اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیے۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیے۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا۔جوڈیشل کمیشن کیلئے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا ہے۔علاوہ ازیں، سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کیلئے پاکستان پیپلزپارتی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی سینیٹر و اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں جو سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں۔ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں 5 اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے، پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےکو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے، جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے۔واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان دراصل سپریم کورٹ ہائی کورٹ، یا فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کی ہر اسامی کے لیے اپنی نام زدگیوں کو 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتا تھا جو یہ نام وزیر اعظم کو اور پھر وہ صدر کو ارسال کرتے تھے تاہم ترمیم کے بعد کمیشن اب اپنی نامزدگیوں کو براہ راست وزیر اعظم کو بھیجے گا جو انہیں تقرری کے لیے صدر کو بھیجیں گے۔ترمیم کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، سیاسی جماعتوں کو ارکان اسمبلی کی بنیاد پر کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہو گی، جنہیں ان کے متعلقہ پارلیمانی لیڈر نامزد کریں گے۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل حامد خان کے ذریعے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل حامد خان کے ذریعے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کو آئین کے برخلاف اور متصادم قرار دیا جائے اور ترمیم کے تناظر میں کیے گئے اقدامات کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔آئین پاکستان کو 26ویں ترمیم سے پہلے کی صورت میں بحال کیا جائے اور درخواست کے زیر سماعت ہونے تک 26ویں آئینی ترمیم کے تحت اقدامات سے روکا جائے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئین کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کا اختیار ایگزیکٹو یا مقننہ کو دینے سے عدلیہ کی آزادی کا اصول شدید مجروح ہوگا۔درخواست میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن میں غیر عدالتی ممبران کی اکثریت سے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کا عمل سیاست کی نذر ہو جائے گا۔درخواست گزار نے کہا کہ ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا، اس سے قبل چیف جسٹس کے سنیارٹی کا اصول اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ ججز انصاف کی فراہمی میں سینئر جج کو بائی پاس کرنے کیلئے کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔درخواست میں کہا گیا کہ پارلیمانی خصوصی کمیٹی کی جانب سے چیف جسٹس کی نامزدگی سے انہی ججز کو آگے لایا جائے گا جو کمیٹی کے ممبران کے نظریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ یہ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی ازادی کے اصولوں کے برخلاف ہے، 26ویں آئینی ترمیم کو آئین میں شامل کرنے سے پہلے اس کی آئینی اصولوں سے مطابقت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے اصول کے برخلاف ہونے پر کالعدم قرار دیئے جانے کی مستحق ہے۔درخواست میں وفاقی سیکرٹری قانون، سیکٹری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب میں جیلوں کا معائنہ کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب میں جیلوں کا معائنہ کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جس میں 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں جیل میں قید کاٹنے والی معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ بھی شامل ہیں۔یف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت جیل اصلاحات سے متعلق لاہور میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں حال ہی میں جیل میں قید کاٹنے والی خدیجہ شاہ، دیگر معزز جج صاحبان، جیل سپریٹینڈنٹ، سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، اجلاس میں نیشنل جیل ریفارم پالیسی تیار کرنے کے لیے افتتاحی بحث کی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ منصفانہ قانونی فریم ورک کو یقینی بنانے کے لیے جیل کا موثر نظام ضروری ہے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کے اعداد و شمار سے ملک بھر میں گہری تشویشناک صورتحال کا پتا چلتا ہے، 66 ہزار کی گنجائش رکھنے والے جیلوں میں ایک لاکھ سے زائد قیدیوں کو رکھا ہوا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے پنجاب کو خاص طور پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے، پنجاب میں 36 ہزار افراد کی گنجائش والی جیلوں میں 67 ہزار سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے، 36 ہزار سے زائد قیدی وہ ہیں جن کے مقدمات زیر سماعت ہیں، یہ قیدی ایک سال سے زائد عرصے سے اپنے مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب میں ان فوری مسائل کو حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور صوبے بھر کی جیلوں کا معائنہ کرنے اور سفارشات دینے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔کمیٹی میں جسٹس ریٹائرڈ شبر رضا رضوی، صائمہ امین خواجہ ایڈووکیٹ، سینیٹر احد خان چیمہ اور خدیجہ شاہ بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی، معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ نے 9 مئی ہنگامہ آرائی کے الزامات میں 23 مئی کو خود کو لاہور پولیس کے حوالے کردیا تھا، وہ کئی ماہ تک جیل میں قید رہیں اور سماعت کے لیے عدالت میں بھی پیش ہوتی رہیں آخر کار دسمبر 2023 میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔واضح رہے کہ 9 مئی کے مظاہروں کے نتیجے میں ملک بھر میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں اور حامیوں کی گرفتاریاں ہوئی تھیں، جبکہ کئی رہنماؤں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، مشہور فیشن ڈیزائنر کو دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے خلاف ھای کورٹ کے 6 ججز کی چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اھم ملاقات

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے خط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججز نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے حلف برداری کے بعد ہائیکورٹس کے ایڈمنسٹریٹو ججز سے بھی ملاقات کی تھی۔ذرائع نے بتایاکہ چیف جسٹس سے مداخلت کاخط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ 6 ججز نے حلف اٹھانےکےاگلےدن ملاقات کی۔یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا جس میں عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا، ججز نے اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی مانگی تھی۔وفاقی حکومت کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا تاہم جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی۔

پاکستان کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی کامیابی کے لیے عالمی سطح پر بھارت نواز لابی کا توڑ کرے‘ ترابی سعود ساحر کی صحافت میں جرائت اور بے باکی پائی جاتی تھی‘ سردار محمد عثمان خان ہما رے بزرگوں نے ہمیں جینے کا سلیقہ سکھایا‘ حکیم محمود احمد سرو سہارن پوری کسی بھی انسان پر بات کرنے کے لیے اولین بات اس کا کردار ہوتا ہے‘ انوار الحق رامے سعود ساحر ایک نظریاتی صحافی تھے‘ ابن رضوی ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو نوجوان نسل تک منتقل کرنا چاہیے‘ سہیل مہدی ممتاز اخبار نویس سعود ساحر کی چوتھی برسی کی تقریب سے مقررین کا اظہار خیال

جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے سابق امیر عبد الرشید ترابی نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کا وکیل ہے اور ہمیں پاکستان میں وہ فیصلے کرنے ہیں جن سے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہو‘ اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس محاذ پر کشمیرری عوام کی تحریک آزادی کے خلاف ہونے والے لغو اور بے بنیاد پراپیگنڈے کا توڑ کریں‘

انہوں نے یہ بات ممتاز اخبار نویس سید سعود ساحر مرحوم کی چوتھی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہی برسی کی تقریب میں مسلم کانفرنس کے راہنماء سردار محمد عثمان خان‘ تحریک انصاف کے راہنماء سابق ایم این اے انوار الحق رامے‘ اٹک چیمبر آف کامرس کے بانی چیئرمین مرزا عبد الرحمن‘ فیڈر یشین آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق نائب صدر سجاد سرور‘ پیپلزپارٹریڈرز سیل کے راہنماء عمران شبیر عباسی‘ فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی راہنماء اسرار الحق مشوانی‘ پاکستان پیپلزپارٹی ورکرز کے فنانس سیکرٹری ابن رضوی‘ گورڈن کالج کی سٹوڈنٹ کی یونین کے سابق صدر سابق طالب علم راہنماء سہیل مہدی‘ سینسر بورڈ کے ممبر ندیم ہرل‘ گیسٹ ہاؤسز ایسو سی ایشن کے بانی چیئرمین اظہر شیخ‘ کرنل(ر) احمد سعود‘ حکیم محمود احمد سرو سہارن پوری اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا‘ اور تقریب میں وکلاء‘ تاجروں‘ سول سوسائٹی‘ سیاسی کارکنوں اور اخبار نویسوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن خان‘موئتمر عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل راجا محمد ظفر الحق اور پاکستان مسلم لیگ(ض) کے سربراہ محمد اعجاز الحق نے اپنا پیغام بھیجا‘ عبد الرشید ترابی نے کہا کہ اقوام عالم میں پاکستان میں کشمیری قیادت کو اس وقت مشکل پیش آتی ہے کہ جب ہم بیرون ملک جاکر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کا ذکر کرتے ہیں

تو عالمی راہنماؤں کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی ایسی ہی صورت حال ہے‘ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جس طرح آئین میں ترمیم کی گئی ہے یہ کبھی کسی مہذب جمہوری معاشرے میں ایسے نہیں ہوتا ہے‘ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں اپنے حالات درست کرکے ہی عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں‘ موئتمر عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل راجا محمد ظفر الحق اپنے پیغام میں کہا کہ سعود ساحر کی خوبی یہی تھی کہ وہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرئت رکھتے تھے‘ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سعود ساحر کو ہم نے پڑھا ہے اور ان کی تحریروں میں بہت جان اور کردار اور سچائی جھلکتی تھی‘ مسلم لیگ(ض) کے سربراہ ایم این اے محمد اعجاز الحق نے کہا کہ سعود ساحر جیسے لوگ ہماری قومی قومی صحافت کا بہترین اثاثہ ہیں‘ مسلم کانفرنس کے راہنماء سردار محمد عثمان خان نے کہا کہ ہم نے سعود ساحر کی صحافت میں جرات اور بے باکی دیکھی ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا‘ ریاست آزاد و جموں کشمیر کے سابق صدر اور سابق وزیر اعظم مسلم کانفرنس کے سپریم کمانڈر مجاہد اول سردار عبد القیوم خان کے ساتھ ان کی رفاقت قابل رشک تھی‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کی صحافت میں اسلام‘ پاکستان اور کشمیر کو دیکھا وہ واقعی ایک نظریاتی شخصیت تھے تحریک انصاف کے راہنماء اور سابق ایم این اے انوار الحق رامے نے کہا کہ سعود ساحر نے اپنے کردار سے خود کو ایک کھر صحافی ثابت کیا ہے

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے پروفیشن میں ایک کھرا کردار دکھانے کی ضرورت ہے اور اس کی بہت اہمیت ہے‘ حکیم محمد محمود سہارن پوری نے کہا کہ سعود ساحر نے بہت مشکل حالات میں صحافت کا پیشہ اختیار کیا تھا لیکن اس پیشے میں انہوں نے اپنا نام کمایا اور جرائت کے ساتھ اپنے کالموں میں نکتہ نظر پیش کیا اور خبر میں کبھی بزدلی نہیں دکھائی‘ انہوں نے ہمیں جینے کا ڈھنگ سکھایا اور اپنے کردار سے ثابت کیا کہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کیسی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے‘ ابن رضوی نے کہا کہ سعود ساحر ایک عظیم صحافی تھے اور انہوں نے جرائت مندی کے ساتھ اپنی پروفیشنل ذمہ داری نبھائی‘ وہ تعلقات سب کے ساتھ رکھتے تھے مگر اپنی خبر میں کسی کے ساتھ رعائت نہیں کرتے تھے‘ میرا تعلق پیپلزپارٹی سے رہا‘ وہ ہمارے نظریاتی مخالف تھے مگر ہمارے ساتھ ان کا اخلاق بہت اچھا تھا‘گورڈن کالج کی سٹوڈنٹ کی یونین کے سابق صدر سابق طالب علم راہنماء سہیل مہدی نے کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کے بہترین کارنامے اپنے نوجوانوں تک منتقل کرنے چاہیے تاکہ ہماری نوجوان نسل بھی اپنے اندر ایسی جرائت اور بے باکی پیدا کرے‘ فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی راہنماء اسرار الحق مشوانی نے کہا کہ ہم نے سعود ساحر کی صحافت میں جرات دیکھی‘ وہ خبر میں سچائی بیان کرتے تھے اور کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے‘ سعود ساحر کے صاحب زادے احمد سعود نے تقریب کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے انہیں بطور والد اور بطور انسان بہت اعلی شخصیت کے طور دیکھا ہے اور عملی طور پر نہائت قابل رشک انسان تھے انہوں نے ہمیں حق کے لیے دٹ جانے اور کمزوروں کے لیے شفقت کرنے کا درس دیا تقریب میں سعود ساحر اور دیگر مرحومین کی مغفرت کی دعاء کی گئی

پاکستان کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی کامیابی کے لیے عالمی سطح پر بھارت نواز لابی کا توڑ کرے‘ ترابی سعود ساحر کی صحافت میں جرائت اور بے باکی پائی جاتی تھی

پاکستان کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی کامیابی کے لیے عالمی سطح پر بھارت نواز لابی کا توڑ کرے‘ ترابی سعود ساحر کی صحافت میں جرائت اور بے باکی پائی جاتی تھی‘ سردار محمد عثمان خان ہما رے بزرگوں نے ہمیں جینے کا سلیقہ سکھایا‘ حکیم محمود احمد سرو سہارن پوری کسی بھی انسان پر بات کرنے کے لیے اولین بات اس کا کردار ہوتا ہے‘ انوار الحق رامے سعود ساحر ایک نظریاتی صحافی تھے‘ ابن رضوی ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو نوجوان نسل تک منتقل کرنا چاہیے‘ سہیل مہدی ممتاز اخبار نویس سعود ساحر کی چوتھی برسی کی تقریب سے مقررین کا اظہار خیال