
اسلام آباد:پاکستان میں برطانیہ کی سفیر جین میریٹ کی اسلام آباد میں جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد جین میریٹ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پاکستان اور خطے کی سیاسی و سیکورٹی صورتحال پر بات چیت رہنماؤں میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت پاکستان افغانستان،اسرائیل/امریکہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی سیکورٹی صورتحال پر بات چیت پاک برطانیہ تعلقات بڑھانے پر اتفاقامیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا برطانیہ سے خطے میں سکیورٹی صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہہم اس حوالے سے ان تمام ممالک سے رابطے میں ہیں اور اپنا سفارتی کردار ادا کررہے ہیں،جین میریٹملاقات میں انجنئیر ضیاء الرحمان اور برطانوی پولیٹیکل قونصلر بھی موجود تھے۔

“عدلیہ نے وہی کیا جو پچھلے 3 سال سے کررہی ہے،ایک بار پھر عدلیہ نے اپنا اصل چہرہ دکھادیا۔۔ جج سے استدعا کی کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے، جج نے دوران سماعت ہماری تمام باتوں سے اتفاق کیا کہ یہ عمران خان کا بنیادی حق ہے،انکے سارے ٹیسٹ ہونے چاہئیں اور یہ بھی پتہ چلنا چاہئے کہ کلاٹ کیسے آیا؟ لیکن پھر سماعت میں وقفہ آیا ، جج صاحب 15 منٹ کیلئے اندر چلے گئے اور انہیں لکھا لکھایا فیصلہ آگیا”۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے_*وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر عزت مآب پرنس سعود بن مشعل بن عبد العزیز ، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق ، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان سے کے درمیان ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہو گیاس دورہ سے پاکستان کا سفارتی میدان میں مثبت کردار واضح ہو رہا ہے اور پاکستان یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔__
دنیا بدل گئی ہے ۔ اظہر سید امریکہ کو کسی نے نہیں ڈبویا یہ کیپٹلزم کے گھاٹ اترا ہے ۔سپر پاور کی کہانی اسی طرح ختم ہو رہی ہے جس طرح ماضی کی عظیم سلطنتیں فنا کے گھاٹ اتریں۔ایران پر حملہ اونٹ کی کمر پر وہ تنکہ ہے جس کا بوجھ اٹھایا جانا ممکن نہیں رہا ۔سب کو حقیقت کا پتہ چل گیا ہے ۔ایرانی جنگ بندی کا معاوضہ مانگنے لگے ہیں ۔سعودی عرب نے ایران پر حملہ نہیں کیا امریکی شکوہ کرنے لگے ہیں۔کیپٹلزم خود غرض ہے ۔ یہ کیپٹلزم بیس سال تک امریکہ کو افغانستان میں بٹھا کر اس کا دودھ نکالتا رہا ۔ایک امریکی فوجی کی عینک ،کپڑے اور جسم پر سجے دوسرے سازو سامان سے دو سو سے زیادہ جونکیں خون چوستی رہیں ۔کھربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد جب ہاتھی نڈھال ہو گیا تو ان جونکوں یعنی جنگی صنعتوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دے دی۔جنگی صنعت کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے اس نے پہلے وینزویلا پر حملہ کروایا پھر ایران پر چڑھ دوڑا ۔مارکیٹ میں دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔جب جونکیں امریکی معیشت کو چوس رہی تھیں چینی خاموشی سے ترقی کرتے جا رہے تھے ۔آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی دھوتی اتری ایران پر حملہ امریکی دھوتی اتار دے گا ۔سعودی عرب اس لئے ایران پر حملہ نہیں کر رہا باقیوں کی طرح سعودیوں کو بھی پتہ چل چکا ہے ہاتھی دم توڑ رہا ہے ۔اردن،قطر،عراق ،بحرین شام کسی نے ایران پر حملہ نہیں کیا باوجود اس کے ایرانی میزائل انہیں نشانہ بناتے رہے ۔ظلم تو یہ کرد بھی امریکیوں کے قابو میں نہیں آئے ۔کوئی دن جاتا ہے ایران جنگ ختم ہو جائے گی ۔امریکی دھوتی اتر جائے گی ۔خلیج کی ساری ریاستیں امریکیوں کے اثر سے آزاد ہو جائیں گے ۔دنیا کو چلانے کے نئے اصول وضع ہونگے ۔

گورباچوف نے پسپائی کا فیصلہ کر کے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا تھا ۔سوویت یونین کو تحلیل کر دیا تھا ۔سوویت یونین چاہتا تو دنیا کو تین مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔خود بھی مرتا ساری دنیا کو بھی مار دیتا لیکن روسی انسانیت کے محسن ثابت ہوئے ۔امریکی معیشت بھی سوویت معیشت کی طرح برباد ہو چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سپر پاور کو کھا لیا ہے ۔امریکی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی سوویت یونین کھڑا تھا۔وہی آپشن امریکہ کے پاس ہے جو کبھی سوویت یونین کے پاس تھے ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کریں اور ایران کو شکست دے دیں یا پسپا ہو جائیں ۔امریکی ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں ۔سوویت یونین نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے امریکی کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ایران میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استمال کئے یا روایتی ایٹم بم استعمال کیا پورے خلیج کا نقشہ تبدیل ہو گا اور ساتھ میں دنیا کا نقشہ بھی بدلے گا ۔دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکیوں کے پاس جوہری ہتھیار تھے آج پانچ نہیں سات ایٹمی طاقتیں ہیں ۔کر لیں ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور لے آئیں دنیا کو اس سطح پر جہاں اگلی عالمی جنگ پتھروں سے لڑی جائے ۔

گورنر سندھ۔۔۔۔۔۔۔!تحریر: ایڈووکیٹ محمد نواز ڈاہری گورنر ہاؤس اور گورنر کہ منصب کو اپنے صحافتی کیریئر میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اگر موجودہ گورنر سندھ کامران ٹسوری سندھ کہ تقسیم کی بات اور گورنر ہاؤس کو سندھ میں لسانیت پھیلانے کہ لیے استعمال نہ کرتا تو شاید سندھ کا واحد عوامی گورنر ہوتا۔ جس نے بغیر کسی سرکاری فنڈز کہ عوام کی خدمت کی اور گورنر ہاؤس کو عوام کہ لیے کھولا اور بڑے پیمانے پر عوامی فلاحی کام کئے۔ بحرحال ایک بات ملک بھر کہ سیاستدانوں کو سمجھ لینی چاہئے کہ سندھ کہ لوگ اپنی دھرتی سے جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں۔ اور اپنی ماں سمجھتے ہیں۔ جس پر دھرتی کا بٹوارا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ سندھ دھرتی میلی آنکھ رکھنے والا شخص بھلے کتنا ہی اثر رکھنے والا ہوں وو قبل قبول نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئیں گورنر سندھ جس کا تعلق نون لیگ سے ہے وو صوبے کہ عوام کہ لیے کتنے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ یا پھر ماضی کہ نون لیگ کہ گورنر کی طرح پیشہ ورانہ کام پر توجہ کم اور اواری ٹاور میں وقت زیادہ بسر کریں گے۔ ماضی کا ایک تلخ تجربہ رہا ہے کہ نواز لیگ کبھی بھی سندھ صوبے کہ لیے کوئی خاص فائدہ مند نہیں رہی۔ نہ ہی سنجیدہ رہی ہے۔

اسرائیل نے مصر میں برطانوی دفاتر پر بمب بلاسٹ کروائے تاکہ برطانیہ مصر سے جنگ شروع کردے۔۔کہانی شروع کرنے سے پہلے آپ کو اس کا تھوڑا پس منظر بتادیتا ہوں 1859فرانس کا ایک سفارت کار فرڈینینڈ ڈی لیسیپس مصر میں آیا اور اس نے اس نہر کا منصوبہ پیش کیا اور اسی کی کمپنی نے نہر کا نقشہ ،نہر بنانا وغیرہ سب سنبھالا مزدور مصر کے کسان تھے حالانکہ اس سے پہلے بھی یہ نہر بنانے کی کوشش ہوچکی تھی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر تعمیر شروع نہیں کی گئی اس نہر کے بارے میں بتادوں کہ دنیا کی بارہ فیصد تجارت اس نہر کے ذریعے سے ہوتی اور روزانہ اربوں ڈالر مالیت کا سامان اس نہر سے گزرتا خیر نہر سے بحیرہ روم اور بحیرہ احمر آپس میں مل گئے جس سے 8900 کلومیٹر کا سفر کم ہوگیا اس کی لمبائی 193 کلومیٹر ہے اور یہ دس سال میں بنی اس میں پندرہ لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا اور ڈیڑھ لاکھ مزدور مارا گیا جبری مشقت اور بیماریوں کی وجہ سے یہ ظلم کی الگ کہانی ہے جو فلحال موضوع نہیں دس سال بعد نہر تعمیر ہوگئ لیکن تب مصر کافی مالی مشکلات کا شکار تھا اور قرضے میں ڈوبا ہوا تھا قرضے میں ڈبونے کے لیے بھی ایک جال بچھایا گیا تھا دو لائنوں میں بتادیتا ہوں کہ پہلے کسانوں سے مفت زبردستی کام کروایا جارہا تھا پھر فرانس ایک قانون پاس کرتا ہے کہ کسانوں سے جبری مزدوری کروانا بند کیا جائے اس سے کیا ہوا مزدور اجرت پر بھرتی کرنے پڑے ،کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا کہ فری مزدوری ہوگی لیکن اب مشینیں منگوانی پڑیں گی تو کمپنی کے معاہدے کو توڑنے کا جرمانہ کردیا فرانس نے مصر پر جس سے مصر مزید قرضے میں ڈوب گیا خیر یہ بہت بڑی سازش تھی اس پر الگ سے تحریر لکھوں گا تب اس وقت کے حکمران اسمائیل پاشا نے فیصلہ کیا کہ اس نہر کے کچھ حصص بیچے جائیں آج کے دور میں آپ سمجھ لیں جیسے ٹول پلازے ہوتے جو گرزنے والی گاڑیوں سے ٹیکس لیتے

،اس نہر سے جو بھی جہاز گزرتا تو اس کو ٹیکس دینا پڑتا پاشا نے اس کے شئیر بیچنے کا اعلان کیا برطانیہ کے وزیراعظم کی پہلے ہی نظریں اس نہر پر تھی اور جتنی بڑی رقم چاہیے تھی وہ اس کے پاس نہیں تھی نہ سرکاری فنڈ میں سے لے سکتا تھا تو اس نے فورا ایک رتھشیلڈ خاندان کے یہودی سے رابطہ کیا جس نے چند گھنٹوں میں چالیس لاکھ پاونڈ بھیج دیا اب یہ بھی بتادوں کہ جن بینکوں کے قرضے تلے مصر ڈوبا تھا وہ بھی اسی رتھشیلڈ خاندان کے تھے 💀یہ بھی الگ کہانی ہے قرضے یہودیوں کے جال ہیں اس دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے جن میں پاکستان بھی پھنسا ہوا افسوس کے ساتھ خیر اس سے قرضوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو فرانس برطانیہ اور خاندان نے قرضوں کا بہانہ لگاکر اسمائیل کی حکومت کو ختم کرکے ایک نیا بندا بٹھادیا جس کا نام توفیق پاشا جو فرانس ،برطانیہ اور رتھشیلڈ وغیرہ کی کٹھ پتلی تھی اس کے دور میں مصر کا سارے نظام کو یورپین چلاتے تھے اور عوام کو یہ بات پتہ چل گئی تھی اس وجہ سے اس سے نفرت کرنے لگ گئی اس نہر سے ملینز آف ڈالر فرانس ،برطانیہ اور رتھشیلڈ کو جاتے تھے جبکہ جن کے ملک میں نہر تھی ان کو کچھ نہیں ملتا تھا پھر مصر میں بغاوت ہوئی احمد عرابی نے بغاوت کردی کہ مصر صرف مصریوں کے لیے یورپ برطانیہ کو نکالا جائے اس ملک سے توفیق پاشا بزدل تھا وہ خوفزدہ ہوکر برطانوی بحریہ کے پاس پناہ میں چلا گیا اور برطانیہ نے مصر پر حملہ کرکے احمد عرابی کی بغاوت کو کچل دیا اس کو گرفتار کرلیا اور مصر پر قبضہ کرلیا اور توفیق کو واپس بٹھادیا پھر توفیق پاشا فوت ہوگیا اس کا بیٹا اگیا جو مصر کے ساتھ مخلص تھا وہ برطانیہ کو پسند نہیں آیا تو اس کو بھی ہٹادیا عہدے سے اور مزید کٹھ پتلیاں کھڑی کردی جو ستر سال چلی 1954 میں شاہ فاروق جو توفیق پاشا کے ہی خاندان سے ایک کٹھ پتلی تھا اس کی حکومت میں جمال الناصر نے بغاوت کرکے اس کی حکومت کو ختم کیا لیکن برطانیہ کی فوج اس وقت نہر سوئیز کی حفاظت پر مامور تھی جو شاید اسی ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی ناصر نے برطانیہ کو مجبور کردیا کہ وہ اپنی فوج یہاں سے نکال لے ،برطانیہ ویسے ہی کمزور ہوچکا تھا بہت سے علاقے ہاتھ سے نکل چکے تھے جن میں پاکستان اور بھارت بھی تھا تو برطانیہ نے فوج واپس بلانے کا سوچا لیکن اس وقت اسرائیل نے دیکھا کہ اگر برطانیہ چلا گیا تو ناصر ہمارے لیے خطرہ بن سکتا اور اس سے رتھشیلڈ کا جو اس نہر پر قبضہ تھا خفیہ طور پر وہ خطرے میں دکھائی دیا تو اسرائیل کے وزیر دفاع نے فورا کچھ یہودیوں کو بمب دئیے کہ وہ مصر میں موجود امریکی اور برطانوی دفاتر ،سفارت خانوں اور دیگر عمارتوں کو اڑھادیں اس منصوبے کو لاوون افئیر کہا جاتا اس کا تاثر یہ دینا تھا کہ ناصر برطانیہ اور امریکہ کے لیے خطرہ ہے اس کو ہٹادیں دونوں مل کر اور جو برطانیہ کی فوج نہر پر حفاظت کرتی اس کو مصر سے نہ نکالا جائے لیکن یہ ناکام ہوگیا جب ایک ایجنٹ کا بمب اس کی جیب میں ہی پھٹ گیا تب کاروائی ہوئی اور پورا ایجنٹ گروپ پکڑ لیا گیا اسرائیل نے شروع میں انکار کیا لیکن ثبوت اتنے واضح تھے کہ اسرائیل کو قبول کرنا پڑے اور اپنے ایک وزیر دفاع کو بھینٹ چڑھایا اس کو عہدے سے برطرف کرکے کہ سب اسی نے کیا تھاتب اسرائیل نے اپنا سازشی نظام بھی تبدیل کیا تھا تاکہ دوبارہ کچھ ایسا ہو تو اوپر والے کسی کا نام آئے جو الگ کہانی جب اسرائیل پکڑا گیا تو برطانیہ نے اپنی فوج نکال لی مصر سے اس سے اسرائیل اور برطانیہ کے تعلقات پر اثر پڑا لیکن جب بیٹھی ہی کٹھ پتلیاں ہوں تو کیا فرق پڑتا سب پہلے جیسا ہوگیا

پھر ناصر نے اعلان کردیا کہ نہر ہمارے قبضے میں ہے اب اس سے رتھشیلڈ اور برطانیہ کے مفادات کو خطرہ محسوس ہوا کیونکہ اسی نہر سے تجارت اور ٹول ٹیکس سمجھ لیں اس کے ملینز آف ڈالرز ان دونوں کو آتے تھے تب فرانس اسرائیل اور برطانیہ نے مصر پر حملہ کردیا یہاں پر بہت کچھ ہوا ،اسرائیل نے مصر کا کمیونیکینشن سسٹم ہیک کیا تھا جو ناصر کی موت کا سبب بن گیا لمبی کہانی ہے اگلی تحریر میں بتاوں گا ۔کچھ لوگ کمنٹس میں کہہ رہے کہ سب کچھ اگلی تحریروں میں کیوں آنا اسی میں کیوں نہیں تو یہ ایک صدی کا واقعہ ہے جو میں نے ایک تحریر میں لکھا اب نہر سویر پر ایک پوری کتاب ہے اس کو ایک تحریر میں کیسے لکھا جاسکتا ؟سمجھنے کی کوشش کیا کریں بات کو ۔#LavonAffair
ایران اور اسرائ*یل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بھارت جانے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے بعض ماہرین ایران کے ممکنہ ردعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تھائی لینڈ کے مال بردار جہاز مے یوری ناری کو اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر بھارت کے شہر گجرات کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق حم*لے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عملے کے کئی ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و بھارت تعلقات میں موجود پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران بھارت کی اس پالیسی سے ناراض ہے جس میں وہ بیک وقت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر اسرائ*یل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران حالیہ بعض اقدامات کو اپنے خلاف بھارتی صف بندی کا حصہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے بھارت جانے والے










