تازہ تر ین

پاکستان میں حملے طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہے ، خواجہ آصف۔۔کینٹ بورڈ کا نیا فراڈ جاری۔۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے، شیخ حسینہ واجد کی پارٹی بھی پابندی! شیخ حسینہ بھارت کے اشاروں پر ناچ رہی تھیں۔جماعت اسلامی کو کتنے ووٹ پڑے؟ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں چالیس سال قبل جس مذہبی بنیاد پرستی کی بنیاد رکھی اسے ختم کرنے کیلئے آج اقدامات شروع کئے جائیں ختم ہوتے ہوئے چالیس سال لگیں گے۔۔ایران پر حملہ توقعات سے پہلے ہوسکتا ہے اسرائیل امریکی بحری قوت کو غرق کردیں گے آیت اللہ خامنہ ای۔۔امریکہ ایران پر حملے کے لئے تیار۔۔تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی

2008 میں ایسٹیبلشمنٹ نے پی پی پی کے جن الیکٹیبلز کو نیب ۔ ایف آئی اے اور ان کی بیٹیوں ۔ نواسیوں کے تعلیم اداروں میں غنڈے بھجوا کر یا لالچ اور طمع کی بنیاد پر پی پی پی سے الگ کیا تھا ۔ انہیں پی پی پی میں واپسی کی اجازت بظاہر دی جا رہی ہے ۔ تصور کیجئے الیکشن 2024 سے پہلے 35/40 موجود اور سابق ارکان اسمبلی یکمشت پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے تو الیکشن کی ہوا بدل جاتی ۔ پرسپشن بدل جاتا اور پیپلز پارٹی مقابلہ میں آ کھڑی ہوتی ۔لیکن اس وقت صدر آصف علی زرداری نے عاصمہ شیرازی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی کے آزاد ارکان سے ڈر نہیں لگتا ۔ پیپلز پارٹی سے ڈر لگتا ہے ۔ اس وقت کی پالیسی یہ تھی کہ پی ٹی آئی کے لوگ جیت جائیں ۔ مگر آزاد بنیاد پر جیتے جنہیں ریوڑ کی طرح ہانکنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی پیپلز پارٹی کے ڈسپلن میں اگر لوگ جیتیں گے تو پیپلز پارٹی کو پالیسی بنانے اور ڈکٹیٹ کروانے سے روکنا ممکن نہیں رہے گا ۔اس سب کچھ سے حافظ صاحب کو ریاستی مقتدرہ کو اور ریاست پاکستان کو کیا حاصل ہوا یہ فیصلہ کرنا اپ کا کام ہے ۔ہم تو یہی بتا رہے ہیں ۔ دکھا رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ 2013 کے بعد آپ دنیا کی نظر میں دو ٹکے کے ہو گئے ہو ۔ آپ کی کرنسی دو ٹکے کی ہو گئی ہے ۔ آپ کی معیشت دنیا میں 170 نمبر پر جا پڑی ہے اور انڈیا سے ایک بڑی جنگ اور معرکہ جتنے کے باوجود اپ کی معیشت کو ایک روپیہ کا فائدہ نہیں ہوا ۔ حالانکہ آپ مبینہ طور پر 128 ملکوں سے دفاعی معاہدے کر چکے ہو اور چھ ہزار سے زیادہ جے ایف تھنڈر بھی بیچ چکے ہو

۔ لیکن پھر آپ کو تنخواہ دینے کے لیے ہر بار پانچ روپے پٹرول گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانا پڑتی ہے۔سچ محض یہ ہے کہ راج نیتی صرف سیاستدان ہی جانتے ہیں ۔ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی ائی یا پیپلز پارٹی کے تمام مخالف جب بھی اقتدار میں لائے جاتے ہیں ۔ ٹینڈر اور پوسٹنگ ٹرانسفر پر دہاڑی لگانے کائی کرنے اور ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے ۔دیکھتے ہیں اب بھی اسٹیبلشمنٹ کب پیپلز پارٹی کی پالیسی کا بوجھ اٹھانے کے لائق ہوتی ہے یا اس امر پر قائل ہوتی ہے آج تک بظاہر نہیں ہے ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعلان ایچ ای سی کے نئے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد نے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی ہدایت پر اعلیٰ تعلیمی شعبے میں پالیسی سازی، معیارِ تعلیم، تحقیق اور انتظامی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اعلیٰ سطح کے عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کیا۔اسٹریٹجک پلاننگ کے رکن، کوالٹی اشورنس کے رکن اور ریسرچ، ڈیویلپمنٹ و انوویشن کے رکن کی تقرری 2 سال کے لیے کی جائے گی، جس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ان تمام عہدوں کے لیے تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ (تمام مراعات سمیت) مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہر عہدے کے لیے ایک ایک آسامی مختص ہے۔اسٹریٹجک پلاننگ اور کوالٹی اشورنس کے ارکان کی تعیناتی اسلام آباد اور پنجاب میں ہوگی، جبکہ ریسرچ، ڈیویلپمنٹ و انوویشن کے رکن کی تعیناتی کراچی میں کی جائے گی۔ان عہدوں کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 62 سال مقرر ہے۔ ان عہدوں کے لیے امیدوار کے پاس کسی بھی شعبے میں پی ایچ ڈی اور کم از کم 20 سال کا نمایاں تجربہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں یا سرکاری و نجی شعبے میں قیادت، پالیسی سازی، اسٹریٹجک پلاننگ، پروگرام مینجمنٹ اور گورننس کا تجربہ بھی شرط ہے۔ایچ ای سی نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (ناہے) کے لیے منیجنگ ڈائریکٹر کی اسامی کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ عہدہ بھی 2 سالہ معاہدے پر ہو گا، جس کے لیے تنخواہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ اس عہدے کے لیے اعلیٰ ڈگری، تعلیمی قیادت، ادارہ جاتی ترقی، انسانی وسائل کی تربیت، گورننس، ڈیجیٹل لرننگ، بین الاقوامی تعاون اور تعلیمی اصلاحات کا وسیع تجربہ رکھنے والے امیدوار اہل ہوں گے۔اس کے علاوہ اکیڈمکس کے رکن کی ایک مستقل اسامی بھی مشتہر کی گئی ہے، جس کے لیے بی پی ایس-22 اسکیل مقرر ہے۔ اس عہدے کے لیے کم از کم عمر 45 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر 55 سال رکھی گئی ہے، جبکہ امیدوار کے پاس پی ایچ ڈی اور کم از کم 22 سال کا تدریسی، تحقیقی یا انتظامی تجربہ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، اس اسامی کے لیے کوٹہ پنجاب کا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق درخواستیں صرف آن لائن جمع کروائی جا سکتی ہیں اور درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 مارچ 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ نامکمل یا مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ صرف اہل امیدواروں کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا، جبکہ سرکاری ملازمین مناسب چینل کے ذریعے درخواست جمع کرائیں گے,بادبان نیوز

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت صوبائی محکموں کی سروس ڈیلیوری کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سترہ محکموں کی انٹرونشنز اور درپیش رکاوٹوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔🔹 وزیرِاعلیٰ نے موسمِ بہار شجرکاری مہم کو تاریخ کی سب سے بڑی صوبائی شجرکاری سرگرمی بنانے کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت دی۔🔹 شجرکاری مہم میں سرکاری ملازمین، طلبہ اور سول سوسائٹی کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔🔹 سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں میں پھل دار پودے لگانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 سروس ڈیلیوری کو عوامی توقعات کے مطابق بنانا حکومت کا حتمی مشن قرار دیا گیا۔🔹 ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکج کی تیاری اسی ماہ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 سرکاری اسپتالوں میں کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی مقررہ مدت تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی

۔🔹 کمراٹ اور ہنگو سروزئی روڈ پر تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 جنوبی اضلاع کے ڈی ایچ کیوز اور ریجنل ڈی ایچ کیوز میں میموگرافی سروسز شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری سو فیصد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔🔹 تاخیر کا شکار امور کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے غیر روایتی حل اپنانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 تمام صوبائی محکموں کو آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔🔹 گڈ گورننس روڈ میپ کے مڈ ٹرم اقدامات رواں سال جون تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 احساس اپنا گھر پروگرام کو فاسٹ ٹریک پر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔🔹 صوبے میں خراب اور غیر فعال ٹیوب ویلز کو فوری طور پر فعال بنانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی مزید بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔🔹 بریفنگ میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت سترہ محکموں کی تین سو ستائیس انٹرونشنز میں سے سینتالیس مکمل جبکہ ایک سو انتالیس آن ٹریک ہیں۔🔹 گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت دو سو اٹھسٹھ مائل اسٹونز کی نشاندہی کی گئی ہے۔🔹 بریفنگ کے مطابق دو سو ستاسٹھ مائل اسٹونز میں سے نوے مکمل جبکہ تین آف ٹریک ہیں۔🔹 وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے نفاذ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

–محمد شہباز شریف۔۔۔بورڈ آف پیس اجلاس خطابدیر پا امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملنا چاہیئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطابواشنگٹن ۔19فروری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزاد اورخود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیر پا امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملنا چاہیئے، صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی،انہوں نے حقیقت میں جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت ان کے لئے باعث افتخار ہے ،غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے۔ وزیراعظم نے دنیا بھر میں تنازعات کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے مثالی اور قائدانہ کردار کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے دنیا بھر میں قیام امن کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کیلئے ان کی بر وقت اور موثر مداخلت کی وجہ سے کروڑوں جانیں بچائی گئی ہیں، صدر ٹرمپ نے حقیقی طور پر جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام طویل عرصے سے غیر3 قانونی قبضے اور بے پناہ مشکلات کا شکار ہیں، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہوں، تعمیر نو سے پہلے لوگوں کے جانوں کا تحفظ کیا جائے ،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملے اور اور ان کے مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے اور ان قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیئے۔آزاد اورخود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بصیرت افروز اور شاندار قیادت میں فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل نکلے گا۔ آج کا دن تاریخ میں اس لحاظ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ صدر ٹرمپ کی حمایت اور عظیم کوششوں کے نتیجے میں غزہ میں پائیدار امن حاصل ہو گا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے ،سعودی عرب ترقی اور خوشحالی کے ہدف کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا،متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے کردار ادا کرے گا،ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے کہا کہ مسئلے کے پرامن حل کے ساتھ یکطرفہ اقدامات کی روک تھام ناگزیر ہے ،بنیادی ڈھانچے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن اور تعمیر نو کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ہم اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے۔رکن ممالک کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سمیت 20 ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، بورڈ آف پیس کے اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور ان کے درمیان خوشگوار جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔صدر ٹرمپ نے تقریب میں شریک رکن ممالک کے رہنماؤں سے فرداً فرداً

امریکی فوج ہفتے کے روز ایران پر حملہ کرسکتا ہے اسرائیل کے فضائی دفاعی اداروں اور امریکی انٹیلیجنس میں معلومات کا تبادلہ ایران نے آج دو گھنٹے کے لئے فضائی حدود بند کردیں آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی جنگی مشقیں امریکا کے بعد چین اور روس بھی خیلج فارس میں پہنچ گئے روس ایران فوجی مشقیں بھی شروع ہونے والی ہیں ایران پر حملہ توقعات سے پہلے ہوسکتا ہے اسرائیل امریکی بحری قوت کو غرق کردیں گے آیت اللہ خامنہ ای

3شان بے نیازی دیکھنی ہو تو بڑے بیوروکریٹس کی دیکھئے ۔ یہ جس بھی وزیراعظم یا وزیر کے ساتھ ہوتے ہیں اس میں سو پونڈ ہوا بھر دیتے ہیں جب ذیادہ ہوا سے وہ برسٹ ہو کر (اپنی حرکتوں کے باعث) اقتدار سے بے دخل ہونے لگتے ہیں تو یہ عین موقع پر شان بے نیازی سے ان سے الگ ہو جاتے ہیں اور آنے والے متوقع سیاسی یا فوجی حکمران کے ساتھ چپک جاتے ہیں ۔سعید مہدی کی کتاب کا چرچا بہت ہے جس سے مجھے وہ لمجہ یاد آگیا جب بارہ اکتوبر کی شام نوازشریف جنرل مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاءالدین کو چیف بنا چکے تھے کھینچا تانی جاری تھی ہم چند رپورٹر پی ٹی وی جا پہنچے ۔ گیٹ اندر سے بند تھے اور اسلام آباد پولیس کے چند جوان ڈیوٹی پر مامور تھے کہ کسی کو اندر نہیں آنے دینا ۔ چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ ایک فوجی ٹرک آیا اور دس بارہ فوجی جنہیں ایک کپتان لیڈ کر رہا تھا نیچے اترے ان میں سے ایک گیٹ کے اوپر چڑھا اور اندر اتر کر گیٹ کھول دیا ۔ پولیس معصومیت سے ایک طرف سمٹ گئی اور رستہ چھوڑ دیا۔

مجھے سمجھ آگئی کھیل ختم ۔میں میریٹ کی طرف بڑھا تو فٹ پاتھ پر ایک شناسا چہرہ نظر آیا جو سر جھکائے تیز قدموں سے چلتا نظر آیا ۔ ابھی اندھیرا پوری طرح نہیں چھایا تھا اور سٹریٹ لائٹ بھی پوری طرح روشن تھی ۔ قریب گیا تو سعید مہدی تھے نواز شریف نے پی ٹی وی کو مورچہ ان کے حوالے کیا تھا کہ جنرل مشرف کی برطرفی اور نئے چیف کی خبر چل جائے اور وہ معاملات کو کنٹرول میں رکھیں ۔ فوج کے آتے ہی سعید مہدی پی ٹی وی کے چور دروازے سے نکل کر “شان بے نیازی” سے گھر کی طرف چل دئے تھے۔یہ بیورو کریٹ جب ریٹایڑ ہو جائیں تو کتاب لکھتے ہوئے اپنے آپ کو انتہائ ایماندار، اصول پسند اور میرٹ کے پابند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مجھے آج تک ایک بھی صاف گو بیوروکریٹ نہیں ملا جس نے اپنی کتاب میں یہ اعتراف کیا ہو کہ اس بدبخت کا بھی اس بربادی میں ہاتھ ہے احباب ناراض نہ ہوں لیکن قدرت اللہ شہاب نے اس کی ابتداء کی ، سب کو غلط لکھا اور خود کو فرشتہ ۔ اگر حکمرانوں کے چرنوں میں ایسے فرشتے موجود تھے تو پھر ہم تباہی کے رستے پر کیسے چلتے رہے اور یہ شانڑے استعفیٰ دے کر گھر کیوں نہیں چلے گئے ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved