*”ایران نے طالبان کو وارننگ دی ہے کہ ہرات میں ڈیم بنانا نہ روکا تو ایران اسکو میزائل سے تباہ کر دے گا۔ اس وجہ سے ایران اور افغانستان میں تناؤ شدید ہوگیا ہے۔”*▪️ *ایران کی اس دھمکی کے فوراً بعد افغان صوبہ ‘ہرات ‘ کے طالبان گورنر کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوگیا ہے۔ طالبان کا الزام ہے کہ وہاں ایران نے طالبان مخالف قوتوں کی پشت پناہی شروع کر دی ہے۔**یعنی اب افغان طالبان کو ایران سے بھی مار پڑ رہی ہے اور تاجکستان سے بھی۔ اس کے علاوہ ان کو ملک کے اندر شمالی اتحاد بھی مار رہی ہے – صرف اِسی ہفتے ان پر 6 بڑے حملے ہوئے حتی کہ بگرام ائربیس پر بھی حملہ ہوا جس میں انکو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ انکی حکومت صرف امریکی امداد کے بل پر چل رہی ہے جو ہر ہفتے انکو 40 ملین ڈالر وصول ہوتے ہیں اور 20 جنوری سے اب وہ بھی بند ہونے والی ہے۔ اگر یہ امداد رک گئی تو طالبان حکومت شاید ایک ہفتہ بھی نہیں نکل سکے گی۔**لگتا ہے پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے ہی طالبان ایک دم یتیم ہوگئے ہیں اور انکو سمجھ نہیں آرہی کہ کدھر جائیں۔ ان پر خود اپنی ہی سرزمین تنگ ہوگئی ہے.










