تازہ تر ین

‏الیکشن 2024 میں عبرتناک شکست کا انتقام لیتے ہؤے اسلام آباد سے تینوں ناجائز MNA ڈاکٹر طارق فضل چوہدری،۔ پاکستانی قوم کو بجلی بلوں پر ھلال کرنے لغاری کو ھلال پاکستان سے نواز دیا گیا۔۔ پاور پلانٹ کو فروخت 45 ارب روپے میں کیا ایک ارب روپے بھی خزانہ میں نہ آنے پر ھلال پاکستان شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے: بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا۔۔ پاکستان میں مھنگای کا طوفان بجٹ کی تیاریاں مکمل۔ چینی بحری جہاز نے 2 ملین بیرل عراقی خام تیل کے ساتھ آبنائے ہرمز کامیابی سے پار کرلیا عرب میڈیا۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین کیا چین کی بالادستی مان لی گئی ہے۔۔‏پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے 28 سالہ بیٹے نے بلیو پاسپورٹ لیا اور بیرون ملک جا کر پاسپورٹ سرنڈر کر کے اسائلم اپلائی کر دیا،طلال چودھری۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏الیکشن 2024 میں عبرتناک شکست کا انتقام لیتے ہؤے اسلام آباد سے تینوں ناجائز MNA ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، انجم عقیل خان اور راجہ خرم نواز کی بھرپور سفارش پر ۔۔۔۔۔‏شہباز حکومت نے مالکان اسلام آباد کی آبادیوں کو گرانے، کچی بستیوں کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر ۔۔۔۔‏پانچ بیوروکریٹس ڈائریکٹر CDA انعم فاطمہ، SP علی رضا، چوہدری اویس افضل، محمد یوسف کو تمغہ امتیار سے نوازا گیا ہے

امریکی صدر کا یہ دو روزہ دورہ پہلے اکتیس مارچ سے دو اپریل 2026ء کے لیے طے کیا گیا تھا۔لیکن جنگ شروع کرنے اور پھر تمام تر امریکی اور اسرائیلی اندازوں کے برعکس جنگ ختم کرنے پر اپنا اختیار کھو دینے اور جوابی حملوں میں غرق ہو جانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر اپنا طے شدہ دورہ چین ملتوی کردیا تھا کہ؛ جنگ کی وجہ سے اس کے منہ کا واشنگٹن ڈی سی میں رہنا ضروری ہے۔اگرچہ اب سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا اور اچھی طرح سے سمجھ بھی لیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ کسی بھی امریکی میزائل یا بمبار طیارے سے زیادہ مہلک ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ٹرمپ نے جنگ کے دوران اس ” ہتھیار” کو خوب استعمال کیا اور تیل کی قیمتوں اور اسٹاک ایکسچینج کو قابو میں رکھنے کے لیے جنونی بیان بازی کے لیے استعمال کرتا رہا۔

بعض ماہرین ایسا گمان بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ کو موٹے جالی دار کپڑے سے باندھ کر رکھا جاتا تو امکان ہے کہ امریکہ کی عسکری اور اخلاقی ہزیمت میں کچھ کمی آ جاتی۔ جنگ بندی کے بعد مستقبل جنگ بندی کے لیے امن مذاکرات کا آغاز ہوا۔امریکی ریاست اور ایران مستقل جنگ بندی معاہدہ کرنا چاہتے تھے ،لیکن نیتن یاہو کی نیت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ نے اس عمل میں رکاوٹ بن کر ، مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کے خواب کو دور کردیا ہے۔ دورہ چین کے التواء نے صرف دورے کی تواریخ ہی تبدیل نہیں کی تھیں ،بلکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر امریکہ کی حیثیت کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ سے چین روانگی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی چال میں اعتماد کی کمی اور خفت کی زیادتی نظر آ رہی تھی۔ ایران کے خلاف جنگ کو آبرو مندانہ سلیقے سے لپیٹے بغیر امریکی صدر کا دو روز تک چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا بہت مشکل اور ایک لاحاصل عمل ہو سکتا ہے۔

منگل کو سینیٹ میں عبدالقادر پٹیل نے بل پیش کیا کہ ارکان پارلیمنٹ ہی نہیں ان کے اہلخانہ کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کیئے جائیں اور آج پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا بیٹا سفارتی پاسپورٹ پر یورپ گیا وہاں جاکر پاسپورٹ سرنڈر کیا اورسیاسی پناہ لے لی۔اس تناظر میں ارکان پارلیمنٹ کی اولادوں کو بلیو پاسپورٹ کیوں جاری کیا جائے؟

سوال تو یہ بھی ہے کہ نیلے اور سبز پاسپورٹ کا فرق ہی کیوں؟ اگر کسی نے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیئے جانا ہے تو وہ ضرور آفیشل یا پھر بلیو پاسپورٹ پر جائے چاہے کوئی سرکاری ملازم ہے یا منتخب عوامی نمائندہ لیکن سیر و سیاحت یا ذاتی دورے کی غرض سے اشرافیہ کی اولادوں کو تو کیا کسی پبلک آفس ہولڈر کو بھی یہ پاسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

زرداری صاحب استعفی کیوں دیں گے؟؟ یہ ممکن ہی نہیں- اور بزدل بندہ تو وہ ھے نہیں کہ کسی دباؤ میں آ کر ایسا کر دے- البتہ اسکی ایک صورت ھے- بلاول وزیر اعظم بن رہا ہو-اسکا بھی حل ھےنواز شریف صدر بن جائیں اور بلاول وزیر اعظم : شہبا

امریکہ کا شکست خوردہ صدر اسی منہ کے ساتھ چین جا پہنچا ہے ، جس کے ساتھ اس نے ایک صیہونی انتہا پسند نیتن یاہو کے بہکاوے اور خفیہ ڈراوے میں آ کر ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ منہ اصولی طور پر اب کسی کو بھی دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ اپنی ایڑی سے لے کر پینٹاگان کی چوٹی تک زور لگا کر ایران پر بلا وجہ شدید ترین ہوائی حملے کئے تھے

۔ ٹرمپ نے اسی منہ کے ساتھ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کو “رجیم چینج ” نامی مردود جہاں ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے جنگ کے آغاز ہی میں تاک تاک کر ہلاک کر دیا تھا

۔اور اب ڈونلڈ ٹرمپ اسی مایوس اور شکست خوردہ منہ کے ساتھ چین کے متحمل مزاج ،سنجیدہ ، کم گو اور زیرک لیڈروں کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کون سا پرفیوم یا کس عرب شیخ کا عطیہ کردہ عطر استعمال کرتا ہے ۔ہاں یہ اندازہ ضرور ہے کہ،اس کے اپنے لباس سے میراب کے اسکول میں امریکی میزائل حملوں میں جان گنوانے والی ننھی طالبات کے لہو کی مہک ضرور آ رہی ہو گی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved