وفاقی وزیر امیر مقام اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی پریس کانفرنسپختون قوم روایات کی امین ہے، وزیر اطلاعاتماں، بہن، بیٹی کے احترام کی پختون روایات صدیوں پر محیط ہیں، وزیر اطلاعاتاسٹیج پر کھڑے ہو کر خاتون کو للکارنے والا دہشت گردوں اور مجرموں سے ڈرتا ہے، وزیر اطلاعاتاندر سے کھوکھلے انسان ہی صرف دھمکیاں دے سکتے ہیں، وزیر اطلاعاتآپ کو چاہئے تھا کہ قوم کو بتاتے کہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ کیسے کیا جائے گا؟، وزیر اطلاعاتمریم نواز نے ظالم و جابر کے سامنے کلمہ حق کا ورد کیا، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں 12 سالہ دور اقتدار میں ایک بھی معیاری منصوبہ نہیں بنایا، وزیر اطلاعات

پختونوں کی دل سے عزت کرتے ہیںپختون روایت کے برخلاف خواتین کے خلاف بھونڈی زبان استعمال کی گئی، وزیر اطلاعاتجلسہ گاہ بھرنے کے لئے سرکاری وسائل اور مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا، وزیر اطلاعاتخیبر پختونخوا میں اندھیر نگری چوپٹ راج جیسا قانون رائج ہے، وزیر اطلاعاتیہ کیسا انقلاب تھا جو صرف خاتون کو للکارنے آیا تھا، وزیر اطلاعاتناکام جلسے کا غصہ مریم نواز اور اداروں پر نکالا، وزیر اطلاعاتجو روٹ دیا تھا، وہ کھلا تھا، انتظامیہ نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، وزیر اطلاعاتآپ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، سنجیدگی اپنائیں، وزیر اطلاعاتدہشت گردی کے خلاف عزم استحکام کے وژن کا حصہ بنیں اور اپنے صوبے میں امن قائم کریں، وزیر اطلاعاتاپنے صوبے میں ترقیاتی کام کریں، لوگوں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات دیں، وزیر اطلاعاتجو لوگ آپ کی کرپشن کا حصہ نہیں بنتے، آپ انہیں عہدوں سے ہٹا دیتے ہیں، وزیر اطلاعاتپی ٹی آئی فارن فنڈڈ جماعت ہے، وزیر اطلاعاتحکیم سعید اور ڈاکٹر اسرار کے دیئے ہوئے بیانات پر ارشد شریف نے ثبوتوں کے ساتھ پروگرام کیا تھا، عطاءاللہ تارڑپی ٹی آئی کو گالم گلوچ اور تشدد کے سوا کچھ نہیں آتا، عطاءاللہ تارڑنواز شریف نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھائے، وزیر اطلاعات

پاکستان کی جوابی کارروائی 100 طالبان ھلاک۔3 بڑی گرفتاریاں نامعلوم جگھوں پر منقلی۔ملک بھر میں مھنگای کا طوفان 15 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے۔پاکستان دنیا کے مھنگے ترین ممالک میں شامل۔این او سی ہو یا نہ ہو، اگلا جلسہ لاھور مےنیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر قانون سازی ھو گی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

حکومت کا سرکاری اخراجات کم کرنے کے مشن کے سلسلے میں اسلام آباد کے معاملات دیکھنے والی وزارت کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن (کیڈ) کو ختم کرنے اور تمام وزارتوں سے گریڈ ایک سے 16 تک کی آسامیاں بھی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

حکومت کا سرکاری اخراجات کم کرنے کے مشن کے سلسلے میں اسلام آباد کے معاملات دیکھنے والی وزارت کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن (کیڈ) کو ختم کرنے اور تمام وزارتوں سے گریڈ ایک سے 16 تک کی آسامیاں بھی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کو کیڈ ڈویژن کو ختم کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ وزارت کیڈ کے خاتمے سے متعلق معاملات نمٹانے کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کو سونپی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے تمام وزارتوں سے مالی، خاکروب اور پلمبر کی آسامیاں آؤٹ سورس کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا جبکہ تمام وزارتوں میں ایک سے 16 گریڈ تک آسامیاں کا حجم ہنگامی بنیادی پرکم کرنے اور تمام عارضی آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے۔یادر ہے کہ وفاقی حکومت نے ’رائٹ سائزنگ‘ کے نام سے ایک منصوبہ بنایا ہے جس میں تحت مختلف اداروں کی نجکاری، غیر ضروری محکموں کی بندش شامل ہے جب کہ حکومت کا بنیادی ہدف اس منصوبے سے اربوں روپے کی بچت کرنا ہے۔

پاکستان کی اس خطہ میں اور عالمی سطح پر ایک مسلمہ حیثیت ہے‘ ہماری حکومتوں میں یہ کبھی صلاحیت نہیں دیکھی گئی کہ وہ اپنے ملک کو عالمی حیثیت کے مطابق دیکھ کر ملک میں ایسی سیاست رواج دیں کہ دشمن ہم پر انگلی نہ اٹھا سکے ہماری ہر حکومت نے اپنی ناک کے آگے نہیں دیکھا اور سیاسی حریفوں کے لیے زندگی تنگ کیے رکھی‘

پاکستان کی اس خطہ میں اور عالمی سطح پر ایک مسلمہ حیثیت ہے‘ ہماری حکومتوں میں یہ کبھی صلاحیت نہیں دیکھی گئی کہ وہ اپنے ملک کو عالمی حیثیت کے مطابق دیکھ کر ملک میں ایسی سیاست رواج دیں کہ دشمن ہم پر انگلی نہ اٹھا سکے ہماری ہر حکومت نے اپنی ناک کے آگے نہیں دیکھا اور سیاسی حریفوں کے لیے زندگی تنگ کیے رکھی‘ اس میں ہر حکومت شامل رہی ہے لیکن ہمیں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ ہم ایک ایٹمی قوت اور ذمہ دار ملک ہیں اور ہماری ہر حکومت کو ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کہ عالمی دنیا ہمارے جمہوری رویے کی تعریف نہ کرے بلکہ تقلید کرے کیا کریں ہماری حکومتوں نے تہیہ کررکھا ہے کہ کچھ سیکھنا نہیں اس لیے کسی بھی اپوزیشن پارٹی کا جلسہ ہو‘ ہر حکومت نے راستے روکنے ہیں یہ راستے سیاسی کارکنوں کے نہیں‘ بلکہ مریضوں کے روکے جاتے ہیں جو ہسپتال نہیں پہنچ پاتے‘ یہ شہریوں کے راستے روکے جاتے ہیں جو اپنے عزیز کی خوشی اور غمی میں شریک نہیں ہوپاتے یہ راستے طلبہ کے روکے جاتے ہیں جو تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ پاتے جب حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی تنکا بھی شہر میں داخل نہ ہو تو پھر پولیس حرکت میں آئی ہے وہ ہر شہری کے ساتھ بد تمیزی کرتی ہے‘ انہیں لاٹھی چارج کا نشانہ بناتی ہے‘ انہیں گالیاں دیتی ہے ایک جاہل پولیس مین ایک ڈاکٹر کو گالی دے گا تو اس معاشرے کو جمہوری نہیں قصائیوں کا معاشرہ کہا جائے گا جس ملک میں قصائیوں کی صفت والے حکمران کسی خاص قوت کی مدد سے اقتادر تک پہنتے ہیں اس ملک میں شہری بھی بیرون ملک بھاگتا ہے اور سرمایہ بھی مگر یہ سوچتا کون ہے؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جلسے جلوسوں کو ریگلولییٹ کرنے کا بل پر صدر زرداری کے دستخط۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جلسے، جلوسوں کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق بل پر دستخط کر دیے۔صدر کے دستخط سے بل قانون بن گیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔صدر کے دستخط کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے گزٹ نوٹی فکیشن کے لیے کاپی بھجوا دی۔قانون کو پر امن اجتماع و امن عامہ کا نام دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پرُ امن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ 2024 سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوگیا تھا۔اجلاس کے دوران بیرسٹر دانیال چوہدری نے اسلام آباد میں جلسے جلوسوں کو ریگولیٹ کرنے کا بل پیش کیا تھا، اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آمرانہ اقدام قرار دیا تھا۔5 ستمبر کو سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شدید احتجاج کے دوران اسلام آباد میں پر امن اجتماع و امن عامہ بل 2024 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا تھا۔بل کے اہم نکاتبل میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی کا کوآرڈینیٹر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو 7 روز قبل مجلس کی تحریری درخواست دے گا۔ اسمبلی/مجلس کی جائز وجوہات نہ دینے پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جلسے کی اجازت نہیں دے گا، جلسے کی اجازت نہ دینے کی تحریری وجوہات دے گا، جلسے کی نامزد مختص کردہ جگہ یا کوئی اور حکومت کا مختص کردہ علاقہ ہوگا۔مزید بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جلسے کی اجازت دینے سے قبل امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سیکویرٹی کلیئرنس لے گا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مختص علاقے کے علاوہ کہیں جلسے کی اجازت نہیں دے گا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپنے اجازت نامہ کی قومی سیکیورٹی رسک، تشدد کے خدشہ، پر ترمیم کر سکتا ہے، حکومت اسلام آباد کے کسی مخصوص علاقے کو ریڈ زون یا ہائی سیکورٹی زون قرار دے سکتی ہے، جہاں اسمبلی کی ممانعت ہو گی۔مزید بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس اسمبلی پر پابندی کا اختیار ہو گا اگر وہ پبلک سیفٹی یا قومی سیکیورٹی کے لیے رسک ہو، امن و امان کی خرابی کے رسک کی مصدقہ رپورٹ ہو، یا روز مرہ کی سرگرمیاں متاثر کرے، اسمبلی پر پابندی کی وجوہات تحریری طور پر دی جائیں گی۔بل کے مطابق متاثرہ شخص پندرہ روز کے اندر اپیل کر سکتا ہے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر کو اسمبلی کو منتشر کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے، اگر وہ جلسہ امن و امان کو خراب کرے، اگر جلسہ منتشر نہیں کیا جاتا تو پولیس افسر اسے طاقت کے ذریعے منتشر کر سکتا ہے۔بل میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی جلسے کے ارکان کو گرفتار اور حراست میں لیا جا سکتا ہے، غیر قانونی اسمبلی کے رکن کو 3 سال تک سزا اور جرمانہ ہوگا، اس قانون کے تحت عدالت سے تین سال سزا پانے والے شخص کو دوبارہ جرم دوہرانے پر 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کے جلسہ سے ایک روز قبل اسلام آباد کنٹینرز سیل ای جی کے حکم پر 2 ھزار موٹر سائیکل مختلف تھانوں میں بند تھانہ کوھسار کے ایس ایچ او نے موٹر سائیکل سواروں کو پکڑنے میں پھلے نمبر پر

پی ٹی آئی کے جلسہ سے ایک روز قبل ہی پورا اسلام آباد کو کنٹینرز سے بندکردیا گیا ۔تمام راستے بند کردیئے گئے تھے ، اسلام آبادکنٹینرزکے شہر کا منظر پیش کررہا ہے۔تما م شاہراؤں کو بند کیا گیا جب کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردگیا ہے ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ 8 ستمبر کا جلسہ عدلیہ کی آزادی کیلئے ہو گا۔اپنے ایک بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل سنگجانی کیم قام پراسلام آباد کا سب سے بڑا جلسہ منعقد ہو گا، یہ لانگ مارچ نہیں بلکہ پرامن جلسہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی آپ کی آزادی کیلئے جیل میں ہیں، یہ جلسہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ہوگا،پی ٹی آئی کے تمام اتحادی جلسے میں موجود ہوں گے، پیر کے دن میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی، انتظامیہ کا مشکورہوں جنہوں نے این اوسی دیا۔ شعیب شاہین نے کہا ہے کہ پرامن شہریوں کو پرامن جلسے کی اجازت نہیں دینگے تو مایوسی ہوگی۔شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ جلسہ گاہ آمد کے دوران انتظامیہ راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، آج ہماری ملک میں عدم برداشت اور دہشت گردی ہے، ریاست پاکستان کو عدم برداشت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن اور سب سے بڑی جماعت ہے، بانی چیئرمین ایک نظریہ ہے جس پر قوم کو امید ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ ہم اسلام آباد سے 25 کلومیٹر دور جلسہ کر رہے ہیں،

قادیانی کو غیر مسلم کئیے 50 سال مکمل قومی اسمبلی کو سبز رنگ کی روشنی سے آراستہ کیا گیا۔اسلام آباد کنٹینرز سے سیل ای جی کے حکم پر 2 ھزار موٹر سائیکل مختلف تھانوں میں بند تھانہ کوھسار کے ایس ایچ او نے موٹر سائیکل سواروں کو پکڑنے میں پھلے نمبر پر ۔سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز کیس 11 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم اختر، جسٹس شاہد بلال بینچ میں شامل ہیں۔اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، چیئرمین این ایچ اے، چیئرمین واپڈا، چیئرمین ایف بی آر کو نوٹس جاری۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جلسے جلوسوں کو ریگلولییٹ کرنے کا بل پر صدر زرداری کے دستخط۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

وزات انفارمیشن و ٹیکنالوجی نےبتایا ہے کہ ملک میں رواں ماہ کے اختتام تک انٹرنیٹ کی رفتار بہتر ہوجائے گی اور رفتار میں سستی کی تمام رکاوٹیں درست کرلی جائیں گی۔وفاقی وزارت آئی ٹی نے ایک سوال کے جواب میں قومی اسمبلی میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا

وزات انفارمیشن و ٹیکنالوجی نےبتایا ہے کہ ملک میں رواں ماہ کے اختتام تک انٹرنیٹ کی رفتار بہتر ہوجائے گی اور رفتار میں سستی کی تمام رکاوٹیں درست کرلی جائیں گی۔وفاقی وزارت آئی ٹی نے ایک سوال کے جواب میں قومی اسمبلی میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا، جس میں بتایا گیا کہ سب میرین میں خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے۔وزارت کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 17 جون 2024 کو صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے قریب سمندر میں ایس ای اے ایم ای ڈبلیو ای 4 میں کٹائو ہوا، جس وجہ سے 1500جی بی پی زیڈ انٹرنیٹ ڈیٹا کی کمی واقع ہوئی۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ اس سے قبل بھی ملک کے انٹرنیٹ نظام میں متعدد بار خرابیاں یا رکاوٹیں ہوئیں، جنہیں کچھ ہی گھنٹوں، دنوں اور بعض کو چند ماہ میں درست کرلیا گیا تھا۔وزارت آئی ٹی کے مطابق فروری 2022 میں کراچی کے قریب ہی زیر سمندر سب میرین میں خرابی کو تین ماہ درست کیا گیا تھا جب کہ باقی خرابیوں کو چند گھنٹوں میں ٹھیک کرلیا گیا تھا۔وزارت نے بتایا کہ فروری 2024، اپریل 2023، نومبر 2022، فروری 2022 اور فروری 2021 کی خرابیوں کو چند گھنٹوں اور چند دنوں میں درست کرلیا گیا تھا۔وزارت آئی ٹی نے اپنے تحریری جواب میں فروری 2021 سے اب تک ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں ہونے والی سستی اور اس کے اسباب سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔وزارت آئی ٹی کے حالیہ جواب سے قبل گزشتہ ماہ اگست کے اختتام تک پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا تھا کہ ملک میں انٹرنیٹ رفتار میں اکتوبر تک سستی رہے گی۔لیکن اب وزارت آئی ٹی نے بتایا ہے کہ ملک میں 24 ستمبر سے انٹرنیٹ کی رفتار معمول پر آ جائے گی۔خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے اور اس متعلق یہ خبریں بھی ہیں کہ حکومت انٹرنیٹ سیکیورٹی سروسز ”فائر وال“ کی آزمائش اور تنصیب کر رہی ہے، تاہم حکومت نے ایسی خبروں پر کوئی وضاحت نہیں کی۔

پاکستانی قوم کو دنیا کی کوی طاقت شکست نھی دے سکتی ارمی چیف۔۔شہدا پاکستان کو سلام جن کی قربانیوں کی بدولت ھم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔۔پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہے نیوی ھمارے سر کا جھومر ھے صدر پاکستان۔۔پیدل فوج ھماری سرحدوں کی محافظ ہے وزیر اعظم پاکستان۔۔پیدل فوج ھماری سرحدوں کی محافظ ہے وزیر اعظم پاکستان۔۔پاکستان افواج کی قربانیوں کی وجہ سے محفوظ ھے قیصر احمد شیخ وزیر بحری امور۔۔مھمند رائفل کے ھیڈ کواٹر پر دھشت گردوں کا حملہ۔۔بینکوں سے گاڑی لینے کا یا فنانس کروانے کا رحجان گراوٹ کا شکار۔۔۔صدر مملکت آصف زرداری نے تمام ارکان اسمبلی کو اسلام آباد طلب کر لیا۔۔بھارت نے 14 پاکستانیوں کو رھا کر دیا ۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی یوم دفاع کی تقریب میں شرکت۔چئیرمین جائینٹ اور بحریہ کے سربراہ صدر مملکت نیوی کی تقریب میں شریک۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے