تازہ تر ین

بری امام میں اسلام آباد پولیس کا ظلم,شیلنگ اور ربڑ بلٹس کی وجہ سے 3 بچے شدید زخمی,تشویش ناک حالت میں پیمز ہسپتال منتقل.۔۔۔نور پور شاھان اسلام آباد میں اگ اور خون کا کھیل ذمہ دار کون بڑے حادثے کی گونج عوام پولیس امنے سامنے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

حکومت نے اسلام آباد کے علاقہ بری امام میں ظلم و ستم کی انتہا کر دیجب زمین کی قیمت انسان کی قیمت سے بڑھ جائےمجھے یہ جملہ لکھتے ہوئے بہت اذیت ہو رہی ہے ,لیکن کیا کروں میرے دل و دماغ میں وہ قیامت کے مناظر ہیں جو میری روح کو بھی زخمی کئیے جاتے ہیں۔ آج بری امام کی بستی اسلام آباد پولیس کے محاصرے میں ہے۔ بجلی پچھلے آٹھ گھنٹوں سے بند کر دی گئی ہے۔ پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوبا ہؤا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی سے بری امام جانے کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو پیدل گھر جانے کی بمشکل اجازت دی جا رہی ہے۔آپ تصور کریں کہ گزشتہ رات جو لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے ، آج کی رات وہ بے سرو سامان بچوں کے ساتھ اپنے گھروں کے ملبے پہ ماتم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ چند گھنٹوں میں بے گھر ہو جائیں گے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف کا ویژن 27 کا ٹریلر ہے۔ جو متاثرین اسلام آباد کی تباہی سے شروع ہوا ہے۔ اور اس فلم کا ڈائیریکٹر وزیر داخلہ محسن نقوی ہے۔ نہ جانے کیوں یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی ہے، کہ اس ملک کے تقریباً سبھی محسنوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ویسا ہی بری امام سرکار کے مکینوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی زمینیں وفاقی دارالحکومت کے قیام کے لئے قربان کیں۔۔ مگر آج ان کی اولادوں کو چند گھنٹوں کی وارننگ سے گھروں سے نکال کر ان کے آشیانوں کو مسمار کر دیا گیا ۔ بارہ گھنٹے جاری رہنے والا آپریشن رات دس بجے رکا ۔ امکان ہے کہ صبح دوبارہ شروع ہو گا۔شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جو اپنے شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھے۔ جس طرح بری امام کے مکینوں کو چند گھنٹوں میں طاقت کے زور پر گھروں سے باہر نکالا گیا ہو۔ اور ان کے بچوں کے سامنے ان کے سائبان زمین بوس کیے گئے ہوں۔ یقیناً جب زمین کی قیمت انسان کی قیمت سے بڑھ جائے تو پھر انسان انسانیت اور جذبات و احساسات سے محروم ہو جاتا ہے ۔ اس کا مشاہدہ آپ بری امام میں کر سکتے ہیں۔اس وقت بری امام کے مکینوں کے لئے حکومت کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب ان کی فریاد اور اہ یقیناً بارگاہ الٰہی کے دربار پر دستک دے گی۔ انتطار کریں کس طرح برق چمکتی ہے۔ ایک بات طے ہے۔خدا ظلم کو پسند نہیں کرتا اور ظالموں کا پیچھا کرتا ہے۔ کربلا میں دنیاوی منصب کی لالچ میں خانوادہ رسول ص کو شہید کیا گیا۔ مگر ان ظالموں کو وہ منصب نصیب نہیں ہوئے جن کے لئے انہوں نے ظلم کئے۔ اور امیر مختار نے ان سب سے انتقام لیا۔ معاملہ کسی اور کے دربار میں ہے۔ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں محترم وزیراعظم صاحب اور محترم فیلڈ مارشل صاحب یہ کون لوگ ہیں جو آپ کی عزت اور وقار کو خراب کر رہے ہیں۔ اگر آپ ان ظلم کرنے والوں کو نہیں روکتے۔۔ تو یقین کیجئے میرا اللہ سب دیکھ رہا ہےسیدنا حضرت علیؓ کا قول ہے ‘کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے، ظلم کی نہیں

پاک فوج کو آواز ۔۔۔۔نور پور شاہاں میں قیامت سے پہلے قیامت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور پور شاہاں ماڈل ویلج کے فیصلے کے خلاف سی ڈی اے کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 7 اپریل 2026 کو کی تھی اور رٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔ جس کے تحت متاثرین نور پور شاہاں کو سی ڈی اے کے اپنے فیصلوں کے تحت عدالت عالیہ نے تحفظ یقینی بنایا تھا۔قانون کے مطابق انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کی مدت 28 جولائی 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔ لیکن 6 ماہ بعد عدالت نے فیصلہ معطل کر دیا۔ وکلاء اور لوگ حیران ہیں۔فیصلے کی خلاف ورزی پر عدالت میں توہین عدالت کی کاروائی بھی جاری ہے۔عدالت عالیہ کی طرف سے فیصلے کی معطلی کے بعد آج سی ڈی اے نے بھاری پولیس نفری کے ساتھ نور پور شاہاں کے محلہ نوری باغ میں اچانک دھاوا بولا اور مکانات گرانے شروع کئے۔ لوگوں کو سامان تک نہ نکالنے دیا گیا۔ پولیس نے بھر پور طاقت کا استعمال کیا۔ یہ قیامت خیز مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔اس وقت جو لا قانونیت وفاقی دارالحکومت میں ہو رہی ہے۔ شاید ہی پاکستان کے کسی حصے میں ہو۔ اس ملک میں افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالنے کےلئے سال سے زیادہ وقت دیا گیا۔ لیکن جن لوگوں کی زمینوں پر وفاقی دارالحکومت بنا ، ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ جو اسرائیلی فوج غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہی ہے۔ جو اچانک گھروں میں گھس مکینوں کو بے دخل کرتی ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں اہلیان نورپور شاہاں کی آواز کوئی نہیں سن رہا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران خاموش ہیں۔ طارق فضل چوہدری صاحب کی نمائندگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے جج کے فیصلے کی حتمی حیثیت اختیار ہونے کے باوجود معطل کر کے لوگوں کو عدالتی تحفظ سے محروم کر دیا۔ نور پور شاہاں بری امام کے مکینوں کی حیثیت اب یہ ہے، کہ اس ملک میں انہیں کوئی سیاسی ، قانونی ، آئینی ، اخلاقی اور سماجی تحفظ دینے کے لئے موجود نہیں۔ تمام ادارے تماشائی بنے ہوئے ہیں یا وہ بھی عوام کی طرح بے بس ہو گئے ہیں ۔پر امن احتجاج اس ملک میں دہشتگردی بن گیا ہے۔ اور دہشتگردوں سے مذاکرات کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ لیکن اپنے شہریوں کے ساتھ وفاقی حکومت کے ذمہ دار گفتگو و شنید سے مسئلہ حل کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں۔عوام میں یہ تاثر جڑیں پکڑتا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر محسن نقوی وزیر داخلہ کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے ساتھ ہر پاکستانی کی والہانہ محبت ہے۔ جو سرحدوں کی محافظ ہے۔ آج نور پور شاہاں کے متاثرین اور بری امام سرکار کے خدمت گزار پاک فوج کو آواز دے رہے ہیں ۔ وہ آئے اور سرحدوں کی طرح ان کے گھروں کی محافظت کرے۔ اور محسن نقوی کے ظلم و ستم سے مظلوم عوام کو نجات دلائے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved