تازہ تر ین

افغانستان میں قیامت خیز حادثہ: بس آگ میں ج ل گئی، 88 افراد۔۔پاکستان شاہینز کی بڑی جیت۔۔جسٹس منصور ، جسٹس منیب نے چیف جسٹس کو اہم خط لکھ۔۔کراچی ڈوب گیا۔سعد اجمل ایک جادوگر اسپنر تھا سعد اجمل نے دوسرا ایجاد کیا تھا جو کہ کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا سوئنگ بال تھا اس سے پہلے بھی گگلی پاکستانی باؤلر عبدالقادر نے ایجاد کی. پاکستان ہمیشہ سے باؤلر پیدا کرتا آیا ہے چاہے وہ اسپنرز ہوں یا فاسٹ بولرز۔ فیلڈ مارشل بونیر میں حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین سے گفتگو کررہے ہیں.۔ فیلڈ مارشل بونیر میں حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین سے گفتگو کررہے ہیں.وزیرِ اعظم بونیر میں حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین سے گفتگو کررہے ہیں.۔ *کراچی میں بارشوں سے 15 افراد جاں بحق۔۔پاکستان میں بارش اور سیلاب سے ہونے والی تباہی پر برطانیہ کے *شاہ چارلس سوم نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انکو ہر قسم کی امداد کی یقین دہانی بھی کروائی۔ سب کچھ جاننے کے لئے بادبان نیوز

—وزیراعظم۔۔۔ خطابحالیہ قدرتی آفت میں 700 سے زائد بہن اور بھائی اللہ کو پیارے ہو گئے، مل کر طوفان اور چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بونیر میں سیلاب متاثرین سے خطابپشاور۔ 20 اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبوں کے ساتھ مل کر طوفان اور چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں، حالیہ قدرتی آفت میں 700 سے زائد بہن اور بھائی اللہ کو پیارے ہو گئے، آئندہ اس طرح کے واقعات کے سد باب کےلیے خطرناک جگہوں پر تعمیرات کو روکنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو بونیر میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل وزیراعظم نے متاثرین میں امدادی چیکس تقسيم کئے۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، چیئرمین این ڈی ایم اے، کور کمانڈر پشاور اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنی طرف سے ،حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت کی طرف سے اظہار افسوس کرنے آیا ہوں،

ہم سب اللہ تعالیٰ سے دست بہ دعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے پیاروں کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور آپ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اچانک بادل پھٹے اور پانی نے پہاڑوں سے پتھروں اور درختوں کو لیکر طغیانی کی شکل اختیار کی اور کسی کو موقع بھی نہیں ملا اور آپ کے پیارے دنیا سے کوچ کر گئے۔انہوں نے کہا کہ صوابی، شانگلہ ،بونیر، سوات، لوئر دیر، باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور مانسہرہ میں پچھلے چند دنوں جو واقعات ہوئے اس سے پاکستان کی ہر آنکھ اشکبار ہے، تقریباً 350 سے زائد ہمارے بہن اور بھائی خیبرپختونخوا میں شہید ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے اور ابھی بھی کچھ لاپتہ ہیں۔پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہمارے 700 سے زائد بہن اور بھائی اللہ کو پیارے ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ 2022ء میں بھی اس طرح کی شدید آسمانی آفت آئی تھی جس میں صوبہ سندھ میں لاکھوں ایکڑ زمینیں اورفصلیں تباہ ہوئی تھیں، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں لاکھوں گھر تباہ ہوئے تھے۔ جہاں جہاں تباہی آئی تھی میں پاکستان کے چپہ چپہ پہنچا تھا۔وفاقی حکومت نے صوبوں کی مدد کے علاوہ ایک سو ارب روپے کی رقوم تقسیم کی تھیں۔آج پھر وفاق صوبوں کے ساتھ مل کر یہاں خیبرپختونخوا میں وزیراعلی کے ساتھ مل کر اس طوفان اور چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں، میں نے واضح ہدایت دی ہے کہ آپ نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چاہے وہ خیبرپختونخوا ہے، گلگت بلتستان ہے، آزاد کشمیر ہے سب کے ساتھ مل کر کام کریں۔

اس میں کوئی تمیز نہیں کرنی کہ یہ میرا ہے یا تمھارا ،بلکہ یہ ہمارا ہے، ہماری ذمہ داری ہے، جو بھی ہمارے وسائل ہیں وہ عوام کی خدمت میں نچھاور کرنے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے وزیر اورسیکرٹری اس وقت خیبرپختونخوا میں موجود ہیں، بونیر اور سوات میں جو 47 فیڈرز تھے ،اس میں سے 37 نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے، کل میں نے واضح ہدایات دی ہیں کہ بل ادا ہوتا ہے یا نہیں، ایک ہفتہ کےلیے ہر جگہ بجلی پہنچائیں گے، 7 دن کےلیے ہر گھر کو بجلی پہنچے گی چاہے وہ بل دیتے تھے یا نہیں۔ تباہ شدہ سڑکیں اور پل ٹھیک کرنے کے لیے ہمارے وزیر کمیونیکیشن اور سیکرٹری کمیونیکیشن اس وقت گلگت بلتستان میں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری تفصیلی میٹنگ ہوئی جس میں سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کور کمانڈر پشاور، چیئرمین این ڈی ایم اے، متعلقہ وفاقی وزراء، انجینئر امیر مقام ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ موجود تھے، باقی وزراء فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ 2022ء کے دلخراش واقعات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔دریا کے اطراف بلکہ درمیان میں ہوٹل بنے تھے،

دنیا میں کہیں کوئی قانون نہیں کہ آپ کمائی کےلیے ایسی خطرناک جگہ پر ہوٹل بنائیں۔ مجھے بتایا گیا کہ مزید دو سپیلز آنے ہیں ،اس کےلیے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائیں گے، لیکن جو انسانی غلطی ہے، اس کی کوئی معافی نہیں، یہاں کے لوگوں کےلیے یہ قیامت صغریٰ ہے۔ ہم نے آئندہ کےلیے انتظام کرنا ہے

۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزراء، صوبائی حکومت دن رات کام کر رہی ہے، علی امین گنڈا پور، چیف سیکرٹری، آئی جی سب کا شکر گزار ہوں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان دن رات کام کر رہی ہیں، ایک طرف ہمارا خوارج کے خلاف مقابلہ ہے، دہشت گردی کے خلاف مقابلہ ہے، وہاں پر ہمارے جوان و افسر شہید ہورہے ہیں اور دوسری طرف اس آفت کا مقابلہ ہے، سید عاصم منیر نے افواج کو حکم دیا کہ وہ جہاں جہاں پہنچ سکتے ہیں، پہنچیں اور دکھی بہن بھائیوں کی مدد کریں۔ ایف سی، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت پوری کوشش کر رہی ہے، مخیر حضرات کو اللہ تعالیٰ دین و دنیا دونوں عطا فرمائے۔ الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر ادارے آگے بڑھ اس نیک کام میں حصہ لے رہے ہیں،

اللہ تعالٰی ان کو اور ہمت دیں۔ ہم مل کر خدمت کر رہے ہیں، ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس میں نہ کوئی سیاست ہے اور نہ کوئی ریاکاری، میں علی امین گنڈا پور کی حکومت کو ستائش پیش کرتا ہوں، سپہ سالار عاصم منیر کو ستائش پیش کر رہا ہوں، افواج پاکستان کے افسران، سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ایک دو دن میں میٹنگ میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز کو دعوت دوں گا اور اس میں ایک فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ دریا کے ساتھ تعمیرات کو روکنا ہے. اس کو ایک تحریک بنانا ہے، سب اس کا حصہ بنیں۔

*🔴کراچی: اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گر گئی، کئی افراد ملبے تلے دب گئے*کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گر گئی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کے ملبے سے 4 افراد کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا ہے۔کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں 3 منزلہ عمارت گر گئی، عمارت کے ملبے میں کئی افراد کے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔عمارت گرنے کے بعد ریسکیو اہلکار جائے وقوع پر پہنچے، جب کہ پولیس بھی موقع پر پہنچ رہی ہے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔گزشتہ روز کی طوفانی بارش کے بعد شہر میں سیلابی صورت حال رہی، اس دوران خستہ حال عمارتوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع*کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، شہر میں آج گزشتہ روز کے مقابلے میں زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں بہادرآباد، پی ای سی ایچ ایس ،جمشید روڈ، ٹیپو سلطان روڈ، شاہ فیصل کالونی ، ملیر ہالٹ رفاہ عام ، گارڈن ، جناح اسپتال ، اور نواح جھمپیر میں تیز ہواؤں کے ساتھ تیز بارش کاسلسلہ جاری ہے۔ موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق شمالی بحیرۂ عرب کے اوپر 2 مختلف مون سون کے سسٹم ہیں، ایک جنوب مشرق کیٹی بندر کے قریب اور دوسرا کچ ریجن کے اوپر ہے،

ایک نمایاں کم دباؤ وسطی بھارت کے اوپر موجود ہے۔موسمیاتی تجزیہ کار کا بتانا ہے کہ اس سسٹم کے زیر اثر آج بھی جنوب مشرقی اور زیریں سندھ میں مسلسل گرج چمک کے بادل بنتے رہیں گے، سازگار موسمی حالات کے باعث کراچی میں آج مزید گرج چمک کے ساتھ بارش ہوگی ، یہ اسپیل کراچی میں مزید 2 سے 3 دن سرگرم رہے گا۔ڈپٹی ڈائریکٹر پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) انجم نذیر ضیغم کا کہنا ہے کہ کراچی میں آج دوپہر شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ شام 7 بجے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔انجم نذیرضیغم کا کہنا ہے کہ کراچی شہر کے شمال مشرق میں گرج چمک کے بادل موجود ہیں، سندھ میں بارش کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، کلاؤڈ برسٹ پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved