پاکستان کے دو مکروہ مسئلے — حکمران طبقے کی لوٹ مار اور دہشتگردوں کی تلوارپاکستان دو طرفہ آگ میں گھرا — ایک طرف حکمرانوں کی لوٹ مار، دوسری جانب دہشتگردوں کا وار! سہیل رانا لائیو میں

Pakistan Trapped Between Two Evils — The Loot of the Rulers and the Terror of the TTP !

Pakistan on the Edge — Corrupt Elites Loot the Nation While Terrorists Strike with Fear!

جنازے میں تمام کورز کے کمانڈر ز کی شرکت۔۔سب معلوم ہے بھارت کتنے پانی میں ھے بھارت کے 75 شھر پاکستان کے میزائل حملوں کے نشانے پر۔۔بھارت جان لے اس دفعہ دھلی اور بمبئی تباہ وبرباد ھو گا۔۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ جاری۔۔ تحریک لبیک کے دفتر پر چھاپہ ایک پری پلان ڈرامے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، سعد رضوی کو چابی دے دی گئی ہے اب کچھ دن بعد لینڈ کروزر دے کر بیٹھا دیا جائے گا۔۔ سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں نواب شاہ میں اصف زرداری کے ساتھ بڑی بیٹھک۔۔ شھباز حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔پاکستان میں افواج کی قربانیوں کی داستان۔۔کور کمانڈر کانفرس میں 27 لیفٹیننٹ جنرل شریک 7 گھنٹے کی بیٹھک۔۔ھم گیلانی بھت غریب ھے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پچھلے 25 سال سے سنتے ہی آ رہے وہ کمپنی آ رہی وہ کمپنی اربوں ڈالر لا رہی فلاں ملک اربوں ڈالر کی بارش کرنے والا ہے آج تک تباہی کے علاوہ کچھ ہوا نہیں مشرف کے بعد کیانی کیانی کے بعد راحیل راحیل کے بعد باجوہ اب حافظ ہر جانے والی حکومت مجرم بنا کر پیش کر دیتے اور آنے والی حکومت کو اربوں ڈالر کے معاہدے کرنے والی بنا کر پیش کر دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ امریکہ کے پارٹنر بننے سے لے کر اب تک پاکستان اربوں ڈالرز اور ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے پاکستان پہلے قرضوں کے بوجھ کے تلے ڈب گیا تھا اب بھی بوجھ بڑھتا ہوا نظر اس لیے یہ ترقی خواب ان دیکھاو جو کچھ جانتے نہیں

ثنا اللہ خان کی فراغت ۔ڈان نیوز نے شاندار صحافی ثناء اللہ خان کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے ۔مسلہ ایک تلخ اور حقائق پر مبنی سوال تھا جو وزارت خزانہ کو پسند نہیں ایا۔ہائی برڈ نظام چل رہا ہے ۔سب اکھٹے ہیں ۔میڈیا کبھی آزاد تھا لیکن میر شکیل الرحمن کی غلیظ حرام خور چیف جسٹس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پہلے جنگ گروپ نے گھٹنے ٹیکے پھر ڈان گروپ ڈھہ گیا تھا ۔آج میڈیا بھی ہائی برڈ نظام کا حصہ ہے ۔وہ ایک سچے صحافی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ثناء اللہ میرا دوست ہے ۔سالوں ہم نے اکھٹے وزارت خزانہ کی بیٹ کور کی

۔اس ایسا شفاف اور واضح صحافی شائد اب ڈان گروپ میں خلیق کیانی بچا ہے باقی باقیوں ایسے ہی بن گئے ہیں۔جو صحافی کے ساتھ فنکار تھے کروڑ پتی ارب پتی بن گئے ۔جو صرف پروفیشنل صحافی تھے وہ سچائی کی قیمت ادا کریں گے ۔ثناء اللہ پتہ نہیں کیسے قیمت ادا کرے گا ۔اس کے پاس ایک راستہ موجود ہے نوسر باز کے میڈیا انفراسٹرکچر سے مستفید ہونے کا۔نوسر باز اور آئین اور قانون کے نام پر اپنے تئیں ہیرو بنے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی کشتی میں بیٹھ جائے ۔مہینوں کے اندر وہ آمدن شروع ہو جائے گی جو سالوں ڈان گروپ میں رپورٹنگ کے بعد بھی نہیں ہوئی۔ثنا اللہ خان ایسا کرے گا نہیں ہم اسے جانتے ہیں اور ہمیں فخر ہے وہ ایسا نہیں کرے گا کہ ہمارا دوست ہے ۔نوسر باز اور سابق پالتو موجودہ باغی ججوں کی حمایت کرنا دو دھاری تلوار ہے ۔مالکوں یا ہائی برڈ نظام کے خلاف بات کرو کے ہیرو بھی بن جاؤ پیسے بھی کماو ۔دی نیوز کا پروفیشنل جرنلسٹ مہتاب احمد خان ،خلیق کیانی یا ثنا اللہ خان اس نسل کے صحافی ہیں جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے ۔فنکار یہ فطری طور پر ہیں نہیں صرف صحافی ہیں اور صحافیوں کو سچائی کی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے ۔

پیپلز پارٹی اور اقتدار کی سیاست ۔اظہر سیدگھوٹکی میں صحافی طفیل رند کو قتل کے ایک بدلے میں قتل کر دیا گیا آج اس نوجوان صحافی کو اس وقت قتل کیا گیا جب اپنے دو بیٹوں اور بھتیجی کو اسکول چھوڑنے جا رہا تھا ۔سندھ میں پیپلز پارٹی جس طرح بچ بچا کر حکومت کر رہی ہے چندہ ماہ میں لواحقین پر صلح صفائی کیلئے دباؤ ڈالا جائے گا اور قاتل صاف بچ نکلیں گے ۔پیپلز پارٹی کے ملیر سے رکن اسمبلی جام اویس کے غنڈوں نے ستائیس سالہ ناظم جوکھیو کو ظالمانہ تشدد سے قتل کر دیا تھا ۔بعد میں مقتول کے لواحقین نے دباؤ اور معقول پیسوں کے بدلے صلح کر لی اور قتل کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا ۔رانی پور کے پیر نے کم سن ملازمہ فاطمہ کو جنسی غلام بنایا ہوا تھا ۔ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں بچی مر رہی تھی ۔مقدمہ درج ہوا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کم سن بچی کے ساتھ جنسی تشدد اور عصمت دری ثابت ہو گئی ۔پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتنے والے رانی پور کے پیروں کے فخر نے پولیس کو بار بار درخواستوں کے باوجود اپنے موبائل فون کا پاس ورڈ نہیں دیا ۔فاطمہ کی ماں نے صلح کر لی اور پھر ملزمان ضمانتوں پر رہا ہو گئے

۔سارا معاملہ چونکہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق طے پایا تھا اس لئے خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔سندھ کے ضلع میر پور کے ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کو توہین مذہب کے الزام میں جعلی پولیس مقابلہ میں مار دیا گیا ۔سندھ کی سول سوسائٹی نے بھر پور احتجاج کیا ۔معاملہ کی انکوائری ہوئی اور معاملہ سرد خانہ میں کہ پیپلز پارٹی اس معاملہ میں غیر جانبدار ہو گئی تھی ۔ڈاکٹر شاہنواز قتل پر لوگوں کو اکسانے والے اور انعام کا اعلان کرنے والے کی ویڈیو موجود ہے لیکن مذہبی گھرانے کے سرکردہ لیڈر پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا ۔کاروائی پولیس افسران کی معطلی اور انکواری پر گویا منجمند ہو گئی ہے ۔روشن خیالی کا پرچم اٹھانے والی جمہوریت پسند پیپلز پارٹی اس معاملہ پر بھی چہرہ گم کر بیٹھی کہ کہیں مذہبی زومبیز اسے نشانے پر نہ رکھ لیں ۔سندھ ہمیشہ سے سیکولر سندھ رہا ہے ۔یہاں صدیوں سے مسلمان اور ہندو محبت سے رہتے چلے آئے ہیں لیکن پیپلز پارٹی نے سندھ کے اس تشخص کے تحفظ کی بجائے اقتدار کی سیاست کی راہ اپنائی ۔سندھ میں کم سن ہندو بچیوں کے اغوا اور جبری مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ ہر چند ماہ بعد سامنے آتا ہے۔روتے بلکتے ماں باپ فریادیں کرتے ہیں ۔ایک ویڈیو بیان جاری ہوتا ہے جس میں لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرنے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتی ہے ۔معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جاتاہے ۔پیپلز پارٹی ہمارا رومانس تھا۔اصف علی زرداری نے کسطرح مالکوں کے سامنے مزاحمت کی اور ساری جوانی جیل میں گزار دی حقیقی مرد حر ثابت ہوئے ۔محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی کسمپرسی کے بعد شائد پیپلز پارٹی اس راہ کی مسافر بن گئی ہے جو کبھی مسلم لیگ اور تحریک انصاف نے اپنائی تھی ۔پیپلز پارٹی اپنا شاندار ماضی اور قربانیاں کامیابی سے کیش کراتی رہی ہے ۔پیپلز پارٹی مزاحمت اور جمہوریت کی علامت تھی لیکن جس طرح عوامی سیاست کو چھوڑ کر اقتدار کی راہ پر چل نکلی ہے صرف فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے اور بس ۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی نوابشاہ میں ملاقاتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ملاقات میں موجودملاقات میں ملک میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیاعلاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگونائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے صدرِ مملکت کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے متعلق آگاہ کیااسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور اہم علاقائی معاملات پر صدر کو بریفنگ دی

اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے کی بنیاد باہمی بھائی چارہ ہے، مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں مضبوط مقام پیدا کر سکتے ہیں ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سعودی وفد کے اعزاز میں ظہرانے کے موقع پر خطاباسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے کی بنیاد باہمی بھائی چارہ ہے، مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں مضبوط مقام پیدا کر سکتے ہیں ، وقت ہمارے لیے سنہری مواقع لے کر آیا ہے۔ وہ بدھ کو یہاں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد بن سعد آل سعود کی زیر قیادت سعودی وفد کے اعزاز میں منعقدہ ظہرانے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ، وفاقی وزراء اور اہم کاروباری شخصیات کے علاوہ اعلی سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں ایک بار پھر یہاں سعودی شہزادہ منصور بن محمد کو دیکھ کر خوشی ہورہی ہے، ہم یہاں ایک خاندان کی طرح موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے سیاست میں ہیں، پہلی بار 60 کی دہائی میں سعودی عرب گئے تھے، اس کے بعد سعودی عرب کے کئی دورے کر چکے ہیں مگر ان کا حالیہ دورہ ریاض بالکل منفرد اور بے مثال تھا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نہایت گرمجوشی کا مظاہرہ کیا، سعودی بھائی بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کے لئے بے مثال محبت دکھائی، سعودی عرب نے ہر مشکل اور آزمائش میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 20 یا 30 سال پہلے بعض شعبوں میں پاکستان سعودی عرب سے تجربات کا تبادلہ کر رہا تھا، سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیرمتزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے، سعودی عرب کا یہ عزم ہمارے تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہا اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے، ہم حقیقی بھائیوں کی طرح ہیں اور بھائی ہمیشہ بھائی کی مدد کو آتا ہے، ہم مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہمیشہ کے لئے محافظ رہیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو کاروبار اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائیں گے اور مشترکہ کاروباری خواب کو حقیقت بنانے کے لئے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں سعودی عرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ موقع میسر ہے، سعودی عرب بھی ہمیں ہرممکن مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور دور اندیش قیادت نے سعودی معاشرے کو بدل کر رکھ دیا، وقت اور حالات کسی کا انتظار نہیں کرتے، ہمیں خود کو وقت اور مواقع کے لئے تیار کرنا ہوگا، ہم مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں اپنی جگہ مضبوطی سے بنا سکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے پاس بہترین لوگوں کی ٹیم موجود ہے، سعودی عرب کے حکام بھی معاہدوں پر دستخط کے لئے پرجوش ہیں، یہ وقت ہمارے لئے سنہری مواقع لے کر آیا ہے، مل کر کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ چیئرمین سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل شہزادہ منصور بن محمد بن آل سعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل اجلاس کے لئے پاکستان آئے ہیں، پاکستان آنے سے قبل سعودی عرب کے تمام اہم وزراء سے ملاقاتیں کیں، سعودی وزراء کو پاکستان میں ممکنہ سٹریٹجک منصوبوں سے آگاہ کیا، سعودی کاروباری طبقے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جن شعبوں پر زور دیا ہم بھی انہی پر توجہ دے رہے ہیں۔\

اورکزئی میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت وزیراعظم کا شہداء کو خراجِ عقیدت، قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اور پُرعزم ہے، وزیر اعظم شہداء کی قربانیاں مادرِ وطن کے دفاع کے قومی عزم کی علامت ہیں — وزیراعظم اورکزئی آپریشن میں 11 سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے خلاف بڑی کارروائی شہداء کو ان کے آبائی علاقوں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا

ہم گیلانی بہت غریب ہیں اللہ کے واسطے ہمیں سرکاری سکیورٹی واپس کر دو۔ں ہم اپنی سیکیورٹی افورڈ نہیں کر سکتے۔پاکستان کی اشرافیہ چاہے اس کا تعلق کسی بھی صوبے یا زیر انتظام وفاقی علاقے سے ہو۔اس نے قسم کھا لی ہے کہ اس نے سرکاری وسائل سے ہی سب کچھ حاصل کرنا ہے۔یہ غریبوں کے بچوں کا دودھ تک ہڑپ کر رہے ہیں انہیں شرم نہیں اتے

نانی کے بڑھاپے کے عشق میں پوری قوم زلیل.😡جب تین سال پہلے ‏سارے فراڈی مہنگائی کیخلاف نکلے تھےتب سیمنٹ کی بوری 500 روپے کی تھیآج 1450 روپے کی ہےتب چینی 70 روپے کلو تھیآج 200 روپے کلو ہےتب پٹرول ڈیڑھ سو لیٹر تھاآج 275 روپے ہےتب بجلی 15 روپے یونٹ تھیآج 50 روپے سے بھی زیادہ ہےتب گیس 100 روپے تھیآج 300 روپے ہے کھربوں ڈالر کی کرپشن جاری
گنڈا پور فارغ عمران خان کا بڑا فیصلہ۔۔ماں دھرتی پر کمانڈنگ آفیسر ٹو ای سی صوبیدار میجر سمیت 11 شھید۔۔قربان ھونے والے بادبان ٹی وی پر ۔۔۔‏وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظر عام پر آگیا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

افواجِ پاکستان — کب تک ہمارے ہیروز قوم کے لیے قربانیاں دیتے رہیں گے جبکہ سیاستدان منافقت اور کرپشن میں ڈوبے رہیں گے؟!چیئرمین پیمرا کون ہوگا؟ طاقت، سیاست اور دباؤ کی نئی جنگ چھڑ گئی! تفصیلات بادبان ٹی وی پر

Pakistan Armed Forces — How Much Longer Will Our Heroes Bleed for a Nation Shackled by Corruption and Political Hypocrisy

Who Will Be the Next Chairman of PEMRA? Power, Politics, and Pressure Collide

پاکستان اور سعودی عرب کے سرمایہ کاری وفود ایک دوسرے کے ممالک میں موجود — نتائج تاحال صفر!اب تک سعودی عرب کی پاکستان میں کل سرمایہ کاری تقریباً 2.8 بلین ڈالر تک محدود، جبکہ پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر 1.2 بلین ڈالر مالیت کا تیل فراہم کیا جا رہا ہے۔دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد اور ریاض میں مذاکرات میں مصروف، مگر عملی پیش رفت ابھی تک سامنے نہیں آئی

پاکستان اور سعودی عرب کے سرمایہ کاری کےوفود ایک دوسرے ممالک میں موجود رزلٹ صفر

Pakistan and Saudi Arabia’s investment delegations are present in each other’s countries — yet results remain zero!So far, Saudi Arabia’s total investment in Pakistan stands at $2.8 billion, while Pakistan continues to receive $1.2 billion worth of oil on deferred payment.Despite high-level delegations holding talks in Islamabad and Riyadh, no concrete progress has been achieved yet.

ویمنز ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے میں نیوزی لینڈ کو شکست دی.ذرائع کے مطابق ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026 کیلئے سلمان آغا کی چھٹی یقینی ہے اور پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کپتانی کیلئے مضبوط امیدوار ہے اور اس کو کپتان دینے پر غور کیا جارہا ہے چئیرمین جائینٹ چیف کون بڑی .عمران خان کے لیے مشکلات مے اضافہ یا کمی. تحریک انصاف کی اھم شخصیات عمران خان کے ساتھ میر جعفر کے روپ میں۔۔ عمران خان نے بیانیہ بنانے کی ذمہ داری علیمہ خان کے حوالے کر دی۔۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ ۔ پاکستان کرکٹ انسٹیٹیوٹ بن گیا ہے۔فرینڈلی فائر نہ کریں، سنجیدہ ہیں تو عدم اعتماد لائیں، ہم ساتھ دیں گے۔ اسد قیصر کی پیپلزپارٹی کو پیشکش۔عاصم ملک برقرار 30 ستمبر 2026 تک جبکہ فیاض شاہ گلریز رضا اور نعمان زکریا میں چئیرمین جائینٹ چیف کون۔یسین ملک کو سزائے موت۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*شمالی کوریا کے صدر کم جونگ کا اعلان۔۔۔ امریکہ پریشان**امریکہ ہمارے مزائیلوں کے نشانے پر ہیں، کم جونگ**امریکہ کا کوئی ڈیفس سسٹم ہمارے میزائل کو روک نہیں سکتا،کم جونگ**اپنے نئے میزائل اپنی آنیوالی پریڈ میں دنیا کو دیکھے جائے گئے،کم جونگ**ہمارے پاس ایسا میزائل ہے جو امریکہ کے کونے کونے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کم جونگ*

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم محمد شہباز شریف جو اس وقت ملائیشیاء کے سرکاری دورے پر ہیں، نے ملائیشیاء کے وزیر اعظم عزت مآب داتو سری انور ابراہیم سے آج پتراجایا میں پردانا پوترا میں ملاقات کی۔ پردانا پترا آمد پر، وزیر اعظم کا استقبال ایک سرکاری استقبالیہ تقریب میں کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر ملاقات میں اپنے اپنے وفد کی قیادت کی ۔ وزیراعظم نے دورہ کے دوران ان کے اور ان کے وفد کے ارکان کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر ملائیشیاء کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اپنی انتہائی تعمیری اور مفید ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے اکتوبر 2024 میں ملائیشیاء کے وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے بعد، دونوں طرف سے دو طرفہ تعاون میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہء خیال کیا، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان ملائیشیاء دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تجدید کی اور اس حوالے سے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، حلال انڈسٹری، آٹوموٹیو، کنیکٹیویٹی، گرین انرجی، الیکٹریکل اور الیکٹرانک مینوفیکچرنگ، سیاحت، اعلیٰ تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں سمیت تعاون کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔*دونوں فریقین نے پاکستان سے ملائیشیاء کو حلال گوشت کی برآمدات کا کوٹہ 200 ملین امریکی ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان سے ملائیشیاء کو چاول کی خاطر خواہ برآمدات ہو رہی ہیں جو کہ مقرر کردہ کوٹہ سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔* دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کی اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم نے فلسطین کے تنازعے حل کے لئے اور امن کے قیام کے لئے پاکستان کے تعمیری کردار بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدام کی تعریف کی۔انہوں نے اقوام متحدہ (UN) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سمیت کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ حل کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور تنازعہء جموں و کشمیر کی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی مطابق حل کے لئے ملائیشیاء کی حمایت کی تعریف کی۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان-آسیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر مزید غور کیا۔ ملائیشیاء کے وزیر اعظم کو آسیان کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کا آسیان کا مکمل ڈائیلاگ پارٹنر بننے کے حوالے سے پاکستان کے لئے ملائیشیاء کی حمایت کی توثیق پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اہم بین الاقوامی امور پر ایک دوسرے کو اپنے نقطہء نظر سے آگاہ رکھنے کے لیے کیے گئے اہم فیصلوں پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلوں کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان سفارتکاروں کی تربیت، سیاحت ، حلال سرٹیفیکیشن ، اعلیٰ تعلیم ، کرپشن اور بدعنوانی کی روک تھام اور خاتمے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے وزیراعظم انور ابراہیم کی کتاب “اسکرپٹ” ، جو کہ لیڈر شپ کے حوالے سے ان کے خیالات کا اظہار ہیں ، کی رونمائی بھی کی۔ملائیشیاء کے وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا

نیفے میں پستول ۔پراسکیوشن جتنا مرضی مضبوط کیس بنائے جج ویڈیو شواہد کے باوجود فرانزک رپورٹ اور دیگر قانونی موشگافیوں کے زریعے ملزموں کو ضمانت دے دیتے ہیں ۔کراچی پولیس کے پکڑے ہزاروں کریمنل ضمانتیں لے کر پھر وارداتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔کئی ملزمان تو عادی ضمانتی ہیں ۔یہی حال وفاقی دارالحکومت اور ملک کے دیگر شہروں کا ہے ۔ملزمان کو ضمانت مل جاتی ہے وہ پھر سے جرائم کرنے لگتے ہیں ۔پراسکیوشن کے زریعے سزا موجود نظام انصاف میں صرف فراڈ ہے اور کچھ نہیں ۔ججوں کے منہ کو خون لگ چکا ہے ۔بار بار کے مارشل لا اور سیاسی حکومتوں میں پالتو ججوں کو نظام انصاف پر مسلط کرنے کے عمل نے نظام انصاف کو تباہ کر دیا ہے ۔ججوں کی اکثریت کا ایک مائنڈ سیٹ بن چکا ہے ۔حکم امتناعی کے زریعے انصاف روکنے کا کام بھی جج ہی کرتے ہیں ۔جب تک نظام انصاف کو گندھک کے تیزاب سے غسل نہیں دیا جاتا سی سی ڈی کا انصاف ہی عوام کیلئے قابل قبول طریقہ ہے ۔

جنگ ہو گی یا نہیں ؟ اظہر سیدامریکی صدر ٹرمپ بھارت کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے وہ اصل میں عالمی معیشت پر قابض ملٹی نیشنل اور اسلحہ ساز کمپنیوں کو چلانے والی امریکی ڈیپ اسٹیٹ کرا رہی ہے ۔بھارتیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے وہ پاکستان کو مکمل اور بڑی جنگ میں الجھائیں تاکہ ان کے حقیقی حریف چین کو کھینچ کر ایک بڑی جنگ میں پھنسایا جا سکے اپنی سالوں سے جاری اجارہ داری کو بچایا جا سکے ۔سات مئی کو بھارتی حملہ اسی پس منظر میں تھا لیکن پاکستان کے بھر پور جواب کے بعد بھارتی بڑی اور مکمل جنگ کے بغیر ہی میدان سے بھاگ نکلے ۔ بھارتیوں نے دیکھ لیا تھا چینی پاکستان کے پیچھے پوری طاقت سے کھڑے ہیں اور مکمل جنگ میں بھارتیوں کے پاس کھونے کیلئے پاکستان سے زیادہ چیزیں ہیں ۔یہ چیز امریکی ڈیپ اسٹیٹ کیلئے قابل قبول نہیں تھی کہ بھارتیوں کو اسرائیل کے زریعے مکمل معاونت بھی دی جا رہی تھی ۔سیز فائر کے بعد بھارتیوں کو سزا دینے کا عمل شروع ہوا ۔ٹیرف میں اضافہ کے بعد یورپین یونین کو بھی بھارت سے پٹرولیم درآمدات روکنے کا کہا گیا۔بھارتیوں پر ویزہ کی پابندیاں لگائی گئیں ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بھارتی انتظامیہ کو ہدف بنایا گیا ۔بھارتی معیشت تیزی سے ترقی کرنے والی ایک ارب لوگوں کی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے ۔امریکی اقدامات براہ راست بھارتی معیشت اور نئی عالمی طاقت بننے کے خوابوں کو پریشان کرنے والے اقدامات تھے ۔معاملات کو سمجھنے کیلئے ریاستوں کے اقدامات اور طرز عمل کو دیکھا جاتا ہے ۔اس ہفتے جو تصویر واضح ہو رہی ہے چیخ چیخ کر بتا رہی ہے ،بھارتی شائد امریکی بلیک میلنگ کے آگے جھک گئے ہیں اور شائد پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کیلئے رضامند ہو گئے ہیں ۔پہلے طالبان حکام پر امریکی آشیرباد سے سفری پابندیاں ختم ہوئیں پھر فوری طور پر افغان وزیر خارجہ کے ایک ہفتہ کے دورہ بھارت کا شیڈول جاری ہو گیا ۔بھارتی میڈیا میں خبریں چلنا شروع ہوئیں افغان وزیر خارجہ کے دورہ کے دوران اشرف غنی دور کے مختلف شہروں میں قائم بھارتی قونصلیٹ بحال ہوں گے اور دفاعی معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے ہونگے ۔میڈیا کو اس طرح کی کلاسیفائیڈ خبریں ہر ملک کی ڈیپ اسٹیٹ فراہم کرتی ہے بھلے پاکستان ہو ،امریکہ یا بھارت ،صحافیوں کو رائے عامہ بنانے کیلئے خبریں فراہم کی جاتی ہیں۔اچانک چار ماہ کی خاموشی کے بعد بھارتی وزیر دفاع،ارمی چیف،ائیر چیف اور قومی سلامتی کے مشیر پاکستان کو دھمکیاں دینے لگے ۔آزاد کشمیر احتجاج کے دوران بھارتی دفتر خارجہ نے باقاعدہ پریس نوٹ بھی جاری کر دیا ۔اب بھارتی میڈیا میں گلگت بلتستان میں احتجاج کی خبریں چل رہی ہیں جبکہ وہاں حالات پر امن ہیں ۔ان خبروں کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی اب اپنے حلیفوں کی مدد سے گلگت بلتستان میں فرقہ ورانہ فسادات کرانے کی کوشش کریں گے ۔بھارتی سیاستدان شائد امریکی دباؤ پر پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کریں لیکن بھارتی اسٹیبلشمنٹ شائد امریکی دباؤ کے سامنے جھک جائے ۔ہر ریاست میں اصل طاقت ڈیپ اسٹیٹ کی ہی ہوتی ہے بھلے سامنے امریکی صدر ٹرمپ ہو یا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اگر پاکستان کے ساتھ جنگ کا فیصلہ کر لیا تو بھارتی جمہوریت اسے روک نہیں پائے گی اور یہ جنگ ہو جائے گی ۔پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کسی کیلئے قابل قبول نہیں اس لئے پاکستان کو پھنسانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ۔ہمیں مستقبل قریب میں امریکہ ،بھارت اور افغانستان اتحاد نظر آتا ہے ۔اس اتحاد کے متعلق چینی ،روسی اور پاکستانی یقینی طور پر خبریں رکھتے ہونگے اور وہ جوابی اقدامات بھی کر رہے ہونگے ۔جو کچھ خطہ میں اور دنیا میں ہونے جا رہا ہے وہ جلد یا بدیر ہونا ہی ہے اور بہت جلد سامنے اجائے گا۔

عاصم ملک برقرار 30 ستمبر 2026 تک جبکہ فیاض شاہ گلریز رضا اور نعمان زکریا میں چئیرمین جائینٹ چیف کون تفصیلات بادبان یوٹیوب پر

Power Shake-Up! Asim Malik Retains Command Till September 30, 2026 — But Who Will Seize the Chairman Joint Chiefs Post? Contest Between Fayaz Shah, Gulraiz, Amir Raza, and Nauman Zakaria Heats Up!

پاکستان پر 3 اطراف سے بھارتی حملے کا خطرہ۔۔حکومت کے آخری ھچکولے غدااروں کی تعداد میں اضافہ۔۔پنجاب لاوارث نہیں ہے پنجاب کے وارث ہیں جیسی بات کرینگے ویسا جواب آئے گا۔۔پاکستان کرکٹ ٹیم پر نحوست کے ساے بدستور برقرارخواتین کھلاڑیو ی کی ٹیم کوانڈین ٹیم سے شکست۔۔۔پیمرا مالی بحران کا شکار ملازمین تنخواہوں سے محروم۔۔اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جنرل سرفراز اور مصدق ملک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل۔۔پاکستان میں دھشت گردی مھنگای اور کرپشن میں مقابلہ۔۔بھارت میں 19 ریاستوں میں علیحدگی کی تحاریک۔۔پینشن خیرات نھی ائینی حق ہے۔۔پاکستان قطر اور سعودی عرب میں معاھدہ۔۔۔پاکستان خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق کشمیر اور بلوچستان پر حملے کی اطلاعات۔پاک فوج نے دہلی ممبئی آگرہ سمیت 75 ٹارگٹس لاک کر دیئے حریت رہنما یاسین ملک کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے10 نومبر کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی کابینہ تشکیل**سلیکشن کمیٹی**ہیڈ سرفراز احمد۔ اظہر علی۔ شاہد خان آفریدی**ہیڈ کوچ**یونس خان**اسپن باولنگ کوچ۔ ثقلین مشتاق**فاسٹ باولنگ کوچ۔ وسیم اکرم۔ شعیب اختر۔ عمر گل۔*

وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ماہ نور چیمہ کی ملاقات وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے دورہ لندن کے دوران تعلیمی میدان میں ورلڈ ریکارڈ ہولڈر پاکستانی نژاد طالبہ ماہ نور چیمہ سے ملاقات کی.وزیرِ اعظم نے ماہ نور چیمہ کو اے لیول کے امتحانات میں 24 مضامین میں انفرادی طور پر امتیازی گریڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر دلی مبارکباد دیوزیرِ اعظم نے کہا کہ ماہ نور چیمہ ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ اور نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔انہوں نے ماہ نور کے والدین کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد دی اور ماہ نور کے لیے مزید کامیابیوں کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیرِ اعظم نے ماہ نور چیمہ کو تحائف بھی پیش کیے۔ ماہ نور چیمہ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی.

امریکہ نے طالبان حکام پر سفری پابندیاں ختم کر دیں،افغان وزیر خارجہ ایک ہفتے کے دورہ پر بھارت جا رہے ہیں،حامد کرزئی دور کے قونصلیٹ کی بحالی اور بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بات ہو گی ۔امریکی سہولت کاری کر رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگز محض ملکی سطح تک محدود نہیں رہتی تھیں بلکہ دنیا بھر میں دیکھی اور سنی جاتی تھیں۔ ان بریفنگز کو دشمن ممالک کے تھنک ٹینکس تک تجزیے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور انہی سے ریاستِ پاکستان کا بیانیہ تشکیل پاتا تھا۔جہانگیر نصراللہ سے افتخار بابر تک— وہ تمام افسران، اگرچہ صرف میجر جنرل کے رینک پر تھے، مگر ان کے الفاظ میں ادارے کی ساکھ، اعتماد، اور بیانیے کی طاقت جھلکتی تھی۔ وہ بولتے تھے تو قوم سنتی تھی، دشمن سوچتا تھا، اور دنیا نوٹس لیتی تھی۔مگر آج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے دور میں آئی ایس پی آر کا منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ نہ وہ ادارتی قوت باقی رہی، نہ وہ قومی بیانیے کی گونج جو پہلے پاکستان کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچاتی تھی۔ یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ موجودہ ڈی جی صاحب — باوجود اپنی دیانتداری اور شائستگی کے — اپنے ادارے کو مؤثر ابلاغ کے میدان میں ایک متحرک قوت کے بجائے ایک خاموش تماشائی بنا بیٹھے ہیں۔یہ صرف احمد شریف کی ناکامی نہیں بلکہ ان کے گرد موجود ٹیم کی فکری کمزوری، تزویراتی ناپختگی اور پروفیشنل بےسمتی کا مظہر بھی ہے۔ایمانداری اپنی جگہ، مگر قومی بیانیے کی حفاظت صرف نیک نیتی سے نہیں بلکہ بصیرت، جراتِ اظہار، اور حکمتِ عملی سے ممکن ہوتی ہے۔ احمد شریف انہیں ریاستی تاثر کی قیادت سونپی گئی تھی— مگر بدقسمتی سے وہ قیادت اب پس منظر میں گم ہو چکی ہے۔

شرم الشیخ: ٹرمپ منصوبے پر فیصلہ کن مذاکرات!!مصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ میں کل پیر کے روز وہ فیصلہ کن مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد پر بات چیت ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنانا ہے، جو اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہونے والی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ پیر کو واشنگٹن میں دجالی خنزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ جنگ ختم کرنے اور اسرائیل و اسلامی مزاحمت کی تحریک کے درمیان یدیوں کے مکمل تبادلے کے لیے ایک امن فارمولا پیش کر رہے ہیں۔مزاحمت کا ردعمل:اسلامی مزاحمت کی تحریک نے ٹرمپ کے منصوبے کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی قیدیوں، زندہ اور مردہ، دونوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہے اور وہ غزہ کی انتظامیہ کو غیر جانبدار فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی ایک عارضی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم تحریک نے یہ بھی کہا کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق امور پر مشترکہ قومی موقف اپنایا جائے گا، جو بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی بنیاد پر طے پائے گا۔اسرائیلی منظوری اور امریکی مؤقف:امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے بھی ان کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے اور فوجی انخلا کے ابتدائی خاکے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی فوج کی واپسی کا منصوبہ ایک نقشے کی صورت میں مزاحمت کو دکھایا گیا ہے، جس کے تحت دجالی فوج کو غزہ کی سرحد سے ڈیڑھ سے ساڑھے تین کلومیٹر پیچھے ہٹنا ہوگا۔ تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، دجالی ریاست اب بھی 3 اسٹرٹیجک مقامات پر طویل المدت فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے: (1) غزہ کی سرحد کے اندر ایک عارضی بفر زون۔ (2) فیلاڈلفیا راہداری (مصر کی سرحد پر) اور(3) تلہ 70 کے علاقے میں ایک پہاڑی چوٹی، جو شمالی غزہ پر عسکری اور بصری برتری فراہم کرتی ہے۔مذاکرات میں کون شریک ہے؟مصری وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اسلامی مزاحمت کی تحریک اور اسرائیلی وفود سمیت قطر، امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کرے گی۔ الجزیرہ کے مطابق، مزاحمت کا وفد آج اتوار کو دوحہ سے مصر روانہ ہو چکا ہے، جبکہ قطری وفد کل مذاکرات کے آغاز پر شریک ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی مصر پہنچ رہا ہے، جبکہ جیرڈ کشنر (ٹرمپ کا داماد) بھی مذاکرات میں شریک ہوگا۔امریکی مقاصد؟صدر ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ Axios کو بتایا کہ ان کا مقصد غزہ کی جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔ ان کے بقول: “یہ جنگ اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کر چکی ہے اور میرا مقصد اس کی بین الاقوامی حیثیت اور ساکھ کو بحال کرنا ہے۔” ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دجالی وزیر اعظم کے پاس اب میری پیش کردہ امن تجویز کو ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔عرب و اسلامی ممالک کا ردعمل:قطر، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے اتوار کے روز ایک مشترکہ بیان میں مزاحمت کے اقدام کا خیر مقدم کیا اور ٹرمپ امن منصوبے پر بات چیت شروع کرنے کی حمایت کی۔ ان ممالک نے کہا کہ ضروری ہے کہ تمام فریق مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا فریم ورک طے کریں جو مکمل اسرائیلی انخلا اور جامع امن کی ضمانت دے۔منصوبے کی بنیادی نکات:جنگ بندی کا فوری نفاذ اور قیدیوں کا تبادلہ 72 گھنٹوں میں۔اسرائیلی فوج کا تدریجی انخلا۔اسلامی مزاحمت کی تحریک کے عسکری و انتظامی کردار کا خاتمہ۔غزہ کی نگرانی ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹس اتھارٹی کے سپرد کرنا، جس پر صدر ٹرمپ براہِ راست نگرانی کرے گا۔ٹرمپ کا یہ منصوبہ غزہ کی جنگ کے خاتمے کی سمت ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے، لیکن میدانِ عمل میں اس کی کامیابی کا انحصار فریقین کے عملی تعاون پر ہوگا۔ مزاحمتی تحریک کی مشروط رضامندی اور اسرائیل کی سیکورٹی شرائط مستقبل کے مذاکرات کو نہایت نازک بنا رہی ہیں۔اللہ کرے کہ یہ مذاکرات اہل غزہ کے لیے کوئی مثبت پیغام لائیں اور 2 سال بعد انہیں امن نصیب ہو۔ آمین۔

ہم چھوٹے چھوٹے مسائل کو فوری حل کرنے کی بجائے انہیں ٹالتے رہتے ہیں، اور یہی چھوٹے مسائل دبے چھپے ایک بڑے مسئلے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ بڑے مسائل پھر ایک عظیم بحران کے گہرے گڑھے میں جا گرتے ہیں، جہاں دیگر مسائل بھی شامل ہو کر تعفن پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تعفن ہر طرف پھیلتا ہے اور سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر، گھر کے باہر کوڑا پھینکنے کی معمولی عادت وقت کے ساتھ پورے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیتی ہے۔‎جب مسائل بڑھتے ہیں تو وہ گھنے جنگل کی طرح آپس میں الجھ جاتے ہیں۔ اگر یہ جنگل کیکر کا ہو تو اس سے گزرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نہ صرف کانٹے راستے کی دیوار بن جاتے ہیں بلکہ گھنے جنگل میں چھپی جنگلی مخلوق خطرات کو اور بڑھا دیتی ہے۔ ایسی صورت میں راستہ تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔‎اگر آپ کسی بڑے مسئلے کا سرا پکڑ کر اس کی جڑوں تک جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس کے پیچھے کوئی طاقتور گروہ یا کارٹل موجود ہے جو اسے کنٹرول کر رہا ہوتا ہے۔ یہی کارٹلز مل کر ہمارے درمیان اور اردگرد کانٹوں کا گھنا جنگل اور گندگی کا گڑھا بنا دیتے ہیں، جس میں ہم سب پھنس چکے ہیں۔‎سیاست اور مزاح کا آپس میں گہرا تعلق نظر آتا ہے، شاید اسی لیے سیاستدانوں کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماضی میں سیاست فکر و عمل کا میدان ہوا کرتی تھی۔ ارسطو، سقراط، افلاطون، میکاولی، مورگن تھاؤ، کانت اور چانکیہ جیسے مفکرین نے سوچ کی آخری حدود کو چھوا۔ لیکن خروشیف، ہٹلر، مسولینی، نیتن یاہو، مودی، حسنی مبارک اور حسینہ واجد جیسے رہنماؤں نے فکر و آگہی کی دیواروں کو مسمار کر کے دنیا کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔‎مسائل حل نہ کرنے کی عادت اور ان کے بڑھنے کے اثرات اب دنیا پر واضح ہو رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا چیلنج آزاد منڈی کی معیشت میں لالچی سوداگروں کے دھوکے کو روکنا ہے۔‎چھوٹی چھوٹی عادتیں جب پختہ ہو جاتی ہیں تو وہ افراد اور معاشروں کا کردار بن جاتی ہیں۔ قطار بنانا، ٹریفک سگنل پر رکنا، دائیں طرف سے اوورٹیک کرنا، سچ بولنا، کوڑے دان کا استعمال، عوامی مقامات پر نہ تھوکنا، وقت پر کھانا کھانا، کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، جلدی سونا اور پانچ وقت کی نماز کی پابندی — اگر یہ عادتیں بچپن سے ہماری زندگی کا حصہ ہوں تو بڑے ہو کر ہم ٹیکس ادا کریں گے، ملازمین کی تنخواہ وقت پر دیں گے اور ملاوٹ یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں گے، کیونکہ اچھی عادتیں ہمیں برے کاموں سے روکتی ہیں۔ اچھی عادت ایک ایسی حد ہے جو ہمیں غلط کاموں سے باز رکھتی ہے۔‎رچرڈ ایچ تھیلر اور کاس آر سنسٹین کی کتاب “نج” (Nudge) معاشروں کی بہتر تشکیل کے لیے ایک مفید رہنما ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو مکمل آزادی دیں لیکن ان کی چھوٹی عادات کو بہتر بنائیں تاکہ بڑے ہو کر وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ یہ عادتیں علامتی طریقوں (سمبولزم) سے پروان چڑھائی جاتی ہیں، جیسے مسجد میں جوتوں کے بغیر داخل ہونا، جو پاکیزگی اور احترام کی علامت ہے۔‎علامتیں ایک تحریک کی مانند ہیں۔ مثال کے طور پر، قومی ترانہ بجے تو احترام میں کھڑے ہو جائیں، اذان شروع ہو تو خاموش ہو جائیں، بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ہوں، کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھیں۔ مغربی معاشروں میں ان چھوٹی پابندیوں سے معاشرے کو منظم کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ٹریفک قوانین کی پابندی اور قطار بنانے کی عادت خودغرضی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ عادتیں نہ صرف انفرادی کردار بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