
27 ویں آئینی ترمیم کی بازگشت، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہےحنیف صابر دوہفتے ہونے کو ہیں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر 27 ویں آئینی ترمیم کی آمد زیر بحث ہے۔ آئینی ترمیم کی خبروں کی تردید بھی بڑی شدو مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ ہم جب نئے نئے شعبہ صحافت میں وارد ہوئے تو سینیئرز اور استاد صحافی بڑے وثوق کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ جس خبر کی تردید ہو گئی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور سچائی ہوتی ہے۔ کارزار صحافت میں گزارے 35 برسوں میں ہم نے بھی بارہا دیکھا کہ جن خبروں اور باتوں کی تردید ہوتی رہی وہی بعد میں سچ ثابت ہوئیں۔ جس کی ایک مثال مائنس بینظیر اور مائنس نواز شریف ہے اور مائنس عمران نوشتہ دیوار ہے۔ہفتہ 16 اگست کو کراچی میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) میں برسر اقتدار یونائیٹد بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایم ایم تنویر نے، جو سابق تاجر رہنما ایس ایم تنویر کے صاحبزادے ہیں اور آخری نگران سیٹ اپ میں پنجاب کابینہ میں وزیر بھی رہے، ایک پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، میاں زاہد حسین اور احمد چنائے بھی موجود تھے۔ ایف پی سی سی آئی کے رہنمائوں کا پریس کانفرنس کرنا ایک معمول کی بات ہے کیوں کی ملکی معاشی و اقتصادی پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں پر سب سے زیادہ ٹھوس اور کاروباری برادری کا نمائندہ موقف اسی کو مانا جاتا ہے۔عمومی طور پر ان کی پریس کانفرنس بھی ایک پریس ریلیز کی صورت میں سامنے آتی ہے جسے اخبارات بزنس کے صفحہ یا کارنر میں اور ٹی وی چینلز بزنس نیوز میں جگہ دیتے ہیں۔ اگر کبھی ٹی وی چینلز ان کی پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کریں بھی تو وہ ایک دو منٹ کے لیے ہوتی ہے تاکہ ان کی حاضری لگ جائے۔مگر یہ پریس کانفرنس، جس کے لئے اتنی تمہید باندھی گئی ہے، کوئی عام پریس کانفرنس نہیں تھی، نہ موضوع کے اعتبار سے اور نہ ہی کوریج کے اعتبار سے، کیونکہ اسے تقریبا تمام بڑے نجی نیوز چینلز پر براہ راست دکھایا گیا اور وہ بھی پوری کی پوری پریس کانفرنس کو۔ یونائیٹد بزنس گروپ کے سرپرست اعلی ایس ایم تنویر اور ایف پی سی سی آئی کی قیادت کی پریس کانفرنس کا لب لباب یہ تھا کہ ایف پی سی سی آئی نئے صوبوں کے قیام اور نئے این ایف سی ایوارڈ کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ جب پاکستان بنا تو موجودہ پاکستان (جو اس وقت مغربی پاکستان تھا) کی آبادی چار کروڑ تھی اور صوبوں کی تعداد بھی چار تھی۔

جبکہ اس وقت ملک کی آبادی 24 کروڑ ہے مگر صوبوں کی تعداد چار ہی ہے۔ اس لئے انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بننے چاہئیں تاکہ انتظامی کنٹرول، گورننس اور پرفارمنس بہتر ہو سکے کیونکہ موجودہ گورننس اور انتظامی ڈھانچے کے ساتھ ملک کو بھارت کے مقابلے میں معاشی طور پر زیادہ مضبوط اور ترقی یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے نئے این ایف سی ایوارڈ پر بھی بات کی اور کہا کہ نہ صرف نیا این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے بلکہ یہ نئے فارمولے کے تحت آنا چاہیے۔اب چلتے ہیں دوسری طرف اور دیکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کیا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کے ایم این اے ریاض فتیانہ نے ایوان میں آئینی ترمیم کا بل جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کو تقسیم کرکے ایک نیا صوبہ ‘مغربی پنجاب’ بنایا جائے اور فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژنوں کو صوبہ ‘مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے۔ ریاض فتیانہ کے پیش کردہ بل پر کافی محنت کی گئی ہے اور انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی نشتوں کی تقسیم و تعداد بھی اس بل میں دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے اس بل کی مخالفت نہیں کی بلکہ اسے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے حوالے کر دیا گیا۔

ان ہی دنوں میں ایک اور آئینی ترمیم کا بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جسے میڈیا یا سوشل میڈیا پر زیادہ پذیرائی نہیں ملی مگر اپنے موضوع کے اعتبار سے اور موجودہ صورتحال میں وہ بل بھی انتہائی اہم نظر آتا ہے۔ یہ بل بھی اپوزیشن کے ارکان عامر ڈوگر، شبیر قریشی، اویس احمد جکھڑ اور خواجہ شیراز نے پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم کی جائے اور بلدیاتی یا مقامی حکومتوں کے سٹرکچر کو آئینی تحفظ دیا جائے، صوبوں کو زیادہ مالی اختیارات دیے جائیں، صوبائی سطح پر بھی این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ صوبوں کو جانے والے فنڈز اضلاع اور بلدیاتی اداروں کو منتقل ہو سکیں۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی ادارے مقامی حکومتوں کے حوالے کیے جائیں جن میں تعلیم صحت، صفائی وغیرہ اور بہت سے انتظامی امور بھی شامل ہیں۔ اس حصے میں برطانوی سٹی کائونسلز کے سسٹم اور اختیارات کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس بل کی تیاری میں بہت زیادہ محنت کی گئی ہے اور مالیاتی امور کو جس انداز سے ہینڈل کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ یہ بل بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔نئے صوبوں کے قیام کی بات نئی نہیں۔ صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا بل قومی اسمبلی میںپیش بھی کیا جا چکا ہے اور وہ نا منظور نہیں ہوا بلکہ کہیں نہ کہیں اب بھی موجود ہے۔ محمد علی درانی اگرچہ اس وقت خاموش ہیں مگر چند سال پہلے وہ جنوبی پنجاب سے الگ صوبہ بہاولپور کے قیام کے حوالے سے کافی متحرک رہے ہیں۔

صوبہ ہزارہ تحریک تو کئی جانیں لے چکی ہے اور جب بھی نئے صوبوں کی بات ہوگی وہ تحریک سر اٹھائے گی۔ مولانا فضل الرحمن فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے مخالف رہے ہیں اور ان کا استدلال تھا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ صوبہ پوٹھوہار یا ساتھ والے اضلاع راولپنڈی، اٹک اوت چکوال کو شامل کرکے فیڈرل کیپیٹل کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بھی بھی ماضی میں باتیں ہوتی رہی ہیں۔ خاص طور پر، پرویز مشرف دور میں جب شوکت عزیز وزیر اعظم تھے اس وقت اس طرح کے فارمولے زیر بحث رہے ہیں۔ بلوجستان رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا صوبہ ہے جس میں تین بڑی اقوام پشتون، بلوچ اور مکرانی تین الگ الگ اطراف میں آباد ہیں۔ سندھ کی تقسیم کا نام سنتے ہی پیپلز پارٹی کی قیادت کے چہرے سرخ ہو جاتے ہیں مگر کراچی کی سیاست کا محور کسی نہ کسی طور الگ صوبہ رہا ہے اور یہ استدلال بحرحال وزن رکھتا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کا نظم و نسق بہتر طور پر چلانے کے لئے ایک الگ انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔گورننس، معاشی ترقی و خوشحالی، برآمدات کے فروغ، معدنی وسائل اور ملکی استحکام اور اسے ایشین ٹائیگر بنانے کے حوالے سے جو باتیں ایف پی سی سی آئی کی پریس کانفرنس میں کی گئیں تقریبا وہی باتیں اس وقت مختلف فورمز اور مختلف سطحوں پر زیر بحث ہیں۔ ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے فیلڈ مارشل نے جو معاشی سفارتکاری کی ہے اس میں بھی برآمدات کو بہتر بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور معدنی وسائل کو ترقی دینے کو مرکزی حیثیت حاسل ہے اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کی لیڈر شپ کی پریس کانفرنس میں بھی معاشی ترقی کے حوالے سے یہی باتیں کی گئیں۔ اس پریس کانفرنس میں دو باتیں اضافی تھیں، نئے صوبوں کا قیام اور این ایف سی ایوارڈ۔ اور یہی وہ دو امور ہیں جن کے حوالے سے گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں آئینی ترامیم کے بل پیش کیے گئے ہیں۔اگر مقتدر حلقے یہی چاہتے ہیں تو اتفاق رائے قطعا مشکل نہیں ہو گا۔ آئینی ترمیم کروانے والوں نے تو اس وقت کروا لی تھی جب یہ ناممکن نظر آتا تھا۔ اس وقت تو پی ٹی آئی بطور پارٹی بہت متحرک اور مضبوط تھی مگر اب پی ٹی آئی کے پارلیمانی سسٹم کے اندر بطور پارٹی خاتمے اور خواتین نشتوں کی تقسیم کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی نااہلیوں نے نمبر گیم تبدیل کر دی ہے اور آئینی ترمیم کا کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ دونوں بل اپوزیشن کی طرف سے آنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ پہلے ہی آن بورڈ ہیں۔ ویسے بھی بہت سی نااہلیوں کے درمیان شاہ محمود قریشی کی بریت اور اپوزیشن ارکان کا آن بورڈ ہونا بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی کا نیا جنم ہونے کو ہے، باقی نظام تو پہلے سے ہائبریڈ ہے۔ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے باتوں کی تردید تو کی جا رہی ہے مگر قومی اسمبلی میں جو بل آئے ہیں ان کی سپورٹ ایف پی سی سی آئی کی طرف سے آنا اور کاروباری برادری کی سب سے بڑی تنظیم کی طرف سے اس کی حمایت کیا جانا بتاتا ہے کہ مرزا غالب نے درست ہی فرمایا تھابے خودی بے سبب نہیں غالبکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

سیاست سے پہلے ریاست و معیشت ۔چودہ اگست کی خوشیاں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ماند پڑ گئیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان قدرتی آفات کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔لیکن بقول شاعر ” جب میری تدبیریں کامیاب ہوئیں تو تقدیر نے مجھ پر انعامات کی بارش کی۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ انسانی کوشش اور حکمت و منصوبہ بندی سے بہت سے مشکلات و مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہو جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم من حیث القوم عجیب و غریب مٹی سے بنے ہیں کہ ہمارے اندر احساس نام کی چیز ہے ہی نہیں، ہم جیسے لوکوں سے حکمران منتخب ہوتے ہیں ۔پھر ہم حکمران طبقے سے شکوہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اقتدار کی غلام گردشوں محرابوں میں پہنچ کر ہمیں بھول جاتے ہیں ۔لیکن یہ شکوہ کافی حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ عام آدمی حالات کے بدلنے پر اس قدر دسترس نہیں رکھتا جتنا اختیار اصحاب اقتدارِ کے پاس ہوتا ہے ۔اس لئے حکومت وقت اور حکمرانوں کی زمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ نہ صرف حالات امن میں عوام کے بنیادی حقوق و سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کسی کوتاہی یا نا اہلی کا ارتکاب نہ کریں بلکہ ہنگامی حالات و قدرتی آفات مثلاً زلزلے، طوفانی بارشوں اور قہرناک سیلابی صورتحال کے لئے بھی بہتر سے بہترین منصوبہ بندی و پیش بندی کریں۔ کیونکہ یہ بات ناقابل فہم و ناقابل برداشت ہے کہ گرمی سے بےحال لوگ باران رحمت کے لئے دعا کریں اور پھر معمولی بارش سے سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جائیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان غلطی پر غلطی کرے، اصلاح احوال کا انتظام نہ کرے اور پھر تباہی و بربادی کی صورت میں زمہ دار فطرت کو ٹہرائے۔ یہ مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے زمرے میں آتا ہے ۔چند دن پہلے انہی خدشات کا اظہار پاکستان فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پریس کانفرنس کے دوران ملک کے مایہ ناز سرمایہ کاروں نے بھی بھرپور طریقے سے کیا ۔ معروف بزنس مین ایس ایم تنویر صاحب نے تو اس انداز سے مروجہ خراب معاشی حالات کا تذکرہ کیا جیسے انہوں نے اپنا کلیجہ نکال کے اہل احساس کو جگانے بلکہ جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہو۔

انہوں نے بلا جھجک اور ببانگ دہل بتایا کہ ہمارا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ۔ہم صرف معیشت کی بہتری کی بات کرتے ہیں۔ اور ہم سلگتے مسائل کی نشاندھی کرتے ہیں۔مسائل کا حل حکومت کی زمہ داری ہے۔۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ این ایف سی کا نظام ناکام ہوچکا ہے کیونکہ این ایف سی میں کسی بھی صوبے کو دیا جانے والی رقم نیچے کی سطح پر نہیں پہنچتی۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ حکومتی اخراجات میں واضح کمی لائی جائے اور وسائل نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں۔ سرکاری ملازمین اور باقی ٹیکس دینے والوں کو مزید نچوڑنے کی بجائے حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے۔۔تنویر صاحب نے یہ بھی کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زیادہ زور دیا کہ بھارت حالیہ شکست کے بعد آرام سے نہیں بھیٹے گا۔اس لئے ہمیں معیشت کو بہت زیادہ مظبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب اور وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی ترجیحات معیشت کو استحکام دینے سے متعلق ہیں ۔تو پھر ہمیں مزید وقت ضائع کئے بغیر معیشت کی بحالی کے لئے ہنگامی اقدامات کرکیوں ابھی تک ہمارا قرضوں پر گزارا شرمناک ہے ۔
ایس ایم تنویر صاحب اور ان کے فیڈریشن کے نمائندے ملک کے اہم ترین سرمایہ دار ہیں اور۔ وہ یقیناً معیشت کی بہتری کے اقدامات کر سکتے ہیں ۔لہذا حکومت کو ان کے بیان کردہ نکات پر تہ دل سے غور و خوص کرنا چاہئے۔ہمم تو ایسے ایم تنویر صاحب کو حکومتی اخراجات میں کمی کے حوالے سے صرف اتنا کہیں گے۔کہ ایک دفعہ ہمیں اسلام آباد میں اوقاف بلڈنگ میں قائم وزارت غربت مکاؤ کا شاندار دفتر دیکھنےکا موقع ملا تو ہم ششدر و حیران ہوئے کہ ماشاء اللہ پاکستان کے اندر غربت نام کی کوئ چیز نہیں ۔اسی دن گوہر اعجاز صاحب نے بھی تقریباً ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ملک کے اہم ترین سرمایہ داروں کو بٹھا کر ان کی مدد سے معیشت کو استحکام کے خدو خال واضح کرے۔چونکہ حکومت وقت کو ان سب باتوں کا نہ صرف ادراک ہے بلکہ شہباز شریف صاحب کی ترجیحات معیشت کے حوالے سے فیڈریشن کے خیالات سے ملتے جلتے ہیں ۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ جاری اڑان کو بقول مفکر اسلام علامہ اقبال کے الفاظ میں ،” تو اور بھی اس آگ کو بازو کی ہوا دے”. لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اپوزیشن والے بھی کچھ عرصہ کے لئے سیاست کو ایک طرف رکھ کے خلوص نیت سے حکومتی اقدامات کی ممکن حد حمایت کرے۔کیونکہ آج ملک کی بہتری اس میں ہے کہ پہلی ترجیح معیشت کے استحکام کو دی جانے کیونکہ مظبوط معیشت محفوظ پاکستان کا ضامن ہے۔سیاست کے اور بہت مواقع ہیں ۔

: 18 اگست 2025.*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں طوفانی بارشوں و سیلاب کے متاثرین کیلئے جاری امدادی سرگرمیوں پر اعلی سطح اجلاس**وزیرِ اعظم کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کیلئے وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان**وزیرِ اعظم کی خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں و سیلاب سے متاثرین کی مدد میں وفاقی اداروں کو مزید متحرک ہونے کی ہدایت**مصیبت کی اس گھڑی میں کوئی وفاقی، کوئی صوبائی حکومت نہیں، ہمیں متاثرہ لوگوں کی مدد و بحالی یقینی بنانی ہے. وزیرِاعظم*مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے. وزیرِاعظمیہ سیاست کا نہیں، خدمت کا اور لوگوں کے دکھوں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے. وزیرِاعظموفاقی حکومت جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ ساتھ متاثرین کو وزیرِ اعظم پیکیج کے تحت بھی امدادی رقوم فراہم کرے گے. وزیرِاعظم*متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے. وزیرِ اعظم**متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، سڑکوں و دیگر سہولیات کی بحالی کی نگرانی متعلقہ وفاقی وزراء خود کریں گے. وزیرِاعظم*تمام متعلقہ وزراء خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خود جائیں. وزیرِاعظماین ایچ اے شاہراہوں کی بحالی میں صوبائی یا قومی شاہراہوں میں تخصیص نہ کرے، امداد کیلئے راستے کھولنا پہلی ترجیح رکھا جائے. وزیرِ اعظموزارت مواصلات، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں و پُلّوں کی مرمت یقینی بنائے، وزیرِ موصلات ان علاقوں میں خود جاکر بحالی آپریشن کی نگرانی کریں. وزیرِاعظموزیرِ اعظم کی وزیر بجلی کو متاثرہ علاقوں میں خود جا کر معائنہ کرنے اور بجلی کا نظام ترجیحی بنیادوں پر بحال کروانے کی ہدایت. وزیرِاعظماین ڈی ایم اے فوری طور پر نقصانات کا حتمی جائزہ پیش کرے. وزیرِاعظماین ڈی ایم اے امدادی اشیاء کی خیبر پختونخوا کے متاثرین میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا جامع لائحہ عمل پیش کرے. وزیرِ اعظم وزیرِ اعظم کی وزارت خزانہ کو این ڈی ایم اے کو ضروری وسائل فراہم کرنے کی ہدایت. وزیرِاعظمجب تک متاثرہ علاقوں میں آخری شخص تک مدد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں ہوجاتی، متعلقہ وفاقی وزراء وہیں رہیں گے. وزیرِاعظموزرات صحت ادویات و ڈاکٹرز کی ٹیموں کو خیبر پختونخوا بھیجے اور طبی کیمپس قائم کئے جائیں. وزیرِ اعظمبینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کیا جائے. وزیرِ اعظموزیرِ اعظم اور اجلاس کےشرکاء کی سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ تباہ کن بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی مدد و بحالی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس کو این ڈی ایم اے اور وزیرِ اعظم کی جانب سے مدد کیلئے مقرر کردہ وفاقی وزراء کی جاری امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پاک فوج و دیگر اداروں کی جانب سے اب تک متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس کے قیام کے ساتھ ساتھ 400 ریسکیو آپریشن کئے جاچکے. بشمول آج، متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پر مشتمل ٹرک پہنچائے جارہے ہیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کے قافلوں کو ترجیحی بنیادوں پر پہلے بھیجا جائے. اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے. این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی. وزیرِ اعظم کی اشیاء کی تعداد میں مزید اضافے کی ہدایت. اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا. 6 بڑے اسپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے. اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چئیرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکریٹری موصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا. وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا. اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئیر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.










