
8 دسمبر، 2025وزیر اعظم نے مسز ثریا انور کی SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کے لئے 50 سالہ خدمات کو سراہا۔وزیراعظم نے SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کی سبکدوش ہونے والی صدر مسز ثریا انور کو یتیم اور کمزور بچوں کے لیے پانچ دہائیوں تک رضاکارانہ خدمات انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انکی سربراہی میں ایس او ایس 65 پراجیکٹس کر چکی ہے، 2600 بچوں کی دیکھ بھال، 12,500 طلباء کو تعلیم پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور ہر سال 1,200 نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مسز ثریا انور کے دیئے ہوئے اعتماد کی بنیاد پر 25,000 عطیہ دہندگان کی حمایت کو بطور ثبوت اجاگر کیا۔وزیراعظم کا پیغام جناب شاہد حامد نے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں پڑھ کر سنایا اور تمام شرکاء کی جانب سے زبردست تالیوں سے اس کو سراہا گیا.حکومت نے ایس او ایس چلڈرن ویلجز پاکستان کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسز ثریا انور آنے والے سالوں میں اس تنظیم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔سابق گورنر پنجاب جناب شاہد حامد کو SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔

پیچھے بیٹھیں ۔ اظہر سیدڈی جی آئی ایس پی آر غصہ دکھانے کی بجائے جیل میں نٹ بولٹ ٹائٹ کرتے بہتر تھا ،بھلے نام کی سہی ۔۔۔ ہے تو منتخب جمہوری حکومت اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ۔نوسر باز بھلے فوجی قیادت کے خلاف دشنام کرتا ہے ہے تو سیاسی جماعت کا سربراہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتا ہے۔جس غصے کا اظہار فوج کے ترجمان نے کیا وہ وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کے زریعے ہوتا بہتر تھا ۔ریاست کے پاس نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے کیلئے پیچ کس سمیت تمام درکار آلات موجود ہیں ۔بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دسترس میں نہیں ملک کے اندر والے تو موجود ہیں ۔جو سیاستدان جھوٹا بیانیہ پھیلاتے ہیں گھڑے کی ان مچھلیوں کو تو پکڑا جا سکتا ہے ۔پکڑیں ،مصالحہ لگائیں ،بھونیں اور کھائیں ۔نوسر باز کی سیاست فوج مخالف بیانیہ پر قائم ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔وہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا

۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بھی ٹھکرا چکا ہے ۔اس سے نپٹنے کیلئے سیاسی طریقے موجود ہیں۔جس شدت کی پریس کانفرنس تھی اس سے بہتر خیبرپختونخوا میں گورنر راج تھا ۔شائد گورنر راج سے کم ردعمل ہوتا اور بوجھ فوج کی بجائے حکومت اٹھاتی۔فوج جنرل عاصم منیر کی نہیں پاکستان کی ہے ۔جو بھی چیف ہو فوج ہمیشہ پاکستان کی ہی رہے گی ۔اس فوج نے پہلے ہی چار براہ راست فوجی حکومتوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے ۔بھٹو اور بینظیر کے بعد عمران کا بوجھ بھی فوج پر آ گیا مستقبل میں زیادہ نقصان ہو گا۔خاموش رہیں ۔جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے چاچو پر بوجھ ڈالیں ۔سیاستدان میسنے بن کر سابقہ اثاثے اور فوج کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا چکے ہیں۔سیاستدانوں نے سیاست کی ہے اسی لئے وہ سیاستدان ہیں ۔پیچھے ہٹ جائیں ۔زمہ داری زرداری اور نواز شریف پر ڈال دیں ۔جمہوریت ہے نہ مستقبل قریب میں آنے کا امکان ہے ۔ڈنڈا چلائیں لیکن پیچھے بیٹھ کر ۔ پردے کی آڑ میں دل کھول کر پٹائی کریں ۔ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔

پیچھے بیٹھیں ۔ اظہر سیدڈی جی آئی ایس پی آر غصہ دکھانے کی بجائے جیل میں نٹ بولٹ ٹائٹ کرتے بہتر تھا ،بھلے نام کی سہی ۔۔۔ ہے تو منتخب جمہوری حکومت اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ۔نوسر باز بھلے فوجی قیادت کے خلاف دشنام کرتا ہے ہے تو سیاسی جماعت کا سربراہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتا ہے۔جس غصے کا اظہار فوج کے ترجمان نے کیا وہ وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کے زریعے ہوتا بہتر تھا ۔ریاست کے پاس نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے کیلئے پیچ کس سمیت تمام درکار آلات موجود ہیں ۔بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دسترس میں نہیں ملک کے اندر والے تو موجود ہیں ۔جو سیاستدان جھوٹا بیانیہ پھیلاتے ہیں گھڑے کی ان مچھلیوں کو تو پکڑا جا سکتا ہے ۔پکڑیں ،مصالحہ لگائیں ،بھونیں اور کھائیں ۔نوسر باز کی سیاست فوج مخالف بیانیہ پر قائم ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔وہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بھی ٹھکرا چکا ہے

۔اس سے نپٹنے کیلئے سیاسی طریقے موجود ہیں۔جس شدت کی پریس کانفرنس تھی اس سے بہتر خیبرپختونخوا میں گورنر راج تھا ۔شائد گورنر راج سے کم ردعمل ہوتا اور بوجھ فوج کی بجائے حکومت اٹھاتی۔فوج جنرل عاصم منیر کی نہیں پاکستان کی ہے ۔جو بھی چیف ہو فوج ہمیشہ پاکستان کی ہی رہے گی ۔اس فوج نے پہلے ہی چار براہ راست فوجی حکومتوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے ۔بھٹو اور بینظیر کے بعد عمران کا بوجھ بھی فوج پر آ گیا مستقبل میں زیادہ نقصان ہو گا۔خاموش رہیں ۔جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے چاچو پر بوجھ ڈالیں ۔سیاستدان میسنے بن کر سابقہ اثاثے اور فوج کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا چکے ہیں۔سیاستدانوں نے سیاست کی ہے اسی لئے وہ سیاستدان ہیں ۔پیچھے ہٹ جائیں ۔زمہ داری زرداری اور نواز شریف پر ڈال دیں ۔جمہوریت ہے نہ مستقبل قریب میں آنے کا امکان ہے ۔ڈنڈا چلائیں لیکن پیچھے بیٹھ کر ۔ پردے کی آڑ میں دل کھول کر پٹائی کریں ۔ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔

*انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب عثمان انور کا بیان*سکول کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائیسنس ٹو کل’ ہے جو دنیا میں کوئی ملک کسی کو نہیں دیتا ہڑتال کا مطلب ہے کہ سکول وینز الٹتی رہیں اور معصوم بچے مرتے رہیں اور کوئی نہ پوچھے، یہ رویہ کوئی مہذب ملک برداشت نہیں کرسکتا والدین کا مطالبہ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے، اسی عوامی اور جانی اہمیت کے مسئلے پر ایک اچھے قدم کی حمایت ہونی چاہیے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، یہ فرض کسی دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گےمہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور ضبط کر لیں گے۔ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ لوگوں اور بچوں کی جانوں کا معاملہ ہے قانون پر عمل درامد کے سوا کوئی چوائس نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔

*انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب عثمان انور کا بیان*سکول کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائیسنس ٹو کل’ ہے جو دنیا میں کوئی ملک کسی کو نہیں دیتا ہڑتال کا مطلب ہے کہ سکول وینز الٹتی رہیں اور معصوم بچے مرتے رہیں اور کوئی نہ پوچھے، یہ رویہ کوئی مہذب ملک برداشت نہیں کرسکتا والدین کا مطالبہ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے،
اسی عوامی اور جانی اہمیت کے مسئلے پر ایک اچھے قدم کی حمایت ہونی چاہیے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، یہ فرض کسی دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گےمہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور ضبط کر لیں گے۔ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ لوگوں اور بچوں کی جانوں کا معاملہ ہے قانون پر عمل درامد کے سوا کوئی چوائس نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔










