آخر سوال صرف مولانا سے ہی کیوں؟
تحریر: واجد علی تونسوی
“مولانا کہاں ہیں؟ اسمبلی میں ہوتے ہوئے بھی مسجد کیسے گرا دی گئی؟” یہ سوال سوشل میڈیا پر آپ نے بہت دیکھا ہوگا، شاید یہی لبرل طبقہ ہے جس نے اپنی ایمانی غیرت یا تو مولانا کے حوالے کر رکھی ہے یا پھر ان کے اندر ایمانی غیرت بالکل ہے ہی نہیں۔ کیا مساجد کی حفاظت کرنا صرف مولانا کی ذمہ داری ہے؟ کیا اسمبلی میں صرف مولانا ہی مسلمان ہیں؟ پھر دیگر لیڈروں سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ وہ مساجد کے خلاف کارروائی کو کیوں نہیں روکتے؟ بالفرض! اگر مان بھی لیا جائے کہ مولانا اسمبلی میں اسی لیے ہیں کہ اسلام کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف کھڑے ہوں، تو یہ سوال ان سے ضرور بنتا ہے کہ وہ اس وقت کیوں خاموش رہے، جب مسجد کو گرانے کی اجازت دی گئی؟ مولانا کے خلاف سوال تب بنتا، جب وہ مسجد گرانے کی اجازت دے دیتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوال اصل حکمرانوں سے ہونا چاہیے جو اجازت دیتے یا حکم چلاتے ہیں۔ وزیراعظم، صدر اور دیگر اعلیٰ عہدے دار جب خاموش رہیں تو پھر سوال کیوں مولانا سے کیا جاتا ہے؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا؟ اگر معلوم تھا تو پھر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ جو اجازت دے چکے یا حکم چلا رہے ہیں، ان سے سوال ہونا چاہیے تھا، مگر اس کے بجائے مولانا کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔مسجد گرنے کے بعد سب سے پہلا کام تو یہ تھا کہ مزاحمت کی جائے اور اس کے خلاف آواز بلند کی جائے، لیکن لبرل طبقہ بجائے اس کے کہ اصل مجرموں کے خلاف بولے، مولانا کے خلاف ہی کینہ اور غیظ و غضب دکھانے لگا۔ مولانا نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر حکمرانوں کو واضح الفاظ میں دھمکی دی کہ پچاس مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر گرانے کی گھناؤنی سازش واپس لو۔ اگر جرات ہے تو دوبارہ مسجد کی ایک اینٹ بھی گرا کر دکھاؤ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دجالی میڈیا نے مولانا کی اس تقریر کو ٹی وی پر دکھانے سے انکار کر دیا، کیونکہ جب مولانا اچھی بات کرتے ہیں تو یہ میڈیا کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان چینلز کو کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی داڑھی والا برا کام کرے تو اسے دکھاؤ، مگر اگر اچھا کام کرے تو اسے دکھانا منع ہے۔یہی وجہ ہے کہ مولانا کی تقریر عوام تک پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، لیکن خوش قسمتی سے وہ تقریر یوٹیوب پر بہت وائرل ہوئی اور لوگ جان گئے کہ مولانا اس مسئلے پر پوری طرح کھڑے ہیں۔ پھر وہی لوگ جنہوں نے مولانا سے سوال کیا تھا کہ وہ کہاں ہیں، اب ان کی جرات نہیں کہ ان کے ردعمل کو نظر انداز کریں۔ مولانا کی دھمکی کی وجہ سے حکمرانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا، لیکن اس کے بجائے لبرل طبقہ مولانا کو بدنام کرنے کی سازش میں لگا رہا۔یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ آخر مولانا کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو صدر، وزیراعظم، اور دیگر بڑے عہدے دار بھی موجود ہیں۔ کیا ان سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کرتے؟ اگر انہیں معلوم تھا کہ مساجد کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، تو ان کا فرض تھا کہ وہ اس سازش کو روکیں، مگر خاموشی اور اجازت کی صورت میں تنقید مولانا پر کی جاتی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ لبرل طبقہ کی یہ سازش ہے کہ مولانا کو بدنام کر کے ان کی ایمانی غیرت کو کمزور کیا جائے، حالانکہ مولانا نے ہر غیر اسلامی قانون کے خلاف آواز بلند کی ہے، مگر میڈیا اس کو نظر انداز کرتا ہے۔یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ عوام مولانا کے جذبے کو جانتی ہے۔ وہی لوگ جو آج مولانا کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک دن انہیں امام مانیں گے۔ سیاست اور مذہب الگ نہیں ہو سکتے اور مساجد کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔ صرف مولانا کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ اگر سب مل کر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ادارے اپنی جگہ پر کام کریں تو ملک میں امن اور ہم آہنگی قائم ہوگی۔










