
چائنا آرمی ڈے – پی ایل اے: عالمی امن کا ضامن، پاکستان اہم اسٹریٹجک حلیف کے طور پرتحریر: طارق خان ترین چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) — جو آج دنیا کی سب سے مضبوط اور قابلِ احترام فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے — اپنی بنیاد یکم اگست 1927ء کے نانچانگ بغاوت سے لیتی ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب چینی کمیونسٹوں نے اُس وقت کی نیشنلِسٹ حکومت کے خلاف منظم مسلح مزاحمت کا آغاز کیا۔ ان معمولی مگر جرات مندانہ حالات سے جنم لینے والی یہ فوج وقت کے ساتھ ایک انتہائی جدید، منظم اور عالمی سطح پر قابلِ اعتماد محافظ میں تبدیل ہوئی۔ پی ایل اے کی ترقی محض فوجی توسیع کی کہانی نہیں، بلکہ یہ قومی خودمختاری کے تحفظ، وقارِ مملکت کے دفاع اور عالمی استحکام میں کردار ادا کرنے کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ قریب ایک صدی پر محیط اپنے سفر میں پی ایل اے نے بے شمار تاریخی مراحل طے کیے ہیں — آزادی کی جنگیں، دفاعی معرکے اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کی جانب مسلسل پیش رفت۔

آج یہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے بلکہ جدید ہتھیاروں، سائبر صلاحیتوں اور خلائی دفاعی نظام سے لیس ایک مکمل عسکری قوت ہے۔ تاہم، پی ایل اے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی اسٹریٹجک نظم و ضبط اور سفارتی توازن ہے۔ اس دور میں جب اکثر فوجی طاقت کو جارحانہ پالیسی سے جوڑا جاتا ہے، پی ایل اے کا نظریہ پرامن بقائے باہمی، علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی پر مرکوز ہے، جو اسے عالمی معاملات میں ایک معتبر فریق بناتا ہے۔ پی ایل اے کی جدید شناخت کا ایک اہم پہلو اس کا اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سرگرم کردار ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں 50 ہزار سے زائد چینی امن فوجی افریقہ سے مشرقِ وسطیٰ تک مختلف خطوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ تجربہ نہ صرف پی ایل اے کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھاتا ہے بلکہ چین کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

چینی میڈیکل ٹیمیں، انجینئرز اور لاجسٹک یونٹ جنگ، قحط اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام انجام دے چکے ہیں — یہ کردار جنگی مہارت کے ساتھ ساتھ انسانیت دوستی کا بھی ثبوت ہے۔ پاکستان کے لیے پی ایل اے کا عروج محض ایک علامتی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک وقت کے امتحان سے گزری ہوئی فولادی شراکت داری کا تسلسل ہے۔ پاکستانی مسلح افواج اور پی ایل اے کا تعاون کسی عارضی مفاد کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک اعتماد، باہمی احترام اور ہم آہنگ جغرافیائی سیاسی نظریات پر مبنی ہے۔ سرد جنگ کے ابتدائی دور سے لے کر آج کے ہائبرڈ وار فیئر کے چیلنجز تک، دونوں افواج نے ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر خطے کے توازن کو یقینی بنایا ہے۔ یہ عسکری تعاون کئی جہتوں پر محیط ہے — مشترکہ فوجی مشقیں، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، اور انٹیلی جنس شیئرنگ جو دہشت گردی، سائبر جنگ اور سمندری قزاقی جیسے خطرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جدید پلیٹ فارمز میں پی ایل اے کا تجربہ اور پاکستان کا جنگی تجربہ ایک دوسرے کے لیے طاقت کو بڑھانے والا عنصر بن چکا ہے۔

یہ تعلق محض لین دین نہیں بلکہ خطے کے تزویراتی توازن کو نئے انداز سے تشکیل دینے والا ہے۔ اس شراکت داری کی ایک جاندار مثال پاک-بھارت تنازعہ 2025ء میں سامنے آئی، جب مشترکہ طور پر تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر اور چینی جے-10 سی لڑاکا طیاروں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ ان کی درست نشانہ بازی، الیکٹرانک وار فیئر سے بچاؤ کی صلاحیت اور جدید ایویونکس نظام عالمی میڈیا میں سرفہرست رہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب پی ایل اے اور پاک فوج ایک ساتھ کام کرتی ہیں تو نتائج میدانِ جنگ سے کہیں آگے اثر ڈال سکتے ہیں۔ سمندری شعبے میں بھی کہانی اتنی ہی متاثر کن ہے۔ پی این ایس طغرل، جو چین کے جدید ٹائپ 054 اے فریگیٹ پر مبنی ہے، صرف ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اعتماد کی علامت ہے۔ جدید ریڈار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام اور آبدوز شکن صلاحیت سے لیس یہ جہاز پاکستان نیوی کی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک لے گیا ہے۔ پی ایل اے نیوی کے لیے یہ صرف ایک دفاعی سودا نہیں، بلکہ بحیرہ ہند میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے میں مشترکہ سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان کے لیے پی ایل اے کی اہمیت صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے عملی فلسفے اور اسٹریٹجک بصیرت تک پھیلی ہوئی ہے۔ چینی فوج کا جامع سکیورٹی کا نظریہ — جس میں معیشت، ماحولیات اور انسانی سلامتی شامل ہیں — پاکستان کے اس اعتراف سے مطابقت رکھتا ہے کہ اب سلامتی کا مطلب صرف فوجی دفاع نہیں رہا۔ مشترکہ مشقوں میں اکثر قدرتی آفات سے نمٹنے، وباؤں کے دوران امدادی کارروائیوں اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کی تربیت شامل ہوتی ہے۔ چائنا آرمی ڈے محض پریڈز اور سلامیوں کا دن نہیں، بلکہ یہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ پی ایل اے کس طرح ایک عالمی استحکام کے ستون میں تبدیل ہو چکی ہے۔ صومالیہ کے ساحل پر قزاقوں کے خلاف کارروائیوں سے لے کر کووِڈ-19 وبا کے دوران طبی امداد کی فراہمی تک، پی ایل اے نے سخت طاقت اور انسانی ہمدردی کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔ یہی دوہرا کردار — سپاہی اور معالج — اسے بیجنگ سے لے کر اسلام آباد تک قابلِ احترام بناتا ہے۔ آج کے عالمی منظرنامے میں، جہاں جغرافیائی سیاست کی خلیجیں بڑھ رہی ہیں اور روایتی اتحاد بدل رہے ہیں، پی ایل اے اور پاکستان کا تعلق ایک نایاب استحکام کی علامت ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ امن صرف جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں بلکہ انصاف، خوشحالی اور تزویراتی توازن کا قیام ہے۔

اسی لیے دونوں کی توجہ سی پیک کے ذریعے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی تربیت جیسے منصوبوں پر بھی مرکوز ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت نے ہمیشہ پی ایل اے کے کردار کو سراہا ہے، جس نے چین کو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کا ستون بنا دیا ہے۔ یہ تعریف محض الفاظ نہیں بلکہ مشترکہ مشنز، آزمودہ حکمتِ عملیوں اور بارہا آزمائے گئے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ وسطی ایشیا کی سنگلاخ وادیوں میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز سے لے کر بحیرہ عرب میں مشترکہ گشت تک، نتائج واضح ہیں: کم خطرات، زیادہ استحکام اور غیر مستحکم قوتوں کے خلاف مضبوط رکاوٹ۔ جب چین اپنا آرمی ڈے مناتا ہے، تو پی ایل اے کی کہانی اس کے اتحادیوں کی کہانی سے جدا نہیں — اور ان میں سب سے مضبوط اتحادی پاکستان ہے۔ یہ صرف دفاعی تعلق نہیں بلکہ ایک پائیدار عہد ہے، جو دہائیوں کی قربانیوں، تکنیکی ترقی اور ایک ایسے مستقبل کے خواب سے جڑا ہے جہاں امن کو قائم بھی رکھا جائے اور اس کا تحفظ بھی کیا جائے۔ عالمی سیاست کے شطرنج پر جہاں اتحاد عارضی اور وفاداریاں مشروط ہوتی ہیں، پی ایل اے اور پاکستان کا رشتہ ایک قابلِ بھروسہ اسٹریٹجک ستون ہے۔ پی ایل اے کو سلام پیش کرتے ہوئے، پاکستان نہ صرف ایک فوج بلکہ ایک ایسے وژن کو سلام کرتا ہے جو محفوظ، متوازن اور ہم آہنگ عالمی نظام کی ضمانت ہے — ایک وژن جسے دونوں قومیں مل کر حقیقت بنانے کا عزم رکھتی ہیں۔
*🔴ایرانی خاتون کا 22 سال میں 11 شوہروں کو قتل کرنے کا انکشاف، وجہ کیا بنی؟*ایران میں ایک خاتون کی جانب سے 22 سال کے عرصے کے دوران اپنے 11 شوہروں کو زہر دے کر قتل کرنے کی سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے۔ایرانی ویب سائٹ کے مطابق رواں ہفتے ایران کے سب سے بڑے سیریل قتل کیس کی سماعت ہوئی جس دوران کلثوم اکبری نامی ملزمہ کو 11 شوہروں کو ان کی جائیداد اور پیسہ ہتھیانے کیلئے قتل کرنے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ’کلثوم اکبری پر 2000 سے 2022 کے عرصے دوران ذیابیطس سمیت دیگر دوائیوں اور منشیات میں اپنے شوہروں کو زہر دینے کا الزام ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق کلثوم اکبری کے خلاف 2023 میں ان کے شوہر عزیز اللہ بابائی کی موت کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں پہلے عزیزاللہ کے بیٹے کو مشکوک ٹھہرایا گیا تھا۔عزیز اللہ کے ایک خاندانی دوست نے انکشاف کیا کہ کلثوم نے عزیزاللہ کو قتل کرنے کی کوشش کی، بیٹے سے تفتیش کے دوران ہی کلثوم کی گرفتاری سامنے آئی جس کے بعد دوران تفتیش کلثوم نے 11 شوہروں کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا۔خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ بوڑھے مردوں سے شادی کرنے کے بعد انھیں آہستہ آہستہ منشیات کے ذریعے زہر دے کر قتل کر دیتی تھی۔استغاثہ کے مطابق چونکہ کلثوم کے شوہربوڑھے اور بیمار تھے لہٰذا ان کی موت کو طبعی قرار دے کر نظر انداز کیا گیا، یہی وجہ تھی کہ کلثوم کے ہولناک جرائم کا سلسلہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے تک جاری رہا۔دوران سماعت متاثرین کے اہل خانہ نے عدالت سے کلثوم اکبری کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا تاہم عدالت کی جانب سے ملزمہ کی ذہنی حالت اور مکمل سماعت تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا ہے۔

*دورہ امریکہ کے دوران آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستانی کمیونٹی سے خطاب*امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے ، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بیرون ملک مقیم پاکستانی عزت و وقار کا سرچشمہ اور دیگر پاکستانیوں کی طرح پرجوش ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* بیرون ملک پاکستانی “برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین” ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت اپنے آپ کو “وشوا گرو” کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی ٹرانس نیشنل دہشتگرد سرگرمیوں میں شمولیت عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اس کی مثالیں کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل، قطر میں آٹھ بھارتی نیول افسران کا معاملہ، اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان نے بھارت کی امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*حالیہ بھارتی جارحیت جو شرمناک بہانوں کے ساتھ کی گئی، نے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو شہید کیا، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*اس بھارتی جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک طور پر بھڑکنے والی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلطی کی وجہ سے دو طرفہ تصادم بہت بڑی غلطی ہوگی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان پریذیڈنٹ ٹرمپ کا انتہائی مشکور ہے جن کی اسٹریٹجک لیڈشپ کی بدولت نا صرف انڈیا پاکستان جنگ رکی بلکہ دنیا میں جاری بہت سی جنگوں کو روکا گیا ہے پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کا پُرعزم اور بھرپور جواب دیا،ہم نے وسیع تر تنازعہ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، *آرمی چیف*مقبوضہ کشمیر بھارت کا کوئی اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ جیسا کے قائد اعظم نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی “شہ رگ” ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*مقبوضہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں، اور پاکستان ان قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے،

*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*غزہ میں جاری نسل کشی، ایک بدترین انسانی المیہ ہے جس کے عالمی اور علاقائی دونوں سطح پر شدید مضمرات ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*افغانستان سے کئی دہشگرد تنظیمیں جس میں فتنہ الخوارج شامل ہے، پاکستان کے خلاف متحرک ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ہماری ترقی اور خوشحالی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں سے وابستہ ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* اس وقت دہشت گردی کے کیخلاف پاکستان آخری فصیل ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*دہشت گردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں اور انہیں پوری قوت سے انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، *آرمی چیف*بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن عزیز کے ساتھ عقیدت اور وابستگی ایک کھلی حقیقت ہے، *آرمی چیف*ناگہانی آفات کی صورت میں بھی بیرون ملک پاکستانی سب سے پہلے امداد کی اپیل پر لبیک کہتے ہیں، *آرمی چیف* سوشل میڈیا کے حوالے سے *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* کا کہنا تھا کہ;آج کا سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، لیکن ملک دشمن عناصر اسے “ساختہ افراتفری” پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* نے قرآن پاک کی آیات کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ: “اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو تاکہ تم نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر پشیمان نہ ہونئی نسل کی سوچ، تعلقات، اور ترجیحات مختلف ہیں، جسے سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*بین الاقوامی تعلقات کے محاذ پر بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر عمل درآمد جاری ہے، جو معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*ہماری 64 فیصد نوجوان آبادی بے پناہ صلاحیتوں سے بھرپور ہے، جو مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گی، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* ہماری بھارت کے خلاف سفارتی اور سیکیورٹی میدان میں حالیہ کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رحمت، قوم کی اجتماعی کوشش، سیاسی لیڈرشپ کی دوراندیشی و استقامت اور ہماری بہادر افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*اب ہمارے سامنے سوال یہ نہیں کہ “اگر” ہم اٹھیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ “کتنی جلدی اور کتنی قوت سے” ہم اٹھیں گے؟، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* آئیے ہم اپنے آباؤ اجداد کی میراث قائم رکھتے ہوئے ، ایک نئے جذبے اور مقصد کے ساتھ کھڑے ہو کر آگے بڑھیں، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر*










