
پاکستان کا تجارتی خسارہ 25% فیصد اضافے کے ساتھ 25.4 ارب ڈالر پہ پہنچ گیا ملک میں کاروبار بند ہو رہے ہیں برآمدات میں مسلسل کمی باہر سے آرڈر ملنے بند ہو رہے آئندہ چند ماہ بعد یہ خسارہ مزید بڑھے گا
ہمارے نامزد نوبیل انعام کے اُمیدوار ٹرمپ نے ہمارا دیوالیہ نکال دینا ہے۔قطر نے پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی کا معاہدہ معطل کر دیا ہے۔پاکستان نے دوحہ میں قائم ’قطر انرجی‘ کے ساتھ 5 ارب 60 کروڑ ڈالر کے ایل این جی کے معاہدے کر رکھے ہیں۔چونکہ پاکستان میں قدرتی گیس کی کھپت زیادہ ہے اور مقامی پیداوار کم ہے تو ہر ماہ قطر سے 9 کارگو جہاز ایل این جی لے کر آتے ہیں۔یہی گیس کارخانوں اور عام صارفین کو فراہم کی جاتی ہے۔اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے، جواب میں ایران نے قطر پر میزائل اور ڈرون داغے۔ایل این جی کی پیداوار متاثر ہوئی۔ ’قطر انرجی‘ نے پیداوار کم کی۔ اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے معاہدوں کی شق ’فورس میجیور‘ کا اعلان کیا۔بین الاقوامی قوانین کے تحت معاہدوں کی اس شق کا مطلب ہوتا ہے کہ ’ایسے حالات جو ہمارے قابو میں نہ ہوں۔‘اب آبنائے ہُرمز بند ہے۔ تیل اور ایل این جی کے جہاز وہاں سے نہیں آ رہے۔ جن ملکوں کے پاس ’کھرے ڈالر‘ پڑے ہیں وہ تو عالمی مارکیٹ سے اپنے لیے تیل و گیس خرید لیں گے مگر پاکستان کے پاس ایسا کچھ نہیں۔ٹرمپ کی ’ایران جنگ‘ ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا کر چکی ہے۔ مگر یاد رکھیں ہمارے وزیراعظم شہباز شریف ابھی ہفتہ دس دن قبل ہی امریکی صدر کو ’مین آف پیس‘ قرار دے چکے ہیں۔

یہ ہیں سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچز اور ان کی ایک دن کی زندگی عرب لیڈران کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے اس ملک میں روزگار کے لئے میں رہائش پزیر ہوں اب سنیں انہوں کیا کام کیا امریکہ کے جہازوں کو اپنی ایئر بیس استعمال کرنے سے نہ صرف روک دیا بلکہ سپین سے نکل جانے کا بھی کہہ دیا اور صاف بولا کہ ایران پر حملے کے لئے آپ ہماری فضائی حدود اور ایئر بیسز استعمال نہیں کرسکتے کمال ہے یار کمال

*تیل سپلائی: سعودیہ کا ہنگامی ضرورت کے پیش نظر پاکستان سے بھرپور تعاون جاری رکھنے کا عزم**وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے ملاقات کی، بحیرہ احمر میں واقع بندرگاہ یانبو کے ذریعے سپلائی کی سکیورٹی کی یقین دہانی*










