
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج شام جمہوریہ ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ابوظبی ایئرپورٹ پر پھنسے مسافروں کو منزل تک پہنچانے کیلئے عارضی پروازیںابوظبی میں پھنسے مسافروں کو پہنچانے کیلئے مختلف ایئرلائنز نے عارضی طور پر پروازیں آپریٹ کرنا شروع ہوگئیں، جبکہ دو غیرملکی ایئرلائنز کے طیاروں کو بھی روانہ کیا جائے گا جس کے بعد آپریشن 4 مارچ تک کےلیے پھر بند کردیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ابوظبی ایئرپورٹ پر 3 دن سے پھنسے ٹرانزٹ مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کیلئے اتحاد ایئر ویز نے پیر کی سہہ پہر 3 گھنٹے کے دوران 18 پروازیں چلا دیں۔ ان میں 1 کارگو اور 2 غیرملکی اور 15 مسافر طیارے شامل ہیں۔ابوظبی ایئرپورٹ سے اتحاد ایئرویز کے کارگو طیارے نے صبح 10 بج کر 52 منٹ پر ہانگ کانگ کےلیے ٹیک آف کیا۔ جس کے بعد دوپہر 2 بج کر 38 منٹ پر اتحاد ایئر کی پہلی پرواز ای وائی 67 لندن روانہ ہوئی۔بعدازاں ایمسٹرڈیم، میونخ، کراچی، کوچن، اسلام آباد، ممبئی، ماسکو، پیرس، مسقط، بنگلور، دہلی، جدہ، دمام، ریاض، اور قاہرہ کیلئے بھی پروازیں روانہ کی گئیں۔ایئر لائن اعلامیہ کے مطابق ان پروازوں سے 3 دن سے پھنسے ٹرانزٹ مسافر منزلوں تک پہنچائے گئے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ ایمریٹس ایئرلائنز نے بھی محدود پروازوں کےلیے اپنا فلائیٹ آپریشن عارضی طور پر بحال کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان محدود پروازوں کےلیے ان مسافروں کو ترجیح دی جائے گی جن کی پاس پہلے سے بکنگز موجود ہوں گی،

مخصوص پروازوں پر منتقل مسافروں سے براہِ راست رابطہ کیا جائے گا۔ایئرلائن انتظامیہ نے ہدایت کی کہ مسافر اطلاع ملنے تک ایئرپورٹ نہ آئیں۔ابوظبی ایئرپورٹ پر پھنسے مسافروں کو منزل تک پہنچانے کیلئے عارضی پروازیںادھر انڈیگو ایئر اور لفتھنسا ایئر کے طیارے بھی روانہ کیے گئے، جس کے بعد فلائٹ آپریشن 4 مارچ دوپہر 2 بجے تک کیلئے کلوز کر دیا جائے گا۔ دبئی سے بھی فلائیٹ آپریشن بحالاماراتی ایئر کی 4 پروازیں رات 9 سے 10 بجے کے درمیان بھارت جائیں گی۔ دبئی سے خلیجی ایئرلائن کی پرواز رات 10 بج کر 45 منٹ پر بجے دوحہ جائے گی۔غیرملکی ایئر کی پرواز اے 2851 اٹلی کے شہر روم کیلئے روانہ ہوگی، دبئی سے پہلی کارگو پرواز جرمنی کے شہر لیپزگ کیلئے روانہ ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے رضاپہلوی کے ایران کی قیادت سنبھالنے کا امکان کا مسترد کر دیارضا پہلوی بہت اچھے انسان ہیں، کچھ لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن ہماری ترجیح ہے کہ ملک کے اندر سے کوئی مقبول شخصیت ذمہ داری سنبھالے۔ ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان ہاکی کا وہ ‘گمنام’ ہیرو جس نے دنیا کو جارہانہ ہاکی کھیلنے کا ڈھنگ سکھایا: لالہ فضل الرحمان
پاکستان ہاکی کی تاریخ ایسے ستاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے دنیا کو حیران کیا، لیکن ‘لالہ فضل’ (فضل الرحمان) کا نام اس فہرست میں بہت منفرد ہے۔ ایبٹ آباد کی سرد ہواؤں میں پروان چڑھنے والا یہ کھلاڑی میدان میں آگ اگلتا تھا۔

✅ میکسیکو سے لاہور تک کا سفر:
1968 کے میکسیکو اولمپکس میں انہیں اپنی جارحانہ فطرت کی وجہ سے ریزرو کھلاڑی رکھا گیا، کیونکہ اس وقت کے پلانز میں ‘دفاعی’ ہاکی کو ترجیح دی جا رہی تھی۔ لیکن 1969 میں جب لاہور میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ ہوا، تو فضل نے پاکستان جونیئرز کی قیادت کرتے ہوئے آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیموں کو دھول چٹا دی اور فائنل میں سینئر ٹیم کو ناک چنے چبوا دیے۔
ورلڈ کپ 1971 اور گولڈن ایرا:
فضل الرحمان اپنے عروج پر تھے جب پاکستان نے 1971 کا پہلا ورلڈ کپ جیتا۔ شہناز شیخ کے ساتھ مل کر انہوں نے بائیں جانب سے ایسی یلغار کی کہ دنیا کے بڑے بڑے دفاعی حصار ٹوٹ گئے۔ اسی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ‘ورلڈ الیون’ میں شامل کیا گیا اور حکومتِ پاکستان نے ‘تمغہ حسنِ کارکردگی’ (Pride of Performance) سے نوازا۔
1972 میونخ اولمپکس: جب فضل کے ایک گول نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا!
ہاکی کی تاریخ کے چند اعصاب شکن لمحات میں سے ایک وہ تھا جب 1972 کے اولمپکس سیمی فائنل میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے تھے۔ جنگِ 1971 کی کڑواہٹ ابھی ہواؤں میں تھی اور ماحول انتہائی کشیدہ تھا۔
میچ کے 11 ویں منٹ میں پاکستان کو پنالٹی اسٹروک ملا۔ باقاعدہ اسٹروک لینے والے سعید انور کا اعتماد متزلزل ہو چکا تھا۔ ایسے میں کپتان نے فضل الرحمان کی طرف دیکھا۔
🚩 حکمِ کپتان اور فضل کا جگر:
فضل نے اپنی پوری زندگی میں کبھی انٹرنیشنل میچ میں پنالٹی اسٹروک نہیں لیا تھا، لیکن اس دن ان کے اعصاب فولاد کے بنے تھے۔ انہوں نے گیند کو بھارتی گول کیپر کے جال میں پہنچا کر پاکستان کو 0-2 کی جیت کی بنیاد فراہم کی۔
اگرچہ اس ٹورنامنٹ کا اختتام امپائرنگ کے تنازعات اور پابندیوں پر ہوا، لیکن فضل الرحمان نے اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھوا لیا۔ وہ ایک سچے سپاہی کی طرح لڑے اور ایک فاتح کی طرح رخصت ہوئے۔
لالہ فضل’ کا ورثہ اور ایبٹ آباد کی ہاکی

جب ہم ہاکی کے لیجنڈز کی بات کرتے ہیں، تو فضل الرحمان کا نام عقیدت سے لیا جاتا ہے۔ وہ صرف ایک کھلاڑی نہیں تھے، بلکہ ایک ادارے کا نام تھے۔
🏑 خاندانی روایت:
لالہ فضل کا عکس ان کے بھتیجے نعیم اختر میں نظر آتا تھا، جنہوں نے اپنے چچا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان کو گولڈ میڈل جتوایا۔ یہی نہیں، ان کے بیٹے انعام الرحمان نے بھی 2006 کے ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور سونے کا تمغہ جیتا۔
🎖️ خدمت کا سفر:
پی آئی اے سے ریٹائرمنٹ کے بعد، لالہ فضل نے آرام کرنے کے بجائے ایبٹ آباد میں ‘فضل ہاکی اکیڈمی’ کی بنیاد رکھی۔ اپنی مدد آپ کے تحت انہوں نے اس اکیڈمی سے ایسے ہیرے تراشے کہ ان کے 9 شاگردوں نے پاکستان کی قومی اور جونیئر ٹیموں میں جگہ بنائی۔
وہ ایک اسٹائلش ‘لیفٹ ہاف’ تھے جنہوں نے اس پوزیشن کو کھیلنے کا انداز ہی بدل دیا۔ آج کی ہاکی کو لالہ فضل جیسے مخلص اور پر عزم کوچز کی ضرورت ہے۔
ہاکی کے ایسے عظیم سپوتوں کو یاد رکھنا ہمارا فرض ہے۔
“کندیاں اسپورٹس ہاکی کلب، کندیاں” کی طرف سے لالہ فضل کو عقیدت بھرا سلام۔ 🇵🇰🫡
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اراکین قومی اسمبلی سید نوید قمر، نوابزادہ افتخار خان بابر اور ان کے صاحبزادے عمران احمد نے ملاقات کی، جس میں قومی اسمبلی میں قانون سازی کے حوالے سے لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی۔
امریکی مڈل ایسٹ میں مصروف ہیں پاکستان موقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کو اسلحہ سے پاک کرنے میں مصروف ہے ۔اس وقت بھی شاہین قندھار،کابل،خوست ،پکتیا ،بامیان سمیت جس جس جگہ اسلحہ ڈپو موجود ہیں انہیں میزائلوں سے اڑا رہے ہیں ۔پانچ روز ہو گئے پاکستان کی کاروائی مسلسل جاری ہے اور حتمی نتایج تک جاری رہے گی ۔مستقبل کی نقشہ گیری کیلئے شمالی اتحاد اور طالبان کے بعض اچھے بچوں سے بات چیت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ۔

ابراہم لنکن ٹوچین کر کے ہزار کلو میٹر دور پہنچایا جا چکا ہے ۔ایرانی میزائلوں کی زد میں آنے سے پہلے سو میل دور تھا ۔حملہ میں رن وے تباہ ہونے اور انجن کی گراریاں خراب ہونے سے بھاگ نکلا ۔کویت میں سات جدید ترین لڑاکا جیٹ اتفاقاً گرنے سے بحرین،قطر سے سارے لڑاکا غائب ہو کر قبرص جا چھپے ہیں ۔
ایران کے پاس جوہری بم کا کوئی ثبوت نہیں، سربراہ عالمی جوہری نگراں ادارہ ایران میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کسی منظم پروگرام کے شواہد نہیں ملے، رافیل گروسی اسرائیلی اور امریکی دعووں کے برعکس، ایران کے پاس فی الوقت ایٹم بم نہیں ہے: سربراہ آئی اے ای اے ایران نے یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک کر لی ہے، 60 فیصد افزودہ یورینیم سویلین مقاصد کے لیے نہیں اس کا کوئی واضح ہدف نظر نہیں آتا، عالمی ایجنسی ایران کے پاس 10 ایٹمی وار ہیڈز بنانے کے لیے افزودہ یورینیم کا کافی ذخیرہ موجود ہے، رافیل گروسی سینٹری فیوجز مسلسل چل رہے ہیں، لیکن بم بنانے کے ارادے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی

ب ردعمل ہو گا ۔اظہر سیدلہو گرم رکھنے کیلئے ایرانی میزائلوں کی خوب تعریف کریں ، سپر سانک میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی کے مناظر پر خوشی سے چھلانگیں لگائیں لیکن سچ یہ ہے اسرائیل کے بن گوریاں ائر پورٹ سے معمول کی مسافر پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔حقیقت یہ ہے دوبئی ائر پورٹ سے بھی مسافر طیارے اڑنے لگے ہیں ۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ایرانی میزائلوں کے شائد بیشتر لانچنگ پیڈ تباہ کر دئے گئے ہیں ۔جب کسی ملک کی فضاؤں میں ایک وقت میں دو سو لڑاکا طیارے مصنوعی سیاروں اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر تمام درکار اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیں ۔لیڈر شپ مار دی جائے ۔تیسرے درجہ کا فوجی افسر یعنی بریگیڈیئر پاسداران فورس کا سربراہ بن جائے تو اس کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے چین آف کمانڈ بکھر گئی ہے ۔کہانی ختم ہونے والی ہے۔ریاست کا انتظامی ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت مار دی جائے تو دوسرے درجہ کی قیادت کو معاملات سنبھالنے میں وقت لگتا ہے ۔جب دوسرے درجہ کی بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت مار دی جائے تو تیسرے درجہ میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے ۔سات ماہ پہلے ایران نے جس طرح اسرائیل کا مقابلہ کیا دشمن نے اس تمام عرصہ میں اپنی حکمت عملی دوبارہ ترتیب دی اور پھر دوبارہ حملہ کر دیا ۔ہمیں نہیں لگتا ایران اکیلا زیادہ دیر تک کھڑا رہ سکے گا ۔جذبات ایک طرف اور حقائق دوسری طرف ۔امریکہ کے مقابل قوتیں چین،روس ،ترکی اور پاکستان ایران کو بچا نہیں پائے ۔ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت کو تحفظ نہیں دیا جا سکا ۔ایرانی حکومت تبدیل نہ بھی ہو اس کے دانت اور ناخن توڑ دئے گئے ہیں ۔جتنی تباہی اسرائیل اور امریکہ نے مسلط کی ہے اب اس کے اثرات اور نتایج آئیں گے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ کی ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہ پائے گی ۔بظاہر امریکی اور اسرائیلی کامیاب ٹھہرائیں جائیں گے لیکن بحرحال نتایج کا سامنا انہیں بھی کرنا ہے ۔اس جنگ کی کوکھ سے جو انڈے بچے نکلیں گے وہ تیسری عالمی جنگ کے ہونگے ۔دنیا اب کبھی پہلے جیسی نہیں رہے گا ۔سب بھگتیں گے ۔انسان اور انسانیت بھگتے گی ،ایسا ہی ہو گا ۔ہر چیز کا ردعمل ہوتا ہے اس کابھی ردعمل ہو گا ۔
سپریم لیڈر ہیبت اللہ کا آج جاری کردہ بیان پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی بات چیت کے لئے تیار ہیں، اسکی تمام شرطوں پر بات کرنے کو راضی ہیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں افغان سرزمین کسی اور ملک میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی۔اقوام متحدہ اور دنیا پاکستان پر سیز فائر کیلئے دباؤ ڈالے ۔

کیا آپ بھی میری طرح1983ء سے پہلے پیدا ہوئے تھے؟ اگر آپ کا جواب ‘ہاں’ میں ہے تو آپ اس تحریر کو ضرور پڑھیں:•ہم وه آخری لوگ بیںجنھوں نے مٹی کے بنے گهروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔جنھوں نے لال ٹین کی روشنی میں پریوں اور جنوں کی کہانیاں پڑهیں۔جنھوں نے سرکاری سکولوں میں ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے رہے۔ •ہم وه آخری لوگ بیں جنھوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔ جنھوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا بغیر بجلی کے (ڈیزل انجن سے چلنے والے) ٹیوب ویل دیکھے۔ نہروں میں نہائے، درختوں سے آم اور امرود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھائے۔پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی۔ •ہم وه آخری لوگ بیںجنھوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔ اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بھیجے۔بمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں ہاں جی بمارے جیسا اب کوئی بھی دنیا میں نہیں آئے گا کیونکہ •ہم وه آخری لوگ ہیںجو ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے۔ •ہم وہ لوگ ہیں۔جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھا کرتے تھے۔ ہم وه دلفریب لوگ بیں جنھوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش بوئے۔ •ہم وہ آخری لوگ ہیں جنھوں نے چھتوں پر چڑھ چڑھ کر ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے۔ فلم دیکھنے کے لیے بفتہ بھر انتظار کیا کرتے تھے۔ ہم وه بہترین لوگ ہیں جنھوں نے تختی لکھنے کے لیے سیابی گاڑھی کی۔ جنھوں نے سکول کی گھنٹی ہجانے کو بھی ایک اعزاز سمجها۔ •ہم وه خوش نصیب لوگ بیں جنھوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہم وہ لوگ بیں جو رات کو چاریائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضا میں زمینوں میں سوئے۔ دن کو اکثر گاؤں والے گرمیوں میں کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے۔ ہاں جی وہ آخری لوگ ہم ہی تھے۔ ہم نے وہ بھی زمانے بھی دیکھے جب سب صحن میں سوتے تھے گرم مٹی پر شام کے وقت پانی کا چهڑكاؤ ہوتا تها اور گھر کے صحن میں ایک سٹينڈ والا پنكها ہوتا تھا۔بچوں کا لڑنا جهگڑنا اس بات پر ہوتا تھا کہ پنکھے کے سامنے کس کی منجی بچھے گی؟سورج کے نکلتے ہی آنکھ سب کی کهلتی تھی لیکن ڈهیٹ بن کر پهر بھی دیر تک سوئے رہتے تھے۔ آدهی رات کو کبھی بارش آ جاتی تو پھر اگلے دن بھی منجی گیلی بی رہتی تھی۔ وه صحن میں سونے کے سب دور ہی بیت گئے منجیاں بهی ٹوٹ گئیں رشتے بھی چھوٹ گے۔بہت خوبصورت خالص رشتوں کا دور تھا جب لوگ کم پڑھے لکھے اور مخلص ہوتے تھے ۔ زمانہ جیسے جیسے پڑھا لکھا ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے یے مروتی، مفاد پرستی اور خود غرضی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ اچھے دور کی صرف یادیں باقی ہیں۔

