اسٹیٹ بینک نے 17 ھزار برانچز کو 27 ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کر دیئے۔ ھمیں امریکہ کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔مشرف دور میں کے پی اور بلوچستان کی حکومت اپوزیشن لیڈر ی اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرھمان کا نیا ڈرامہ۔۔۔کوئٹہ میں قائم بلوچستان یونیورسٹی بند کر دی۔سیکورٹی خدشات سکول کالجز بند۔پٹرول کے ایک لٹر پر 108 روپے کا ٹیکس۔۔۔۔بلوچستان میں انتھای خطرناک صورتحال کالج یونیورسٹیوں کو تالے۔۔عمران خان سے ملاقاتوں کے متعلق جسٹس سرفراز ڈوگر کا آرڈر قانونی نہیں ؟؟ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس عمران خان کے بغیر نتیجہ۔بڑی بیٹھک بڑے فیصلے عمل درآمد کون کروانے گا۔ ۔۔بلوچستان میں انتھای خطرناک صورتحال کالج یونیورسٹیوں کو تالے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کو دہشتگردی کی آماجگاہ قرار دے دیا۔پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو آگ پاکستان میں لگی ہے اردگرد والے مت سمجھیں یہ آگ اُن تک نہیں پہنچے گی۔پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی پتہ لگانا ہو گا اور افغانستان میں دہشتگردی کا معاملہ بھرپور انداز میں سفارتی سطح پر اٹھانا ہو گا جبکہ دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہو گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی دنیا بھی یہ سب معاملات دیکھے جا رہے ہیں اور دنیا خود کو اِس خطے سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی۔

بولان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بعد بلوچستان حکومت نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے لیویز فورس کو صوبائی پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر سول فورسز کو مزید منظم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں چھبیس ہزار اہلکاروں پر مشتمل لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں ضم کرنے کے لیے قانون سازی کے لیے مشاورت شروع کردی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر کیا گیا ہے.۔ بلوچستان میں پولیسنگ کا نظام دو ححصوں میں تقسیم ہے۔ پولیس شہری علاقوں میں کام کرتی ہے جسے اے ایریا جبکہ لیویز دیہی علاقوں میں کام کرتی ہے جسے بی ایریا کہا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اے اور بی ایریاز کی تفریق ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ کوئٹہ کے حالیہ دورہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری حکام نے لیویز فورس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔

پاکستان نے غزہ پر اسرائیل کے مہلک فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں 400 سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ترجمان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیل نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہ جارحیت کی جو اسے مزید قابل مذمت بناتا ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ اسرائیل کا یہ بھیانک عمل جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے غزہ سمیت پورے خطے میں ایک بار پھر عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے زور دیا کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ غزہ اور مشرق وسطیٰ میں فوری اور دیرپا امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کی جائیں۔ترجمان نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں، پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونیوالے رانا احسان سمیت پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی۔تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران رانا احسان نے پیپلز پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی میں شمولیت پر رانا احسان کو خوش آمدید کہا۔ بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی نے ملاقات کی اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو بہتر بنانے سمیت کارکردگی سے آگاہ کیا۔ دریں اثنا چیئرمین پیپلز پارٹی سے محکمہ بلدیات کے وزیر سعیدغنی کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں صوبائی وزیر نے اپنے محکمے کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے اجلاس میں کمیٹی نے سینیٹ کے غلط رولز بتانے پر ڈپٹی سیکرٹری وزارت آئی ٹی کو اجلاس سے نکال دیا، چیئرپرسن کمیٹی نے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، ڈپٹی سیکرٹری آئی ٹی نے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کو سینیٹ کمیٹی رولز سے متعلق گمراہ کردیا، کمیٹی نے سینیٹ کے غلط رولز بتانے پر ڈپٹی سیکرٹری وزارت آئی ٹی کو اجلاس سے نکال دیا۔قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ڈپٹی سیکرٹری وزارت آئی ٹی کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے گی، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ ڈپٹی سیکرٹری کی طرف سے بتائے گئے غلط رولز پڑھ کر چلی گئیں، شزہ فاطمہ کمیٹی سے معافی مانگیں۔سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کو ایک ایک کرکے ان کا مؤقف جانیں گے،

ایل ڈی آئی کمپنیوں کے بقایا جات کے حوالے سے ہمارے پاس 2 آپشن زیر غور ہیں، ایل ڈی آئی کمپنیوں کے 112 کیسز اس وقت عدالتوں میں چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمپنیاں پرنسپل رقم ایک ساتھ جمع کرادیں تو بہتر رہے گا، باقی رقم اقساط میں جمع کروانے کا بھی آپشن ہوسکتا ہے، ہمارے پاس نادہندہ کمپنیوں کے لائسنس کینسل کرنے کا بھی آپشن زیر غور ہے، کمپنیاں گزشتہ بقایہ جات ادا کریں تو پرانے لائسنس کی تجدید ہو گی۔کمیٹی چیئرپرسن نے مزید کہا کہ وزارت آئی ٹی کے حکام آئندہ اجلاس میں آکر ایل ڈی آئی کے معاملے پر وضاحت کریں، وزارت آئی ٹی خط کے ذریعے کیا چاہتی ہے کمیٹی کو وضاحت کرے، سابق سیکرٹری آئی ٹی کیخلاف کیا کارروائی کی گئی ہے، ان کو عہدے سے ہٹانے کے علاوہ کیا کیس نیب یا ایف آئی اے کو بھیجا گیا ہے اس پر وضاحت کی جائے۔

کوئٹہ میں قائم بلوچستان یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کےلیے بند کر دیا گیا، انتظامیہ نے سٹی سمیت تمام کیمپس کا تدریسی عمل آن لائن کردیا ۔کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی اور تمام کیمپس میں تدریسی سرگرمیاں ورچوئل لرننگ پر منتقل کردی گئی ہیں۔سرداربہادرخان ویمن یونیورسٹی میں پہلے ہی طالبا ت کے لیے آن لائن کلاسز کا اجراء کیا جاچکا ہے۔بلوچستان آئی ٹی یونیورسٹی (بیوٹمز) میں تمام کلاسز عید الفطر تک معطل کردی گئی ہیں۔یونیورسٹی اعلامیےکے مطابق آئی ٹی یونیورسٹی کی تمام کلاسز آن لائن ہوں گی، آئی ٹی یونیورسٹی ٹرانسپورٹیشن سروس غیر معینہ مدت تک بند کی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی کے ژوب اور مسلم باغ کیمپس میں تدریسی عمل معمول کے مطابق ہوگا۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹیوں کو سکیورٹی خدشات کی بناء پر بند کیا گیا ہے۔

ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں ،کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں، آرمی چیف۔یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے، آرمی چیف۔۔ہم گورننس کہ گیپس کو کب تک افوج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے، آرمی چیف۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب*ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں ،کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں، آرمی چیف پائدار استکام کے لئے قومی طاقت کہ تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا، آرمی چیف یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے، آرمی چیف ہم کو بہتر گورننس اور مملکت پاکستان کو Hard State بنانے کی ضرورت ہے ہم کب تک ایک Soft State کے طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے، آرمی چیف ہم گورننس کہ گیپس کو کب تک افوج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے، آرمی چیف علماء سے درخواست ہے کے وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں، آرمی چیفاگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں، آرمی چیف پاکستان کے تحفظ کیلئے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہو گا، آرمی چیف جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کر سکتے ہیں آج کا دن ان کو یہ پیغآم دیتاہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف انکو بلکہ انکے تمام سہولتکاروں کو بھی ناکام کریں گے، آرمی چیف ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے جو کچھ بھی ہو جائے انشاء اللہ ہم کامیاب ہونگے، آرمی چیف

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کاشف عبداللہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کی بریفنگ جاری تحریک انصاف کا بائیکاٹ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

تحریک انصاف نے پاک فوج کے جوانوں اور شہدا جعفر ایکسپریس سے اظہار یکجہتی کیلئے آج کی ریلی منسوخ کردی۔تفصیلات کے مطابق ریلی جی پی او چوک سے پنجاب اسمبلی تک نکالی جانی تھی،نائب صدر پی ٹی آئی پنجاب اکمل خان باری نے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ذرائع کا کہناہے کہ مرکزی قیادت نے ریلی نکالنے سے منع کردیا،سینئر قیادت نے اکمل خان باری کو سیاسی سرگرمی سے روک دیا۔——وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک، ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی بی موجود ہیں، ڈی جی ملٹری آپریشنز نے شرکاء کو بریفنگ دی،

پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی جس میں بلوچستان میں عسکریت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت بالخصوص آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں ہے، ہم ملک کو دہشت گردی سے پاک کرکے رہیں گے، دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، اس کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ نے جو حکمت عملی اپنائی ہے، اس پر عمل کرتے ہوئے آخری حد تک جائیں گے۔شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم ایک ہے، ہم ہر صورت اس لعنت کو شکست دیں گے، ملک کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا، سیاسی قیادت قومی سلامتی کے معاملے پر ایک ہے اور ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر متحد ہیں، ہم نے ملک کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، رانا ثناء اللّٰہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، احسن اقبال، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، فیصل واؤڈا، خالد مقبول صدیقی، جام کمال، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان بھی شریک ہیں، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور آئی جی پولیس نے بھی اجلاس مین شرکت کی۔—— عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو مقامی بینکوں سے 12 کھرب 50 ارب روپے قرض لینے کی اجازت دے دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو سرکاری قرضوں میں اضافہ کیے بغیر گردشی قرضے کو کم کرنے میں مدد کے لیے ملکی بینکوں سے 12 کھرب 50 ارب روپے قرضہ لینے کی اجازت دی ہے، یہ فیصلہ حال ہی میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان پالیسی مذاکرات کے اختتام کے بعد سامنے آیا۔بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں اسلام آباد نے اپنے پاور سیکٹر پر 24 کھرب روپے کے گردشی قرضے کا بوجھ کم کرنے کے لیے 6 سالہ روڈ میپ پیش کیا تھا، حکومت کا مقصد بینک قرضوں اور سرچارج سے حاصل آمدنی کو استعمال کرتے ہوئے 15 کھرب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے، اس کے علاوہ خود مختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے ذریعے 463 ارب روپے کی بچت کا بھی امکان ہے۔بتایا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف اورپاکستان کے درمیان پہلے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے، آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق اعلامیہ بھی جاری کیا، اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی مینجمنٹ پر بات چیت ہوئی، 37 ماہ کے پروگرام کے پہلے جائزے پر سٹاف لیول معاہدے کی طرف پیشرفت کی گئی، پاکستان کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کی مینجمنٹ، توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے اور توانائی شعبے کی بہتری، معاشی ترقی کی شرح بڑھانے اور صحت عامہ کی بہتری کیلئے بھی بات چیت ہوئی۔عالمی مالیاتی ادارے کا اعلامیے میں کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ٹیم نے نیتھن پورٹر کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا، آئی ایم ایف جائزہ ٹیم 24 فروری سے 14مارچ تک اسلام آباد اور کراچی میں رہی، توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے اور معاشی ترقی کی شرح بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی، پاکستان کے ساتھ صحت عامہ، تعلیم کے فروغ اور سماجی تحفظ کیلئے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کیا، پاکستان کے ساتھ بات چیت مثبت رہی، پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات کو حتمی شکل دینے کیلئے ورچوئلی بات چیت جاری رکھیں گے۔——-پاکستان کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ بڑھتی ہوئی درآمدات، برآمدات کی سست شرح نمو، اور قرضوں کی ادائیگیوں میں اضافہ سے خاطر خواہ ترسیلات زر سے چلنے والے عارضی کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس کے باوجود بیرونی استحکام کو متاثر کر رہا ہے . ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق کرنٹ اکاﺅنٹ جس نے دسمبر 2024 میں 474 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا، جنوری 2025 میں 420 ملین ڈالر خسارے پر آ گیا جو جون 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے 2025میں 682 ملین ڈالرکے مجموعی سرپلس کے باوجود بڑھتی ہوئی درآمدات اور غیر ملکی ذمہ داریوں نے تجارتی خسارے کو 26 فیصد تک بڑھا دیا.ویلتھ پاک کے ساتھ بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے سینئر ریسرچ اکانومسٹ ڈاکٹر جنید احمد نے بتایا کہ اگرچہ برآمدات میں اضافہ ہوا تھالیکن ان کی رفتار سست رہی جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت اور برآمدی مقامات میں تنوع کی کمی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ درآمدات میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے لیکن تجارتی عدم توازن کو بڑھاتا ہے درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ توانائی اور مشینری سے آتا ہے جو اگرچہ صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے، خسارے کو مزید وسیع کرتا ہے.انہوں نے کہاکہ برآمدی حکمت عملی کے بغیرپاکستان ایک غیر پائیدار تجارتی فرق کو برقرار رکھنے کا خطرہ رکھتا ہے ڈاکٹر جنید نے کہا کہ زر مبادلہ کی شرح جو جنوری 2025 میں 278.64 روپے فی امریکی ڈالر تھی جنوری 2024 میں 280.32 روپے فی امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی دیکھی گئی تھی اگرچہ یہ برآمدی مسابقت کو بڑھا سکتا ہے لیکن اس سے درآمدی سامان کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس سے افراط زر کا دباﺅبڑھتا ہے.انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا تو یہ زرمبادلہ کے ذخائر کو دبا سکتا ہے اور میکرو اکنامک استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے افشا کنسلٹنٹس کے سی ای او ماجد شبیر کا کہنا ہے کہ بنیادی آمدنی کا بڑھتا ہوا خسارہ زیادہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں، سود کی لاگت اور منافع کی واپسی کی عکاسی کرتا ہے جس سے بیرونی کھاتے پر دباﺅپڑتا ہے چونکہ اس کا زیادہ تر حصہ قرض کی خدمت سے پیدا ہوتا ہے

اس لیے یہ قرض لینے کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور بیرونی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے اگرچہ منافع کی واپسی کاروباری منافع کی نشاندہی کرتی ہے، اس کا مطلب کم گھریلو دوبارہ سرمایہ کاری بھی ہے اگر ترسیلات زر کی مضبوط آمد اور برآمدی نمو کو پورا نہ کیا جائے تو یہ رجحان کرنسی کی قدر میں مزید کمی کا باعث بن سکتا ہے.انہوں نے کہاکہ کرنٹ اکاﺅنٹ میں مثبت تبدیلی کے باوجودبڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے ترسیلات زر کے ذریعے حاصل ہونے والا فاضل ایک پائیدار حل نہیں ہے کیونکہ یہ ساختی اقتصادی طاقت کی عکاسی نہیں کرتا مضبوط برآمدی نمو اور درآمدی انحصار کو کنٹرول کیے بغیر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے خطرات مزید گہرے ہو سکتے ہیںجس سے مستقبل میں معاشی عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے.—–ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اوربلوچستان ‘ خیبر پختونخوا میں حالیہ حملوں کے تناظر میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرا اجلاس آج قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہو رہا ہے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی جانب سے بلایا گیاپارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ڈیڑھ بجے شروع ہوگا .قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس میں عسکری حکام کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی تاہم حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان سامنے آیا ہے پی ٹی آئی کے راہنما رﺅف حسن نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ خصوصی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے پیچھے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے پارٹی راہنماﺅں کی ملاقات نہ کروانے کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں چیف وہیپ عامر ڈوگر نے گذشتہ روز خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے 14 افراد کے نام بھجوائے تھے ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اس اجلاس میں عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی ترجمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے اجلاس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اورکسی بھی غیر متعلقہ فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر موثر کر دیا گیا ہے.ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی اہمیت اور ضروریات سے مکمل آگاہ ہیں لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر میڈیا اور تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی گزارش کی جاتی ہے واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی یہ اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا تھا جس میں وفاقی وزرا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی تھی.—وزیر داخلہ محسن نقوی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے غیرحاضر رہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نام قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء کی فہرست میں شامل تھا تاہم وہ غیر حاضر رہے۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی بیرون ملک ہونے کے باعث قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔وزیر داخلہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی اختتامی تقریب میں شرکت کیلئے دبئی گئے تھے۔ تب سے ان کی طبعت ناساز تھی اور وہ دبئی میں ہی قیام پذیر ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی آج شام وطن واپس پہنچیں گے۔—- سی ٹی ڈی نے بنوں اور چارسدہ میں کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔خیبر پختونخوا پولیس کادہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے،مختلف کارروائیوں کےدوران فتنہ الخوارج کے مزید 3دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔ سی ٹی ڈی بنوں کے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں 2دہشت گردوں کو ہلاک کیاگیا۔آئی جی کےپی ذولفقار حمیدکا کہناہے کہ دونوں ہلاک دہشت گرد پولیس کانسٹیبل ارمان خان پر حملے میں ملوث تھے، ہلاک ہونے والوں میں ابراہیم ضرار گروپ کا نائب امیر حکیم اللہ عرف شعیب بھی شامل تھا، سی ٹی ڈی بنوں پولیس نے چند گھنٹوں کے اندر اندر حملے میں ملوث دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کو جہنم واصل کیا۔آئی جی کے پی کا کہناہے کہ چارسدہ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی میں انتہائی مطلوب دہشت گرد جاوید خان کو ہلاک کردیا گیا، ہلاک دہشت گرد سے ہینڈ گرنیڈ اور پستول سمیت پرائما کارڈ اور سیفٹی فیوز برآمد کیے گئے، ہلاک دہشت گرد پولیس کوقتل ، اقدام قتل و ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھا، ہلاک دہشت گردعلاقے میں دہشت گردانہ کارروائی کی غرض سے موجود تھا۔ذولفقار حمید نے مزید کہاکہ کارروائیوں میں حصہ لینے والے جوانوں کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا گیا ہے،پولیس کے جوانوں نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔خیبر پختونخوا پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کامیابیاں مستعدی اور پروایکٹیو پولیسنگ کی زندہ مثال ہے۔—- انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر سپرا نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اس وقت تمام محکمےدیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی ایم پی اےعلی شاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جس دوران کیس پراسیکیوٹر سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت جج طاہر سپرا نے سوال کیا آج بھی پولیس نے ریکارڈ پیش نہیں کرنا اور ایسا ہی ہونا ہے؟ اس پر پراسیکیوٹر نے کہا تفتیشی افسر منڈی بہاوالدین میں ہے، واپس نہیں آیا، عدالت کو ایکشن لینا چاہیے، عدالت کے پاس بہت پاور ہے اس کے باوجود پولیس رکارڈ پیش نہیں کررہی۔ جج طاہر سپرا نے کہا مجھےآج تک سمجھ نہیں آئی کہ پراسیکیوشن کی ذمہ داری کیا ہے؟ مقدمہ کاچالان عدالت میں پیش کرنا آپ کاکام ہے، پراسیکیوٹر نے جواب دیا جب تک چالان ہمارے پاس نہیں آتا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ جج اے ٹی سی نے سوال کیا تفتیشی افسر اگر عدالت نہیں آتا تو کس کی ذمہ داری ہے؟ اسلام آبادکے پراسیکیوٹر بہت ضدی ہیں، سمجھتےہیں

کہ وہ ججز کےبرابر ہیں، اگر میں پولیس کو نوٹس کرسکتا ہوں تو کیا آپ کو نوٹس نہیں کر سکتا۔ جج طاہر عباس نے کہا ہم سب ایک غیرمعمولی صورتحال سےگزررہے ہیں، اس وقت تمام محکمے دیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں،کل صبح تک دیکھ لیتے ہیں ریکارڈ آجائے گا۔عدالت نے کہا کہ آپ کو تنخواہ اس لیےملتی ہےکہ آپ معاشرےمیں انصاف کویقینی بنائیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات کے خلاف ملکی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اِن کیمرہ اجلاس جاری ہے۔اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں، انہوں نے قومی سلامتی کے شرکاء کا خیر مقدم کیا۔اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، تلاوت کلام پاک کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا اپوزیشن کا رویہ پارلیمانی روایات کے منافی ہے، انہوں نے آج بھی قوم کو مایوس کیا، انتہائی اہمیت کےحامل اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور ان کی جماعت کو شرکت کرنا چاہیے تھی۔آرمی چیف، ڈی جی ISI بھی شریک ہوئےاجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک، ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی بی موجود ہیں۔اجلاس میں بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد، مولانا فضل الرحمٰن، ایم کیو ایم اراکین، وزیرِاعلیٰ خیبر پختون خوا سمیت چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی گورنرز، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان بھی شریک ہیں۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس نے بھی شرکت کی ہے۔علی امین گنڈاپور کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہوفاقی کابینہ کے 38 اراکین قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔پیپلز پارٹی کے 16 اراکینِ پارلیمنٹ بلاول بھٹو کی سربراہی میں اجلاس میں موجود ہیں۔مسلم لیگ ق کے 2 اراکینِ پارلیمنٹ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے عبدالعلیم خان، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد اور مسلم لیگ ضیاء کے اعجازالحق بھی اجلاس میں شریک ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔پی ٹی آئی کا کوئی رکنِ پارلیمنٹ، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل اجلاس میں شریک نہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی بشیر خان ایوان میں پہنچے اور کچھ دیر رکنے کے بعد واپس چلے گئے۔دہشت گردی ملک کیلئے ناسور بن گئی: وزیرِ اعظموزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن گئی ہے، اس ناسور کا دیرپا اور پائیدار حل نکالنا ہے، ملک کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیاں قابلِ ستائش اور قابلِ فخر ہیں، شہداء کی قربانیاں فراموش نہیں کر سکتے، ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں

۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی پاکستان کی سر زمین پر کوئی جگہ نہیں، شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔اُنہوں نے قومی نوعیت کے اہم اجلاس میں حزبِ اختلاف کی عدم شرکت کو افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل قرار دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ حزب اختلاف کی عدم شرکت قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو متحدہ ہو کر آگے بڑھنا ہے۔آرمی چیف اور ڈی جی ایم او کی بریفنگاجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پارلیمانی کمیٹی کو بریف کیا۔ڈی جی ایم او نے بھی پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی سے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، بلوچستان میں عسکریت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق شرکاء کو اسکرین اور سلائیڈز کی مدد سے اہم شواہد کے ساتھ صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا۔اپوزیشن کو کم از کم آج قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا: وزیرِ دفاع خواجہ آصفوزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو کم ازکم آج کےاجلاس میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔اُنہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنے ریاستی اداروں کے مشکل کی اس گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ عوام ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے، ہمارے اداروں نے پہلے بھی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ اب بھی کامیابی یقینی ہے۔غیر معمولی حفاظتی اقداماتقومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور اطراف میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت پر اسنائپرز تعینات ہیں

بحریہ ٹاؤن کی متعدد جائیدادیں سیل، شہریوں کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی نیب نے بحریہ ٹاؤن کے کراچی، لاہور، نیو مری، تخت پڑی اور اسلام آباد میں موجود متعدد عمارتوں کو سیل کر دیا۔اسٹیبلشمنٹ صرف سرحدوں کے دفاع تک رھے گی اپوزیشن اور حکومت امنے سامنے۔۔کیا حکومت کے لئے 23 مارچ کوئیک مارچ ثابت ھو گا۔۔آج سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس نھی ھونگے۔۔‏پانچواں عالم دین مولانا یار محمد محسود کراچی میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں شہید۔فیض حمید کے تمام ساتھی رھا 2 برگئڈیر 5 کرنل اور 6 میجر شامل فیض حمید چکلالہ میس میں فیملی کے ساتھ تفصیلات کے لیے۔پاکستان میں مھنگای دنیا میں مھنگا ترین ملک۔ارمی چیف کے خلاف جعلی پروپیگنڈا کرنے والے 21 افراد کونسے۔پاکستان کے 10 کرکٹرز کی جائدادیں ضبط کرنے کا فیصلہ۔10 کرکٹر کے سھولت کاروں کو بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ۔۔پاکستان کے لیے عمرہ ویزہ بند پیپلز پارٹی ن لیگ کی اتحادی جماعت ضرورہے لیکن خاموش تماشائی نہیں، گورنر پنجاب۔ہر جنگ جیتنے کیلئے نہیں لڑی جاتی ، بلکہ بعض جنگیں محض یہ بتانے کیلئے لڑی جاتی ہے کہ میں کھڑا ہوں ، جھکا نہیں۔تخت پڑی جنگل پر قبضہ ملک ریاض اور چوھدری پرویز الھی نیب کے شکنجے میں تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری گولف سٹی اور اسلام آباد میں کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل جائیدادوں کو سر بمہر کر دیا۔نیب نے ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف فراڈ کے زیر تفتیش مقدمات میں ایکشن لیا ہے، بحریہ ٹاؤن کے سیکڑوں اکاؤنٹس منجمد کرتے ہوئے درجنوں گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ مخصوص عناصر ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں رقوم منتقل کر رہے ہیں، ملک ریاض کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔نیب کے اعلامیہ کے مطابق اتھارٹی نے بطور قومی احتساب ادارہ اپنے مینڈیٹ میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو آگاہ کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض احمد اور دیگر کے خلاف دھوکا دہی کے متعدد مقدمات اس وقت زیر تفتیش ہیں۔

مزید برآں نیب نے ان ملزمان کے خلاف اسلام آباد اور کراچی کی احتساب عدالتوں میں متعدد ریفرنسز دائر کیے ہیں اور ان عدالتوں نے تمام ملزمان کو طلب کیا ہے۔ان مقدمات میں ملک ریاض احمد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں بحریہ ٹاؤن کے نام پر نہ صرف سرکاری بلکہ نجی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے، بغیر اجازت ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کرنے اور عوام سے اربوں روپے کا فراڈ کرنے کے الزامات اور ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔——اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے کل ہونے والے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین کا اپوزیشن لابی میں اجلاس ہوا جس میں اہم ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کے حوالہ سے غور کیا گیا۔زرائع نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کی اکثریت نے اجلاس میں شرکت پر زور دیا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اجلاس میں شرکت کی بھرپور حمایت کی جب کہ پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کا کہنا تھا بانی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے۔بعد ازاں تحریک انصاف نے 14 ارکان کی شمولیت کی فہرست دے دی جس کے مطابق عمر ایوب، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا کل قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ان کے علاوہ عامر ڈوگر، محمد بشیر خان، ثنا اللہ مستی خیل، علی محمد خان اور زبیر خان بھی شرکت کریں گے، شبلی فراز، علی ظفر، ہمایوں مہمند اور عون عباس شریک ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کو کل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سیکرٹریٹ ملازمین کو کل چھٹی دے دی گئی، کمیٹی اراکین کے علاوہ تمام اراکین پارلیمنٹ کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی، کمیٹی اراکین کو خصوصی دعوت نامے پر پارلیمنٹ میں داخلہ دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق میڈیا کوریج پر بھی کل پابندی عائد کر دی گئی، میڈیا نمائندوں کو بھی کل پارلیمان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ قومی سلامتی کی صورت حال پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، جس میں عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا 18 مارچ بروز منگل دن 11 بجے ہوگا۔ ماہ رمضان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا وقت دن گیارہ کیا گیا ہے۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اِن کیمرہ منعقد ہو گا، جس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہو گا۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔ علاوہ ازیں متعلقہ اراکین کابینہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی ایڈوائس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کو ڈیڑھ بجے طلب کیا تھا،

جس کا وقت بدل کر اب گیارہ بجے مقرر کردیا گیا ہے۔—–راولپنڈی کی احتساب عدالت نے تخت پڑی ریفرنس میں عدم حاضری پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی احمد ملک کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ملک ریاض، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سمیت 17ملزمان کے خلاف تخت پڑی ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت راولپنڈی کے جج محمد اکمل خان نے کی۔ ریفرنس میں نامزد 10 ملزمان کے علاوہ 4 کے وکلا عدالت پیش ہوئے۔سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے وکیل کی جانب سے عدالت میں میڈیکل سرٹیفکیٹ داخل کروا دیا، عدالت نے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر چوہدری پرویز الہیٰ کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔عدالت نے تمام ملزمان کو 5 لاکھ فی کس مالیت کے مچلکے داخل کرانے کا حکم دے دیا جبکہ عدم حاضری پر ملک ریاض اور علی احمد ملک کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پر گرفتار کرکے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا اور ریفرنس پر مزید سماعت 16 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ ریفرنس میں مجموعی طور 17 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ملزمان پر موضع تخت پڑی اور اطراف میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے، ملزمان پر سرکاری خزانے کو 335ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے۔-

—-وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن نہ بڑھانے کے اعلان سے متعلق وزارت خزانہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔وزارت خزانہ نے سینیٹر محمد اورنگزیب کے حوالے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی کسی تجویز کے فی الوقت زیر غور نہ ہونے کے مبینہ اعلان کی وضاحت جاری کردی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی بیان دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے سینیٹر محمد اورنگزیب سے منسوب نشر کی جانے والے خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ کے خطاب میں سرکاری ملازمین کے پے اسکیلز پر نظر ثانی یا ان کی تنخواہوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔وزارت خزانہ نے تحریری طور پر ایک معزز رکن قومی اسمبلی کی جانب سے سوال اٹھائے جانے پر معزز ایوان کو صورت حال سے آگاہ کیا۔وزارت خزانہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ فی الوقت اگلے مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کے ملازمین کے پے اسکیلز پر نظرثانی اور ان کی تنخواہوں اور الاونسز میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔واضح رہے کہ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروایا تھا۔جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔وزیر خزانہ نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ملازمین کے الاونسز اور پے اسکیل پر نظرثانی کی تجویز بھی نہیں ہے جبکہ وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔——–وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت کے شعبے کو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کی ترقی کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت غذائی تحفظ و تحقیق پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام حتمی مراحل میں ہے، اجلاس کو زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی کے لیے تمام سہولیات مہیا کرے گی جب کہ نوجوانوں کی تربیت اور آسان زرعی قرضوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کئے جائیں۔وزیراعظم نے غیر معیاری زرعی بیج کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف جلد از جلد سخت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔شہباز شریف نے پاسکو کو ختم کرنے کے حوالے سے تمام ضروری امور جلد نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی اے آر سی میں تحقیقاتی کام کو جلد فعال کیا جائے۔وزیراعظم نے پاکستان میں خوردنی تیل کی پیداوار کے حوالے سے اقدامات تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں، نجی شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پورے ملک میں فارم میکانائزیشن کو فروغ دیا جائے۔—–سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات نے سیکریٹری آئی ٹی، ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا ہے، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اعلی حکام کمیٹی کو لے کر سنجیدہ نہیں، حکام کی غیر سنجیدگی کے خلاف ایکشن لیں گے۔سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور یو ایس ایف فنڈز سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث آیا۔اجلاس میں سیکریٹری آئی ٹی، ایڈیشنل سیکریٹری کی عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور ایڈیشنل سیکریٹری اجلاس میں کیوں نہیں آئے؟ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اعلی حکام کمیٹی کو لے کر سنجیدہ نہیں۔مزید کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے حکام کے خلاف خط لکھیں گے، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام حکام کی غیر سنجیدگی کے خلاف ایکشن لیں گے، اگلی بار اجلاس میں شرکت نہ کی تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔وزارت آئی ٹی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام آزربائیجان کے دورے پر ہیں، ایڈیشنل سیکریٹری وزیراعظم ہاؤس میں میٹنگ میں مصروف ہیں۔اجلاس میں ایف جی ای ایچ اے اسلام آباد کے پارک روڈ کی جعلی بینک گارنٹی کے معاملہ پر انکوائری رپورٹ پر بحث ہوئی، انکوائری رپورٹ کابینہ ڈویژن اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے کمیٹی کے سامنے پیش کی،جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بینک گارنٹی جاری کرنا کنٹریکٹر کا کام نہیں تھا، ڈائریکٹر فنانس نے بغیر بینک گارنٹی چیک کیے رقم جاری کی۔چیئرمین کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ڈائریکٹر فنانس نے ملی بھگت سے جعلی بینک گرانٹی جاری کی، تاہم ڈائریکٹر فنانس نے اس جعلی بینک گارنٹی پر کنٹریکٹر کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا، ڈائریکٹر فنانس نے کنٹریکٹر سے 22 کروڑ روپے بطور رشوت مانگی۔ڈائریکٹر فنانس نے کنٹریکٹر سے کہا اگر رقم نہ دی تو آپ کی کمپنی بلیک لسٹ کروا دوں گا، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس حکام نے کہا کہ ڈائریکٹر فنانس کا تبادلہ کردیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت ہاوسنگ اور کابینہ ڈویژن کی انکوائری میں ڈائریکٹر فنانس کا نام ہی نہیں ہے۔وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس حکام نے کہا کہ جب گراونڈ پر کام ہی نہیں ہوا تو رقم جاری کیسے کی گئی، جہاں کنٹریکٹ دیا گیا وہاں پر زمین ہی نہیں تھی، کابینہ ڈویژن حکام نے بتایا کہ ایف جی ایچ اے پارک روڈ منصوبے کے تمام بلز جعلی ہیں، تین ارب روپے کی ادائیگی ہوئی لیکن کوئی کام نہیں ہوا، سب نے مل کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ڈویژن حکام کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ کہتے ہیں منصوبے کے لیے زمین نہیں تھی اس لیے کام نہیں ہوا، سینیٹر حامد خان نے کہا کہ منصوبے میں وکلا کے پیسے لگے یہ عوام کا پیسہ ہے، وکیلوں کو سال ہا سال سے کوئی پلاٹ نہیں مل رہا ہے۔کابینہ ڈویژن حکام نے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہے،ایف جی ای ایچ اے نے کئی کئی سالوں سے لوگوں سے پیسے لیے ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم نے متوسط طبقے کے مہاجروں کو حقوق دلانے کا نعرہ لگانے والے مہاجر رہنما جن کے پاس پہنے کو چپل اور کپڑے اور رہنے کو ڈھنگ کے مکان نہیں تھے آج وہ ارب پتی بن چکے ہیں تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*مڈل کلاس کی MQM کے 35 ارب پتی خاندان* 💸ایم کیو ایم نے متوسط طبقے کے مہاجروں کو حقوق دلانے کا نعرہ لگانے والے مہاجر رہنما جن کے پاس پہنے کو چپل اور کپڑے اور رہنے کو ڈھنگ کے مکان نہیں تھے آج وہ ارب پتی بن چکے ہیں، یہ سب ڈیفنس اور کلفٹن کے محلّات میں رہتے ہیں اور امریکا ، دبئی، برطانیہ ، کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ اور دیگر مغربی ممالک کی سٹیزن شپ ہیں ، مڈل کلاس کا نعرہ لگانے والے ایم کیو ایم کے 35 ارب پتی خاندان۔۔۔1. عامر خان2. خالد مقبول3. وسیم اختر4. بابر غوری5. عشرت العباد 6. فیصل سبزواری7. خواجہ اظہار الحسن8. روف صدیقی9. فاروق ستار10. عادل صدیقی11. شمیم صدیقی12. وسیم آفتاب13. فیروز بنگالی14. ڈاکٹر صغیر احمد15. حیدر عباس رضوی16. کنور نوید جمیل17. جاوید حنیف18. عامر چشتی19. امین الحق20. صادق افتخار21. طیب حسین22. سہیل مشہدی23. نیّر رضا24. معید انور25. اُسامہ قادری26.واسع جلیل27.ندیم نصرت28.انیس قائم خانی29.مصطفیٰ کمال30.رضا ہارون 31.محمد حسین32.کامران ٹیسوری33.نیک محمد34.شبیر قائم خانی35.کاشف انجینئرپھر بھی یے بھائ حضرات دن رات (روتے) جستجو میں رھتے ھین کے ھمین اپنے حقوق نھیں مل رھے ھین بڑ ا المیہ یے ھے کے ان خاندانو نے صرف سندھ صوبے سے اتنا مال کمایا ھے پاکستان کے اور کسی صوبے سے کجھ نھیں کمایا ھے پھر بھی سندھ صوبے کے لوگون سے اتنی نفرت حد ھے منافقت کی …… ؟ ؟

نواز شریف کو بھی نوکری مل گئ۔افغان پر وفاق کی پالیسی غلط ہے۔ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کی تعداد ایک سو بیس سے زائد۔افواج پاکستان کی شھادتوں میں اضافہ سوگ کی فضا ھر طرف خاموشی۔عسکری قیادت پارلیمان کو ان کیمرہ بریفنگ دے گی۔افغان غیر قانونی کارڈ ھولڈر کے انخلا میں 17 روز باقی۔پاور شیڈنگ فارمولا یا اقتدار کی بندر بانٹ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پی ایس ایل کی نئی ٹیموں سے خزانہ بھرنے کا خواہشمند ہے،ایک ٹیم 2 سے ڈھائی ارب روپے سالانہ میں فروخت کرنے کی امیدیں لگا لی گئیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے بعد فرنچائز سمیت دیگر کئی معاہدوں میں توسیع یا تبدیلی کی جائے گی، 10 سالہ معاہدے کے دوران ٹیمیں 6 ہی رہنا ہیں تاہم 2026 کے 11 ویں سیزن سے 2 نئی فرنچائز شامل ہوں گی جبکہ موجودہ ٹیموں کے ساتھ کنٹریکٹس پر بھی نظرثانی ہوگی۔جس کے تحت فیس میں اضافہ کیا جائے گا،

انھیں اختیار حاصل ہے کہ فرنچائز برقرار رکھیں یا اگر معاہدوں میں توسیع نہ چاہیں تو انکار کردیں، البتہ کسی نے بھی انکار نہ کیا اور فیصلے سے بورڈ کو آگاہ بھی کردیا ہے، اب ایونٹ اور فرنچائزز کی ایویلویشن کے بعد نئی فیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس حوالے سے اچھی ساکھ کی حامل کسی آڈٹ کمپنی کی خدمات لی جائیں گی، پی سی بی نے ڈالر کا ریٹ 170 روپے طے کیا ہوا تھا، اسی کے لحاظ سے فیس لی جاتی ہے، اب ڈالر 282 تک پہنچ چکا، سب سے مہنگی ٹیم ملتان سلطانز کی فیس سالانہ ایک ارب 8 کروڑ روپے (6.3 ملین ڈالر) ہے۔فرنچائز مسلسل گھاٹے کا شکار اور دیگر اخراجات کے بعد یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، اگلے دورانیے میں ٹیم کی مالیت 25 فیصد مزید بڑھ کر تقریبا ڈیڑھ ارب تک پہنچ سکتی ہے،

کراچی کنگز 2.6 ملین ڈالر، لاہور قلندرز 2.5 ملین، پشاور زلمی 1.6 ، اسلام آباد یونائٹیڈ 1.5 اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 1.1 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔تاہم نئی ٹیموں کیلئے بورڈ کو امید ہے کہ 7 سے 10 ملین ڈالر میں ایک فرنچائز بک جائے گی۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 2 سے ڈھائی ارب روپے تک بنتی ہے، پاکستان کرکٹ کی ایک اہم اسٹیک ہولڈر کمپنی کسی پارٹنر کے ساتھ ٹیم خریدنا چاہتی ہے، گریڈ ٹو کرکٹ میں شامل ایک ادارے کی بھی ایسی ہی خواہش ہے۔گزشتہ دنوں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور لیگ کے سی ای او سلمان نصیر نے امریکا میں بعض شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں، ان میں سے 2 نے ٹیم لینے میں دلچسپی دکھائی ہے۔برطانیہ میں مقیم بعض پاکستانی بھی دوڑ میں شامل ہونا چاہتے ہیں، البتہ کون کتنا سنجیدہ ہے اس کا علم وقت قریب آنے پر ہی ہوگا، موجودہ ریونیو ماڈل کے تحت تمام فرنچائزز کو سینٹرل پول سے یکساں حصہ ملتا ہے

چاہے ان کی فیس کچھ بھی ہو، موجودہ ٹیموں کو خدشہ ہے کہ نئی فرنچائزز کے آنے سے ان کا حصہ کم ہو جائے گا۔البتہ بورڈ ذرائع کہتے ہیں کہ اس سیزن کے بعد ٹائٹل اسپانسر شپ اور براڈ کاسٹ سمیت تمام اہم معاہدوں پر بھی نظرثانی ہوگی جس سے سینٹرل پول ویسے ہی بڑھ جائے گا۔دوسری جانب بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب ایک ارب 8 کروڑ کی فیس میں ملتان سلطانز کو سالانہ بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو 2 سے ڈھائی ارب روپے میں اگر کسی نے ٹیم خریدی تو وہ کیسے منافع کمائے گا؟کہیں ماضی میں جس طرح شون گروپ نے ملتان سلطانز کو چھوڑ دیا تھا کہیں نئی ٹیم کا اونر بھی ایسا نہ کرے، اس لیے پی سی بی کو مالی طور پر انتہائی مستحکم کسی بڑی پارٹی سے ہی ڈیل کرنا چاہیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں پاور شیئرنگ کے بدلے پیپلز پارٹی سے سندھ میں حصہ مانگ لیا۔پیپلز پارٹی نے پنجاب میں لیگی ارکان کے برابر ترقیاتی فنڈز دینے کا مطالبہ دہرا دیا۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملے پر کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کے گزشتہ روز ہوئے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مختلف محکموں کی چیئرمین شپ نہ ملنے اور افسران کی تعیناتی کا وعدہ پورا نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ذرائع کے مطابق پی پی نے پنجاب میں 20 ہزار سے زائد ووٹ لینے والے اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی فنڈز دینے کا بھی مطالبہ کیا۔پیپلز پارٹی نے پنجاب میں نئے لوکل ایکٹ بل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا، پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملات دیکھنے کےلیے سب کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے وفد میں شامل رہنماؤں نے گلہ کیا کہ پیپلز پارٹی تنقید بھی کرتی ہے اور فنڈز بھی برابر کے مانگتی ہے۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو پیشکش کی کہ کابینہ میں شامل ہونے کی صورت میں ان کی محرومیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملات دیکھنے کےلیے سب کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جس میں ن لیگ کی جانب سے ملک محمد احمد خان اور مریم اورنگزیب جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے علی حیدر گیلانی اور حسن مرتضیٰ شامل ہوں گے۔

آئندہ سال سے 8ویں جماعت کا بورڈ کا امتحان لیا جائے گاامتحانات دوسرے سکولوں میں ہوں گےنگران عملہ بھی باہر سے لگایا جائے گامحکمہ تعلیم کے مطابق بچوں کی اسیسمنٹ بہتر طریقہ سے ہوسکے گی

پنجاب حکومت نے لاہور کے تاریخی مقامات سے تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کرلیا، صوبائی دارالحکومت کے تاریخی ورثے کی بحالی کیلئے لاہور اتھارٹی فار ہیری ٹیج ریوائیول قائم کردی گئی، نواز شریف پیٹرن انچیف ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر میاں نوازشریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پنجاب حکومت نے تاریخی ورثے کی بحالی اور اسے محفوظ کرنے کیلئے لاہور اتھارٹی فار ہیری ٹیج ریوائیول ( لہر ) قائم کر دی، اجلاس میں لاہور کے تاریخی مقامات سے تجاوزات کی نشاندہی اور ہٹانے کا فیصلہ ہوا۔

بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران لاہور میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ کے لئے شہر کے 5 مقامات کی نشاندہی کرلی گئی، نیلا گنبد کی اصل صورت بحال کرنے کے لئے تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا، شاہی قلعہ،مقبرہ جہانگیر و نور جہاں، شالا مار باغ، کامران کی بارہ دری اور دیگر مقامات کو بھی بحال کرنے پر اتفاق جبکہ شاہ عالم مارکیٹ تا بھاٹی تک پیدل گزرگاہ بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سرکلر روڈ اور تاریخی دروازوں کے اطراف میں تجاوزات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بھاٹی گیٹ اور دیگر دروازوں کا منظر نامہ واضح کرنے کیلئے رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت کی جبکہ نواز شریف نے تجاوزات کے متاثرین کو کاروبار کیلئے متبادل جگہ دینے اور معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے کہا کہ ’پرانا لاہور بہت خوبصورت ہے، اصل حالت میں بحال کیا جانا ضروری ہے،

شہروں کی اصل اور قدیم صورتحال میں بگاڑ پیدا کرنا مناسب طرز عمل نہیں، قومی ورثے کو تباہ کرنا پسماندگی کے مترادف ہے‘، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ’جگہ جگہ تجاوزات سے شہروں کو بگاڑنے کی اجازت نہیں دیں گے، لاہور کے تاریخی دروازوں کو قدیمی شکل میں بحال کیا جائے گا‘۔