
🚨 *غزہ میں نسل کشی میں ملوث 15 عالمی کمپنیاں بے نقاب: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ**ہرست میں بڑی امریکی کمپنیاں شامل ہیں جن میں “بوئنگ”، “لاک ہیڈ مارٹن” اور “پالانٹیر ٹیکنالوجیز” کے نام نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ “ہیک ویژن” (چین)، “سی اے ایف” (اسپین) اور “ایچ ڈی ہنڈائی” (جنوبی کوریا) جیسی کمپنیاں بھی شامل کی گئی ہیں**رپورٹ کے مطابق فہرست میں متعدد اسرائیلی کمپنیاں بھی موجود ہیں جو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں شہرت رکھتی ہیں، ان میں “البٹ سسٹمز”، “رافائل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز”، “اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز”، “کور سائٹ” اور سرکاری آبی کمپنی “میکوروت” شامل ہیں**رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے جن میں سب سے پہلے ان کمپنیوں پر پابندی عائد کرنا شامل ہے جو قابض اسرائیل کے جرائم میں شریک ہیں یا اس سے براہِ راست منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ قانون سازی اور مؤثر ضوابط کا نفاذ، سرمایہ کاری واپس لینا، خریداری یا معاہدے منسوخ کرنا اور تجارتی تعلقات معطل کرنا شامل ہے۔*

افغانی بلے باز محمد نبی سے آخری اوور میں پانچ چھکے کھانے والے سری لنکن سپنر ویلالاگے کے والد اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ہیں۔ نوجوان کرکٹر بیٹے کی کھیل میں پٹائی سے دل برداشتہ باپ جان کی بازی بھی ھار گیا تھوڑا انتظار کرتا کیونکہ لنکا تو جیت گئی تھی
*سری لنکا نے نمک حرام افغانستان کو ہرا کر ایشیاء کپ سے باہر کردیا*جونیئر پاکستان (بنگلہ دیش) INجونیئر بھارت (افغانستان)

اسلام آباد بار کونسل میں ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے، جس میں ان کا وکالت کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ریفرنس کے متن کے مطابق ایمان مزاری ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور وہ سرکاری افسران کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور منفی مہم چلانے میں پیش پیش رہی ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور ایسی تحریکوں کی حمایت کرنے میں سرگرم ہیں جن کا ایجنڈا اداروں کو کمزور کرنا ہے۔

ریفرنس میں تحریک طالبان، بلوچ لبریشن آرمی اور منظور پشتین کی تحریک کے ساتھ مبینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔دستاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایمان مزاری اپنی وکالت کو بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں، ان کے اقدامات سے وکلاء برادری بدنام ہو رہی ہے اور عوام کا نظامِ انصاف سے اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ریفرنس میں سفارش کی گئی ہے کہ ایمان مزاری کا لائسنس فوری طور پر معطل کیا جائے اور انکوائری کے بعد مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔ یہ ریفرنس ایڈووکیٹ عدنان اقبال کی جانب سے دائر کیا گیا۔

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر پاک فوج بھارت جیسے بڑے دشمن کو شکست دے سکتی ہے تو وہ چند درجن دہشتگردوں کو اب تک کیوں نہیں ہرا سکی؟ یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی جنگ کا تقابل ہے جس کی نوعیت، میدان، دشمن اور حالات مکمل طور پر مختلف ہیں۔ روایتی جنگوں میں دشمن واضح ہوتا ہے،

اس کی وردی، اس کا جھنڈا اور اس کی پوزیشن معلوم ہوتی ہے، جبکہ دہشتگردی کی جنگ ایک بے چہرہ دشمن کے خلاف لڑی جاتی ہے جو عام لوگوں میں گھل مل کر چھپتا ہے، کبھی عالم دین کا روپ دھارتا ہے، کبھی سیاسی کارکن، کبھی انسانی حقوق کے علمبردار کے لباس میں آتا ہے، اور کبھی مساجد و مدارس کی آڑ لے کر کام کرتا ہے۔ ان دہشتگردوں کو وہ عدالتی نظام تحفظ دیتا ہے

جو انصاف دینے کے بجائے تکنیکی خامیوں یا ثبوتوں کی کمی کا بہانہ بنا کر ان کو رہا کر دیتا ہے۔ وہ میڈیا میں ایسے چہرے رکھتے ہیں جو ان کو جبر کا شکار ظاہر کرتے ہیں اور فوج کو ظالم کہنے لگتے ہیں، یوں ذہن سازی عوام کے خلاف اور دہشتگردوں کے حق میں ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف جنگ ایک ایسے دشمن سے ہے جو میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ گلیوں، سوشل میڈیا، عدالتوں اور نظریاتی ذہنوں میں گھسا ہوا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فاتح بھی چھوٹے قبائل کی چھاپہ مار کارروائیوں میں زچ ہو گئے۔ سائرس اعظم ہو یا ذوالقرنین، اسی طرح جدید دور میں دنیا کی طاقتور افواج بیس سال افغانستان میں لڑنے کے باوجود طالبان کو شکست نہ دے سکیں اور آخرکار ان کے ساتھ امن معاہدہ کر کے اقتدار ان کے حوالے کر کے واپس چلی گئیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ گوریلا جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس میں دشمن ہر جگہ موجود ہوتا ہے،