آپ پہلے طے کرلیں ، کرنا کیا چاہتے ہیں ۔۔! ______________________عمران خان کے دور میں آرمی چیف اور وزیر خزانہ امداد مانگنے کے لیے ابوظہبی گئے‘ سلطان نے بات سن کر نہایت پتے کی بات کی‘ ان کا کہنا تھا ’’ایک وقت تھا جب آپ کا ہاتھ اوپر ہوتا تھا اور ہمارا نیچے ‘ ہم امداد کے لیے آپ کے پاس آتے تھے‘ آج ہمارا ہاتھ اوپر ہے اور آپ کا نیچے ‘ آپ ہمارے بھائی ہیں‘ ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں لیکن میرا مشورہ ہے ہم اوپر یا نیچے والا ہاتھ بننے کی بجائے آئیے ایک دوسرے سے برابری سے ہاتھ ملاتے ہیں‘ آپ کسی ملک سے امداد نہ لیں‘ آپ ملکوں سے بزنس کریں‘آپ اس طریقے سے امیر ہوں گے‘‘ پاکستانی وفد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا لیے‘ دوسری مثال سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ کنگ سلمان بن عبدالعزیزکی ہے‘ یہ بادشاہ بننے سے پہلے48سال ریاض کے گورنر رہے‘ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کے سفیر ایڈمرل شاہد کریم اللہ صدر کا پیغام لے کر ان کے پاس گئے‘ شاہ سلمان نے پاکستانی سفیر سے کہا ’’ہم پاکستان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں لہٰذا ہم ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں یہ جذبہ صرف ہم تک ہے‘ ہمارے بچے پریکٹیکل ہیں‘ ہمارے بعد یہ آپ کا خیال نہیں رکھیں گے چناں چہ آپ کے لیے بہتر ہے آپ ہماری زندگی میں اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائیں‘‘ سفیر نے یہ پیغام من وعن سائفر بنا کر ایوان صدر بھجوا دیا‘‘ تیسری مثال چین کی ہے‘جنرل قمر جاوید باجوہ 2021ء میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ گئے‘ صدر شی نے انہیں صرف دو مشورے دیے‘ آپ ایک ہی بار یہ فیصلہ کر لیں آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ یاد رکھیں ترقی اور لڑائی میں ترقی پہلے نمبر پر آتی ہے اور لڑائی دوسرے پر‘ آپ لوگ ترقی پر کمپرومائز نہ کریں‘ بھارت سے لڑیں لیکن پہلے ترقی کریں‘ انہوں نے چین کی مثال دی ’’ہمارے بھارت کے ساتھ 70 سال سے تنازعے چل رہے ہیں‘ ہماری تازہ تازہ جھڑپ بھی ہوئی مگر اس کے باوجود بھارت کے ساتھ ہمارا تجارتی حجم بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ ہم لڑائی کے بعد بھارت سے زیادہ تجارت کر رہے ہیں‘‘۔آپ تھوڑی دیر کے لیے ان تمام مشوروں کو سائیڈ پر رکھیں اور دہلی میں 9 اور 10 ستمبر کے جی 20 سربراہی اجلاس پر فوکس کریں‘ بھارت نہ صرف دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے بلکہ یہ آج بڑی معیشتوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے‘ دوسری حقیقت جی 20 میں انڈونیشیا‘ جنوبی کوریا‘ میکسیکو‘ جنوبی افریقہ اور ترکی بھی شامل ہیں اور یہ پانچوں ملک ہمارے سامنے اس ریس میں شامل ہوئے ‘ آپ ترکی کو 2000ء میں دیکھیں اور اس کے بعد اسے 2010ء اور 2023ء میں دیکھیں‘ ترکی نے کساد بازاری اور ری سیشن کے باوجود ٹھیک ٹھاک ترقی کی‘ جنوبی کوریا نے 1960ء کی دہائی میں پاکستان سے ’’پانچ سالہ معاشی منصوبہ‘‘ مستعار لیا تھا اور اپنے تین سو سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس بھجوائے تھے تاکہ یہ ڈاکٹر صاحب سے نوبل پرائزجیتنے کا طریقہ سیکھ سکیں‘ انڈونیشیا ہمارا برادر اسلامی ملک ہے‘اسلامی ملکوں میں سب سے پہلے دہشت گردی اس ملک میں شروع ہوئی تھی‘12 اکتوبر 2002ء کودہشت گرد اسلامی جماعت نے بالی میں204لوگ قتل کر دیے تھے جس کے بعد انڈونیشیا کی سیاحتی انڈسٹری تباہ ہو گئی لیکن صرف 20سال بعد2022ء میں انڈونیشیا نے جی 20 کی میزبانی کی‘ ایک وقت تھا انڈونیشیا کے سیاست دانوں‘ فوجی سربراہوں اور ارب پتی بزنس مینوں کے بچے تعلیم کے لیے پاکستان آتے تھے لیکن آج وہ کہاں ہے اور ہم کہاں ہیں؟ میکسیکو بھی چند برس پہلے تک لاطینی امریکا کا غریب ملک ہوتا تھا‘ اس کا مافیا آج بھی پوری دنیا میں بدنام ہے لیکن یہ بھی اب جی 20 میں شامل ہے اور جنوبی افریقہ 1994ء میں آزاد ہوا اور اس سے پہلے وہاں خوف ناک نسلی فسادات ہوئے‘ لاکھوں لوگوں کی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہوتی تھیں‘آج بھی اس ملک میں گوروں اور کالوں کے درمیان اختلافات ہیں لیکن یہ بھی آج جی 20 میں شامل ہے‘ بھارت نے ان کے علاوہ بنگلہ دیش‘ مصر‘ نائیجیریا‘ متحدہ عرب امارات‘ عمان‘ سنگاپور‘ نیدرلینڈ‘ سپین اور ماریشیس کو بھی بطور مہمان دعوت دی‘ یہ تمام ملک کبھی پاکستان کے دوست ہوتے تھے‘ بنگلہ دیش نہ صرف پاکستان کا حصہ تھا بلکہ پاکستان کی بنیاد ہی بنگالیوں نے رکھی تھی‘ آل انڈیا مسلم لیگ ڈھاکہ میں بنی تھی اور 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان بنگالی لیڈر اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی‘ ہم نے 1971ء میں بنگالیوں کو نالائق‘ پس ماندہ اور گندہ قرار دے کر الگ کر دیا لیکن آج بنگلہ دیش معاشی لحاظ سے پاکستان سے آگے ہے اور یہ جی 20 ملکوں کے ساتھ بھی بیٹھا ہے‘ ہم نے بھٹو دور میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں مصر‘ اردن اور شام کی مدد کی تھی‘ نائیجیریا جیسے درجن بھر افریقی ملک پاکستان سے ٹیکنالوجی سیکھا کرتے تھے‘ نائیجیریا کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں تربیت حاصل کرتے تھے‘متحدہ عرب امارات نے سٹارٹ ہی پاکستان سے لیا تھا‘ ایمریٹس ائیرلائین کا مخفف آج بھی ای کے ہے اور ای ایمریٹس سے لیا گیا اور کے کراچی سے‘ دنیا کی یہ بڑی ائیرلائین کراچی سے سٹارٹ ہوئی تھی اور ہم نے اسے جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی‘ یو اے ای کے تمام صحرا پاکستانی ہنرمندوں نے آباد کیے لیکن آج یہ کہاں ہے اور ہم کہاں؟ عمان ہمارا دوست تھا‘ آج بھی عمان میں اڑھائی لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں‘ سلطان قابوس پاکستان آتے تھے تو انہیں کراچی کا ڈپٹی کمشنر ریسیو کرتا تھا اور ان کی صدر سے ملاقات کے لیے سفیر کو ٹھیک ٹھاک پاپڑ بیلنے پڑتے تھے‘سنگا پور نے بھی پاکستان سے ترقی کا سفر شروع کیا تھا‘سنگاپور ائیرلائین ہو یا پھر سنگا پور پورٹ یہ پاکستانیوں نے بنائی اور ایک وقت تھا جب لی کو آن یو نے پاکستان کے سب سے زیادہ دورے کیے اور یہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور مشہور لوگوں کو جانتے تھے‘ نیدر لینڈ نے 1960ء کی دہائی میں پاکستان کو ٹیلی ویژن سیٹ بیچے تھے‘ فلپس نیدر لینڈ کا برینڈ ہے‘ پاکستان نے فلپس کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی اور ہالینڈ نے اسے اس وقت کی سب سے بڑی ڈیل قرار دیا تھا‘ سپین یورپ کا واحد ملک تھا جو ہر قسم کے پاکستانی کو امیگریشن بھی دے دیتا تھا اور کام کی اجازت بھی‘ آج بھی سپین میں لاکھوں پاکستانی ہیں‘ مونس الٰہی بھی ان میں شامل ہیں اور پیچھے رہ گیا موریشیس تو ہم نے آج تک اسے دوستی کے قابل ہی نہیں سمجھا لیکن یہ تمام ملک اس وقت جی 20 کے سربراہوں کے ساتھ بیٹھے ہیںاور ہم دور بیٹھ کر انہیں حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ہم اب سعودی عرب کی طرف آتے ہیں‘ دنیا نے ہمیشہ ان دونوں ملکوں کو اکٹھا دیکھا‘ 1979ء میں خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تو صرف پاکستانی فوج کو طلب کیا گیا‘ یمن میں حوثی باغیوں کے ایشو پر بھی پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کی‘ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگیں‘ اس وقت سعودی عرب دنیا کا واحد ملک تھا جس نے کھل کر ہمارا ساتھ دیا‘ ہمیں مفت پٹرول تک دیا گیا‘ آج بھی پاکستان کے 20 لاکھ ورکرز عرب ملکوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں اور ان کی رقوم سے ملک چل رہا ہے‘ بھارت سعودی عرب اور یو اے ای پر مسلسل دبائو ڈال رہا ہے آپ پاکستانی ورکرز کو نکال دیں ‘ہم آپ کو سستے اور زیادہ ہنرمند دے دیتے ہیں مگر عرب یہ پیش کش قبول نہیں کر رہے لیکن سوال یہ ہے عرب ممالک کب تک انکار کریں گے؟ہمیں ماننا ہوگا دنیا بدل چکی ہے‘ عرب ملکوں میں نئی نسل اقتدار اور بزنس میں آچکی ہے اور یہ نسل بھائی چارے کی بجائے کاروبار کو اہمیت دیتی ہے‘ یو اے ای میں حکومت نے انویسٹمنٹ کمپنی بنا رکھی ہے‘ یہ کمپنی پانچ سو بلین ڈالر کی مالک ہے اور اس کے کارندے پوری دنیا میں کاروباری مواقع تلاش کر رہے ہیں‘یہ ایسے ملازمین کو سال بعد نکال دیتے ہیں جو کمپنی کے پیسے انویسٹ نہیں کرتے لہٰذا ان حالات میں عربوں کو پاکستان میں کیا دل چسپی ہو گی؟ ہم مانیں یا نہ مانیں مگر حقیقت یہی ہے ہم دنیا اور اپنے دوستوں کی نظروں میں اس قدر بے وقعت ہو چکے ہیں کہ ہم نے سعودی ولی عہد کو بھارت جاتے وقت چند گھنٹے پاکستان میں گزارنے کی دعوت دی مگر ولی عہد تیار نہیں ہوئے‘دوسری طرف کانفرنس10 ستمبرکو ختم ہوئی مگر ولی عہد 11ستمبرکی رات تک بھارت میں رہے‘ یہ کانفرنس کے بعد بھی بھارتی تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقاتیں کرتے رہے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہیں بھارت میں بزنس کے مواقع نظر آ رہے ہیں‘ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان اس وقت 5 کھرب ڈالر کی تجارت ہے جب کہ ہم جب بھی سعودی عرب جاتے ہیں پیسے مانگنے جاتے ہیں چناں چہ یہ لوگ پھر ہماری عزت کیوں کریں‘ یہ پاکستان کیوں آئیں؟۔ہمارے پاس اب صرف دو آپشن بچے ہیں‘ ہم ذلالت کے اس گڑھے میں گرے رہیں اور گل سڑ کر ختم ہو جائیں یا پھر ہم غیرت کھائیں اور ایک بار جی ہاں آخری بار اٹھ کر اس ملک کی سمت ٹھیک کر لیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزاریں‘ چوائس صرف ہماری ہے تاہم ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا ہم افغانستان سے لے کر امریکا تک پوری دنیا کے لیے بوجھ بن چکے ہیں اور ہم نے اگر آج اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو دنیا زیادہ دیر تک ہمارا بوجھ برداشت نہیں کرے گی‘ یہ ہمیں مرنے اور مٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دے گی‘ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔ ______________










