تازہ تر ین

اسٹیٹ بینک شرح سود 11 فیصد پر برقرار۔۔غیر قانونی طور پر سمندر کے ذریعے جانے والے 31 جوان گرفتار۔۔عرب امارات نے عمان کو 42 رنز سے شکست دے دی۔مون سون بارشوں اور سیلاب سے 9921 افراد جاں۔۔پی سی بی کا میچ ریفری کو ایشیا کپ سے ہٹانے کا مطالبہ، اے سی سی کی جانب سے بھی بھارتی ٹیم پر جرمانے عائد کیے جانے کا امکان۔۔دوحہ کانفرنس کا جنازہ زرا دھوم سے۔۔افواج پاکستان میں دھشت گردی کے خلاف شھادتوں کا سلسلہ جاری افواج پاکستان ماں دھرتی پر قربانیاں جاری رکھے ہوئے۔۔بلوچستان میں کیپٹن وقار نائیک جنید نائیک عظمت لانس نائیک خان محمد اور سپاہی ظھو ماں دھرتی پر قربان۔۔مری ھوی عوام پر ڈیزل بم گرا دیا گیا۔۔مقبول گوندل نے اڈیٹر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پیر سوہاوہ اسلام آباد Kpkبارڈر پر 50 کروڑ روپے کی لاگت سے نیا “چیف منسٹر ہاؤس” تعمیر کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے. یہ کل تک گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے اور سادگی کے دعوے کرتے تھے، لیکن آج وہ یونیورسٹیوں کو بند کرکے اپنی عیاشیوںکیلیے اڈے تعمیر کر رہے ہیں۔کے پی کے میں سینکڑوں لوگوں کے گھر سلاد میں بہہ گئے انہیں چھت مہیا کرنے کی بجائے اپنے لیے یہ عیاشی کا محل بنانے کے دو ہی مقاصد ہیںشہر سے دور اپنی خفیہ رنگین محفلوں کے لیے پرتعیش اڈا قائم کرنا۔اسلام آباد پر”چڑھائی”کے لیے ایک محفوظ جمپ آف پوائنٹ بنانا

دوحہ سمٹ کا اعلامیہ روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل بادبان میگزین رپورٹ سھیل رانا چیف ایگزیکٹو بادبان ٹی وی دوحہ میں پیر 15 ستمبر کو منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حالیہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر یہ جارحیت دراصل غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری ثالثی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

اجلاس نے دوحہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کے ہر ممکنہ جوابِی اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔سمٹ نے زور دیا کہ ایک غیر جانب دار ثالثی مرکز کو نشانہ بنانا امن کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ اجلاس نے قطر کے بردبار اور دانشمندانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ساتھ مصر اور امریکا کی جاری ثالثی مساعی کو اہم قرار دیا۔ اعلامیے میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی اپیل کی گئی

۔اعلامیے میں اسرائیلی دعووں اور توجیہات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ محاصرے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فیصلے کے تحت فلسطینی علاقوں کے انضمام یا جبری ہجرت کی سخت مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تاکہ قطر، غزہ، مغربی کنارے اور خطے کے دیگر ممالک پر مسلسل جارحیت کا سلسلہ روکا جا سکے۔سربراہ اجلاس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ “اعلانِ نیویارک” اور دو ریاستی حل کی توثیق کا خیر مقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں دوحہ میں موجود ح۔م۔ اس کے رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں وہ تو بچ گئے، تاہم ان کے دفتر کے سربراہ جہا۔د لبد، ان کے بیٹے ہمام الحیہ اور تین ساتھی جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے نے عرب و اسلامی دنیا کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا، جبکہ قطر نے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے۔

ریٹائرمنٹ—-جب ہمارے ہم عصر یونیورسٹی کے لانوں اور کیفے میں عہدو پیماں کر رھے تھے ، ہم پی ایم اے میں، ایبٹ آباد کی پہاڑیوں کو ماپ رھے تھے – جب دنیا دیکھنے کی عمر تھی ہم ریگستانوں میں دشمن کے متوقع راستوں کا جائزہ لے رھے تھے- ملک کا چپّہ چپہ ناپا، کہیں ٹینٹ ملا، کہیں بنکر ، کہیں MOQ کہیں BOQ- الحمدللہ، چالیس سے تھوڑا ہی اوپر گئے ہونگے جب گھر جانے کا وقت آ گیا-فوج نے پنشن بک پکڑائی اور ساتھ ایک یادگاری شیلڈبھی اور ہمیں خدا حافظ کہ دیا –

ہم قیمتی یادیں لئے گھر پہنچے تو بچے لان میں ٹی وی پر چلنے والے پرانے زمانے کے مشہور اشتہاری فلوں کے گانے گا رکھے تھے ، ” صبح بناکا، شام بناکا، صحت کا پیغام بناکا”- بچے ہمیں دیکھ کر خوش ہوئے اور بھاگتے ہوئے گلے سے لگ گئے- ہم نے بیگ اور بستر بند ایک طرف رکھا اور بچوں کے ساتھ مل کر ایک اور اشتہاری گانا گانے لگے ” ابّو آ گئے” – بیگم نے شور سن کر کچن سے منہ نکالا کہ دیکھوں یہ شور کاھے کا ھے، باھر لان میں-ہمیں دیکھا تو حیران رہ گئی – کھڑکی میں سے ہی سوال داغ دیا، ” آپ کب آئے”؟ ہم نے بھی ریٹائرمنٹ والے موڈ میں جواب دیا ” پہنچے تو ابھی ہیں لیکن واپس نہ جانے کے لئے”-

محترمہ ہکاّ بکاّ رہ گئیں اور اگلا سوال داغا “ہائے اللہ، کیا ھوا، فوج نے نکال دیا کیا؟”- ہم زیر لب مسکرائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بیگم کو اپنا پہلا انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ “نکالا نہیں ، ہم ریٹائر ہو کر عزّت سے گھر واپس آئے ہیں- اب ہم جو دل کرتا ھے کریں گے- بیگم ہمارے ” جو دل کرتا ہے کریں گے” پر زیر لب سا مسکرائیں ، جیسے کہ رہی ھوں ” دیکھتے ہیں “- ہم نے بھی دھماکا کیا، خوشخبری سنائی “لیکن ہمیں یہ گھر اگلے چند مہینوں بعد خالی کرنا ھو گا؟”- بیگم کا اگلا سوال بالکل مناسب تھا، ” پھر ہم جائیں گے کہاں ؟”- بیگم کو پہلی دفع حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور چہرے سے ہوائیاں اڑتی نظر آئیں –

” اور پھر گھر کیسے چلے گا، آپ کو تو آتا بھی کچھ نہیں، سوائے حکم چلانے کے؟”- یہ سوال سے زیادہ ہمارے اوپر تبصرہ تھا – ان کے خدشات اور غصّہ اب آپس میں گڈ مڈ ہو چکے تھے اور ابھی ہم ریٹائر منٹ کے بعد گھر داخل نہیں ہوئے تھے- تجزیے اور appreciation کرتے عمر گزری تھی ،ہم اندازہ لگا چکے تھے کہ ہماری زندگی تبدیل ہونے جا رہی ہے- ذرا غور کیا تو بیگم نے جو طنز کیا تھا اس میں سچائی تو ھے ” ہمیں آتا تو کچھ ہے نہیں”- اب فوجی یادوں کے سہارے کچن تو چلنا نہیں اور بچوں نے تو ابھی یونیورسٹیوں میں بھی جانا ہے، وغیرہ وغیرہ- پنشن صرف اتنی تھی کہ بیگم زیادہ سے زیادہ مہینے کا پہلا ھفتہ چپ رہ سکتی تھیں -خیر بستر بند اٹھا کر گھر میں داخل ہوئے اور خوشی خوشی کمرے میں جا کر بستر پر دھڑام سے گر سے گئے اور سرگوشی کی ” میں آ گیا ھوں ، واپس نہ جانے کے لئے”- ایسے لگا، بستر نے کہا ہے ” جی آیاں نو”- خیر ریٹائرمنٹ شروع ہو گئی- ہم نے ریٹائرمنٹ کے پہلے دن ، پودوں کو پانی دیا، اخبار پڑی، شام کو واک کی ، ٹی وی پر سیاسی بحث سنی-

ہمیں سب کچھ نارمل سے بھی نارمل لگا- لیکن جب جب پہلی پنشن لے کر گھر پہنچے تو سمجھ آئی کہ سب کچھ نارمل نہیں ہے- پنشن بیگم کے ہاتھ پر رکھی تو ، نہ انہیں حقیر سی پنشن کی رقم اچھی لگی اور نہ ہی ہماری شکل – ہماری یونیفارم کے جانے کا بیگم کو اتنا دکھ نہیں تھا جتنا” بیٹ میں” کے چلے جانے کا- کچن کا سارا بوجھ اب بیگم کے کندھوں پر آن پڑا تھا-بیٹ مین فوجی افسر کی زندگی میں ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتا ھے- بس ادھر سے ہی ہمارا paradox شروع ہوا- ریٹائرڈ کرنل صاحب حقیقت میں اب صرف ” اخبار کے قاری” بن چکے تھے – وقت گزارنے کے لئے ہمیں اب ہر قسم کے بیکار کالم بھی پڑھنے پڑتے تھے- فوج کے حساب سے ہم ویٹڑن ہو چکے تھے، زمانے کے حساب سے ہم غیر ھنر مند ہونے کے ساتھ ساتھ اوور ایج بھی تھے- ذاتی رائے میں ہمارے اندر ابھی بہت صلاحیت تھی، جس سے ملک کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا – ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئے تو وہاں ہم نے یہ فقرہ بول دیا کہ ” ہمارے اندر بہت صلاحیت ھے”- انٹرویو لینے والوں میں سے ایک افسر نے پوچھا، جی جی ، ضرور بتائیں کس شعبے میں ھے آپ کی مہارت- اور تو کچھ سمجھ نہ آئی تو کہہ دیا کہ ہماری دو سالانہ کارکردگی رپورٹوں جنہیں ہم اے سی آر کہتے ہیں اس میں برگیڈ کمانڈر نے لکھا تھا ” Officer has lot of potential “ – ہم نے انٹرویو لینے والوں کو آدھا فقرہ بتایا- اگلا حصہ نہیں بتایا جس میں کمانڈر نے لکھا” Provided he uses it also “-پہلے انٹرویو کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد انٹرویو دیئے لیکن وہ سب ہمارے potential کو پک نہ کر پائے-‎وہی پھر زیر اور پیش والا معاملہ ہمارے ساتھ پیش آیا، نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کےنوکری کا نہ ھونا، بیٹ مین کا جانا، معصوم سی پنشن ؛ ہمیں پہلی دفع اندازہ ہوا کہ وہ جو اخبار میں اکثر لکھا ھوتا ھے کہ ” ملک نازک صورتحال سے گزر رھا ھے” اس کا مطلب کیا ھے-

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved