تازہ تر ین

پاکستان ترقی کی اڑان بھرنے والا ہے۔۔بھارتی طیارہ تیلاب میں گر کر تباہ 4 ھلاک۔مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی گئی دھمکی دینے والوں کو تباہ کر دیا جائے گا ۔ایمان مزاری اور چٹھہ کی ضمانت منظور۔4 وزراء کے استعفے حکومت کے لئے مشکلات۔۔4 بڑے اور اھم ترین تبادلے اونٹ کی کروٹ۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا دورہ چین ھید اف اسٹیٹ کا پروٹوکول۔۔عرب امارات اپنے انجام کی طرف گامزن پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کی آخری اننگز۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریفڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں،ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے،چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں،اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں،کانکنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں،گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں،پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے بعد دیگراداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہے ہیں،بے لوث قربانیوں، ان تھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہے تو بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہاں موجودگی واقعی بہت اعزاز اور خوشی کی بات ہے،پاکستان اب کامیابی کے احساس اور ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،ہمارے بڑے معاشی اشاریے بہت تسلی بخش ہیں،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،ہمارا پالیسی ریٹ انتہائی بلند سطح 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،ہماری آئی ٹی برامدات تسلی بخش رفتار سے بڑھ رہی ہیں، اگرچہ ہماری مجموعی برآمدات مختلف قسم کا چیلنجز کا سامنا کرتی رہی ہیں اور یقیناً ہمارے سماجی اشاریوں کو مشترکہ کاوش سے بہتر بنانے کی ضرورت ہےتاہم آگے بڑھنے کا راستہ بالکل واضح ہے، پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنا ہوگی،ہم نے اپنے نظام میں بنیادی ڈھانچے جاتی تبدیلیاں لائی ہیں، ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں اور اب اسے مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہے جو کہ کچھ سال پہلے نو فیصد تھی، یہ ایک اہم کامیابی ہے،گزشتہ سال ہماری زرعی برآمدات بہت تسلی بخش رہی ہیں،اب ہم کانکنی اور معدنیات کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر داخل ہو چکے ہیں، ہم نے امریکی کمپنیوں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے لا محدود قدرتی وسائل سے نوازا ہے،یہ قدرتی وسائل اب بھی پاکستان کے شمالی پہاڑوں گلگت بلتستان ازاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دفن ہیں،اب ہم نے برق رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کرپٹو، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برامدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،اس ضمن میں ہم بہت سے جدید آلات لائے ہیں جنہوں نے آئی ٹی برآمدات کو آسان بنایاہے اور ہماری آئی ٹی برآمدات با ضابطہ طور پر سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے ، حکومت پاکستان نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں، نیوٹیک وفاقی سطح کا ایک ادارہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کو جدید تربیت فراہم کرتا ہے، یہ تربیتی پروگرام غیر جانبدار اداروں سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ بھی ہیں، اس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں بہترین ملازمتیں حاصل کر رہی ہے کیونکہ وہ انتہائی قابلیت کے حامل اور بہترین تربیت یافتہ ہیں اور اپنے شعبے کی بین الاقوامی کمپنیوں سے سند یافتہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں اور اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تعاون کی امید ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے نیز آئی ٹی اور اے آئی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہم زراعت، صنعت، کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی میں تیزی سے اڑان بھرنے والے ہیں، ہمارا مستقبل بہت امید افزاء ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے جو پاکستان کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں،

انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، مثال کے طور پر ابھی ہم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کی ہے جو ایک قومی اثاثہ ہے، بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں سے اسے مسلسل خسارےکا سامنا تھا اور اب اسے پاکستان کے نجی شعبے کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے، یہ نجکاری مکمل طور پر شفاف تھی اور نجکاری کے ہر پہلو کو پوری دنیا میں براہ راست دکھایا گیا، اس طرح پوری قوم نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ لین دین کس قدر شفاف تھا اور اس کی شفافیت پر ذرہ برابر بھی کوئی سوال یا اعتراض سامنے نہیں آیا، میرا خیال ہے یہی ہماری پہچان ہے، اب ہم نجکاری کے دیگر اداروں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جن میں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، بجلی کے شعبے کی نجکاری، تقسیم کار کمپنیاں ،ترسیلی لائنیں وغیرہ شامل ہیں تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ نہایت سخت آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں جس پر ہم نے مکمل اور پوری دیانتداری سے عمل کیا ہے، آئی ایم ایف اب ان دنوں خاصی احتیاط کے ساتھ پاکستان کی کامیابی کی مثال کو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب ہمیں ترقی کی جانب بڑھنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز سے عام آدمی کو غیر معیاری اشیاء فراہم کی جاتی تھیں، یہ ادارہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور اس سے ہونے والا مالی نقصان ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی طرح پاسکو کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، یہاں بھی غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے،اسی طرح پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) کو بھی ختم کر دیا گیا، اس دوران مشکلات بھی پیش آئیں، مفاد پرست عناصر کی جانب سے احتجاج کی صورت میں دباؤ بھی آیا لیکن ہم اپنے عزم پر بالکل ثابت قدم رہے کیونکہ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو نہ اپنے ساتھ انصاف ہوتا اور نہ ہی پاکستان کے عوام کے ساتھ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ عمل انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

اور میرا خیال ہے کہ جب تک ہم ان مشکل مگر ناگزیر اقدامات کے ذریعے اپنی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو نہ روکتے ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، میرا خیال ہے کہ یہ سب اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے ، یہ کامیابیاں مشترکہ محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا مطلب سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، اگر ہم اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں چاہے وہ بیرونی ہو یا اندرونی سے نکلنا ہے، اگر ہمیں بے غربت اور بے روزگاری میں کمی لانی ہے اور اگر ہمیں اپنے ملک کو ہر لمحہ خوشحال اور ترقی یافتہ بنانا ہے تو مختلف متعلقہ فریقین کے درمیان ہم آہنگی ،احساس ملکیت اور آگے بڑھنے کے واضح مقصد کا ہونا ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ ترقی کے اعتبار سے اڑان بھرنے ہی والا ہے کیونکہ ہم 24 کروڑ آبادی والا ملک ہیں، ہمارے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے جو ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی ہے، ہم اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ نوجوانوں کو تمام وسائل اور مواقع مہیا کیے جائیں جو ہمارے ملک کو عظیم بنانے میں مددگار ثابت ہوں، راستے میں چیلنجز بھی آئیں گے، سفر ہموار نہیں ہوگا لیکن جب تک ہم بے لوث قربانیوں، انتھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہیں گے، مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم بہت جلد اپنی منزل تک

*ترکیہ نے عالمی “بورڈ آف پیس” میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی*ترک وزیر خارجہ حکان فدان ڈیووس میں *“بورڈ آف پیس”* اجلاس میں ترکیہ کی نمائندگی کریں گے عالمی امن کے لیے ترکیہ کا فعال سفارتی کردار، *حکان فدان*ڈیووس فورم میں امن و استحکام پر اہم مشاورت متوقع، ترک وزیر خارجہ

*بورڈ آف پیس – پاکستان کی تزویراتی اہمیت*پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ پہلے بھی کئی ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے اور مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ اس کے اہم مقاصد درجہ ذیل ہیں – 1. اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرادادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا مستقل حل – 2. مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو- 3. غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے بعد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ، ایک الگ ریاست کا قیام اور فلسطین کے مسلمانوں کی حق خودارادیت – 4. خطے میں پائیدار امن کی بحالی -*بورڈ آف پیس میں شمولیت کی تاریخی اہمیت اور ضرورت* 1. یہ قدم اہم اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں رونما ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے – 2. پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے- 3. دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور دھڑے بندیوں(Blocs) کی وجہ سے کثیر اُلجہتی Platforms میں پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے – 4. پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقت ور Power Centres جیسے کہ امریکہ ، چین ، روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے – اس انفرادیت کے پیش نظر پاکستان کا کردار مختلف Blocs میں بٹی دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے -*پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی اہمیت* 1. پاکستان Bloc Politics کا حصہ نہ ہوتے ہوئے تمام بین الاقوامی stakeholders کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے اپنی تزویراتی خودمختاری کے حصول میں مدد دیتا ہے – 2. پاکستان نے ہمیشہ غیر جانب دارانہ Foreign Policy کے ذریعے ایک توازن اور لچکدار خارجہ پالیسی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے – 3. پاکستان نے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے چین ، ہندوستان ، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کیے اور ان معاملات میں اپنے اصولی مؤقف کو ہمیشہ مد نظر رکھا – 4. ہندوستان کے معاملے میں پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے باوجود ایک با اصول اور غیر لچکدار پالیسی اختیار کی – 5. پاکستان نے غزہ اور کشمیر کے تنازعات پر بھی تسلسل سے ایک اصولی مؤقف اپنایا – اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ، اس سے جڑے تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل- بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام ، القدس الشریف کا ایک آزاد فلسطین ریاست کا بطور دارالحکومت کا قیام ، پاکستان کے وہ اصولی مؤقف ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر متزلزل رہی ہے – 6. اِسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور اس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا “جزو لا ینفک” رہا ہے – 7. دنیا کو درپیش تقسیم کے رجحان کے تناظر میں وجود میں آنے والے نئے Forums کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی Relevance کی بقا کے لیے خطرناک ہے – 8. اسلامی دنیا کی اہم ترین عسکری طاقت کے حامل ملک کے لئے ایسے Forums سے صرف نظر کرنا تزویراتی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے – 9. دور حاضر میں پاکستان نے اپنی ساکھ بین الاقوامی معاملات میں ایک مثبت شراکت سے برقرار رکھی ہے – اقوام متحدہ کی بحالی امن فوج میں شمولیت اس کی ایک اہم مثال ہے – 10. پاکستان لفاظی پر نہیں بلکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لئے متحرک رہا ہے – 11. پاکستان کو خاموش تماشائی دیکھنے کے متمنی ایک مفلوج ذہن کے تابع ہیں – ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کے محور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہے ہیں ، پاکستان کا متحرک کردار ایک تزویراتی ضرورت بن کر ابھرا ہے اور اس کردار کو نظر انداز کرنا ہمارے قومی مفادات سے تصادم ہے -*انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) اور بورڈ آف پیس کا تقابلی جائزہ* 1. حکومت پاکستان نے ISF میں شمولیت سے متعلق ایک واضح اور غیر مُبہم نقطہ نظر اپنایا ہے جس کی توثیق حکومت نے کئی دفعہ کی ہے – 2. آئی ایس ایف (ISF) میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد ، اقوام متحدہ کے mandate ، پاکستان اور فلسطین کی عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہوگا – 3. بورڈ آف پیس اور ISF میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے ایک گمراہ کن کوشش کا تسلسل ہے –

کیا آپ جانتے ہیں 1) پرندے پیشاب نہیں کرتے۔2) گھوڑے اور گائے کھڑے ہوکر سوتے ہیں۔3) چمگادڑ واحد ممالیہ جانور ہے جو اڑ سکتا ہے۔ چمگادڑ کی ٹانگوں کی ہڈیاں اتنی پتلی ہوتی ہیں کہ کوئی چمگادڑ چل نہیں سکتا۔4) سانپ کی آنکھیں بند ہونے پر بھی وہ اپنی پلکوں سے دیکھ سکتا ہے۔5) قطبی ریچھ کی کھال کی سفید، تیز شکل کے باوجود، اس کی جلد کالی ہوتی ہے۔6) اوسط گھریلو مکھی صرف 2 یا 3 ہفتوں تک زندہ رہتی ہے۔7) دنیا میں ہر انسان کے لیے 10 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔😎 بچھو پر تھوڑی مقدار میں شراب ڈالنے سے وہ پاگل ہو جائے گا اور خود کو ڈنک مار کر موت کے گھاٹ اتار دے گا!9) مگرمچھ اور شارک 100 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔10) شہد کی مکھی کے دو پیٹ ہوتے ہیں ایک شہد کے لیے، دوسرا کھانے کے لیے۔11) ہاتھیوں کا وزن نیلی وہیل کی زبان سے کم ہوتا ہے۔ نیلی وہیل کا دل ایک کار کے سائز کا ہوتا ہے۔12) نیلی وہیل زمین پر گھومنے والی سب سے بڑی مخلوق ہے۔13) کاکروچ بھوک سے مرنے سے پہلے اپنے سر کے بغیر تقریباً ایک ہفتہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔14) جب ایک ڈولفن بیمار یا زخمی ہوتا ہے، تو اس کی کراہت دیگر ڈالفنوں سے فوری مدد طلب کرتی ہے، جو اسے سطح پر سہارا دینے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ وہ سانس لے سکے۔15) ایک گھونگا 3 سال تک سو سکتا ہے۔16) تیز ترین پرندہ، ریڑھ کی دم والا سوئفٹ، 106 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔ (پیریگرین فالکن دراصل 174 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 108 میل فی گھنٹہ ہے)17) ایک گائے اپنی زندگی میں تقریباً 200,000 گلاس دودھ دیتی ہے۔18) جونک کے 32 دماغ ہوتے ہیں۔19) صرف بیرونی بلی کی اوسط عمر تقریباً تین سال ہوتی ہے۔ صرف انڈور بلیاں سولہ سال اور اس سے زیادہ زندہ رہ سکتی ہیں۔20) شارک واحد جانور ہیں جو کبھی بیمار نہیں ہوتے۔

