پاکستان نے اںڈر 16 والی بال مین لگاتار جیتبرطانوی کھلاڑیوں کا بڑے پن کا مظاہرہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم ڈھاکہ میں اھم ترین سیریز “مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔” 7ریاستوں کے مجموعے کو عرب امارات کھتے ھے۔مرزا فاران بیگ ڈی جی نیب پنجاب تعینات۔۔ طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے 380 افراد جان بحق 2490 جانور ھلاک۔290 ارب روپے کا نقصان مونجی کی فصل کو جزوی نقصان جب کہ 79 گاڑیاں بھہ گئی۔وزیراعظم 4 وفاقی وزراء 10 بیورو کریسی کے اھم افسران اور 57 دن کے بعد ریٹائر ھونے والے انجینئرنگ کور کے لیفٹیننٹ جنرل 4 کروڑ 90 لاکھ 70 ھزار کی ٹائئوں کوٹ پینٹوں میں بریفنگ لیتے رھے بادبان ٹی وی رپورٹ سھیل رانا

اے کے ڈی ( عقیل کریم ڈھیڈی) گروپ کی پی سی ہوٹلز میں 6 ارب 36 کروڑ کی سرمایہ کاری، 28 فیصد شیئرز خرید لیےبزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ جو پہلے عقیل کریم ڈھیڈی سیکیورٹیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نام سے جانی جاتی تھی نے پاکستان سروسز لمیٹڈ (پی ایس ایل) —

جو پرل کانٹینینٹل ہوٹلز چین کی مالک اور منتظم ہے — میں 27.95 فیصد حصص 6.36 ارب روپے میں حاصل کر لیے ہیں۔یہ پیش رفت پی ایس ایل نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے ایک نوٹس کے ذریعے ظاہر کی۔نوٹس کے مطابق کمپنی کو 15 جولائی 2025 کو اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز کی جانب سے ایک خط موصول ہوا

جس میں انہوں نے سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے سیکش 110 اور لسٹڈ کمپنیز (ووٹنگ شیئرز کے خاطر خواہ حصول اور ٹیک اوورز) ریگولیشنز 2017 کے ریگولیشن 4(2) کے تحت 27.95 فیصد ووٹنگ شیئرز کے حصول سے متعلق باضابطہ انکشاف کیا۔اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز نے اپنی ذیلی کمپنی اے کے ڈی سیکیورٹیز لمیٹڈ کے ساتھ مل کر 14 جولائی 2025 کو پاکستان سروسز لمیٹڈ کے 90,89,651 ووٹنگ شیئرز فی شیئر 700 روپے کی شرح سے حاصل کیے، جن کی مجموعی مالیت 6.36 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔نوٹس کے مطابق اس لین دین کے بعد اے کے ڈی گروپ

ہولڈنگز کی پی ایس ایل میں مجموعی شیئر ہولڈن 90,89,651 شیئرز ہوگئی ہے جو کمپنی کے کل جاری کردہ ووٹنگ شیئرز کا 27.95 فیصد ہے۔پاکستان سروسز لمیٹڈ بنیادی طور پر ہوٹل انڈسٹری میں سرگرم ہے اور پرل کانٹینینٹل ہوٹلز کی چین کی ملکیت و انتظام سنبھالتی ہے

لاہور ہائیکورٹ بار کے بعض عہدیدار ججوں پر دباؤ ڈالنے کیلئے عدالتی راہداریوں میں پوسٹر لگانے کے زمہ دار ہیں ،بعض وکلا بلاسفیمی مقدمات کے بینفیشری ہیں ،ڈھائی درجن لوگوں کے بلاسفیمی گینگ کے تحفظ کیلئے مجوزہ کمیشن کے خلاف قرارداد منظور کرنا کارپوریٹ مفادات کا تقاضا ہے ۔

کمیشن کے خلاف علم بلند کرنے والے ان بے گناہوں کے بھی ملزم ہیں جنہیں ٹریپ کر کے بلاسفیمی کا ملزم بنایا گیا ۔

کچھ سیاسی نابالغ جنرل فیض کے تیار کردہ مصنوعی سیاستدان اور انکے کارکنان اکثر یہ الزام لگاتے ھیں کہ ایمل ولی خان ایک سیٹ پر سینٹر کیسے بنا ؟ ھم بتاتے ھے کہ وہ سینٹر کیسے بنے ۔ بلوچستان میں ANP کے 3 MPA’s ھیں ۔ پختونخوا میں 1 MPA ھے ۔ سینٹ میں 3 Senators ھیں ۔ صداراتی انتخاب میں ANP نے PPP کے امیدوار اصف زرداری کو 3 ووٹ بلوچستان سے 1 ووٹ پختونخوا سے اور 2 ووٹ سینٹ سے کل 6 ووٹ دیئے ۔ بلوچستان سینٹ الیکشن میں ANP کے تینوں MPA’s نے PPP کے امیدواران ٹینکوکریٹ ، خاتون ، اقلیت کو تین تین ووٹ دیکر کل 9 ووٹ دیئے ۔ سینٹ چیرمین شیپ میں ANP کے 3 سینٹرز نے PPP کے یوسف رضا گیلانی کو 3 ووٹ دیئے ۔

پختونخوا میں جب بھی سینٹ انتخابات ھونگے ANP کا 1 ممبر PPP کے 4 امیدواران جنرل ، ٹنکوکریٹ ، اقلیت اور خاتون کو کل 4 ووٹ دینگے ۔ اب زرا حساب کیجئے کہ ANP نے PPP کو کتنے ووٹ دئیے ھیں یا دینگے ۔ 1. صداراتی انتخابات زردای ۔ 6 ووٹ2. بلوچستان سینٹ انتخابات۔ 9 ووٹ3. پختونخوا سینٹ ۔ 4 ووٹ 4. سینٹ چیرمین شپ ۔ یوسف رضا گیلانی۔ 3 ووٹ یہ کل 23 ووٹ بنتے ھیں جو ANP نے PPP کو دیئے ھیں ۔ اور 23 ووٹ کے بدلے PPP نے ANP کو ایک جنرل سیٹ پر ایمل ولی خان کو سینٹر بنایا ھے ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ھیں جو سیاست اور انتخابات کے طریقہ کار سے نا خبر ھیں ۔

🗣️ حاشم آملہ:یونس خان صرف رنز مشین نہیں، کردار کا پہاڑ تھا!”پاکستان کو آج بھی یونس خان جیسا کھلاڑی درکار ہے!”🇵🇰💯🔥

طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے 380 افراد جان بحق 2490 جانور ھلاک۔ 290 ارب روپے کا نقصان مونجی کی فصل کو جزوی نقصان جب کہ 79 گاڑیاں بھہ گئی۔وزیراعظم 4 وفاقی وزراء 10 بیورو کریسی کے اھم افسران اور 57 دن کے بعد ریٹائر ھونے والے انجینئرنگ کور کے لیفٹیننٹ جنرل 4 کروڑ 90 لاکھ 70 ھزار کی ٹائئوں کوٹ پینٹوں میں بریفنگ لیتے رھے بادبان ٹی وی رپورٹ سھیل رانا

بادبان نیوزا–وزیراعظم ۔۔۔دورہ این ڈی ایم اے 200 جانوں کا نقصان 2 کروڑ عوام کے لئے مشکلات وزیراعظم شہباز شریف کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشنز سینٹر اسلام آباد کا دورہ ، آئندہ سالوں میں مون سون اور کلاؤڈ برسٹ سے پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کی ہدایتاسلام آباد۔17جولائی (ای پی ای پوسٹ انٹرنیشنل بادبانٹیوی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آئندہ سالوں میں مون سون اور کلاؤڈ برسٹ سے پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، این ڈی ایم اے صوبوں کے ساتھ مل کر اس سلسلہ میں مربوط منصوبہ بندی کرے، وزارت منصوبہ بندی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی اس سلسلہ میں تعاون فراہم کریں، موجودہ مون سون کے دوران صوبے تیاری کے ساتھ صورتحال سے نمٹ رہے ہیں جس سے جانی نقصان کم ہوا ہے تاہم جو جانی نقصان ہوا اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ جمعرات کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشنز سینٹر اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران این ڈی ایم اے کا میرا یہ دوسرا دورہ ہے، این ڈی ایم اے میں جدید ٹیکنالوجی اور قابل انسانی وسائل دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کلاؤڈ برسٹ ہوئے جس سے غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، چکوال، لاہور، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں شدید بارشیں ہوئیں، اﷲ کا شکر ہے کہ جنوبی پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں بارشوں کا زور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی پی ڈی ایم ایز کے ساتھ کوآرڈینیشن خوش آئند ہے، پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں اور دیگر صوبائی حکومتوں نے مون سون کی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اچھے انتظامات کئے جس کے نتیجہ میں نقصانات کم ہوئے تاہم جو جانی نقصان ہوا، ان کیلئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور زخمیوں کی جلد صحت کیلئے دعاگو ہیں۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومتوں کے مربوط اقدامات کی تعریف کی، متاثرین کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے این ای او سی کے سنٹر آف ایکسی لینس کی منظوری دی اور چینی حکام کے ساتھ بی آر آئی سہولت پر مزید تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ انسانی وسائل کی ترقی ، انفراسٹرکچر آڈٹ کے ذریعے مضبوط ڈھانچے یقینی بنائیں اور دریائے سوات میں سیاحوں کے حادثہ کی تحقیقات کیلئے ایک تکنیکی ٹیم بھجوائے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ایک ماڈل رسپانس یونٹ کے قیام کی بھی منظوری دی اور این ڈی ایم اے سے کہا کہ وہ اپنی تیاریاں مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بریفنگ میں بتایا گیا کہ آنے والے برسوں میں کلاؤڈ برسٹ میں مزید شدت آئے گی تو اس سے نمٹنے کیلئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے، وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کو صوبوں کے درمیان قریبی کوآرڈینیشن ہونا چاہئے ، اس کیلئے این ڈی ایم اے کو جو مزید سازوسامان چاہئے وہ مہیا کریں گے، صوبے بھی اپنے طور پر انسانی وسائل، ٹیکنالوجی، ریسکیو اور ریلیف کیلئے اس میں سرمایہ کاری کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو این ڈی ام اے اور صوبوں کے ساتھ مل کر آئندہ سال کی بھرپور تیاری کرنی چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس کا گیسوں میں اخراج کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں، اس کے باوجود ہم دنیا کے اس سے متاثر ٹاپ ٹین ممالک کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک موقع بھی ہے کہ ہم ریزیلیئنٹ قوم بنیں، زرعی اور دیگر شعبہ جات کا انفراسٹرکچر بڑھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور صوبوں کے درمیان بہترین کام کیلئے تعاون جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سال کے تجربے کا جائزہ لے کر صوبوں کے ساتھ آئندہ سال کیلئے تیاری کی جائے، وزارت منصوبہ بندی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے وزراء متعلقہ اداروں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس حوالہ سے مربوط منصوبہ تشکیل دیں تاکہ جس طرح یہ پیشنگوئی کی جا رہی ہے کہ آئندہ اس کی شدت بڑھے گی، ہمیں اس صورتحال میں کم سے کم نقصانات کو یقینی بنانے کیلئے پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے کردار کو مفید قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، انہیں ہدایت کی کہ اسے مزید بڑھایا جائے اور آگاہی مہم سے بروقت اس کی حساسیت سے عوام کو آگاہ کرنا ہے، اس کیلئے سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ کا شعبہ بہترین کام کر رہا ہے، اس کو مزید آگے بڑھانا ہو گا۔ قبل ازیں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال مون سون کی مجموعی شدت گذشتہ سال کے مقابلہ میں 60 سے 70 فیصد زیادہ ہے، اس سال معمول سے دو سے تین سپیل کا اضافہ ہوا ہے، اب تک 178 انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے جبکہ 500 زخمی ہیں، اس دفعہ پنجاب کے زیریں علاقے، پنجاب اور اسلام آباد کے ملحقہ علاقے اور آزاد جموں و کشمیر میں اس کی شدت زیادہ ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو مون سون سے ہونے والے نقصانات ،موسمی خطرات کے پیش نظر پیشگوئیوں نیز دریاؤں اور ہائیڈرولک ڈھانچوں کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے، آرمی، ریسکیو 1122، چیف سیکرٹریز کے دفاتر، اریگیشن واٹر اینڈ پاور سے متعلقہ حکام آن بورڈ ہیں، آنے والے سات دنوں میں پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور کے پی کے، کے شمالی علاقے زیادہ متاثر ہوں گے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اب تک مون سون کے تین سپیل آ چکے ہیں جبکہ 21 سے 28 جولائی تک چوتھا، اگست کے پہلے ہفتے پانچواں، دوسرے ہفتے چھٹا اور تیسرے ہفتے میں ساتواں سپیل متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نشیبی علاقوں میں اس وقت پانی کھڑا ہے اور ہر متوقع امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج رات راولپنڈی، اسلام آباد میں مزید بارش کا امکان

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وایئس چانسلر ان دنوں ایم آی ٹی اور ہارورڈ کے دورے پر ہیں جہاں انکا بیٹا تعلیم حاصل کر رہا ھے

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وایئس چانسلر ان دنوں ایم آی ٹی اور ہارورڈ کے دورے پر ہیں جہاں انکا بیٹا تعلیم حاصل کر رہا ھے۔۔۔جب پروفیسر نیاز ہارورڈ گئے ہی ہیں تو معلوم کر لیں کہ وہاں لسانی کونسلز کیسے کام کرتی ھیں۔ فیس ادایئگی کے بغیر کیسے رجسٹریشنز ہوتی ھیں اور حاضری کم ہونے کے باجود امتحانات کیسے لئے جاتے ہیں۔۔۔۔اور کمپپس میں کلاسز کے دوران طلباء کیسے رقص و موسیقی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اور نقل کے طریقوں میں کیسے جدت لائ جا سکتی ھے۔۔۔۔۔اور واپس آتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے وی سی صاحب کو ایک سے زیادہ مرتبہ مختف یونیورسٹیز کے وایئس چانسلر بننے کے طریقے ضرور بتلا کر آیئں تاکہ ہاررورڈ کا بھلا ہو سکے۔۔۔پروفیسر انور اقبال کی وال سے

پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں انعقادسربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کانفرنس کی صدارت کیایڈمرل نوید اشرف نے معرکہ حق کے دوران پاک بحریہ کی ناقابل تسخیر سمندری دفاعی صلاحیتوں کو سراہانیول چیف نے بحری راستوں پر تجارت کی روانی اور بندرگاہوں پر بلا تعطل آپریشنز یقینی بنانے کے اقدامات کو سراہا

*2025*پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں انعقادسربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کانفرنس کی صدارت کیایڈمرل نوید اشرف نے معرکہ حق کے دوران پاک بحریہ کی ناقابل تسخیر سمندری دفاعی صلاحیتوں کو سراہانیول چیف نے بحری راستوں پر تجارت کی روانی اور بندرگاہوں پر بلا تعطل آپریشنز یقینی بنانے کے اقدامات کو سراہا نیول چیف نے میری ٹائم ڈومین میں ممکنہ روایتی اور غیر روایتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنے پر زور دیانیول چیف نے بحری نگرانی اور آپریشنزز کیلئے ڈرونز، زیرِ آب اور سطحِ آب پر چلنے والی خودکار کشتیوں(بحری ڈرونز) کی اہمیت پر زور دیا کانفرنس میں نیول چیف کی سربراہی میں پرنسپل اسٹاف آفسرز اور فیلڈ کمانڈرز نے پاک بحریہ کی پالیسیوں اور منصوبوں کا جائزہ لیا