تازہ تر ین

اسرائیل بھارت اورامریکہ کا تہران پہ حملہ صدارتی ھاوس تباہ ایرانی صدر جان بحق بادبان ٹی وی رپورٹ۔۔ایران بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، وزارتِ صحت کا ہائی الرٹ جاری، ایرانی میڈیا۔۔ ایران میں حملے فوجی اہداف پر مرکوز ہیں، امریکی عہدیدار کی سی این این سے گفتگو۔۔ ایرانی حکام نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ retaliation کی تیاری کی جا رہی ہے۔ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام کو توقع ہے کہ یہ حملہ ‘گزشتہ جون میں ہونے والے امریکی حملوں سے کہیں زیادہ وسیع’ ہوگا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب معاملات جس نیج پر پہنچ گئے ہیں اس کے کچھ اور نتائج نکلیں گے۔پاکستان اور افغانستان کی ایک لمبی جنگ تو طے تھی، مگر اس قدر جلدی ہونا یہ ایک سوال ہے جنگ کے طے ہونے کی بینادی وجوہات میں سے بڑی وجہ افغانستان کا پاکستان میں جیو اکنامک انٹرسٹ ہے افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت ہو یا پھر غیر افغان طالبان کی حکومت ہو انھوں نے ہمیشہ یہی لمبی جنگ چاہی ہے اور پاکستان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس سے گریز کیا ہے اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی فارن پالیسی تھی کہ پاکستان مسلم ممالک کیخلاف جنگ نہیں لڑے گا مگر اب کی صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ جنگ کرنا لازمی ہوگیا تھا۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان بننے کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستانی کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا تھا، اس کے بعد 1950 اور1951 میں افغان قبائل اور باقاعدہ افغان فوج نے پشتونستان کے نام پر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں شروع کیں جسے پاکستان کی جانب سے پسپا کیا گیا تھا اس کے بعد 1960اور 1961میں افغان فوج نے باجوڑ ایجنسی پر حملہ کیا،حملے کا اصل مقصد علاقے پر قبضہ کرنا تھا۔پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور فضائیہ سے ائیر سٹرائیک کی تو افغان فوج کو پیچھے دھکیل دیا گیا

۔دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بھی منقطع ہو گئے تھے۔جب افغان طالبان کا دور حکومت آیا تب انھوں نے حملے نہیں کئے تھے کیونکہ پاکستان نے ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، 2007 کے بعد پاکستان کے اندر مسلسل حملے شروع ہوئے پھر 2016 میں تورخم میں جھڑپ ہوئی۔ افغان طالبان کے جنگجوؤں نے ڈیورنڈ لائن پر لگی باڑ کو اکھاڑنے کی کئی بار کوشش کی، دسمبر 2022 میں افغان فورسز نے چمن پر بلا اشتعال گولہ باری کی، جس میں کئی پاکستانی شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے، ستمبر 2023 اور پھر 2024 میں کئی بار سرحدی چوکیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔اس کے بعد پاکستان نے مذاکرات کا دور شروع کیا پاکستان سے اہم شخصیات کو بھیجا گیا، مگر نتائج کچھ نہیں نکلے۔افغانستان میں امریکی موجودگی ایک سیکیورٹی بلاک تھی، تب تک ایسے حملے نہیں ہوئے۔2021 کے بعد امریکی انخلاء کی وجہ سے ساؤتھ ایشیا میں ایک بڑی جیو پولیٹکس کی شفٹنگ آئی تو افغان طالبان کو لگا کہ وہ اپنے مقاصد پورے کر لیں گے اور وہ اس خطے میں اہم سیکٹر ہیں۔ روس نے افغانستان کو تسلیم کیا،چائنہ اپنا روڈ اینڈ بلٹ انیشٹیو کو سینٹرل ایشائی ممالک میں پھیلانے کیلئے بات چیت کرنے لگا اور انڈیا نے دوبارہ افغانستان میں اثر ورسوخ بڑھانا شروع کیا۔تو افغان طالبان کو محسوس کہ وہ اب اس خطے میں ایمیت رکھتے ہیں اور وہ ایک سٹیک ہولڈر بن گئے ہیں تو انھوں نے پاکستان کیخلاف کام کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان نے کئی ممالک کو میڈیٹر بنایا اور مذاکرات کی ٹیبل پر گراؤنڈ بنایا۔

افغان طالبان کو محسوس ہونے لگا کہ وہ سٹیک ہولڈر ہیں،ان کے پاس امریکی انخلاء والا اسلحہ ہے، انٹرنیشنل و لوکل لیول کے دہشت گرد موجود ہیں ، متحدہ عرب امارات، قطر اور انڈیا کی فنڈنگ بھی آ رہی ہے امریکہ سے امدادی رقم بھی پہنچ رہی ہے اور اس کا 60 سے 65 فیصد سیکیورٹی پر لگ رہا ہے تو وہ اب مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں تو انھوں نے جنگ کا راستہ چنا۔ خوش فہمی اکثریت میں مروا دیتی ہے۔پاکستان کو جب محسوس ہو کہ افغان طالبان ہمارے کیخلاف تیار ہو رہے اور ہمارے علاقوں کو اپنا نیشنل انٹرسٹ سمجھ رہے ہیں تو گراؤنڈ بنایا گیا،آج خواجہ آصف بھی تھوڑا کھل کر سامنے آیا اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو کھل کر چیلنج دیا کہ سچ بتاؤ ہم نے تم کو پالا ہے یا امریکہ نے تمہارے ذمے جو کام لگایا تھا آپ لوگ وہی کر رہے تھے قوم کو سچ بتاؤ۔ افغان طالبان کئی ممالک کی ثالثی کے باوجود باز نہیں آئے۔بنوں میں کرنل کو مار دیا پھر دھماکے کرنا شروع کر دیئے،افغان طالبان کو محسوس ہوا کہ پاکستان پہلے کی طرح نارمل ردعمل دے گا اور ہم اپنا اثرورسوخ بڑھاتے جائیں گے۔پاکستان نے اس بار لمبی جنگ جو طے تھی اس میں جانے کا فیصلہ کیا۔اور افغان طالبان کو تب عقل آئی جب انڈیا کے علاوہ کسی ملک نے پاکستان کی ائیر سٹرائیک کی مذمت نہیں کی۔ یہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ تھا۔جس کی افغان طالبان ، انڈیا ، قطر اور متحدہ عرب امارات کو بھی توقع نہیں تھی۔پاکستان نے امریکہ کو اعتماد میں لیا،ترکیہ اور سعودی عرب کو پہلے اعتماد میں لے چکے تھے قطر نے پاکستان کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اس فل سکیل وار میں نہ جائیں۔پاکستانی وزیر خارجہ سعودی عرب میں بیٹھا تھا جب پاکستان فل سکیل وار میں چلا گیا۔سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کو ہر ممکنہ مدد فراہم کر رہے ہیں ایران بھی پاکستان کیساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کر رہا ہے کیونکہ افغان طالبان تمام ممالک کیلئے سر درد بن چکے تھے۔ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے افغان دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جس میں کئی افغانی مارے گئے۔پاکستان تب تک جنگ بندی یا مذاکرات کیطرف نہیں جائے گا جب تک تمام اہداف مکمل نہیں کئے جاتے۔ تحریر:فرحان ملک

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved