پاکستان کو عبرت ناک شکست نیوزی لینڈ نے پاکستان کو اوٹ کلاس کر دیا۔دہلی الیکشن: بی جے پی 27 سال بعد بھاری اکثریت سے کامیاب ۔نئے اسٹیڈیم میں کل یہ لوگ خود ناچے اور آج نیوزی لینڈ نے انکو خوب تگنی کا ناچ نچایا ۔پاکستان میں سونے کی قیمت 3 لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔۔سپریم جوڈیشل کونسل 2 اجلاس تفصیلات جاننے کے لیے بادبان نیوز

مشتاق مھمد دنیا کے واحد ال رواںڈر ھے جنھوں نے 200 رنز بنائے اور اسی اننگز میں 5 وکٹیں لی 1973 اج کا دن نیوزی لینڈ کو شکست بادبان ٹی وی رپورٹ تفصیلات کے لیے کلک

1973 میں آج ہی کے دن مشتاق محمد اور آصف اقبال کے درمیان 350 رنز کی شراکت بنی تھی جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تھا- ڈونیڈن میں کھیلا گیا یہ ٹیسٹ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ تھا جہاں مشتاق محمد نے 201 اور آصف اقبال نے 175 رنز بنائے تھے- پہلی اننگ میں انتخاب عالم کی سات (میچ میں گیارہ) اور دوسری میں مشتاق محمد کی پانچ (میچ میں سات) وکٹوں کی بدولت پاکستان نے یہ ٹیسٹ اننگ کے مارجن سے جیت لیا تھا اور پہلے اور تیسرے ٹیسٹ کے ڈرا ہونے کی وجہ سے سیریز بھی 1-0 سے جیت لی تھی-

پرنس کریم اغا خان کی اخری رسومات ادا کر دی گئی۔پاکستان کو عبرت ناک شکست نیوزی لینڈ نے پاکستان کو اوٹ کلاس کر دیاسپریم جوڈیشل کونسل 2 اجلاس ۔دہلی الیکشن: بی جے پی 27 سال بعد بھاری اکثریت سے کامیاب۔دہلی الیکشن: بی جے پی 27 سال بعد بھاری اکثریت سے کامیاب : عام آدمی پارٹی کو بڑا دھچکا ،سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اپنی روایتی نشست بھی ہار گئے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان میں بیشتر اجناس، خاص طور پر آٹا، گھی، تیل اور چاول، اہم غذائی اجزا جیسے زنک، فولاد، وٹامن اے اور ڈی سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں

پاکستان میں بیشتر اجناس، خاص طور پر آٹا، گھی، تیل اور چاول، اہم غذائی اجزا جیسے زنک، فولاد، وٹامن اے اور ڈی سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں۔پنجاب میں 52 فیصد بچے خون کی کمی، 49 فیصد وٹامن اے کی کمی، اور 70 فیصد سے زائد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، جب کہ 41 فیصد خواتین اینیمیا اور 80.5 فیصد وٹامن ڈی کی کمی میں مبتلا ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے لازمی فوڈ فورٹیفیکیشن ہی واحد مؤثر اور پائیدار حل ہے، جو صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آئرن، فولک ایسڈ، وٹامن اے، وٹامن ڈی، زنک اور وٹامن بی 12 جسمانی نشوونما اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نہایت ضروری ہیں لیکن پاکستان میں عام استعمال ہونے والی غذائیں ان بنیادی غذائی اجزا سے محروم ہیں۔عالمی بھوک انڈیکس میں پاکستان 121 ممالک میں سے 99ویں نمبر پر ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔پنجاب، جو کہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی پر مشتمل ہے، ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں تاحال لازمی فوڈ فورٹیفیکیشن کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، جب کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا پہلے ہی اس حوالے سے قوانین منظور کر چکے ہیں۔یہ صورت حال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ پنجاب میں غذائی قلت کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے، صوبے میں 41 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، 25 فیصد میں وٹامن اے کی کمی ہے، جب کہ 80.5 فیصد خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے۔نیوٹریشن انٹرنیشنل کے نیشنل پروگرام مینیجر برائے فوڈ فورٹیفیکیشن ضمیر حیدر کے مطابق خوراک میں وٹامنز اور معدنیات کی کمی کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں غیر متوازن خوراک، صرف مخصوص غذاؤں پر انحصار، اور غربت شامل ہیں، جو کہ غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان غذائی کمیوں کی وجہ سے بچوں کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے، قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، دورانِ حمل پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں اور بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خوراک میں وٹامنز اور معدنیات شامل کرنے کا عمل دنیا بھر میں غذائی کمی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔ضمیر حیدر کے مطابق فوڈ فورٹیفیکیشن ایک کم خرچ اور مؤثر حکمت عملی ہے جس سے معاشرے کے تمام افراد کو بغیر کسی بڑی تبدیلی کے غذائیت فراہم کی جا سکتی ہے۔دیگر ماہرین بشمول نیوٹریشن انٹرنیشنل کی کنٹری ڈائریکٹر، ڈاکٹر شبینہ رضا نے بھی خبردار کیا کہ غذائی قلت ملک کی معیشت پر بھی سنگین اثر ڈال رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غذائی قلت پر قابو نہ پانے کے باعث پاکستان کو سالانہ 17 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہوتا ہے، جس میں پیداوار میں کمی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور بچوں کی ذہنی صلاحیتوں میں کمی شامل ہیں۔ڈاکٹر شبینہ نے زور دیا کہ خوراک میں غذائی اجزا شامل کرنا ہی اس مسئلے کا سب سے سستا اور پائیدار حل ہے، کیونکہ اس سے ہر گھرانے تک ضروری وٹامنز اور معدنیات پہنچائے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر شبینہ کے مطابق فوڈ فورٹیفیکیشن غذائی قلت پر قابو پانے کا سب سے مؤثر اور کم لاگت طریقہ ہے، اس کے ذریعے ہم وٹامنز اور معدنیات کو عام خوراک کا حصہ بنا کر ہر فرد تک پہنچا سکتے ہیں، جس سے صحت میں بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور مجموعی طور پر معیشت کو فائدہ ہوگا جب کہ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو پاکستان کے بہتر اور خوشحال مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔معروف ماہر غذائیت ڈاکٹر ارشاد دانش کے مطابق آئرن، فولک ایسڈ اور وٹامن اے کی کمی بچوں میں خون کی کمی، پیدائشی نقائص اور کمزور قوتِ مدافعت کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ فورٹیفیکیشن ایک سستا اور مؤثر طریقہ ہے جو طویل المدتی اقتصادی نقصانات کو روک سکتا ہے اور صحت کے نظام پر دباؤ کم کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق آٹے میں آئرن شامل کرنے پر ہر ایک ڈالر کے بدلے 8 ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے، فولک ایسڈ شامل کرنے سے پیدائشی نقائص اور زچگی کی پیچیدگیاں کم ہو سکتی ہیں، جس سے ہر ڈالر کے بدلے 46 ڈالر کا معاشی فائدہ ہوتا ہے، جب کہ آئیوڈین ملا نمک سے ہر ڈالر پر 30 ڈالر کا منافع ہوتا ہے۔ماہرین صحت اور پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو فوری طور پر لازمی فوڈ فورٹیفیکیشن کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے، تاکہ اس پر سختی سے عمل درآمد ہو اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا، خوراک میں وٹامنز اور معدنیات شامل کرنا بچوں کی بقا، زچہ و بچہ کی صحت، معاشی استحکام اور ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ مضبوط قوانین اور حکومتی اقدامات کے بغیر ہم غذائی قلت پر قابو نہیں پا سکتے۔

پاک بحریہ کے سربراہ کا نویں کثیر القومی بحری مشق امن میں شریک غیر ملکی بحری جہازوں کا دورہجہازوں پر آمد پر سینئر افسران/کمانڈنگ آفیسرز نے نیول چیف کا پرتپاک استقبال کیا اور چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیانیول چیف نے بنگلہ دیش، جاپان، چین، امریکہ، انڈونیشیا، ایران، ،سری لنکا، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں کا دورہ کیاپاکستان محفوظ سمندری ماحول اور امن و امان کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتا ہے

**راولپنڈی، 8 فروری 2025*پاک بحریہ کے سربراہ کا نویں کثیر القومی بحری مشق امن میں شریک غیر ملکی بحری جہازوں کا دورہجہازوں پر آمد پر سینئر افسران/کمانڈنگ آفیسرز نے نیول چیف کا پرتپاک استقبال کیا اور چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیانیول چیف نے بنگلہ دیش، جاپان، چین، امریکہ، انڈونیشیا، ایران، ،سری لنکا، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں کا دورہ کیاپاکستان محفوظ سمندری ماحول اور امن و امان کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ نیول چیفپاک بحریہ ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول اور امن مشق جیسے اقدامات کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ نیول چیف نیول چیف نے “امن کے لیے متحد” کے مشترکہ عزم کو پورا کرنے کے لیے امن مشق میں ان ممالک کی شرکت کو سراہا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کی آئندہ ہفتے کے کیسز کی کاز لسٹ جاری کردی گئی۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 7رکنی بینچ سوموار10فروری سے جمعرات13فروری تک فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے دائر نظرثانی درخواستوں پرسماعت کرے گا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کی آئندہ ہفتے کے کیسز کی کاز لسٹ جاری کردی گئی۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 7رکنی بینچ سوموار10فروری سے جمعرات13فروری تک فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے دائر نظرثانی درخواستوں پرسماعت کرے گا۔ شہداء فائونڈیشن بلوچستان، وزارت داخلہ، وزارت دفاع، پنجاب اور بلوچستان حکومتوں سمیت اوردیگر کی جانب سے سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کوغیر قانونی اور غیر آئینی قراردینے کے خلاف دائر 38نظرثانی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ ایک مدعاعلیہ جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ اپنے دلائل جاری رکھیں گے جس کے بعد سینیٹر حامد خان ایڈووکیٹ، سردار محمد لطیف خان کھوسہ، فیصل صدیقی اور دیگر وکلاء بھی اپنے دلائل دیں گے۔ جمعہ کے روز آئینی بینچ کے رکن جسٹس محمد علی مظہر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کراچی سے ویڈیو لنک پر موجود وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئندہ ہفتے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس میں آئندہ ہفتے اسلام آباد آئیں گے اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کاکیس ختم ہوجائے گا۔ جبکہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہررضوی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 5رکنی لارجر بینچ جمعہ 14فروری کومعمول کے آئینی کیسز کی سماعت کرے گا۔ بینچ جمعہ کے روز کل 10کیسزکی سماعت کرے گا۔بینچ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اورسابق وزیر اعظم عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، دائودغزنوی اور اسلام آباد ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دینے کے حوالہ سے الیکشنز ایکٹ2017کی دفعہ 94میں2022میں کی جانے والی تبدیلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ درخواستوں میں وفاق پاکستان کوسیکرٹری وزارت قانون وانصاف وپارلیمانی امورڈویژن، کابینہ ڈویژن اوردیگر کے توسط سے فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں اور مدعا علیہان کی جانب سے سینیٹر حامد خان ایڈووکیٹ، سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ ، افنان کریم کنڈی، عارف چوہدری، عزیر کرامت بھنڈاری، سجیل شہریارسواتی، شیخ عثمان کریم الدین، بطور وکیل پیش ہوں گے۔ جبکہ عدالت نے درخواستوں پر اٹارنی جنرل آف پاکستان منصورعثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کوبھی نوٹس جاری کررکھا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 184-3کے تحت دائر درخواستوں میں الیکشنز ایکٹ 2017میں 2022میں کی جانے والی ترامیم کوآئین کے منافی قراردے کرکالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی ہے

وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمت پیشہ طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے مجموعی طور پر 570 ارب روپے ٹیکس وصولی کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اس لحاظ سے تنخواہ دار طبقہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقہ55 فیصد زیادہ ٹیکس اداکرے گا

وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمت پیشہ طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے مجموعی طور پر 570 ارب روپے ٹیکس وصولی کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اس لحاظ سے تنخواہ دار طبقہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقہ55 فیصد زیادہ ٹیکس اداکرے گا۔ایف بی آر کے مطابق گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے368ارب ٹیکس خزانے میں جمع کرایا، رواں مالی سال کے پہلے6 ماہ میں243ارب روپے وصول کیے گئے۔بیان کے مطابق پچھلے سال کے پہلے 6 ماہ کے مقابلے میں ملازمین سے 300 فیصد زیادہ ٹیکس وصول کیے گئے ہیں۔ایف بی آر کے مطابق پانچ سال پہلے تنخواہ دار طبقے سے سالانہ ٹیکس وصولی 129ارب روپے تھی، سال 20-2019میں 129ارب،21-2020 میں152ارب وصول کیے گئے جبکہ سال 22-2021 میں ٹیکس وصولی بڑھ کر 189 ارب ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق 2022،23 میں ملازمت پیشہ طبقے سے 264 ارب وصول کیے گئے۔ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے والا تیسرا بڑا شعبہ بن چکا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو لکھاگیا دوسرا کھلا خط منظرعام پرآگیا۔تفصیلا ت کے مطابق ‏چیف آف آرمی سٹاف کو دوسرا کھلا خط سابق وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کیا گیا ہے،جس میں عمران خان نے کہا کہ ”میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، خط کا مقصد فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے، خط کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔میں پاکستان کا سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے۔1970 سے اب تک میری 55 سال کی پبلک لائف اور 30 سال کی کمائی سب کے سامنے ہے،میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے،مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے،جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی۔1۔ ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا۔2۔عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمینٹ سے گن پوائنٹ پرچھبیسویں آئینی ترمیم کروانا۔3۔پاکٹ ججز بھرتی کرنا، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا۔4۔سیاسی عدم استحکام اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی۔5۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانا اور تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا۔6۔اس سے ناصرف عوامی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے۔عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ فوج ملک کا ایک اہم ادارہ ہے مگر اس میں بیٹھی چند کالی بھیڑیں پورے ادارے کا نقصان کر رہی ہیں۔ایسا ہی ایک شخص اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل بھی ہے جو جیل کے سٹاف کو کنٹرول کرتے ہوئے ناصرف آئین، قانون اور جیل مینول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق بھی پامال کر رہا ہے.وہ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ایسے عمل کرتا ہے جیسے “قابض فوج” کرتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا،وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا،اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا ہے۔مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے۔20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔5 روز تک میرے سیل کی بجلی بند رکھی گئی اور میں مکمل اندھیرے میں رہا۔میرا ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور مجھ تک اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب چاہتے ہیں کتابیں تک روک لیتے ہیں،ان 20 دنوں کے علاوہ مجھے دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا،میرے بیٹوں سے پچھلے 6 ماہ میں صرف تین مرتبہ میری بات کروائی گئی ہے،اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے مجھے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو میرا بنیادی اور قانونی حق ہے،میری جماعت کے افراد دور دراز علاقوں سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔پچھلے چھ ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی مجھ سے ملوایا گیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود میری اہلیہ سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔میری اہلیہ کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے،گن پوائنٹ پر کروائی گئی چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا،کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کرنا ہے،عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ میرے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جا رہے ہیں۔مجھےغیر قانونی طور پر 4 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ میرے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل اسپتال میں داخل کروانا پڑا،اس جج نے میرے وکیل کو بتایا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو سزا دینے کے لیے “اوپر” سے شدید ترین دباؤ ہے۔: آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے لیے وفاقی کابینہ نے سکیورٹی کی منظوری دے دی۔تفصیلا ت کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چیمپئنز ٹرافی کے میچز کے موقع پر سکیورٹی کے لیے سول آرمڈ فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے ۔یاد رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے 12 فروری سے ٹیمیں پاکستان پہنچ رہی ہیں ۔ اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، صوبہ پنجاب اور سندھ کی درخواست پر وفاقی کابینہ سے سکیورٹی کی منظوری لی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے ٹیموں کی فول پروف سکیورٹی کے لیے اداروں اور صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔چیمپینز ٹرافی کیلئے آنے والی ٹیموں کو پریزینٹیشن لیول کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی تھی۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے مذاکرات کی دعوت سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی تھی بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ان کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں۔ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی باضابط دعوت تب دی جائے گی جب حکومت یا اپوزیشن انہیں خود درخواست کریں گے اور اسپیکر قومی اسمبلی کا کردار بھی یہی ہے اور انہوں نے اپنی پوزیشن کلیر کی تھی۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر اور گھر کے دروازے کسی بھی رکن کےلیے کھلے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا اہم بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میرے چیمبر اور گھر کے دروازے کسی بھی رکن کے لیے کھلے ہیں۔اسپیکر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمرایوب نے کہا تھا کہ سیاسی مذاکرات صرف خواہشات سے نہیں بلکہ مستحکم ارادوں سے ہوتے ہیں اور حکومت کے ارادے ٹھیک تھے ہی نہیں اس لیے مذاکرات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سنجیدگی سے مذاکرات شروع کیے تاہم حکومت نے مطالبات نہیں مانے، اب ہم مذاکرات نہیں کریں گے۔سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے یوم تاسیس کے موقع پر سنیچر 22 فروری کو عام تعطیل ہوگئی۔عرب میڈیا کے مطابق وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت کے یوم تاسیس کے موقع پر سرکاری، نجی اور غیرمنافع بخش اداروں میں تعطیل ہوگی۔خیال رہے مملکت میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ اور سنیچر کو ہوتی ہے۔ امسال یوم تاسیس سنیچر 22 فروری کو ہوگا۔ سنیچر کو ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے یوم تاسیس کی چھٹی بعض اداروں میں جمعرات جبکہ بعض میں اتوار کو ہوگی۔سعودی فوڈ چین البیک نے پاکستان میں اپنی شاخیں کھولنے کا اعلان کردیا، وزیر تجارت سے ملاقات میں رامی ابو غزالہ نے تصدیق کردی۔ جام کمال خان کا کہنا ہے کہ فوڈ چین کے پاکستان آنے سے روزگار میں اضافہ ہوگا، سعودی عرب کو برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا، سعودی عرب سے پاکستانیوں نے 7.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی حجم میں مزید اضافے کے امکانات روشن ہوگئے، معروف فوڈ چین البیک نے پاکستان میں اپنی شاخیں کھولنے کی تصدیق کردی، معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا۔وزیر تجارت جام کمال خان کی البیک کے مالک رامی ابو غزالہ سے خصوصی ملاقات ہوئی، ملاقات میں فاسٹ فوڈ چین کی پاکستان آمد پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ جام کمال نے کہا کہ البیک کی پاکستان آمد سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔معاہدے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کے کن کن شہروں میں البیک کی شاخیں ہوں گی تاہم توقع کی جارہی ہے کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں سعودی فوڈ چین کی شاخیں ہوں گی۔وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی جدہ میں اہم سعودی تاجروں سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ سعودی سرمایہ کاروں نے توانائی، زراعت، آئی ٹی اور تعمیراتی شعبے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔2Aوفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ سعودی عرب کو برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا، تجارتی حجم 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، سعودی عرب سے پاکستان کو 7.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔وزیر تجارت جام کمال نے سعودی تاجروں سے ملاقات میں مالی تعلقات کی مضبوطی پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ پاکستانی ورکرز سعودی معیشت میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، نئی ویزا پالیسی کے تحت جی سی سی شہریوں کو ویزا فری انٹری اور 90 دن تک قیام کی سہولت دی گئی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کاروبار کیلئے سازگار ماحول ہے، سعودی تاجروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، سنگل ونڈو اور نیشنل کمپلائنس سینٹر کے ذریعے کاروباری سہولیات میں بہتری آئی ہے۔صدر سپریم کورٹ بار نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کی، صدر بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میر عطا اللہ لانگو بھی ملاقات میں موجود تھے۔اعلامیہ کے مطابق دونوں ملاقاتوں میں عدلیہ کی مجموعی کارکردگی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرسپریم کورٹ بار نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی عدلیہ کے موثر کام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔میاں رؤف عطا نے چیف جسٹس آف پاکستان کے بطور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے حالیہ تقرریاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی سنیارٹی کے معاملے پر نیا تنازع سامنے آگیاصدر سپریم کورٹ بار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات میں حالیہ تقرریوں کو سراہا، اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کی تعریف کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیگر عدالتوں سے ججز کی تعیناتی، وکلا تنظیموں کی ہڑتالمیاں رؤف عطا نے کہا کہ نئے ججز انصاف کی بروقت اور موثر فراہمی میں معاون ثابت ہوں گے، ججز عام شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائیں گے۔پاک بحریہ کے سربراہ کا نویں کثیر القومی بحری مشق امن میں شریک غیر ملکی بحری جہازوں کا دورہجہازوں پر آمد پر سینئر افسران/کمانڈنگ آفیسرز نے نیول چیف کا پرتپاک استقبال کیا اور چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیانیول چیف نے بنگلہ دیش، جاپان، چین، امریکہ، انڈونیشیا، ایران، ،سری لنکا، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں کا دورہ کیاپاکستان محفوظ سمندری ماحول اور امن و امان کے لیے مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ نیول چیفپاک بحریہ ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول اور امن مشق جیسے اقدامات کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ نیول چیف نیول چیف نے “امن کے لیے متحد” کے مشترکہ عزم کو پورا کرنے کے لیے امن مشق میں ان ممالک کی شرکت کو سراہا

نویں کثیر القومی بحری مشق “امن 2025” کا کراچی میں آغازمشق کا باضابطہ آغاز شریک ممالک کے جھنڈے بیک وقت لہرا کر کیا گیاتقریب میں شریک ممالک کی اعلیٰ عسکری قیادت، مبصرین، سفارت کاروں اور پاکستان کی مسلح افواج کے حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کیکمانڈر پاکستان فلیٹ ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے تقریب سے خطاب کیا

2025*:نویں کثیر القومی بحری مشق “امن 2025” کا کراچی میں آغازمشق کا باضابطہ آغاز شریک ممالک کے جھنڈے بیک وقت لہرا کر کیا گیاتقریب میں شریک ممالک کی اعلیٰ عسکری قیادت، مبصرین، سفارت کاروں اور پاکستان کی مسلح افواج کے حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کیکمانڈر پاکستان فلیٹ ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے تقریب سے خطاب کیاافتتاحی تقریب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا پیغام پڑھ کر سنایا گیاامن مشقوں کے باقاعدہ انعقاد کا خطے میں محفوظ اور سازگار بحری ماحول کے قیام میں اہم کردار ہے۔ نیول چیف پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں کلیدی اسٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ نیول چیفنویں کثیر القومی بحری مشق “امن” 7 سے 11 فروری تک جاری رہے گیامن مشق میں تقریباً 60 ممالک کے بحری اور ہوائی جہاز، اسپیشل آپریشن فورسز اور بڑی تعداد میں مبصرین شرکت کر رہے ہیںامید ہے کہ یہ مشق تمام شریک ممالک کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی۔ کمانڈر پاکستان فلیٹ