ریلیف ہے ، اس کے لئے مختلف شعبوں سے اخراجات کو کم کیا گیا ہے، کٹوتیاں کی گئی ہیں، ترقیاتی فنڈز کو کم کر کے اس طرف منتقل کیا گیا ہے ۔میں ان کو اس پر شاباش دیتا ہوں ، اس کو یہاں تک ہی نہیں چھوڑ رہیں بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی بات کی ہے ، پنجاب حکومت مزید ریلیف دینے کے لئے سولر پینلز کی ایک سکیم لے کر آرہی ہے تاکہ لوگوں کا بجلی کا بل اس سے بھی کم ہو جائے ، اس منصوبے پر 700ارب روپے خرچ کرنے کا پروگرام بنایا ہے ، اس سے مڈل کلاس ،لوئر مڈل کلاس اور متوسط طبقوں کو ریلیف دیا جائے گا، فی یونٹ 14روپے کمی پر 45ارب روپے خرچ ہوں گے ۔میں شہباز شریف اور مریم نواز شریف کو شاباش دیتا ہوں، شہباز شریف سے کہوں گا وہ بھی سولر پینلزکے لئے پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر اس کو آگے بڑھانے کے لئے بھرپور تعاون کریں ، باقی صوبوں کے ساتھ بھی تعاون کریں ۔میری دیگر صوبائی حکومتوں سے بھی گزارش ہو گی وہ بھی عوام کے لئے ریلیف کی اس طرح کی صورتحال پیدا کریں ، یقینا ان کے دلوں میں صوبے کے عوام کے کے لئے درد ہے ، وہ بھی عوام کی فلاح کے لئے سکون کے لئے اس طرح کے اقدامات سے گریز نہیں کریں گے، میرا آپ سے رابطہ کسی نہ کسی صورت میں رہے گا۔