پنجاب حکومت نے مزید 6 جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کر دی۔محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر پنجاب حکومت نے مزید 6 جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کر دی ہے

پنجاب حکومت نے مزید 6 جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کر دی۔محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر پنجاب حکومت نے مزید 6 جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کر دی ہے۔سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے تعیناتیوں کے نوٹیفیکشن بھی جاری کردیے گئے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد یونیورسٹی آف بھکر کے وی سی مقرر ہوئے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے وی سی تعینات کیے گئے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب وی سی یونیورسٹی آف کمالیہ ، پروفیسر ڈاکٹر فیہم آفتاب یونیورسٹی آف جھنگ کے وائس چانسلر تعینات کیے گئے ہیں۔یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے لیے پروفیسر سجاد مبین وی سی مقرر ہوئے جب کہ یونیورسٹی آف لیہ کے لیے پروفیسر محمد زبیر وائس چانسلر تعینات ہوئے۔

مجھے چھری سے قتل کرنے کی دھمکی اور ننگی گالیاں دی گئی وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی پاکستان ہائی کمیشن لندن کا دورہ کیا جہاں انہوں، پاکستان ہائی کمیشن میں مقامی پولیس کو ٹرین واقعہ کی رپورٹ درج کرادی ہے۔خواجہ آصف نے پولیس کوواقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لندن میں نجی دورہ پرہوں، افسوسناک واقعہ 11 نومبرتقریباً ساڑھے 3 بجے الزبتھ لائن میں پیش آیا تھا۔وزیردفاع نے بتایا کہ اپنے عزیز کے ہمراہ الزبتھ لائن کے ذریعے ریڈنگ جا رہا تھا،3 سے 4افراد پر مشتمل افراد نے ٹرین میں مجھے ہراساں کیا، میری بلا اجازت ویڈیو بنائی گئی اورنازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ مجھے چھری سے قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ، واقعہ میں ملوث کسی فرد کو بھی نہیں پہچانتا ہوں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایسے مذموم واقعات باعث شرم اور قابل افسوس ہیں،لندن ٹرانسپورٹ پولیس سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے متعلقہ ملزمان کا سراغ لگائے۔لندن ٹرانسپورٹ پولیس وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے ساتھ ٹرین میں پیش آنے والے نازیبا واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے۔

پنجاب حکومت کا کسانوں پر ٹیکس بم۔ 6 سے 12 لاکھ آمدن پر 15% ٹیکس، 12 سے 16لاکھ روپے آمدن پر90 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس + 20% ٹیکس ہو گا

پنجاب حکومت کا کسانوں پر ٹیکس بم6 سے 12 لاکھ آمدن پر 15% ٹیکس، 12 سے 16لاکھ روپے آمدن پر90 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس + 20% ٹیکس ہو گا32 لاکھ آمدن تک ساڑھےچھ لاکھ روپے، 32سے 56 لاکھ تک 16 لاکھ روپےٹیکس، 56 لاکھ سےزائد آمدن پر 16 لاکھ اور 45 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ احمر بھٹی نے ایوان کو تفصیلات بتا دیں

اسموگ کے تدارک کیلئے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں نئی پابندیاں عائدلاہور: پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ کے تدارک کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی گئیں

اسموگ کے تدارک کیلئے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں نئی پابندیاں عائدلاہور: پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ کے تدارک کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی گئیں۔انوائرمینٹل پروٹیکشنل ایجنسی پنجاب کے ہدایت نامے کے مطابق لاہور ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں 17 نومبرتک تمام تجارتی مارکیٹس، دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات 8 بجےبندہوں گے۔فارمیسی، میڈیکل اسٹور، میڈیکل لیبارٹریز، ویکسی نیشن سینٹرز، تندور، بیکریاں اور کریانہ اسٹورز پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔پٹرول پمپس، آئل ڈپو،دودھ کی دکانیں، سبزی و فروٹ کی دکانیں، چکن اورگوشت کی دکانیں بھی پابندی سے مستثنیٰ قرار۔ہدایت نامے کے مطابق بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز صرف گروسری اور فارمیسی سیکشنز کو کھلا رکھ سکتےہیں۔شادی ہالز میں ان ڈور تقریبات پرانے اوقات رات 10 بجےتک ایس اوپیز کےساتھ جاری رہیں گی، آؤٹ ڈور ڈائننگ پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ ان ڈور ڈائننگ کے اوقات محدود رہیں گے، جمعرات تا اتوار رات 11 بجے تک ان ڈور ڈائیننگ اور ٹیک اوے یا پارسل کی اجازت رات ایک بجے تک ہوگی۔ہدایت نامے کے مطابق بیرونی کھیلوں کے پروگرامز، نمائشوں اور تہواروں سمیت تمام بیرونی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی اور پابندیوں کی خلاف ورزی پر 188 پی پی سی کے تحت کارروائی ہوگی۔

