تازہ تر ین

شرح سود میں کمی امداد نھی شراکت داری۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ چین کامیاب وزیر اعظم اور فوجی قیادت سے ملاقات۔۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چینی فوجی ھیڈ کواٹر کا دورہ کیا اھم دفاعی معاھدے۔ارمی چیف کے ھمراہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کاشف عبداللہ اور میجر جنرل جواد موجود۔سینٹ اجلاس میں سینٹر کھربوں روپے کرپشن پر پھٹ پڑے۔۔سینٹر صدیقی اجلاس کنٹرول کرنے میں ناکام۔۔وزارت ھاوسنگ میں کھربوں روپے کی کرپشن پر واویلا وزیر بھی کرپشن ماننے پر مجبور۔اس وقت کے وزیر سیکرٹری اور ذمہ داران کو کٹھرے میں لانے پر مجبور۔اس جماعت کا وزیر تھا جو ھر وقت 8 نمازیں پڑھتے ہیں اور جاے نماز پر بیٹھ کر کرپشن کرتے ہیں۔بلوچستان میں شہید ہونے والے 31 سالہ میجر ضیاد سلیم اول کا تعلق ضلع خوشاب سے ہے۔ ان کے والد بریگیڈیئر سلیم پہلے ہی دفاع وطن پر قربان ہوچکے ،دو بھائی فوج میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ،ایک کیپٹن جبکہ دوسرا میجر کے رینک میں۔۔پاکستان نے جنوبی کوریا کو 31 رنز سے شکست دے دی۔معاشی آزادی کے علاوہ سب آزادیاں خیالی ہیں۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

دھندہ ہے یہ دھندہ ہے ۔ اظہر سیدبدترین لوگ جھوٹ بیچ کر بیوی بچوں کو پالتے ہیں۔ غلیظ ترین لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر چند سالہ زندگی کا بندوبست کرتے ہیں۔ نوسر باز کی حمایت کیلئے قائم کردہ چین اور پاکستان مخالف انفراسٹرکچر ان یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلونسرز کو “ڈالروں میں کمائی”کی صورت نوازتا تھا

۔دیکھتے ہی دیکھتے چند سال میں چند لوگ یوٹیوبر بن کر کروڑ اور ارب پتی ہو گئے ۔پہلے مالکوں کی کھڑلی میں پیٹ بھرتے تھے منہ کو ایسا خون لگا مالکوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر پیسے کمانے لگے ۔

بلاسفیمی بزنس گینگ کے کارنامے سامنے آنے لگے تو ایک شاطر نے اس میں پیسوں کی بو سونگھ لی ۔بلاسفیمی بزنس گینگ کی حمایت میں اتر کر سند یافتہ مسلمان بھی بن گیا اور کمائی بھی شروع ہو گئی ۔آج اس مہا حرامی یوٹیوبر کا پروگرام دیکھا فرما رہا تھا نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرنے والی ایمان یعنی کومل اسماعیل کوئی وجود نہیں رکھتی

۔سچے مسلمان گستاخوں کو پکڑنے کیلئے لڑکی بن کر ٹریپ کرتے تھے ۔پہلے سوچا کوئی اتنا گھٹیا اور غلیظ کیسے ہو سکتا ہے ۔پھر سوچا نچلی سطح کے کمتر لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔یہ انسانوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو ریاست پر دشمن حملہ کرے اس کے ساتھ مل جاتے ہیں۔یہ لوگ انسانوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو دلال کہلاتے ہیں۔ہم اس بلاسفیمی والے معاملہ سے اچھی طرح آگاہ ہیں ۔

ہم جانتے ہیں نوجوانوں کو ٹریپ کرنے والی ایک نہیں متعدد لڑکیاں ہیں ۔ہمیں پتہ ہے بلاسفیمی گینگ کے لوگ لڑکیوں کی آئی ڈی بنا کر بھی نوجوان کو ٹریپ کرتے تھے لیکن لڑکیاں بھی ہیں ۔کاش کمیشن بنے اور تحقیقات ہوں ،سیف سٹی کے کیمرے استمال ہوں تو پتہ چلے جی تیرہ کے میٹرو اسٹیشن سے جس نوجوان کو سفید کلٹس میں اٹھایا گیا اور پہلے آئی ایٹ لیجایا گیا

اس میں ایمان فاطمہ عرف کومل اسماعیل تو موجود تھی

لیکن پچھلی سیٹ پر بلاسفیمی گینگ کے دو رکن بھی موجود تھے ۔جو مہاکلاکار بلاسفیمی گینگ کی لڑائی سوشل میڈیا پر لڑ رہا ہے وہ بھی انسانوں کی اس نسل اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جو چند روزہ زندگی کیلئے انسانی ضمیر ،محبت ہمدردی اور خوف خدا سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔

یہ اصل میں وہ مسلمان ہیں جو مقدس کتاب ہاتھ میں لے کر شاگرد سے مشت زنی کروانے والے مولوی عزیز کی ویڈیو کے جواز اور اسکی بے گناہی کا فتویٰ دیتے ہیں اور لڑکی کے زریعے ٹریپ کئے گئے ملزم کو گستاخ بناتے ہیں

مقصد صرف “روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر”ہوتا ہے ۔پتہ نہیں ریاست اور اس کے ادارے کیا کر رہے ہیں ۔صرف 35 لوگوں کے گینگ نے سینکڑوں گستاخ سوشل میڈیا کے زریعے پکڑ لئے ۔متعدد کو سزائے موت بھی سنا دی گئی ۔اج تک یہ پتہ نہیں چلا سکے توہین آمیز مواد بناتا کون ہے ۔ان گروپس کا ایڈمن کون ہے

۔ٹریپ ہو کر توہین آمیز مواد شئیر کرنے والے تو گستاخ قرار پائے لیکن بنانے والے منظر سے غائب ۔جب توہین آمیز مواد بنانے والوں کو پکڑنے کیلئے کمیشن بنانے کی بات ہو تو گستاخ گستاخ کے بلند آہنگ نعرے لگا کر رقص شروع کر دیتے ہیں۔اس ملک کو بچانا اور چلانا ہے تو اسے جنگل بننے سے روکنا ہو گا اور ہر قیمت پر روکنا ہو گا ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved