ایس ایچ اوز کو ایک تھانے سے دوسرے تھانے میں ٹرانسفر ہونے پر مبارکباد دینے والوں کا اگلے جہان میں الگ مقام ہوگا۔۔۔۔لیکن جو پھول اور گلدستے دیتے ہیں وہ ان سے بھی اوپر ہوں گے، قدرت اللہ شہاب جب ڈی سی جھنگ بن کر آئے تو ایک بریف کیس لے کر ڈائریکٹ ڈی آفس پہنچ گئے، جس پر سنتری نے انہیں اندر نہ جانے دیا شہاب نے درخواست کی کہ مجھے ڈی سی صاحب سے ملنا ہے تو اس نے کہا جاؤ میاں کام کرو ایسے تھوڑی ہے کہ ہر بندہ منہ اٹھا کے آجائے اور ڈی سی صاحب سے مل لے، تو شہاب نے مزید لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا یار میں یہاں نیا آنے والا ڈی سی ہوں، تو سنتری نے سر سے پاؤں تک دیکھ کے قہقہ لگایا اور کہا ڈی سی صاحب جب دفتر میں نہ ہوں تو میں بھی خود کو ڈی سی ہی سمجھتا ہوں، خیر جب موجودہ ڈی سی کو پتہ چلا تو وہ خود باہر لینے آگیا اور اس نے کہا شہاب صاحب آپ کیسے آئے ہیں آپکا سامان کہاں ہے انہوں نے کہا بس یہی بریف کیس اور ٹرین پہ آیا ہوں، تو موجود ڈی سی نے کہا آپ نے مدتوں سے بنی روایت توڑ دی پہلے جب کوئی ڈی سی آتا تھا تو شہر کے امرا، رؤسا اور نواب اپنے گھوڑوں اور کتوں کے ساتھ اسٹیشن پہ کھڑے ہوتے تھے ڈھولوں کے تھاپ اور پھولوں کی چھاؤں میں سرکٹ ہاؤس تک لے آیا جاتا تھا اور پتہ چلتا تھا کہ آج ڈی سی آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی عمر 78 سال ہو گئ زمانہ بدل گیا مگر اضلاع کی روایت وہیں کھڑی ہے،
کوئی ایس ایچ او ڈی پی او یا ڈی سی تحصیلدار پبلک نوکر ادھر سے اُدھر ہو جائے تو فیس بک پہ ایک ہفتہ کہرام مچ جاتا ہے۔۔۔۔۔
ٹاوٹ ، شاپر صحافی اور دھندا کرنے والے لوگوں کا گلدستوں اور مالا پہنانے کے لیے تانتا بندھ جاتا ھے۔