آئی ایم ایف کا صوبائی سرپلس بجٹ کا ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہارآئی ایم ایف کے مطابق صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس، قومی مالیاتی معائدے پر مذاکرات کل ہونگے،زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کیلئے قانون سازی پہلے پنجاب اور سندھ میں ہوگی۔

آئی ایم ایف کا صوبائی سرپلس بجٹ کا ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہارآئی ایم ایف کے مطابق صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس، قومی مالیاتی معائدے پر مذاکرات کل ہونگے،زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کیلئے قانون سازی پہلے پنجاب اور سندھ میں ہوگی۔

اسلام آباد 50 سال سے زائد عمر کے تمام سرکاری ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر ریٹائر کرنے کے فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق ہر صوبوں پر ہوگا،، حزب اللہ کا پہلی مرتبہ اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر اور وزارت دفاع پر بڑا حملہ.الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج۔دھند اندھا دھند سموگ نے زندگی کا پھییہ روک دیا۔زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جہاز ٹرینوں کی آمدورفت معطل۔مھنگای کا طوفان کھانے والے گھی کی قیمتوں میں اضافہ انتظامیہ غائب۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی۔بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت اڈیالہ جیل میں جج ناصر جاوید رانا کے روبرو ہوئی

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی۔بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت اڈیالہ جیل میں جج ناصر جاوید رانا کے روبرو ہوئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اڈیالہ جیل پہنچیں۔دوران سماعت ملزمہ بشریٰ بی بی کے وکلا نے حاضری سے ایک روزہ استثنا کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ملزمان کی جانب سے آج بھی 342 کے تحت جاری سوال ناموں پر جواب داخل نہیں کروائے گئے۔ ملزمان کے وکلا مصروفیت کے باعث آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ بشریٰ بی بی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔بعد ازاں عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے جمعہ 15 نومبر تک ملتوی کردی۔

گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں چند ہی دنوں میں چوتھی مرتبہ بڑا اضافہ۔ تفصیلات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں درجہ دوم گھی اورآئل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ۔

گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں چند ہی دنوں میں چوتھی مرتبہ بڑا اضافہ۔ تفصیلات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں درجہ دوم گھی اورآئل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ ہول سیل مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق درجہ دوم آئل کی 12پیک کی پیٹی مزید 112روپے اضافے سی6400روپے جبکہ درجہ دوم گھی کی 12پیک کی پیٹی 106روپے اضافے سی6250روپے کی سطح پر پہنچ گئی ۔ہول سیل میں آئل کی فی لیٹر قیمت 9روپی33پیسے اضافے سے 533روپے جبکہ گھی کی فی کلو قیمت 8.83پیسے اضافے سے 521روپے فی کلو تک پہنچ گئی ۔ذرائع کے مطابق پرچون سطح پر دکاندار مختلف قیمتیں وصول کر رہے ہیں ۔درجہ دوم فی لیٹر آئل کی کم سے کم قیمت550روپے جبکہ گھی کی فی کلو قیمت540روپے تک وصول کی جارہی ہے ۔

پاکستان میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے 7 ارب ڈالر قرض معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی

پاکستان میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے 7 ارب ڈالر قرض معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے روز ٹیکس شارٹ فال، تاجر آسان ٹیکس، توانائی شعبے، ایف بی آر اصلاحاتی پلان پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں آئی ایم ایف نے سولرائزیشن کو محدود کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کے علاوہ لیوی بھی 70 روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس شارٹ فال اور تاجر آسان ٹیکس سکیم کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیم نے اجلاس کے دوران سخت سوالات بھی کیے۔ایف بی آر نے ٹیکس شارٹ فال کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور درآمدات میں کمی کی وجہ سے ٹیکس شارٹ فال آیا، رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ ٹیکس وصولی ہدف سے 190 روپے کم ہوئی جبکہ تاجر دوست اسکیم کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔اجلاس کے دوران ایف بی آر کے اصلاحاتی پلان پر بھی بریفنگ دی گئی، اس کے علاوہ ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے تجاویز دو سے تین روز میں فائنل کی جائےگی۔اجلاس میں آئی ایف ایم کو توانائی شعبے کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، علاوہ ازیں سولرائزیشن کو محدود کرنے پر بھی زور دیاگیا، عالمی مالیاتی فنڈ ٹیم کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ کے نظام پر بھی سوالات کیے گئے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کے علاوہ لیوی بھی 70 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، عالمی مالیاتی ادارے کی تجویز ماننے کی صورت میں 16 نومبر سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔قبل ازیں پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے 7 ارب ڈالر قرض معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات ناتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف ٹیم کے غیر متوقع دورہ پاکستان شروع ہونے کے ایک روز بعد کی گئی۔ محمد اورنگزیب کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک، گورنرسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔آئی ایم ایف ٹیم نے غیر اعلانیہ دورہ ستمبر میں منظور کردہ 7 ارب ڈالر کے توسیع فنڈ سہولت ( ای ایف ایف) کے پہلے جائزے سے 4 ماہ قبل کیا۔ آئی ایم ایف ٹیم کا یہ دورہ غیر معمولی ہے اور یہ 2025 میں ہونے والے پہلے جائزے سے کئی ماہ قبل کیا گیا۔وزرات خزانہ اور آئی ایم ایف نے باضابطہ طور پر دورے کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ایک روز قبل، پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف ٹیم کو رواں سال کے مقررہ کردہ بجٹ محصولات پر قائم رہنے اور انتظامی کارروائیوں کے ذریعے پہلے سہہ ماہی کے اہداف میں کمی کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف ٹیم نے پاکستانی حکام کے ساتھ آمدنی کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی۔ذرائع کے مطابق مشن پاکستان میں15 نومبر تک پروگرام کے اہداف اور حالیہ پیش رفت کو جانچنے کے لیے قیام کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مشن قرض پروگرام کے پہلے جائزے کا حصہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ توسیع قرض پروگرام کےطریقہ کار کے تحت آئی ایم ایف اور پاکستان حکام کو سہہ ماہی جائزہ ملاقاتیں کرنی ہوں گی۔دریں اثنا، قرض پروگرام کی ایک ارب ڈالر سے زائد دوسری قسط کے حصول کے لیے پہلا باضابطہ جائزہ رواں سال دسمبر کے آخر میں ہوگا۔7 ارب ڈالر قرض کے حصول کو ایک ارب ڈالر کے مساوی 6 اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے لیے سالانہ 6 سہ ماہی جائزہ اجلاس ہوں گے۔ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو پہلے چار ماہ میں 190 ارب روپے محصولات کی کمی کے حوالے سے آگاہ کیا، مہنگائی میں کمی کے ساتھ مالیاتی خسارے میں اضافے نے آئی ایم ایف حکام کو تذبذب میں مبتلا کردیا ہے۔آئی ایم ایف ٹیم کو نہ صرف مالیاتی بلکہ نجکاری پروگرام کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا ہے، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل شامل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی ٹیم نے مشن کو اس ماہ کے آخر تک انتظامی اقدامات کے تحت حاصل ہونے والے نتائج اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف بی آر بات چیت میں پیش رفت کے بعد آئی ایم ایف سے منی بجٹ کے بجائے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔آنے والے دنوں میں دونوں فریقین پروگرام کے کلیدی اہداف، خاص طور پر وفاقی محصولات، سرکاری ملکیت والے ادارے، بیرونی اور صوبائی مالیاتی خساروں اور آمدنی کے اقدامات کے حوالے سے بات چیت کریں گے تاکہ پہلے سہ ماہی جائزے سے قبل کارکردگی کے معیار میں کمی کوتاہیوں کی دوری کو یقینی بنایا جائے۔