ہر وقت بدلتا ہے، اور کسی قاعدے یا قانون کا پابند نہیں ہوتا۔پاکستانی فوج اس وقت انہی چالاک، نظریاتی، چھپے دشمنوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جن کا کوئی مخصوص چہرہ نہیں، جو کبھی قومیت کے نام پر اور کبھی مذہب کے نام پر نوجوانوں کو بہکاتے ہیں۔ ان کی سہولت کاری مقامی سطح پر ایسے افراد کرتے ہیں جو قوم کے خیر خواہ بنے پھرتے ہیں۔ ان کی حمایت میں وہ سیاستدان آواز اٹھاتے ہیں جو قومی مفاد پر ذاتی اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے لیے وہ وکیل لڑتے ہیں جو دہشتگردی کو قانونی تکنیکیوں میں الجھا دیتے ہیں۔ اور وہ میڈیا ہمدردی دکھاتا ہے جو قومی بیانیے کے بجائے دشمن کے بیانیے کو آزادیٔ اظہار کے نام پر پروان چڑھاتا ہے۔اس سب کے باوجود پاک فوج نے ان کے خلاف عظیم قربانیاں دے کر ان کی کمر توڑ دی ہے۔ پہلے یہ منظم نیٹ ورک کی صورت میں کارروائیاں کرتے تھے، اب وہ بکھر چکے ہیں۔ ان کے بڑے کمانڈر مارے جا چکے ہیں، ان کی تربیت گاہیں تباہ ہو چکی ہیں، ان کی مالی امداد کے ذرائع بند ہو رہے ہیں، اور ان کی صفوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے اب وہ دوبارہ اتحاد بنانے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ تنہا وہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ فوج کی حکمت عملی، قربانی اور صبر رنگ لا رہا ہے، لیکن چونکہ یہ جنگ عام جنگوں کی طرح نہیں، اس لیے اس میں وقت، عوامی حمایت اور مسلسل عزم کی ضرورت ہے۔یہ جنگ صرف پاک فوج کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔ جب تک عوام، علماء، سیاستدان، عدلیہ اور میڈیا فوج کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں ہوں گے، یہ جنگ طول پکڑتی جائے گی۔ دشمن چاہتا ہے کہ عوام فوج سے بدظن ہو، تاکہ اس کی چھپنے کی جگہیں بڑھیں، اس کی زبانیں اور ہمدردیاں مضبوط ہوں۔ لیکن اگر قوم نے اپنے اصل محافظوں کو پہچان لیا، اگر ذہنوں کی صفائی ہو گئی، اگر عدالتوں نے انصاف دینا شروع کر دیا، تو وہ دن دور نہیں جب دہشتگردی بھی ماضی کا حصہ بن جائے گی، اور وطن ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنے

واٹس ایپ پر ایک ایسی بھونچال برانڈ مخبری موصول ہوئی کہ پڑھتے ہوئے آنکھیں بھر آئیں سوچا دوستوں کو بھی شریک مطالعہ کیا جائے لیجے آپ حظ اٹھائیے #فقیرراحموں سوموار کی رات ریاض سے ایک خفیہ شناخت والا طیارہ اڑا تھا جس کی منزل اور مسافر کی شناخت انتہائی خفیہ رکھی گئی تھی. اس کے مواصلاتی نظام بھی بند تھے. 3 گھنٹے بعد وہ طیارہ نور خان ائیر بیس پر لینڈ کرتا ہے. ایک انتہائی اہم شخصیت رن وے پر اس کا انتظار کر رہی تھی.طیارے کو ایک الگ ہینگرمیں پارک کیا گیا. اور اردگرد دور دور تک کوئی بھی بندہ نہیں تھا سوائے پاکستان کی سب سے اہم شخصیت کے. طیارے کا دروازہ کھلا تو اندر سے آنے والی شخصیت کو دیکھ کر اس اہم شخصیت کی بھی آنکھیں حیرانگی سے پھیل گیی. آنے والی شخصیت شہزادہ تھا. دونوں ایک گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوے. اس گاڑیکی منزل راولپنڈی کے ایک گاوں کی تھی. اس گاوں میں ایک بلند و بالا فیصل والی عمارت کے سامنے گاڑی پہنچی تو پاکستانی شخصیت نے بولا شہزادہ صاحب اڈیالہ جیل ا گئی.. وہاں مخصوص نشست گاہ میں پہنچ کر دونوں عالم اسلام کے سربراہ کا انتظار کرنے لگے. وہ آیا تو دونوں کھڑے ہوے تو وہ کسی کیطرف دیکھے بغیر ایک کرسی پر بیٹھ گیا.

شہزادے نے بات چیت کی شروعات کی اور بتانے لگا کہ ہم ایک معاہدے کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی اجازت کی ضرورت ہے.یہ سب سن کر عالم اسلام کے سربراہ پہلے چپ رہا اور بولا :میں جیل میں ضرور ہوں لیکن مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں اس معاہدے کی اجازت دیتا ہوں۔ اس کے بعد ہی یہ معاہدہ ممکن ہو سکا۔