وہ کینسر سمیت ہر قسم کی بیماری سے محفوظ ہیں۔21) مچھر کے پروبوسکس کی نوک پر 47 تیز دھار ہوتے ہیں جو اسے جلد اور حتیٰ کہ لباس کی حفاظتی تہوں کو کاٹنے میں مدد دیتے ہیں۔22) انسانی دماغ کی میموری کی جگہ 2.5 ملین پیٹا بائٹس سے زیادہ ہے جو کہ 2,500,500 گیگا بائٹس ہے۔*علم کلید ہے* *وہ کون سا حیاتیاتی رجحان ہے جو انسان کے بڑے ہونے پر پٹھوں کے بڑے پیمانے، طاقت اور افعال کے بتدریج نقصان میں ظاہر ہوتا ہے؟*یہ *Sarcopenia* کے نام سے جانا جاتا ہے!*سرکوپینیا* پٹھوں کے بڑے پیمانے، طاقت اور کام کا بتدریج نقصان ہے… عمر بڑھنے کے نتیجے میں ہڈیوں کے پٹھوں کے بڑے پیمانے اور طاقت کا نقصان… صورتحال خوفناک ہو سکتی ہے، فرد پر منحصر ہے۔آئیے *سرکوپینیا* سے بچاؤ کے متعدد طریقے تلاش کریں اور ان کا تجزیہ کریں:1. عادت ڈالیں، اگر آپ کھڑے ہونے کے قابل ہیں… صرف نہ بیٹھیں، اور اگر آپ بیٹھ سکتے ہیں تو لیٹ نہ جائیں!2. جب بھی کوئی بوڑھا شخص بیمار ہوتا ہے، اور ہسپتال میں داخل ہوتا ہے، تو اس سے مزید آرام کے لیے نہ پوچھیں، یا لیٹنے، آرام کرنے اور/یا بستر سے نہ اٹھنے کے لیے… یہ مددگار نہیں ہے۔ چہل قدمی کرنے میں ان کی مدد کریں… سوائے اس کے کہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت کھو دیں۔ایک ہفتے تک لیٹنے سے پٹھوں کی کم از کم 5% کمی ہوتی ہے! اور بدقسمتی سے، بزرگ نقصان کے پٹھوں کو بحال نہیں کر سکتے ہیں!عام طور پر، زیادہ تر بزرگ/بزرگ جو معاونین کی خدمات حاصل کرتے ہیں وہ فعال افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پٹھوں کو کھو دیتے ہیں!3. *سرکوپینیا* آسٹیوپوروسس سے زیادہ خوفناک ہے!آسٹیوپوروسس کے ساتھ، کسی کو صرف محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ گر نہ جائیں، جبکہ سارکوپینیا نہ صرف زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ پٹھوں کی ناکافی مقدار کی وجہ سے ہائی بلڈ شوگر کا سبب بھی بنتا ہے!4. پٹھوں کا سب سے تیزی سے نقصان (ایٹروفی) ٹانگوں کے پٹھوں میں سستی سے ہوتا ہے…کیونکہ جب بیٹھنے یا لیٹنے کی حالت میں، ٹانگیں حرکت نہیں کرتی ہیں، اور ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت براہ راست متاثر ہوتی ہے… یہ خاص طور پر انتہائی توجہ دینا ضروری ہے!سیڑھیاں چڑھنا اور نیچے جانا… پیدل چلنا، دوڑنا اور سائیکل چلانا تمام بہترین ورزشیں ہیں، اور یہ پٹھوں کے بڑے پیمانے کو بڑھا سکتی ہیں!بڑھاپے میں زندگی کے بہتر معیار کے لیے… حرکت کریں… اور اپنے پٹھوں کو ضائع نہ کریں!!بڑھاپا پاؤں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے!اپنے پیروں کو متحرک اور مضبوط رکھیں!! ▪️ جیسے جیسے ہم روزانہ کی بنیاد پر بڑے ہوتے ہیں، ہمارے پیروں کو ہمیشہ متحرک اور مضبوط رہنا چاہیے۔اگر آپ صرف 2 ہفتوں تک اپنی ٹانگیں نہیں ہلاتے ہیں تو آپ کی ٹانگوں کی حقیقی طاقت 10 سال تک کم ہو جائے گی۔لہذا، *باقاعدہ ورزشیں جیسے پیدل چلنا، سائیکل چلانا وغیرہ بہت اہم ہیں*۔پاؤں ایک قسم کے کالم ہیں جو انسانی جسم کا سارا وزن اٹھاتے ہیں۔ *_روز چہل قدمی کریں!_*

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved